طارق شاہ

محفلین

یہ جُدائیوں کے رستے، بڑی دُور تک گئے ہیں
جو گیا، وہ پھر نہ آیا، مِری بات مان جاؤ

کسی بے وفا کی خاطر یہ جُنوں فراز کب تک
جو تُمھیں بھُلا چُکا ہے، اُسے تم بھی بُھول جاؤ


احمد فراز
 

طارق شاہ

محفلین

جب بھی کسی کا ذکر چھڑا ہے، جب بھی کسی کی بات چلی ہے
یہی رہا ہے ذکر مُسلسل، بات یہی دن رات چلی ہے


مُضطر اکبرآبادی
 

صائمہ شاہ

محفلین
اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون!
کس سے مکالمہ ہے ! پسِ گفتگو ہے کون!

سایہ اگر ہے وہ تو ہے اُس کا بدن کہاں؟
مرکز اگر ہوں میں تو مرے چار سو ہے کون!

امجد اسلام امجد
 

طارق شاہ

محفلین

نِگاہ و دِل کا افسانہ قریبِ اِختمام آیا
ہمیں اب اِس سے کیا، آئی سحر یا وقتِ شام آیا


MULLAH.png
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

کہاں کا وصل، کیسی آرزو، اے دِل ! وہ کہتے ہیں
نہ میں حسرت کرُوں پُوری، نہ تُو ارمان پیدا کر

احسن مارہروی
 

طارق شاہ

محفلین

ہمارا اِنتخاب اچھّا نہیں اے دل! تو پھر تُو ہی
خیالِ یار سے، بہتر کوئی، مہمان پیدا کر

احسن مارہروی
 

طارق شاہ

محفلین

ادا میں بانکپن، انداز میں اِک آن پیدا کر
تجھے معشُوق بننا ہے، تو پُوری شان پیدا کر


احسن مارہروی
 

طارق شاہ

محفلین

مِرے لب سی، مگر کل سامنے دُنیا کے ، اے ظالم !
بَعُنوانِ سِتم ، یہ داستاں آئی ، تو کیا ہوگا

افتخار بدایونی
 
Top