امریکہ ٹوٹ رہا ہے؟

میرے لئے تو ہے میرا دین اور آپ کے لئے آپ کا۔ یہ بحث تو ہے ہی نہیں ۔ اس پر ہمارا اتفاق ہے
بات امریکہ کے قوانین سے ہٹ کر واپس وہیں پہنچ گئی کہ میری کتاب مانو ۔۔۔ سوال میرا یہ ہے کہ امریکہ کے قوانین میں کونسا قانون ہے جو قرآن حکیم کے فراہم کردہ اصولوں کے خلاف ہے۔ اب تک سب نے تکے مارے ہیں ۔۔ کیوں؟ اس لئے کہ جو بھی کہا ہے اپنی طرف سے کہا ہے۔ کسی بھی نکتہ کا اللہ تعالی کے فرمان قرآن کی آیت سے ثبوت نہیں فراہم کیا ہے۔
 

اسد عباسی

محفلین
میرے لئے تو ہے میرا دین اور آپ کے لئے آپ کا۔ یہ بحث تو ہے ہی نہیں ۔ اس پر ہمارا اتفاق ہے
بات امریکہ کے قوانین سے ہٹ کر واپس وہیں پہنچ گئی کہ میری کتاب مانو ۔۔۔ سوال میرا یہ ہے کہ امریکہ کے قوانین میں کونسا قانون ہے جو قرآن حکیم کے فراہم کردہ اصولوں کے خلاف ہے۔ اب تک سب نے تکے مارے ہیں ۔۔ کیوں؟ اس لئے کہ جو بھی کہا ہے اپنی طرف سے کہا ہے۔ کسی بھی نکتہ کا اللہ تعالی کے فرمان قرآن کی آیت سے ثبوت نہیں فراہم کیا ہے۔
فاروق سرور خان آپ پھر وہیں کے وہیں ھیں جواب اس لئے دے رہا ھوں کہ باقی بھائی آپ کے سوالوں سے پریشان نہ ھوں ورنہ مجھے آپ سے خیر کی کوئی امید نہیں ھے۔
کیا امریکہ میں کریڈٹ کارڈ کا استعمال سب سے زیادہ نہیں ھے۔
اور یہ تو ہر کوئی جانتا ھی ھے کہ کریڈٹ کارڈ میں سود شامل ھوتا ھے۔آپ نے کوئی ایک مثال مانگی تھیں جو حاضر ھے۔
 

اسد عباسی

محفلین
میرے لئے تو ہے میرا دین اور آپ کے لئے آپ کا۔ یہ بحث تو ہے ہی نہیں ۔ اس پر ہمارا اتفاق ہے
بات امریکہ کے قوانین سے ہٹ کر واپس وہیں پہنچ گئی کہ میری کتاب مانو ۔۔۔ سوال میرا یہ ہے کہ امریکہ کے قوانین میں کونسا قانون ہے جو قرآن حکیم کے فراہم کردہ اصولوں کے خلاف ہے۔ اب تک سب نے تکے مارے ہیں ۔۔ کیوں؟ اس لئے کہ جو بھی کہا ہے اپنی طرف سے کہا ہے۔ کسی بھی نکتہ کا اللہ تعالی کے فرمان قرآن کی آیت سے ثبوت نہیں فراہم کیا ہے۔
اوپر ديئے گئے لنک کر کلک کریں۔
فاروق سرور خان یہ تحفہ آپ کے لئے ہے اور جہاں تک میرا خیال ھے یہ " فاکس نیوز " کسی مسلمان کا تو نہیں ھو گا۔
اور اگر ھو گا بھی تو وہ بھی تو آپ والے اسلام کا ھی پیروکار ھو گا۔
میری انگریزی ذرا کمزور ھے آپ ھی بتا دیں کہیں یہ تو نہیں کہا گیا کہ امریکی ریاست میں اسلام مخالف قانون پاس کر لیا گيا۔
امید کرتا ھوں اس کو آپ تکا نہیں سمجھیں گے
یہ "اڑتا تیر" ھے جو آپ کے لئے ھے۔
 

علی خان

محفلین
فاروق صاحب کیا امریکا کا بینکاری نظام اس طرح ہے۔ کیا انکا سارا سسٹم اسلامی طریقہ سے چلتا ہے۔ کیا قرض دار کے پاس پیسے نہ ہوں۔ تو وہ اُس وقت تک انتظار کرتا ہے۔ جب تک بندہ قرض دینے کے قابل نہیں ہوجاتا ہے۔

اسلام کا معاشی نظام!

اسلام کا معاشی نظام!

