حسان خان

لائبریرین
مگر ز صحبتِ دل‌هایِ گرم می‌آیی؟
که از لباسِ تو بُویِ کباب می‌شُنَوَم
(صائب تبریزی)
کیا تم گرم دلوں کی صحبت سے آ رہے ہو؟ کہ مجھے تمہارے لباس سے بُوئے کباب محسوس ہو رہی ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
گرچه من کابنِ یمینم کرده‌ام عصیان بسی
لیک می‌دارم توقع زانکه هستم بی‌ریا
دوست‌دارِ خاندانِ مصطفیٰ و مرتضیٰ
کایزد از لطف و کرم بخشد بدان پاکان مرا
(ابنِ یمین فریومدی)
اگرچہ میں نے، کہ ابنِ یمین ہوں، بِسیار گناہ کیے ہیں، لیکن چونکہ میں خاندانِ مصطفیٰ و مرتضیٰ کا مخلص و بے ریا محب ہوں، مجھے توقع ہے کہ ایزد تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے اُن پاکوں کے وسیلے سے مجھے بخش دے گا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
هم مُقَصِّر باشی ای دل گر به مدحِ مصطفی
معنی از گوهر طرازی لفظش از شَکَّر کنی
(ناصر خسرو)

اے دل! اگر تم مصطفیٰ (ص) کی مدح کے لیے معنی گوہر سے ترتیب دو اور اُس کے الفاظ شَکَر سے لاؤ تب بھی تم کوتاہی کر رہے ہو گے۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
گر جملہ یقین است ایں گماں چیست؟
ور نیست گماں ہمہ فغان چیست؟


حضرت احمد جام زندہ پیل

اگر (تُو) مکمل یقین رکھتا ہے تو پھر یہ ظن و تخمین و قیاس و وہم و گماں کیا چیز ہے؟ اور اگر (تُو یہ کہتا ہے کہ) یہ گمان نہیں ہے تو پھر یہ آہ و فغان اور ہر وقت کا واویلا کیا ہے؟
 

حسان خان

لائبریرین
دریغ دار ز نادان سخن که نیست صواب
به پیشِ خوگ نهادن نه منّ و نه سلویٰ
(ناصر خسرو)
نادان کے سامنے سخن سے امتناع کرو کیونکہ خنزیر کے پیش منّ و سلویٰ رکھنا درست نہیں ہے۔
× یہاں شاید 'سخن' سے 'شاعری' مراد ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
داند به عقل مردُمِ دانا که بر زمین
دستِ خدایِ هر دو جهان است فاطمی
(ناصر خسرو)
دانا انسان عقل کی اساس پر جانتا ہے کہ فاطمی [خلیفہ و امام] زمین پر خدائے ہر دو جہاں کا دست ہے۔
× ناصر خسرو فاطمی اسماعیلی مبلّغ تھے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
به بوستانِ مُلوکان هزار گشتم بیش
گلِ شکفته به رخسارکانِ تو مانَد
(دقیقی طوسی)

میں نے پادشاہوں کے گلستان میں ہزار سے زیادہ بار گردش کی [اور پایا کہ] گُلِ شگفتہ تمہارے رخساروں کی مانند ہے۔
× شِگُفتہ = کِھلا ہوا
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
گذشت بادِ سحرگاه و از نهیبِ فراق
فرو نیارست آمد برِ من از روزن
(مسعود سعد سلمان لاهوری)
بادِ سحرگاہ گذری، لیکن [میرے] فراق کے خوف اور اُس کی ہولناکی کے باعث اُسے روزن سے میرے نزدیک نیچے آنے کا یارا نہ ہوا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
سلطان محمود غزنوی کی وفات پر فرّخی سیستانی کے مرثیے سے ایک بیت:
رفتنِ تو به خزان بودی هر سال شها

چه شتاب آمد کامسال برفتی به بهار؟
(فرّخی سیستانی)
اے شاہ! تمہارا سفر ہر سال خزاں میں ہوا کرتا تھا؛ [ایسی] کیا جلدی آ گئی کہ اِس سال تم بہار کے دوران چلے گئے؟

"سلطان [محمود غزنوی] کی وفات پر اُس (فرّخی) کے مرثیے کو فارسی شاعری میں بے نظیر مانا جاتا ہے۔"

[شُورَوی دائرۃ المعارفِ عُظمیٰ]
 
باشد بہشت صحبتِ دیوانگاں حزین
جز پندِ عاقلانہ عذابی ندید کس


حزین دیوانوں کی صحبت بہشت ہے۔ عاقلانہ نصیحتوں کے سوا(اس میں) کسی نے کوئی عذاب نہیں دیکھا۔

حزین لاھیجی
 

محمد وارث

لائبریرین
سر و سامانِ وجودم شررِ عشق بسوخت
زیرِ خاکسترِ دل سوزِ نہانم باقیست


شاہ نیاز بریلوی

میرے وجود کا سارا سر و سامان عشق کے شرارے نے جلا ڈالا، لیکن دل کی راکھ کے نیچے میرا سوزِ نہاں باقی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
سلطان مسعود غزنوی کی مدح میں مسعود سعد سلمان لاہوری کے ایک قصیدے سے اقتباس:
داشت روزِ نشستنِ تو به مُلک

