برائے اصلاح و تنقید (غزل 48)

امان زرگر

محفلین
۔۔۔
چارہ سازی جو مدعا ہوتی
بندہ پرور! تبھی دوا ہوتی

کون بنتا رقیبِ جاں میرا
عاشقی گر نہ آسرا ہوتی

درد ہوتا یہ رشکِ جاں اپنا
جرأت آموز گر جفا ہوتی

پھیر لیتے نگاہ وہ ہم سے
ایسے ہستی نہ پھر فنا ہوتی

سب ہی الزام دل پہ آیا ہے
کچھ نگاہوں کی بھی خطا ہوتی!
 
آخری تدوین:

نوید ناظم

محفلین
۔۔۔
چارہ سازی جو مدعا ہوتی
بندہ پرور! تبھی دوا ہوتی

کون بنتا رقیبِ جاں میرا
عاشقی گر نہ آسرا ہوتی

درد ہوتا یہ رشکِ جاں اپنا
جرأت آموز گر جفا ہوتی

پھیر لیتے نگاہ وہ ہم سے
ایسے ہستی نہ پھر فنا ہوتی

سب ہی الزام دل پہ آیا ہے
کچھ نگاہوں کی بھی خطا ہوتی!
اگر ایسے ہو تو۔۔۔
سارے الزام دل پہ آئے ہیں
کچھ نگاہوں کی بھی خطا ہوتی!
 

الف عین

لائبریرین
ماشاء اللہ اب تمہاری معمول والی لفظیات نظر نہیں آ رہی ہیں۔ اچھی غزل ہے۔ آخری شعر نوید ناظم نے مزید رواں بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ
جرأت آموز گر جفا ہوتی
کو مکمل
جرأت آموز اگر جفا ہوتی
کر دیں تو شاید بہتر ہو
 

امان زرگر

محفلین
...
چارہ سازی جو مدعا ہوتی
بندہ پرور! تبھی دوا ہوتی

کون بنتا رقیبِ جاں میرا
عاشقی گر نہ آسرا ہوتی

درد ہوتا یہ رشکِ جاں اپنا
جرأت آموز اگر جفا ہوتی

پھیر لیتے نگاہ وہ ہم سے
ایسے ہستی نہ پھر فنا ہوتی

سارے الزام دل پہ آئے ہیں
کچھ نگاہوں کی بھی خطا ہوتی!
 
Top