ایک خط کا جواب

س:… اگر اسلام رہتی دنیا تک کے لئے بہترین دین کے طور پر چُن لیا گیا ہے اور یہ تمام تر معاشرتی معاملات کی ترجمانی کرتا ہے تو اسلام اچھا معاشی نظام کیوں نہ وضع کرسکا؟
نوٹ: اسلامی دنیا کی ناقص معاشی کارکردگی کا حال، اس کی ماضی کی مثال تو نہیں؟ میں یہ سوال اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ میرے دوست کو اسلامی بینک میں نوکری سے روکا گیا ہے۔
سیّد محمد علی عدنان
مکان:اے-۵۰۹، سیکٹر ۱۴-بی۔ شادمان ٹاؤن، کراچی
ج:… میرے مخدوم! اسلام ایک کامل، مکمل، آفاقی اور دائمی دین و مذہب ہے، جس کی واضح دلیل یہ ارشادات الٰہی ہیں:
الف:… ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔“ (مائدہ:۳)
ترجمہ:… ”آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا اور پورا کیا میں نے تم پر احسان اپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین ۔“
ب:… ”ان الدین عنداللہ الاسلام۔“ (آلِ عمران:۱۹)
ترجمہ:… ”بے شک دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔“
ج:… ”ومن یبتغ غیرالاسلام دیناً فلن یقبل منہ وہو فی الآخرة من الخاسرین۔“ (آلِ عمران:۸۵)
ترجمہ:… ”اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا، تو وہ اس سے مقبول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا۔“
ان ارشاداتِ الٰہیہ سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام قیامت تک رہنے والا دین ہے اور ظاہر ہے جس دین و مذہب کو قیامت تک رہنا ہو، یقینا اس میں قیامت تک کے انسانوں کے مسائل کا حل بھی ہوگا، لہٰذا آپ کا یہ فرمانا :” اسلام ایک اچھا معاشی نظام کیوں نہ وضع کرسکا“ درجہ ذیل وجوہ سے غلط ہے:
۱:… ہم اسلام کے معاشی اور اقتصادی نظام اور اس کے اصولوں سے ناآشنا ہیں، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ اسلام نے بینکنگ سسٹم نہیں دیا، تو وہ اچھے معاشی نظام سے بھی محروم ہے، دراصل ہمارے ذہنوں میں یہودی سودی نظام اور بینکاری سسٹم ہی اچھا معاشی نظام ہے، اور ہر صاحب فہم جانتا ہے کہ بینکاری نظام یہودی سودی نظام کا تسلسل ہے چونکہ اسلام یہودی نظام اور سودی سسٹم کا مخالف ہے اور اسلام اس سودی سسٹم کے خاتمہ کے لئے آیا ہے، اس لئے یہود و نصاریٰ اور ان کے ہمنوا اسلام اور اسلام کے معاشی نظام میں کیڑے نکالتے ہیں تو مسلمان بھی اس سے متاثر ہوگئے، ورنہ کیا کوئی باور کرسکتا ہے کہ کسی غلط کام سے روکنے کے ساتھ ساتھ اس کا متبادل حل پیش نہ کرنا ،قابل توجہ ہوسکتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں! اگر ہم کسی غلط کاری کو محض زبانی کلامی،دعوؤں اور کاغذی گھوڑوں سے غلط باور نہیں کراسکتے تو اللہ تعالیٰ کسی غلط نظام کی جگہ متبادل صحیح نظام دیئے بغیر اس کی تغلیط کیونکر فرمادیں گے؟
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اگر سود اور سودی نظام سے انسانوں کو روکا ہے تو ضرور اس کا متبادل نظام بھی فراہم کیا ہوگا۔
اب سوال پیدا ہوگا کہ وہ کون سا نظام ہے؟ اور اس کے کیا اصول و فروع ہیں؟ یا اس کے کیا خدوخال ہیں؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ جس طرح دنیا کا کوئی علم و فن اور نظام بغیر محنت اور جستجو کے حاصل نہیں ہوسکتا، ٹھیک اسی طرح اسلام کا معاشی نظام بھی خود بخود حاصل نہیں ہوگا، بلکہ ہماری محنت و جستجو کرنے پر ہی معلوم ہوگا، چونکہ ہم نے یہودی سودی نظام پڑھا ہے اور اس پر محنت کی ہے تو وہ ہمارے سامنے ہے، اگر ہم اسلام کے معاشی اور اقتصادی نظام پر محنت کرتے، اس کا مطالعہ کرتے اور اس کی جزئیات کی تلاش و جستجو میں صلاحیتیں صرف کرتے تو وہ بھی ہمیں معلوم ہوجاتا، لیکن افسوس! کہ ہم نے اس کی طرف توجہ ہی نہیں کی، بتلایا جائے کہ اس میں قصور ہمارا ہے یا اسلام کا؟ آپ خود ہی بتلائیں کہ ہم نے اس پر کتنا محنت و جستجو کی ہے؟ یا قرآن و سنت اور فقہائے امت کے مرتب کردہ ذخیرہ علم و فقہ کو کتنا پڑھا ہے؟ اگر نہیں پڑھا اور یقینا نہیں پڑھا تو اس میں قصور کس کا ہے؟
۲:… چلئے اس کو بھی چھوڑیئے صرف اس کو ہی پیش نظر رکھئے کہ اس یہودی بینکاری نظام سے قبل بھی اسلامی دنیا قائم تھی، اس کے امور مملکت بھی خیر و خوبی سے چلتے تھے، پوری دس، گیارہ صدیوں تک مسلمانوں نے آباد دنیا کے اکثر حصوں پر حکومت کی ہے تو کیسے اور کیونکر؟ آخر ان کے پاس کوئی تو نظام معیشت تھا، جس کی بدولت ان کا نظام حکومت کامیابی سے چلتا رہا؟ اب بڑی شدت سے آپ کے ذہن میں یہ سوال ابھررہا ہوگا کہ آخر وہ کون سا نظام ہے؟ اور اس کی کیا تفصیلات ہیں؟ میرے مخدوم! اللہ تعالیٰ نے جہاں سودی نظام کو ممنوع قرار دیا ہے، وہاں اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو اس کے متبادل جائز نظام کی طرف راہ نمائی بھی فرمائی ہے۔ ملاحظہ ہو:
”الذین یأکلون الربٰوا لایقومون الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطٰن من المس، ذٰلک بانہم قالوا انما البیع مثل الربٰوا، واحل اللہ البیع و حرم الربٰوا فمن جاء ہ موعظة من ربہ فانتھٰی فلہ ماسلف․․․‘ ‘(البقرہ: ۲۷۵)
ترجمہ:… ”جو لوگ کھاتے ہیں سود نہیں اٹھیں گے قیامت کے دن مگر جس طرح اٹھتا ہے وہ شخص کہ جس کے حواس کھودیئے ہوں جن نے لپٹ کر، یہ حالت ان کی اس واسطے ہوگی کہ انہوں نے کہا کہ سود اگری بھی تو ایسے ہی ہے جیسا سود لینا، حالانکہ اللہ نے حلال کیا ہے سوداگری کو اور حرام کیا ہے سود کو، پھر جس کو پہنچی نصیحت اپنے رب کی طرف سے اور وہ باز آگیا تو اس کے واسطے ہے جو پہلے ہوچکا۔ “
دیکھئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سود کے متبادل نظام کی بھی نشاندہی فرمادی ہے اور وہ ہے حلال طریقہ پر بیع و شرأ اور خرید و فروخت کا نظام۔
۳:… رہی یہ بات کہ سود کو کیوں حرام قرار دیا گیا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں دولت چند افراد اور خاندانوں میں مرتکز ہوجاتی ہے، جس سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا جاتا ہے، اور یہ بات کسی دلیل و برہان کی محتاج نہیں بلکہ دو اور دو چار کی طرح نہایت آسان اور عام فہم ہے۔
