گلزار

  1. فرخ منظور

    گلزار دستک ۔ گلزار

    دستک صبح صبح اک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا، دیکھا سرحد کے اس پار سے کچھ مہمان آئے ہیں آنکھوں سے مانوس تھے سارے چہرے سارے سنے سنائے پاؤں دھوئے، ہاتھ دھلائے آنگن میں آسن لگوائے اور تنور پہ مکی کے کچھ موٹے موٹے روٹ پکائے پوٹلی میں مہمان مرے پچھلے سالوں کی فصلوں کا گڑ لائے تھے آنکھ کھلی تو دیکھا...
  2. کاشفی

    گلزار زندگی یوں ہوئی بسر تنہا - گلزار

    غزل (گلزار) زندگی یوں ہوئی بسر تنہا قافلہ ساتھ اور سفر تنہا اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں عمر گزری ہے اس قدر تنہا رات بھر باتیں کرتے ہیں تارے رات کاٹے کوئی کدھر تنہا ڈوبنے والے پار جا اترے نقش پا اپنے چھوڑ کر تنہا دن گزرتا نہیں ہے لوگوں میں رات ہوتی نہیں بسر تنہا ہم نے دروازے تک تو...
  3. فرحان محمد خان

    گلزار مل کر وہ اتفاق سے کیا کام کر گئی ،دل سے تیری نگاہ جگر تک اتر گئی (گلزار دہلوی)

    مل کر وہ اتفاق سے کیا کام کر گئی "دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی" آ کر ہوا کے جھونکے میں جانے گدھر گئی مجھ کو رہی تلاش جہاں تک نظر گئی تن من جلے نفاق سے بھٹی میں ہجر کی وہ آئی بھی تو دیکھ کے بندے کو ڈر گئی یوں تو سدا باصحرا رہے نامراد عشق دل سے نکل کے بات بھی تابحر و بر گئی کیا وقت آج آ کے...
  4. کاشفی

    گلزار پھولوں کی طرح لب کھول کبھی - سمپورن سنگھ کلرا، گلزار

    غزل ( سمپورن سنگھ کلرا، گلزار) پھولوں کی طرح لب کھول کبھی خوشبو کی زباں میں بول کبھی الفاظ پرکھتا رہتا ہے آواز ہماری تول کبھی انمول نہیں لیکن پھر بھی پوچھ تو مفت کا مول کبھی کھڑکی میں کٹی ہیں سب راتیں کچھ چورس تھیں کچھ گول کبھی یہ دل بھی دوست زمیں کی طرح ہو جاتا ہے ڈانوا ڈول کبھی
  5. کاشفی

    گلزار جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے - سمپورن سنگھ کلرا

    غزل ( سمپورن سنگھ کلرا، گلزار) جب بھی یہ دل اُداس ہوتا ہے جانے کون آس پاس ہوتا ہے آنکھیں پہچانتی ہیں آنکھوں کو درد چہرہ شناس ہوتا ہے گو برستی نہیں سدا آنکھیں ابر تو بارہ ماس ہوتا ہے چھال پیڑوں کی سخت ہے لیکن نیچے ناخن کے ماس ہوتا ہے زخم کہتے ہیں دل کا گہنہ ہے درد دل کا لباس ہوتا ہے ڈس ہی...
  6. لاریب مرزا

    گلزار رُخصت از گلزار

    جیسے جھنّا کے چٹخ جائے کسی ساز کا تار جیسے ریشم کی کسی ڈور سے انگلی کٹ جائے ایسے اِک ضرب سی پڑتی ہے کہیں سینے میں کھینچ کر توڑنی پڑ جاتی ہے جب تجھ سے نظر تیرے جانے کی گھڑی ، سخت گھڑی ہے جاناں!!
  7. غدیر زھرا

    امرتا پریتم کفر

    اج اساں اک دنیا ویچی تے اک دین ویہاج لیائے گل کفر دی کیتی سُپنے دا اک تھان اُنایا گز کوں کپڑا پاڑ لیا تے عمر دی چولی سیتی اج اساں اک دنیا ویچی تے اک دین ویہاج لیائے گل کفر دی کیتی اج اساں اَنبر دے گھڑیوں بدل دی اک چَپنی لاہی گھٹ چاننی پیتی اج اساں اک دنیا ویچی تے اک دین ویہاج لیائے گل کفر دی...
  8. وقار..

