سلیم احمد یہ بزمِ کہکشاں یہ انجم و مہتاب اپنے ہیں

الف نظامی

لائبریرین
یہ بزمِ کہکشاں یہ انجم و مہتاب اپنے ہیں
حقیقت ہو نہ ہو پر آنکھ اپنی خواب اپنے ہیں

خدا رکھے یہ میری چشمِ تر جب تک سلامت ہے
امیر شہر کی کیا فکر ہے سیلاب اپنے ہیں

یہ کہہ کر میری تنہائی مری ہمت بڑھاتی ہے
جہاں میں جس قدر بھی لوگ ہیں بیتاب ، اپنے ہیں

دلِ زندہ کی جتنی داستانیں ہیں ، ہماری ہیں
کتابِ عشق میں شامل ہیں جتنے باب ، اپنے ہیں

مری آنکھوں نے رونے کو مجھے رکھا کراچی میں
نہ ہو پنجاب تو کیا غم میرے دو آب اپنے ہیں


کلیات سلیم احمد ، صفحہ 108​
 
آخری تدوین:
Top