مثلاً: اگر ایک غریب آدمی کسی مال دار کے پاس جاکر اپنی بے بسی اور بے کسی کا تذکرہ کرتے ہوئے اس سے قرض مانگے اور مال دار اس کی مدد کرنے یا قرض حسنہ دینے کے بجائے یہ کہے کہ میں تمہاری مدد کرنے کو تیار ہوں، مگر اس شرط پر کہ تمہیں قرض پر ماہانہ یا سالانہ اتنا، اتنا فیصد اضافی رقم دینا ہوگی، مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق، غریب نے قرض لے لیا، اب ایک طرف مال دار کا سرمایہ محفوظ ہوگیا اور دوسری طرف اس کو اس پر ماہانہ یا سالانہ اضافہ بشکل سود بھی ملنا شروع ہوگیا، یوں امیر، امیر تر ہونا شروع ہوگیا، دوسری طرف غریب مقروض زندگی بھر کما ، کما کر سود خور قرض خواہ کو دیتا رہے گا، یوں وہ غریب سے غریب تر ہوتا چلا جائے گا۔ کیا دنیا بھر میں جاری موجودہ بینکاری نظام اور مورگیج اسی طرح کا نہیں؟
اس کے مقابلہ میں اسلام نے مسلمانوں کو اس کی تلقین فرمائی ہے کہ :
”وان کان ذو عسرة فنظرة الی میسرة وان تصدقوا خیرلکم ان کنتم تعلمون۔‘ (البقرہ:۲۸۰)
ترجمہ:… ”اگر تمہارا ․․․)مقروض ․․․تنگدست ہے تو اس کو کشائش ہونے تک مہلت دینی چاہئے اور بخش دو ․․․قرضہ معاف کردو ․․․ تو بہت بہتر ہے، تمہارے لئے اگر تم کو سمجھ ہو۔‘ ‘
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اس کی تعلیم دی ہے کہ اگر کسی مسلمان کو قرض کی ضرورت ہو اور اسے قرض دے دیا جائے تو اس قرض کا ثواب صدقہ سے بھی زیادہ ہے، دوسرے یہ کہ جتنا قرض دیا جائے اتنا ہی واپس لیا جائے، اگر اس پر اضافہ کا مطالبہ کیا گیا تو وہ سود ہوگا، بلکہ مقروض سے قرض کے عوض کسی بھی قسم کا نفع حاصل کرنا بھی سود اور ربا کے زمرہ میں آئے گا۔
۴:… اب آیئے! اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ربا اور سود کی کون کون سی شکلیں ہیں؟ اس کی تمام تفصیلات قرآن، حدیث اور فقہ میں وضاحت کے ساتھ بیان کردی گئیں ہیں۔ مثلاً: جو چیزیں ناپ کر یا تول کر فروخت کی جاتی ہیں، جب ان کا تبادلہ ان کی جنس کے ساتھ کیا جائے تو ضروری ہے کہ دونوں چیزیں برابر، برابر ہوں اور یہ معاملہ دست بدست کیا جائے۔ اس میں ادھار بھی اور کمی بیشی بھی ناجائز ہے، چنانچہ اگر گیہوں کا تبادلہ گیہوں کے ساتھ کیا جائے تو دونوں باتیں ناجائز ہوں گی، یعنی کمی، بیشی بھی ناجائز اور ادھار بھی ناجائز اور اگر گیہوں کا تبادلہ مثلاً جو کے ساتھ کیا جائے تو کمی بیشی جائز ہے، مگر ادھار ناجائز ہے ،چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ارشاد میں بطور اصول ان چھ چیزوں کا ذکر فرمایا ہے جن کو برابر، برابر اور دست بدست فروخت کیا جائے، اگر ان کے آپس کے تبادلہ کے وقت کمی بیشی کی گئی یا ادھار کیا گیا تو ناجائز ہوگا، وہ حدیث شریف یہ ہے کہ :
”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب سونا، چاندی، گیہوں، جو، کھجور اور نمک۔ فرمایا کہ جب سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلہ، گیہوں گیہوں کے بدلے، جو جوکے بدلے ، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے فروخت کیا جائے تو برابر ہونا چاہئے اور ایک ہاتھ سے لے اور دوسرے ہاتھ سے دے، کمی بیشی سود ہے۔“ (مشکوٰة، ص:۲۴۴)
چونکہ بینکوں میں بھی نقد رقم یا چیک دے کر اس کے بدلے میں نقد رقم پر اضافہ وصول کیا جاتا ہے، اس لئے سود اور ناجائز ہے۔
۵:… دراصل اسلام میں غریبوں، کمزوروں اور پسے ہوئے افراد کے مفادات اور ان کی حیثیت و استعداد کو پیش نظر رکھ کر احکام مرتب کئے گئے ہیں، اس لئے بیع و شرأ اور خرید و فروخت کی ان تمام شکلوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے جس میں غریب کا استحصال ہوتا ہو۔ دیکھا جائے تو سودی نظام کی ممانعت میں بھی اسی استحصال کے خاتمہ کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ اسلام دشمن، یہود و نصاریٰ نے اللہ کے حرام کردہ سود اور ربا کے طریقہ کار کو اپنا کر اس پر اتنا محنت کی ہے کہ اس کو پرکشش اور جاذب نظر بنادیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سود خور سے اعلان جنگ فرمایاہے، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:
”یایہا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ وذروا مابقی من الربٰوا ان کنتم مومنین، فان لم تفعلوا فأذنوا بحرب من اللّٰہ ورسولہ، وان تبتم فلکم رؤس اموالکم لاتظلمون ولا تظلمون۔“ (البقرہ: ۲۷۹)
ترجمہ:… ” اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو کچھ باقی رہ گیا ہے سود، اگر تم کو یقین ہے اللہ کے فرمانے کا ، پھر اگر نہیں چھوڑتے تو تیار ہو جاؤ اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے کو اور اگر توبہ کرتے ہو، تو تمہارے واسطے ہے اصل مال تمہارا، نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ کوئی تم پر۔“
۶:… جس طرح ہوأ و ہوس پرستوں نے زنا، چوری، ڈکیتی، بدکاری، عیاشی، فحاشی، بدمعاشی میں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے دین کو چھوڑ کر شیطان اور اس کی ذریت کا ساتھ دیا ہے، ٹھیک اسی طرح یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے وضع کردہ نظام تجارت و معیشت کو چھوڑ کر ابنائے شیطان نے سود اور ربا کو اختیار کیا ہے، جس طرح ہوس پرستوں کو زناکاری، بدکاری، چوری ،ڈکیتی اور قتل و غارت گری اچھی لگتی ہے ، ٹھیک اسی طرح انہیں سود اور ربا بھی اچھا اور پرکشش معلوم ہوتا ہے، جس طرح وہاں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسلام نے اس کا متبادل نہیں دیا؟ اسی طرح یہاں بھی نہیں کہا جاسکتا، جس طرح وہاں متبادل نظام کے ہوتے ہوئے ہوا پرست بدکاری و بدکرداری کی طرف راغب ہیں ٹھیک اسی طرح یہاں بھی متبادل نظام ہونے کے باوجود بیمار نفوس اسی شیطانی نظام کی طرف جاتے ہیں۔
صرف اسی پر بس نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سود کی اخروی ہلاکت آفرینی کے علاوہ اس کے دنیاوی نقصانات سے بھی آگاہ فرمایا، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:
”یمحق اللّٰہ الربٰوا ویربی الصدقات۔“(البقرہ: ۲۷۵)․․․ مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو… اس قدر وضاحت سے سود کی قباحت و شناعت اور اس کے دنیاوی و اخروی نقصانات کو بیان کرنے کے باوجود بھی کوئی بدبخت سود کو اپناتا ہے تو بتلایا جائے کہ اس میں اسلام اور نظام اسلام کا قصور ہے؟ یا ان کا جو اس میں ملوث ہوتے ہیں؟
