اشعار جو اپنے خالق کو پیچھے چھوڑ گئے

فرخ منظور

لائبریرین
زوم ان کا تو کوئی فائدہ نہیں ۔ فونٹ پھر بھی ٹھیک نظر نہیں‌ آتا۔ اسی لئے فائر فاکس مجھے پسند نہیں۔ ایکسپلورر میں زوم ان بھی ہے اور فونٹ بھی بڑا نظر آتا ہے۔
 
کل یہ تھریڈ دیکھی۔ چند اشعار یاد ہیں پوسٹ کر رہا ہوں۔

میں‌تیرا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں‌
کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے
(احمد فراز)

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے
(محسن بھوپالی)

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
(خالد شریف)

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
(محمد علی جوہر)

اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے
(جگر مراد آبادی)

ان کا جو کام ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
(جگر مراد آبادی)

یہ اعجاز ہے حسنِ آوارگی کا
جہاں‌بھی گئے داستاں چھوڑ آگئے
(حبیب جالب)

یہاں‌کسی کو بھی کچھ حسبِ آرزو نہ ملا
کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا
(ظفر اقبال)

یادِ ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
(اختر انصاری دہلوی)

گر بتا دیں گے بادشاہی کے
ہم فقیروں سے گفتگو کر لو
(ساغر صدیقی)

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
(اکبر الٰہ آبادی)
 
بہت شکریہ جناب وارث صاحب!
یہ سب سے بڑا فائدہ ہے اردو محفل کا۔ میں نے اس شعر کو کئی جگہ فراز کے نام سے منسوب پایا:
 

مغزل

محفلین
یہان میں وہ اشعار جمع کرنا چاہ رہا تھا جو ضرب المثل بھی بن چکے ہوں اور شاعر کا نام نا معلوم یا کم معلم ہو۔
ایسا ایک شعر؛ جو اکثر ٹرکوں رکشاؤں پر لکھا نظر اتا ہے:
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے کل کی خبر نپیں
یہ حیرت الہ آبادی کا ہے

شکریہ بابا جانی ، حیرت صاحب سے میری ملاقاتیں رہی ، گھر کے قریب ہی رہتے تھے، بقلم خود نامی رسالہ بھی نکالتے تھے،
جناب کی 5 کتابیں ہیں ، جو میرے پاس موجود ہیں، اجمالاًَ تذکرہ کروں گا انشا اللہ
 

مغزل

محفلین
یہ کنارہ چلا کہ ناؤ چلی
کہئے کیا درمیان میں آئی
شاید احباب کو یاد ہو کہ اس شعر کے پہلے مصرعے کو یوسفی نے کسی حصے کا عنوان بنایا تھا.
یہ شعر
یاس یگانہ چنگیزی کا ہے.
اسی طرح پہلے بھی کہیں لکھا تھا کہ بشیر بدر کی اپنی شہرت سے پہلے ان کا 1956 کا یہ شعر مشہور ہو چکا تھا اور اکثر کو علم نہ تھا کہ یہ ان کا ہے:
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے.

بابا جانی میرزایاس یگانہ چنگیزی کا شعر یوں ہے ۔
یہ کنارہ چلا کہ ناؤ چلی
کہئے کیا بات دھیان میں آئی
 

مغزل

محفلین
کوئی کیوں کسی سے لگائے دل، کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل، وہ دکان اپنی بڑھا گئے
(بہادر شاہ ظفر)

فاتح بھائی یہ شعر بہادر شاہ ظفر کا نہیں میرے پاس 6 نسخے ہیں ۔

کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل، کوئی کیوں کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل، وہ دکان اپنی بڑھا گئے
خواجہ وزیر لکھنوی
 

مغزل

محفلین
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو

اس شعر کے خالق کا نام مجھے یا تو پتہ نہیں یا پھر یاد نہیں، سو آپ میں سے کوئی رہنمائی کر سکتا ہے۔

احمد بھیا ، یہ شعر غالب کے شاگرد۔ میاں داد خاںسیاح کا ہے ۔
 

مغزل

محفلین
اور یہ شعر کس کا ہے، اس کا بھی مجھے علم تھا اب یاد نہیں آ رہا
غزلاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دوانہ مر گیا آخر تو ویرانے پہ کیا گزری

باباجانی اصل شعر یوں ہے
غزلاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دوانہ مر گیا آخر کو ، ویرانے پہ کیا گزرا
یہ شعر نواب سراج الدولہ کی رحلت پر کہا گیا تھا۔
شاعر کا نام راجہ رام نارائن ہے اور ان کا تخلص ’’موزوں ‘‘تھا
 

