مجید امجد یہ دنیا

یہ دنیا یہ بے ربط سی ایک زنجیر
یہ دنیا یہ اک نامکمل سی تصویر
یہ دنیا نہیں میرے خوابوں کی تعبیر

میں جب دیکھتا ہوں یہ بزمِ فانی
غمِ جاودانی کی ہے اِک کہانی
تو چیخ اُٹھتی ہے میری باغی جوانی

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دُنیا
گُناہوں میں لتھڑے رواجوں کی دُنیا
محّبت کے دشمن سماجوں کی دُنیا

یہاں پر کلی دل کی کھلتی نہیں ہے
کوئی چِق دریچوں کی ہلتی نہیں ہے
مَرے عشق کو بھیک ملتی نہیں ہے

اگر میں خُدا اس زمانے کا ہوتا
تو عنوان اور اس فسانے کا ہوتا
عجب لطف دنیا میں آنے کا ہوتا
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دُنیا۔
یہ دُنیا اگر مل(مٹ)بھی جائے تو کیا ہے۔
یہ مصرعہ ہندی فلم پیاساکے گیت کا ہے۔جسے کشورکمار نے گایا ہے۔ اور گرودت پر یہ گیت فلمایا گیاہے۔
 
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دُنیا۔
یہ دُنیا اگر مل(مٹ)بھی جائے تو کیا ہے۔
یہ مصرعہ ہندی فلم پیاساکے گیت کا ہے۔جسے کشورکمار نے گایا ہے۔ اور گرودت پر یہ گیت فلمایا گیاہے۔
گیت نگار کون ہے؟
جہاں تک میرا علم ہے مجید امجد نے فلموں کے لئے نہیں لکھا
 

سید زبیر

محفلین
سرکار بہت خوبصورت کلام منتخب کیا ہے
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دُنیا
گُناہوں میں لتھڑے رواجوں کی دُنیا
محّبت کے دشمن سماجوں کی دُنیا


جزاک اللہ
 
Top