۷:… جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اسلام نے سود کو حرام قرار دے کر اس کے متبادل کسی ایک آدھ صورت پر اکتفا نہیں، سینکڑوں جائز و حلال اور نفع بخش صورتیں عطا فرمائی ہیں۔
مثلاً ارشاد الٰہی ہے: ”احل اللّٰہ البیع و حرم الربٰوا“ (البقرہ:۲۲۵) یعنی اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال قرار دیا اور ربا اور سود کو حرام قرار دیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بیع، شرأ یعنی خرید و فروخت کے احکام، مسائل، اس کی جائز و ناجائز صورتیں، بیع کے اصول، بیع کے ارکان، بیع کی شرائط، اس کے منعقد ہونے کی شرائط، شرائط صحت، شرائط لزوم وغیرہ کے علاوہ باعتبار حکم کے بھی بیع کی تمام اقسام کو بیان کردیا۔
چنانچہ ذخیرئہ احادیث اور فقہ کی کتابوں میں مذکورہ بیع کی اقسام، مثلاً: بیع صحیح اور باطل و فاسد اور اس کی تمام جائز و ناجائز صورتیں اور ان کے احکام اور شرائط کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے، چنانچہ آپ نے اگر فقہ کا مطالعہ کیا ہوتا تو آپ کو اندازہ ہوتا کہ فقہاء نے قرآن و حدیث کی روشنی میں نہ صرف بیع کی جائز صورتیں لکھی ہیں، بلکہ اس کی ناجائز صورتوں میں سے بھی ایک ایک کی نشاندہی فرمائی ہے۔ مثلاً بیع باطل، فاسد، مکروہ، بیع غرر، بیع حبل الحبلہ، بیع ملامسہ، بیع منابذہ، بیع حصاة، بیع مزابنہ اور محاقلہ، بیع المضامین والملاقیح، بیع نجش، اسی طرح خرید و فروخت کی جو جائز صورتیں ہیں، ان کی بھی تفصیلات کی نشاندہی فرمائی گئی ہے، مثلاً بیع کے ارکان کیا ہیں؟ اس کی شرائط کیا ہیں؟ پھر ثمن اور ادائیگی کی مدت کے اعتبار سے بیع کی قسمیں وغیرہ۔ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ شرائط ۔ پھر ان میں سے ہر ایک کا جدا حکم بھی بیان کیا گیا ہے۔
اس ساری تفصیل عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کی ہر ہر مرحلہ پر راہ نمائی فرمائی اور جائز و ناجائز کی نشاندہی فرمائی ہے، گویا اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ایک پورا معاشی نظام دیا ہے، جو لوگ ان خطوط پر کام کریں گے وہ حلال و پاک رزق کمائیں گے اور جو اس کے خلاف عمل کریں گے، ان کا عمل ناجائز و حرام ہوگا اور ان کی دنیا و آخرت خراب ہوگی۔
ابتدائے اسلام سے لے کر گیارہ سو سال تک مسلمان اس نظام پر چلتے رہے تو ان کو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔
رہی یہ بات کہ اسلام نے مسلمانوں کو بینکاری کا متبادل کیا دیا ہے؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ مضاربہ و مشارکہ دراصل اسلامی بینکاری ہی ہے، جس میں ایک ایسا مسلمان جو مال دار تو ہے مگر محنت و مشقت یا تجارتی کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، یا اسے اس کا تجربہ نہیں، بلاشبہ وہ اپنا سرمایہ کسی ایسے مسلمان کو، جو محنت و مشقت یا تجارتی کام کرنے کی صلاحیت و تجربہ رکھتا ہو، لیکن اس کے پاس سرمایہ نہ ہو، مال دے کر سرمایہ کاری کرسکتا ہے، اور اس کو دین و شریعت کی اصطلاح میں مضاربت کہا جاتا ہے، چنانچہ یہ دونوں مل کر باہمی یہ تجارتی معاہدہ کرسکتے ہیں کہ ایک کی محنت ہوگی اور دوسرے کا سرمایہ۔ اس سے جو نفع حاصل ہوگا اسے مثلاً بیس فیصد، تیس فیصد یا پچاس فیصد کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا اور جو نقصان ہوگا اس کو نفع سے پورا کیا جائے گا اور اگر نقصان نفع سے زیادہ ہو تو اس کو رأس المال یعنی کیپیٹل سے پورا کیا جائے گا ، یوں محنت کرنے والے کی محنت کا اور سرمایہ دار کے سرمایہ کا نقصان ہوگا۔
اسی طرح اس کی دوسری صورت مشارکہ یعنی کاروبار میں شراکت داری کی بھی ہے، اس میں بھی نفع و نقصان کی شراکت کی بنیاد پر وہی کام جائز بنیادوں پر کیا جاسکتا ہے جو یہودی بینکار غیر اسلامی اور سودی انداز میں کرکے پورے معاشرے کا سرمایہ سمیٹ رہے ہیں، اس کے علاوہ اجارہ یعنی کرایہ داری کا نظام بھی اسلام نے دیا ہے۔ ۸:… الغرض اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ایک جائز، حلال اور نہایت کامیاب و بہترین معاشی نظام دیا ہے، مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اس کو چھوڑ کر یہود و نصاریٰ کی تقلید میں سودی نظام کے پیچھے سرپٹ دوڑنا شروع کردیا ہے، اب آپ ہی بتلائیں اس میں اسلام کا قصور ہے یا مسلمان کا؟
اسی سے آپ کے اس اشکال کا بھی جواب ہوجاتا ہے کہ: ”اسلام کی ناقص معاشی کارکردگی کا حال، اس کی ماضی کی مثال تو نہیں؟“ کیونکہ اسلام اور مسلمانوں کا ماضی روشن اور تابناک تھا، اگر مسلمانوں نے اپنے حال کو بدل لیا ہے تو اس میں ان کے ماضی کا کیا قصور ہے؟ کیا کوئی عقل مند اولاد کی بدکرداری کو باکردار والدین کے کھاتے میں ڈال سکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو حال کے مسلمانوں کی معاشی بدحالی کا بوجھ ماضی کے مسلمانوں کے کھاتے میں کیوں ڈالا جائے؟
۹:… رہی یہ بات کہ آپ کے دوست کو ایک اسلامی بینک میں ملازمت کرنے سے روکا گیا ہے، تو کیوں؟ بھلا اس میں اسلام کے معاشی نظام کا کیا قصور ہے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ یا آپ کا دوست جس بینک کو اسلامی بینک کہہ رہا ہے، واقعتا وہ اسلامی بھی ہے یا نہیں؟ دوسری بات یہ ہے کہ یہ سوال روکنے والے سے کیجئے کہ اس نے کس بنیاد پر آپ کے دوست کو روکا ہے؟ عین ممکن ہے کہ اس نام نہاد اسلامی بینک میں غیر شرعی اور سودی نظام کو اسلامی بینک کا نام دیا گیا ہو، کیونکہ بہت سے بینکوں نے مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے صرف نام کی حد تک اسلامی بینکاری کا بورڈ آویزاں کر رکھا ہے؟
ٹھیک اسی طرح وہ بینک جو اپنے تئیں اسلامی کہلاتے ہیں، ان کے نظام میں جھانک کر دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ حرام پر حلال کا بورڈ لگاکر مسلمانوں کو دھوکا دیا جارہا ہے۔
تاہم اگر کہیں کسی بینک میں واقعی اسلامی اور شرعی اصولوں پر مضاربہ و مشارکہ کا نظام نافذ ہے تو اس میں کام کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔ امید ہے میری یہ چند معروضات آپ کی تشفی کے لئے کافی ہوں گی۔
 