    تخلیق !

    تمھارے ہونٹوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی تلاوتیں جُھک کے میری آنکھوں کو چُھو رہی ہیں مٙیں اپنے ہونٹوں سے چُن رہا ہوں تمہاری سانسوں کی آیتوں کو کہ جسم کے اِس حسین کعبے پہ روح سجدے بچھا رہی ھے وہ ایک لمحہ بڑا مقدس تھا،جس میں تم جنم لے رہی تھیں وہ ایک لمحہ بڑا مقدس تھا،جس میں مٙیں جنم لے رہا تھا یہ ایک لمحہ...
  9. نیرنگ خیال

    گلزار ایک خواب

    ایک خواب ایک ہی خواب کئی بار یوں ہی دیکھا ہے میں نے تو نے ساڑی میں اڑس لی ہیں مری چابیاں گھر کی اور چلی آئی ہے بس یوں ہی مرا ہاتھ پکڑ کر گھر کی ہر چیز سنبھالے ہوئے اپنائے ہوئے تو تو مرے پاس مرے گھر پہ مرے ساتھ ہے سونوںؔ میز پر پھول سجاتے ہوئے دیکھا ہے کئی بار اور بستر سے کئی بار جگایا بھی ہے...
  10. لاریب مرزا

    گلزار گلوں کو سننا ذرا تم

    گلوں کو سننا ذرا تم، صدائیں بھیجی ہیں گلوں کے ہاتھ بہت سی، دُعائیں بھیجی ہیں جو آفتاب کبھی بھی غروب ہوتا نہیں ہمارا دل ہے، اسی کی شعاعیں بھیجی ہیں اگر جلائے تمہیں بھی شفا ملے شاید اک ایسے درد کی تم کو شعاعیں بھیجی ہیں تمہاری خشک سی آنکھیں، بھلی نہیں لگتیں وہ ساری یادیں جو تم کو رُلائیں،...
  11. وقار..

    یہ کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم

    یہ کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم بہت جی چاہتا ہے پھر سے بو دوں اپنی آنکھیں تمہارے ڈھیر سے چہرے اگاؤں اور بلاؤں بارشوں کو بہت جی ہے کہ فرصت ہو، تصور ہو تصور میں ذرا سی باغبانی ہو مگر جاناں یہ کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم کسی کے حصے کی مٹی نہیں ہلتی کسی کی دھوپ کا حصہ نہیں چھنتا مگر اب میری کیاری میں...
  12. یاز

    گلزار کے یادگار گیت

    تجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ہوں میں فلم: معصوم سال: 1983 شاعر: گلزار گلوگار: انوپ گھوشل موسیقی: آر ڈی برمن فلم سکرین پہ: نصیرالدین شاہ، جگل ہنس راج
  13. نیرنگ خیال

    کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے (متالی سنگھ)

    کل جب میں نے گلزار کی نظم " کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے " شئیر کی تو ایک دوست نے یاد کروایا کہ ایک ڈرامے کے آفیشل ساؤنڈ ٹریک میں یہ نظم شامل تھی۔ جس کو متالی سنگھ نے گایا تھا۔ اور میوزک دیا تھا بھوپندر سنگھ نے۔
  14. نیرنگ خیال

    گلزار کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے

    کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے کتنی گرہیں اب باقی ہیں پاؤں میں پائل باہوں میں کنگن گلے میں ہنسلی کمر بند، چھلّے اور بِچھوے ناک کان چِھدوائے گئے ہیں اور زیور زیور کہتے کہتے رِیت رواج کی رسیوں سے میں جکڑی گئی اُف کتنی طرح میں پکڑی گئی اب چِھلنے لگے ہیں ہاتھ پاؤں اور کتنی خراشیں اُبھری ہیں کتنی...
  15. محمداحمد

