تک رہا تھا روک کر اپنی روانی دور سے - ماجد بشیر

مزمل حسین

محفلین
تک رہا تھا روک کر اپنی روانی دور سے​
صاحبان صبر کو دریا کا پانی دور سے​
علم کو جانا پڑا چل کر جوار جہل تک​
کیسے سمجاتا شہادت کے معانی دور سے​
شیر خوار آغوش بابا میں بزرگی پا گیا​
دیکھتی ہی رہ گئی اس کو جوانی دور سے​
نوک نیزہ پر سجی تھی اس لئے قندیل نور​
کم نظر بھی دیکھ لیں حق کی نشانی دور سے​
یہ متاع قلب ہے، ماجد اسے آنکھوں میں رکھ​
قیمتی ہوتا ہے جو آتا ہے پانی دور سے​
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ مزمل صاحب ارسال فرمانے کیلیے۔

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ کن کی غزل ہے، مقطع میں ماجد تو آیا ہی ہے۔
 

سید زبیر

محفلین
شیر خوار آغوش بابا میں بزرگی پا گیا
دیکھتی ہی رہ گئی اس کو جوانی دور سے
سبحان اللہ ، خوبصورت کلام محفل میں شریک کرانے کا شکریہ
 
Top