عاطف بٹ

محفلین
اسد عباسی صاحب، علی خان صاحب اور حسینی صاحب، اب تک آپ لوگوں کو سمجھ آگئی ہوگی کہ فاروق سرور خان صاحب کسی بات کے مبرہن ہونے پر اسے تسلیم کرنے والوں میں سے نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق اس قبیل ہے جس کا کوّا ہمیشہ سفید ہی ہوتا ہے۔ وہ بےچارے امریکی انتظامیہ کے دیہاڑی دار ملازم ہیں، انہیں آپ کی باتیں سمجھ نہیں آئیں گی۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ خان صاحب کو دلائل فراہم کئے گئے اور وہ اپنی ایک بھونڈی رٹ پر اڑے رہے، ایسا اس سے پہلے بھی کئی بار ہوچکا ہے اور شاید نایاب بھائی نے کسی اور فورم کا بھی حوالہ ڈھونڈ کر دیا تھا جہاں ایک مسئلے پر جب خان صاحب کو مطلوبہ ٹھوس دلائل مل گئے تو یہ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور محفل میں آ کر اسی موضوع پر نئے سرے سے بحث شروع کردی۔
احباب سے گزارش ہے کہ خان صاحب کی ذہنی حالت کے لئے دعا کریں۔
 

اسد عباسی

محفلین
اسد عباسی صاحب، علی خان صاحب اور حسینی صاحب، اب تک آپ لوگوں کو سمجھ آگئی ہوگی کہ فاروق سرور خان صاحب کسی بات کے مبرہن ہونے پر اسے تسلیم کرنے والوں میں سے نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق اس قبیل ہے جس کا کوّا ہمیشہ سفید ہی ہوتا ہے۔ وہ بےچارے امریکی انتظامیہ کے دیہاڑی دار ملازم ہیں، انہیں آپ کی باتیں سمجھ نہیں آئیں گی۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ خان صاحب کو دلائل فراہم کئے گئے اور وہ اپنی ایک بھونڈی رٹ پر اڑے رہے، ایسا اس سے پہلے بھی کئی بار ہوچکا ہے اور شاید نایاب بھائی نے کسی اور فورم کا بھی حوالہ ڈھونڈ کر دیا تھا جہاں ایک مسئلے پر جب خان صاحب کو مطلوبہ ٹھوس دلائل مل گئے تو یہ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور محفل میں آ کر اسی موضوع پر نئے سرے سے بحث شروع کردی۔
احباب سے گزارش ہے کہ خان صاحب کی ذہنی حالت کے لئے دعا کریں۔
عاطف بٹ صاحب ھم ان کو کب سمجھانا چاھتے ھیں ھماری کوشش تو یہ ھے کہ کوئي معصوم بھائی یا بہن ان جیسوں کی باتوں میں آ کر بہک نہ جائے۔
باقی جن بھائیوں کو ان کے سوالات میں کوئی سچائی نظر آتی ھو ان سے گزارش ھے کہ وہ ھم سب کے جوابات بھی ضرور پڑھیں اور دیکھیں کہ وہ جواب پر غور ھی نہیں کرتے بس سوال ھی دھراتے رھتے ھیں۔
ھم خان صاحب سے بھی گزارش کرتے ھیں کہ وہ بحث برائے بحث کا فارمولا اس بحث میں لگا کر اپنا ایمان برباد کرنے سے بچیں۔
بحث کا ھی شوق ھے تو اسلام کے علاوہ بھی بڑے مسائل ھیں ان پر کر لیا کريں۔
 