    گلزار آنکھوں میں جل رہا ہے کیوں بجھتا نہیں دھواں

    غزل آنکھوں میں جل رہا ہے کیوں بجھتا نہیں دھواں اُٹھتا تو ہے گھٹا سا، برستا نہیں دھواں چولہے نہیں جلائے یا بستی ہی جل گئی؟ کچھ روز ہوگئے ہیں اب اُٹھتا نہیں دھواں آنکھوں کے پوچھنے سے لگا آنچ کا پتہ یوں چہرہ پھیر لینے سے چُھپتا نہیں دھواں آنکھوں کے آنسوؤں سے مراسم پرانے ہیں میہماں یہ گھر...
  16. پرویزبزدار

    برا لگا تو ہو گا اے خدا تجھے

    برا لگا تو ہو گا اے خدا تجھے دعا میں جب جمائی لے رہا تھا میں دعا کے اس عمل سے تھک گیا ہوں میں میں جب سے دیکھ سن رہا ہوں تب سے یاد ہے مجھے خدا ، جلا بجھا رہا ہے رات دن خدا کے ہاتھ میں ہے سب برا بھلا دعا کرو ، دعا کرو عجیب سا عمل ہے یہ یہ ایک فرضی گفتگو اور ایک طرفہ ، ایک ایسے شخص سے خیال...
  17. نیرنگ خیال

    گلزار وہ خط کے پرزے اُڑا رہا تھا

    وہ خط کے پرزے اُڑا رہا تھا ہواؤں کا رخ دِکھا رہا تھا بتاؤں کیسے وہ بہتا دریا جب آ رہا تھا تو جا رہا تھا کہیں مرا ہی خیال ہو گا جو آنکھ سے گرتا جا رہا تھا کچھ اور بھی ہو گیا نمایاں میں اپنا لکھا مٹا رہا تھا وہ جسم جیسے چراغ کی لَو مگر دھواں دِل پہ چھا رہا تھا منڈیر سے جھک کے چاند کل بھی...
  18. محمد بلال اعظم

    گلزار ماں میں آیا تھا۔۔۔ دینہ جہلم سے واپسی پر ایک نظم

    ماں میں آیا تھا گلزارؔ کی اپنی جنم بھومی دینہ جہلم سے واپسی پر ایک نظم ماں میں آیا تھا تری پیروں کی مٹی کو، میں آنکھوں سے لگانے کو وصل کے گیت گانے کو، ہجر کے گیت گانے کو ترے جہلم کے پانی میں نہانے کو ترے میلوں کے ٹھیلوں میں جھمیلوں میں، میں خوش ہونے اور ہنسنے کو اور رونے کو میں وہی میلا کچیلا...
  19. نیرنگ خیال

    گلزار سگریٹ

    میں سگریٹ تو نہیں پیتا مگر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچس ہے؟؟؟ بہت کچھ ہے جسے میں پھونک دینا چاہتا ہوں -------------- یہ بھی مجھے بہت پسند ہے۔ اب اس کے لیے الگ سے کیا دھاگہ بنانا۔ اسے بھی یہی شامل کر دیتا ہوں بعد مدّت کے پھر ملی ہو تم یہ جو پہلے سے بھر گئی ہو تم یہ وزن تم پہ اچھا لگتا ہے
  20. امجد میانداد

    گلزار دل درد کا ٹکڑا ہے

    السلام علیکم، مجھے ماچس فلم سے گلزار کے ایک گانے "چھوڑ آئے ہم، وہ گلیاں" سے خاص طور پہ یہ چند لائنیں بہت پسند ہیں۔ دل درد کا ٹکڑا ہے پتھر کی ڈَلی سی ہے اِک اَندھا کنواں ہے یا اِک بند گلی سی ہے اِک چھوٹا سا لمحہ ہے جو ختم نہیں ہوتا میں لاکھ جلاتا ہوں یہ بھسم نہیں ہوتا
Top