فضلِ آن شب که زاد پیغمبر
به هر آتش‌کده که در گیتی‌ست
راست چون یخ فسرده گشت اخگر
شد سیه‌روی صورتِ مانی
شد نگون فرقِ لعبتِ آزر
(مسعود سعد سلمان لاهوری)
اے شاہ! تمہارے پادشاہی کے تخت پر بیٹھنے کا روز ویسا ہی فضل و کمال رکھتا تھا جیسا رسول (ص) کی شبِ ولادت کو حاصل تھا۔۔ یعنی: دنیا میں جتنے بھی آتشکدے ہیں اُن میں انگارے بالکل یخ کی مانند سرد ہو گئے، مانی کی صورت سیاہ رُو ہو گئی اور آزر کے بُتوں کے سر نگوں ہو گئے۔
× مانی = ایک ایرانی پیغمبر
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
سلطان محمود غزنوی کی وفات پر فرّخی سیستانی کے مرثیے کا مطلع:
شهرِ غزنين نه همان است که من ديدم پار

چه فتاده‌ست که امسال دگرگون شده کار
(فرّخی سیستانی)
شہرِ غزنین ویسا نہیں ہے جیسا میں نے گذشتہ سال دیکھا تھا؛ [ایسا] کیا پیش آ گیا کہ اِس سال وضع تبدیل ہو گئی ہے؟
 

حسان خان

لائبریرین
دقیقی طوسی کے ایک قصیدے سے ایک بیت:
شفیع باش برِ شه مرا بدین زَلّت

چو مصطفیٰ برِ دادار بَرْرَوِشْنان را
(دقیقی طوسی)
[اے امیر!] شاہ کے نزدیک میری اِس خطا و لغزش کی خاطر میرے شفیع بن جاؤ، ویسے ہی جیسے حضرتِ مصطفیٰ (ص) خدا کے سامنے مؤمنوں اور امّتیوں کے شفیع ہیں۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ناصر خسرو کے ایک قصیدے سے اقتباس:
بازی‌ست رُباینده زمانه که نیابند

زو خلق رها هیچ نه مولی و نه مولا
روزی‌ست از آن پس که در آن روز نیابد
خلق از حَکَمِ عدل نه ملجا و نه منجا
آن روز بیابند همه خلق مُکافات
هم ظالم و هم عادل بی هیچ مُحابا
آن روز در آن هول و فزع بر سرِ آن جمع
پیشِ شُهَدا دستِ من و دامنِ زهرا
تا دادِ من از دشمنِ اولادِ پیمبر
بدهد به تمام ایزدِ دادارِ تعالیٰ
(ناصر خسرو)
غارت گر زمانہ ایک باز ہے کہ جس سے کوئی شخص رہائی نہیں پاتا، نہ غلام نہ مالک۔۔۔ [لیکن] اُس کے بعد ایک روز [ایسا] ہے کہ اُس روز خلقِ خدا کو قاضیِ عادل سے نہ پناہ ملے گی اور نہ جائے نجات۔۔۔۔ اُس روز تمام خلق کو، ظالم کو بھی اور عادل کو بھی، بغیر کسی لحاظ و طرفداری کے مُکافاتِ عمل مل جائے گی۔۔۔ اُس روز، اُس خوف و ہراس میں اور اُس گروہِ مردُم کے درمیان، شہداء کے سامنے میرا دست ہو گا اور دامنِ زہرا۔۔۔ تاکہ خدائے خالقِ تعالیٰ اولادِ پیغمبر (ص) کے دشمنوں سے میرا حق و انصاف تماماً دِلا دے۔

× ناصر خسرو فاطمی اسماعیلی مبلّغ تھے، لہٰذا یہاں فاطمی خُلَفاء و ائمّہ بھی 'اولادِ پیمبر' میں شامل ہیں۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
اکنون که تر و تازه بخندید نوبهار
ما و سماع و بادهٔ رنگین و زلفِ یار
(ازرقی هروی)

اِس وقت کہ [جب] نوبہار تر و تازہ [ہو کر] مسکرائی ہے، ہم ہیں اور سماع ہے اور بادهٔ رنگین ہے اور زلفِ یار ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
بیا بیا که حیات و نجاتِ خلق تویی
بیا بیا که تو چشم و چراغِ یعقوبی
(مولانا جلال‌الدین رومی)
آ جاؤ، آ جاؤ، کہ خَلق کی حیات و نجات تم ہو۔۔۔ آ جاؤ، آ جاؤ، کہ تم چشم و چراغِ یعقوب ہو۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
بُلبُلے می گفت با صیّاد کز بہرِ خدا
جز بدستِ طفلِ گُل رخسار نفروشی مرا


میرزا مظہر جانِ جاناں

بُلبل نے صیاد سے فریاد کی کہ (تُو مجھے قید کر کے پھولوں سے جدا تو کر رہا ہے لیکن) خدا کے لیے پھولوں جیسے رخسار والے محبوب کے سوا مجھے کسی دوسرے کے ہاتھ نہ بیچنا۔
 

حسان خان

لائبریرین
از شَکَرانگورِ سمرقندیان
سیبِ زنخدانِ تو شیرین‌تر است
(کمال خُجندی)

سمرقندیوں کے انگورِ شیریں سے تمہارا سیبِ زنخدان شیریں تر ہے۔
× زَنَخدان = ٹھوڑی
 

حسان خان

لائبریرین
(دوبیتی)
اگر آید همه عُضوَم به گفتار،
بنازد هر کدام از تو به تکرار.
شَکَرانگورِ باغِ ما ندارد
همان شهدی، که دارد دو لبِ یار.
(نورمحمد نیازی)
اگر میرے تمام اعضاء گفتگو کرنے لگیں تو اُن میں سے ہر ایک مُکرّر تم پر ناز کرتا رہے گا؛ ہمارے باغ کے انگورِ شیریں میں ویسا شہد نہیں جیسا یار کے دو لب میں ہے۔
 
آخری تدوین:
Top