عاطف بٹ

محفلین
عاطف بٹ صاحب ھم ان کو کب سمجھانا چاھتے ھیں ھماری کوشش تو یہ ھے کہ کوئي معصوم بھائی یا بہن ان جیسوں کی باتوں میں آ کر بہک نہ جائے۔
باقی جن بھائیوں کو ان کے سوالات میں کوئی سچائی نظر آتی ھو ان سے گزارش ھے کہ وہ ھم سب کے جوابات بھی ضرور پڑھیں اور دیکھیں کہ وہ جواب پر غور ھی نہیں کرتے بس سوال ھی دھراتے رھتے ھیں۔
ھم خان صاحب سے بھی گزارش کرتے ھیں کہ وہ بحث برائے بحث کا فارمولا اس بحث میں لگا کر اپنا ایمان برباد کرنے سے بچیں۔
بحث کا ھی شوق ھے تو اسلام کے علاوہ بھی بڑے مسائل ھیں ان پر کر لیا کريں۔
اسد بھائی، میرے خیال میں انتظامیہ کو اس طرف دھیان دینا چاہئے کہ خان صاحب جیسے شر پسند عناصر کو سمجھایا جائے۔ وہ مسلسل اسی طرح کی حرکتیں کرتے چلے آرہے ہیں۔ اپنے پیسے کھرے کرنے کے چکر میں خان صاحب معصوم ذہنوں کو الجھانے کے ساتھ ساتھ مذہب سے گہری وابستگی رکھنے والوں لوگوں کے لئے آزار کا باعث بھی بنتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کی جھولی میں بیٹھ کر جو حرکتیں یہ کررہے ہیں، اس طرح کی ایک بھی حرکت انہیں نے پاکستان میں ہوتے ہوئے کی ہوتی تو اب تک مذہب کو جان سے عزیز سمجھنے والا کوئی شخص ان کو سبق سکھا چکا ہوتا۔
 

علی خان

محفلین
شمشاد بھائی
نبیل بھائی
ساجد بھائی
عاطف بٹ بھائی
اسد عباسی بھائی
حسینی بھائی
میں چاہونگا کہ مدیرانِ فورم اسطرف تھوڑی سی توجہ دیں۔ اور جاہلیت اور نا سمجھی کا فرق واضح کیا جائے۔ اور ایک رہنما اُصول بنا دیا جائے اُن تمام لوگوں کے لئے جو امریکہ اور اُسکے دوستوں کے دوست ہیں۔ کیونکہ یہ تمام لوگ یہاں پر اپنا تبلیغ کر رہیں ہیں۔ اور میرے خیال میں یہ بھی ہم اپنے پاکستان اور مسلمانوں سے غلط کر رہیں ہیں۔ اور غیر ارادی طور پر اپنا ہی نقصان کر رہیں ہیں۔ کیونکہ ہم اختیار رکھتے ہوئے بھی اپنے لوگوں کے لئے کچھ نہیں کر رہیں ہیں۔ اور اُنکے ذہنوں کو اِن لوگوں کے لئے کنوینس کر رہیں ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ یہاں پر کبھی فواد کے نام سے کبھی کسی اور نام سے اپنی بڑائی اور پاکستانیوں و مسلمانوں کی برائی کر رہیں ہیں۔ اور ہمارے معصوم لوگوں کو پاکستان اور مسلمانوں کو سب سے بہترین دین اسلام سے متنفر کر رہیں ہیں۔ میری درخواست ہے۔ کہ اپنے لئے نہیں پاکستان اور دین اسلام کی سرفرازی اور بلندی کے لئے اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
انتظامیہ کو پوری طرح علم ہے کہ کون کیا کر رہا ہے۔
انہوں نے ایک دلیل دی آپ نے جواب میں دلیل دے دی۔ اب یہ قاری پر منحصر ہے کہ کس کو صحیح سمجھے۔
آپ یا میں یا کوئی اور کسی کو زبردستی اپنی بات نہیں منوا سکتا کہ ڈنڈا لیکر آ جائے اور کہے کہ ضرور میری ہی مانو۔

اللہ تعالٰی نے قرآن میں سورۃ غاشیہ (سورۃ نمبر 88 ) میں آیہ 21 سے آیہ 26 تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا ہے :

ترجمہ :
پس آپ نصیحت فرماتے رہئے، آپ تو نصیحت ہی فرمانے والے ہیں۔ (21)
آپ ان پر جابر و قاہر (کے طور پر) مسلط نہیں ہیں۔ (22)
مگر جو رُوگردانی کرے اور کفر کرے۔ (23)
تو اسے اﷲ سب سے بڑا عذاب دے گا۔ (24)
بیشک (بالآخر) ہماری ہی طرف ان کا پلٹنا ہے۔ (25)
پھر یقیناً ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب (لینا) ہے۔ (26)
 
حدیث کا مفہوم کہ جب کانا دجال آئے گا تو اس کے ماتھے پر کافر لکھا ہوگا جسے صرف ایمان والے ہی دیکھ سکیں گے حیرت ہوتی تھی بھلا کیسے---- :roll: لیکن جوں جوں وقت گزر رہا اندازہ ہوتا جا رہا کہ ایسا کیسے ہوگا.۔۔۔۔ :battingeyelashes: اور اس وقت خان صاحب کی طرف سے کیے گیے تبصروں نے کافی کچھ سمجھا دیا.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :shocked: :nerd:
شکریہ خان صاحب ! الله پاک آپکو بھلائیوں کے راستے پر چلائے! آمین :arrogant:
 