مغزل

محفلین
قسمت کو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند
دو چار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا

(شیخ قیام الدین قائم)

فرخ بھائی ۔ یہ شعریوں نہیں ۔ یوں ہے ۔

قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا
علامہ محمد اقبال

قائم چاندپوری کا شعر یوں ہے ۔ ( دیگر دوستوں کو بتاتا چلوں کہ قائم کا زمانہ اقبال سے ایک صدی سے زائد پرانا ہے )

قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند
کچھ دوراپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا
شیخ قیام الدین قائم چاندپوری
 

فرخ منظور

لائبریرین
فرخ بھائی ۔ یہ شعریوں نہیں ۔ یوں ہے ۔

قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا
علامہ محمد اقبال

قائم چاندپوری کا شعر یوں ہے ۔ ( دیگر دوستوں کو بتاتا چلوں کہ قائم کا زمانہ اقبال سے ایک صدی سے زائد پرانا ہے )

قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند
کچھ دوراپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا
شیخ قیام الدین قائم چاندپوری

جناب کیا ہو گیا؟ یہ علامہ کا شعر نہیں ہے۔ پوری کلیاتِ اقبال میں یہ شعر موجود نہیں ہے۔ اور جو شعر قائم چاند پوری کا میں نے جیسے درج کیا ہے وہ ایسے ہی ہے۔ حوالے کے لئے یہ غزل دیکھیے۔

دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیا از قائم چاند پوری
 

مغزل

محفلین
میں یہ اعتراض ، شمس الحق صاحب کے ہاں پیش کردیتا ہوں ۔ موصوف کی تحقیق کے مطابق ہی میں نے پیش کیا تھا۔
 

فرخ منظور

لائبریرین

قبلہ میں نے یہ دھاگا دیکھ رکھا ہے۔ آپ کتاب سے دیکھ کر پھر بات کیجیے گا۔ علامہ اقبال کا یہ شعر نہیں ہے اور اگر ہے تو نظم یا غزل کا حوالہ دیجیے۔ خدارا بغیر پڑھے ایسی بات نہ کیا کریں۔ میں نے تو آپ کو اصل غزل کا ربط بھی دے دیا ہے لیکن پھر بھی آپ اسی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔ کہیں گے تو یہ غزل سکین کر کے بھی یہاں پیش کر سکتا ہوں۔ میرے خیال میں شمس صاحب نے کبھی اقبال کو پڑھا ہی نہیں کیونکہ یہ شعر اقبال کی پوری کلیات میں موجود ہی نہین ہے۔
 

فاتح

لائبریرین
مغل صاحب! کیا آپ نے ان شمس الحق صاحب کی کتاب پڑھی ہے؟ مجھے تو آج تک میسر نہیں ہوئی۔ میں جاننا صرف یہ چاہتا ہوں کہ انھوں نے جن اشعار کو غلط اور جن کو صحیح قرار دیا ہے ان کے حوالہ جات شامل کیے ہیں یا نہیں۔ مثلاً یہی دو چار ہاتھ لب بام رہنےو الا شعر۔۔۔ کیا اس کا اصل حوالہ درج کیا ہے انھوں نے کہ اقبال کی کس کتاب میں کہاں موجود ہے یہ شعر؟ نیز اسی طرح باقی اشعار کے حوالہ جات بھی ہوونے چاہییں۔ اگر انھوں نے حوالے نہیں دیے تو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیجیے ایسی کتاب کو۔
 

مغزل

محفلین
فاتح بھائی اور فرخ بھائی ، کتاب جستہ جستہ پڑ ھ رہا ہوں ۔ میری ذاتی رائے آپ سے مختلف نہیں ، یہاں معراج جامی اور ثروت سلطانہ ثروت نے بھی اس موضوع پر کتابیں تحریر کی ہیں ، میں اس سے بھی کسبِ فیض کے بعد کچھ کہنے کے قابل ہوں گا۔ یہ شعر میں نے بھی بچپن سے اقبال کے نام سے موسوم پڑھا اور سنا، مگر کلامِ اقبال میں موجود نہیں ، میں بھی ’’ محقق ‘‘ کی ’’تحقیق‘‘ پر سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں کرسکتا، ۔

فاتح بھائی دوسرا شعر ’’ کہیں ایسا نہ ہوجائے والا ، کی بابت میں بزرگوں سے تصدیق کی ہے وہ حفیظ جونپوری کا ہی ہے ، جالندھری کا نہیں۔
 
Top