علی خان

محفلین
شمشاد بھائی میں اپکی بات سے پوری طرح متفق ہوں۔ مگر یہی تو وہ لوگ ہیں جو سامنے آکرہمیں نقصان دے رہیں ہیں۔ اگر یہ لوگ مخلص ہوتے تو کیا آپ کے خیال میں اِنکو پتہ نہیں کہ انکے اسطرح کے راویے سے اسلام اور پاکستان کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔ کیا یہ لوگ اسلام اور پاکستان کے لئے اس کم ظرفی سے باز نہیں آسکتے ہیں۔ اور کیا ہم اِنکو اس طرح کی آزادی دے سکتے ہیں ؟ میں اپنی یا آپکی بات نہیں کر رہا ہوں۔ ہم کو تو انکے کرتوت کا پتہ ہے۔ مگر کیا ایک عام شہری یا ایک ممبر کو اتنی گہرائی میں انکے ان کرتوتوں کا اندازہ ہے۔ میرے خیال میں کہ نہیں ہے۔ تو کیا ہم اُنکے لئے کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ جسطرح یہ لوگ ہمارے خلاف متحد ہیں اسی طرح ہم نہیں ہو سکتے ہیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
امریکہ سے علیحدگی کی خواہش مند ریاستوں کے بارے یہ مضمون


col2a.gif
 

قیصرانی

لائبریرین
یہ کالم دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے پر کلک کریں گے تو ویب سائٹ پر اس کالم کا لنک کھل جائے گا

یہ کالم جنگ آن لائن کے آج کے ایڈیشن میں ہے
 

عاطف بٹ

محفلین
انتظامیہ کو پوری طرح علم ہے کہ کون کیا کر رہا ہے۔
انہوں نے ایک دلیل دی آپ نے جواب میں دلیل دے دی۔ اب یہ قاری پر منحصر ہے کہ کس کو صحیح سمجھے۔
آپ یا میں یا کوئی اور کسی کو زبردستی اپنی بات نہیں منوا سکتا کہ ڈنڈا لیکر آ جائے اور کہے کہ ضرور میری ہی مانو۔

شمشاد بھائی،آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں اور میں یہاں انتظامیہ کی کارکردگی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہا بلکہ صرف یہ عرض کررہا ہوں کہ خان صاحب اور ان جیسے دیگر لوگوں کو سمجھایا جائے کہ دوسروں کی دلآزاری سے باز رہیں۔ ان کے دلائل کا جواب تو دلائل سے دیا جاسکتا ہے مگر وہ حدیث کے مستند مجموعوں کے لئے جس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ان کا کیا علاج کیا جائے؟ بار بار وہ ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن سے کئی لوگوں کی دلآزاری ہوتی ہے۔ اگر وہ بحث کے آداب سے واقف نہیں ہیں تو انہیں بتایا جانا ضروری ہے کہ انہوں نے اپنی بات دوسروں کے سامنے کس طرح رکھنی ہے۔ علاوہ ازیں، یہاں مسئلہ صرف دلائل اور جوابی دلائل کا نہیں بلکہ ایک شخص کی کج بحثی کا ہے۔ انہیں کئی بار احادیث مبارکہ کی ترتیب و تسوید کے بارے میں ٹھوس دلائل فراہم کئے جاچکے ہیں مگر اس کے باوجود وہ بات کرتے ہوئے ان دلائل کو یکسر نظر انداز کر کے دوسروں کے نظریات پر تنقید کرتے ہیں۔
حمّام بن مُنبّہ کی الصحیفۃ الصحیحۃ سے لے کر صحاح ستہ اور بعد میں مرتب ہونے والے کئی مستند مجموعہ ہائے احادیث تک انہیں ہر کتاب کے بارے میں دلائل فراہم کئے گئے ہیں مگر اس کے باوجود وہ کتبِ احادیث پر تنقید کرتے ہوئے اپنے پہلے مؤقف کو ہی دہرائے جاتے ہیں تو اس کا مقصد نئے پڑھنے والوں کے ذہنوں کو الجھانے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟ اب ہر کسی کے پاس تو اتنا وقت نہیں ہوگا کہ وہ نئے سرے سے بیٹھ کر ان دلائل اور بحثوں کو پورا کھنگالے۔ میں نے اسی تناظر میں عرض کی تھی کہ انہیں سمجھایا جائے کہ وہ بحث کرنا چاہتے ہیں تو بحث کے آداب بھی سیکھیں۔
 

سید زبیر

محفلین
فاروق سرور خان قران حکیم کی اس إٓئت میں اطیعو الرسول کے احکامات ہمیں کہاں سے ملیں گے

یا ایها الذین امنو اطیعو الله واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم فان تنازعتم فی شیء فردوه الی الله و الرسول ان کنتم تومنون بالله و الیوم الاخر ذلک خیر و احسن تاویلا. {سوره نساء - آیه ۵۹}
اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور جو اختیار والے ہیں تم میں پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو اللہ اور اسکے رسول کے اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور یوم آخر پر یہ خوب ہے اور بہتر تحقیق کرنا ہے
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

اس تھريڈ ميں جو رپورٹ پيش کی گئ ہے اور جو تاثر ديا گيا ہے وہ اس واضح تضاد اور يکطرفہ تعصب کی مثال ہے جسے پاکستان ميں کچھ لکھاری اور تجزيہ نگار امريکہ مخالف جذبات کے اظہار کے ليے اکثر استعمال کرتے ہيں۔ ايک طرف تو کچھ رائے دہندگان اور کالم نگار يہ دعوی کرتے ہیں کہ امريکہ تمام تر اختيارات سے مالا مال ایک ايسی مضبوط قوت ہے جو کسی بھی غیر ملک کی حکومت کو تبديل بھی کر سکتی ہے اور ملکوں میں موجود عليحدگی کی تحريکوں کی معاونت اور فنڈنگ کے ذريعے ان حکومتوں کو بليک ميل بھی کر سکتی ہے۔ دوسری جانب پھر اسی امريکی حکومت کو بے بس اور اپنی ہی سرحدی حدود کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ظاہر کيا جارہا ہے اور وہ بھی چند گمنام تنظيموں، سياسی مزاحمت کاروں اور يہاں تک کہ کچھ ناپختہ سوچ اور غير مقبول خيالات کے حامل تجزيہ نگاروں اور رائے دہندگان کے ہاتھوں – باوجود اس کے کہ امريکی حکومت کو امريکہ کے اندر بھی اسی انفراسٹکچر، فوجی قوت اور اينٹيلی جينس ايجنسيوں کی حمايت اور مدد حاصل ہے جن کی بنياد پر بعض کالم نگاروں اور رائے دہنگان کے بقول امريکہ دنيا بھر ميں اپنی مرضی کا ہر کام کروا سکتا ہے۔

اس دعوے ميں منطق اور فہم کہاں پر ہے؟

رپورٹ ميں امريکہ کے اندر جن "آزادی کی تحريکوں" کے حوالے ديے گئے ہیں وہ محض چند افراد کے انوکھے خيالات اور کچھ سياسی تنظيموں کی آزادانہ سوچ اور رائے کا اظہار ہےجس کی نا صرف يہ کہ امريکی آئين ميں گنجائش موجود ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائ بھی کی جاتی ہے۔

تين سو ملين افراد کے اس ملک میں ان ميں سے کسی بھی گروہ کو قابل ذکر حمايت حاصل نہيں ہے۔ ياد رہے کہ پاکستان کے اندر بھی 200 سے زائد رجسٹرڈ سياسی جماعتيں ہيں ليکن ان کی موجودگی کسی مخصوص سوچ يا نظريے کی عوامی مقبوليت يا کامياب سياسی تحريک کی سند نہیں بن جاتی۔

امريکی حکومت نے ان افراد اور تنظيموں کے خلاف کبھی کوئ کاروائ نہیں کی۔ جو مثالیں دی گئ ہیں وہ تو "آزادی کی تحريک" کی بنيادی کٹيگری اور عالمی سطح پر تسليم شدہ بغاوت کی تعريف پر بھی پورا نہیں اترتیں جس ميں عوامی سطح پر ہزاروں لوگ حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 

اسد عباسی

محفلین
اسد بھائی، میرے خیال میں انتظامیہ کو اس طرف دھیان دینا چاہئے کہ خان صاحب جیسے شر پسند عناصر کو سمجھایا جائے۔ وہ مسلسل اسی طرح کی حرکتیں کرتے چلے آرہے ہیں۔ اپنے پیسے کھرے کرنے کے چکر میں خان صاحب معصوم ذہنوں کو الجھانے کے ساتھ ساتھ مذہب سے گہری وابستگی رکھنے والوں لوگوں کے لئے آزار کا باعث بھی بنتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کی جھولی میں بیٹھ کر جو حرکتیں یہ کررہے ہیں، اس طرح کی ایک بھی حرکت انہیں نے پاکستان میں ہوتے ہوئے کی ہوتی تو اب تک مذہب کو جان سے عزیز سمجھنے والا کوئی شخص ان کو سبق سکھا چکا ہوتا۔
عاطف بٹ بھائی آپ پرانے ھیں اب آپ ھی بتا دیجیئے کہ کیا کوئی ایسا ذریعہ ھے جس کے ذريعے سے ھم یہ شکائت انتظامیہ تک پہنچا سکیں۔
 

عاطف بٹ

محفلین
عاطف بٹ بھائی آپ پرانے ھیں اب آپ ھی بتا دیجیئے کہ کیا کوئی ایسا ذریعہ ھے جس کے ذريعے سے ھم یہ شکائت انتظامیہ تک پہنچا سکیں۔
اسد بھائی، قسم لے لیں میں بھی اتنا پرانا نہیں ہوں، یقین نہ آئے تو میرا شناختی کارڈ چیک کرلیں! :p
خیر، ہنسی مزاح تو رہا ایک طرف، انتظامیہ تک یہ بات پہنچ چکی ہے۔ مزید یہ کہ آپ کو جس بھی مراسلے کے حوالے سے تحفظات ہوں اس پر آپ ’رپورٹ‘ کرسکتے ہیں جس پر محفل انتظامیہ خود ہی کارروائی کرلے گی۔
 

عاطف بٹ

محفلین
تين سو ملين افراد کے اس ملک میں ان ميں سے کسی بھی گروہ کو قابل ذکر حمايت حاصل نہيں ہے۔ ياد رہے کہ پاکستان کے اندر بھی 200 سے زائد رجسٹرڈ سياسی جماعتيں ہيں ليکن ان کی موجودگی کسی مخصوص سوچ يا نظريے کی عوامی مقبوليت يا کامياب سياسی تحريک کی سند نہیں بن جاتی۔
یار فواد، اچھا ہوا تم آگئے۔ یہ پاکستانی لوگ پتا نہیں کیوں ہاتھ، پاؤں اور منہ دھو کر امریکہ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے بہت سمجھایا کہ تم آجاؤ گے مگر یہ لوگ چپ نہیں ہوئے۔ خان صاحب بھی بےچارے ’فرض‘ نبھاتے نبھاتے تھک گئے۔
اب میرا یار فواد آگیا ہے، اب آؤ سامنے، کون کون بول رہا تھا ہمارے عظیم دیس امریکہ کے خلاف۔ فواد، میں تمہارے ساتھ ہوں یار۔
اب یہ بتاؤ کہ یہ پٹریاس بھائی اور ایلن بھائی والا کیا قصہ ہے؟ بڑا دکھ ہوا یار سن کر، میں تو تین دن سے بیمار پڑا ہوں یہ خبر سن کر۔ تم دیکھنا، یہ جل کیلی خود ہی جل کر کالی ہوجائے گی اب۔ بیڑا غرق ہو اس بی بی کا، دیکھو ہمارے دو عظیم جرنیلوں کی لُٹیا ہی ڈبو دی اس نے۔
 
Top