یورپی یونین، توہینِ مذہب اور پاکستان

الف نظامی

لائبریرین
یورپی یونین، توہینِ مذہب اور پاکستان
(ڈاکٹر محمد مشتاق)

یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی جانب سے بھاری اکثریت سے یہ قرارداد منظور کی گئی ہے کہ اگر پاکستان نے توہینِ مذہب کے متعلق اپنے قوانین تبدیل نہیں کیے، تو اس سے جی ایس پی پلس حیثیت واپس لی جائے۔ سوشل میڈیا پر ایک دفعہ پھر بحث مباحثے کا ماحول بن چکا ہے اور بہت سے لوگ اپنے سیاسی مفادات کو مدِّ نظر رکھ کر اس موضوع پر راے دے رہے ہیں ۔ ایک عمومی ٹرینڈ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پچھلے دنوں کالعدم قرار دی گئی مذہبی تنظیم کو اس سارے معاملے کےلیے ذمہ دار ٹھہرایا جائے، پھر حکومت کو یہ معاملہ "مس ہینڈل" کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جائے اور بیچ میں ایک دو جگتیں ہزار ہزار روپے بانٹنے والوں پر بھی لگائی جائیں۔ ساتھ ہی ایک عمومی تاثر یہ نظر آیا کہ گویا قیامت کا دن قریب آلگا ہے اور پاکستان کی معیشت دھڑام سے گرجائے گی۔

  1. یہ ساری باتیں کہنے والے ابھی تک یہ نہیں بتارہے کہ اس کے جواب میں کرنا کیا چاہیے؟
  2. کیا پاکستان میں توہینِ مذہب (بشمول توہینِ رسالت) پر سزا کو یکسر ختم کردیا جائے؟
  3. کیا ہم یہ کرسکتے ہیں؟ کیا ایسا کرنا چاہیے؟
  4. کیا ایسا کرکے یورپی یونین کی خوشنودی حاصل ہوجائے گی؟
  5. کیا یورپی یونین کا مطالبہ صرف توہینِ مذہب کے قانون کے خاتمے تک محدود ہے یا یہ جی ایس پی پلس حیثیت کچھ اور شرائط کے ساتھ بھی مشروط ہے؟
  6. کیا ان مزید شرائط کے پورا کرنے کی سکت ہم میں ہے؟
  7. اور کیا معاملہ ان دیگر شرائط کے پورا کرنے پر ختم ہوجائے گا یا یہ سلسلہ جاری رہے گا؟
ان سوالات پر بحث کے بغیر اس موضوع پر کوئی مناسب راے قائم نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے چند اہم نکات یہاں ترتیب وار پیش کیے جارہے ہیں
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
سب سے پہلے تو یہ نوٹ کرلیں کہ "جی ایس پی پلس" حیثیت سے مراد کیا ہے؟
جی ایس پی یا جنرلائزڈ سکیم آف پریفرنسز (Generalized Scheme of Preferences) سے مراد یہ ہے کہ کم ترقی یافتہ ممالک کو تجارت کے ضمن میں کسٹم اور دیگر محصولات میں چھوٹ دی جائے۔ اسی طرح مزید چھوٹ دینے پر "پلس" کی حیثیت دی جاتی ہے۔

تاہم یہ حیثیت مفت میں نہیں دی جاتی بلکہ اس حیثیت کو کئی امور کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے جن میں اہم ترین امر یہ ہے کہ جو ملک یہ حیثیت چاہتا ہے اسے بین الاقوامی حقوقِ انسانی کے قانون سے متعلق 27 معاہدات پر دستخط اور ان کی توثیق کرنی ہوگی۔ واضح رہے کہ معاہدات کی توثیق کے بعد کا اہم ترین مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کے اندر ان معاہدات پر عمل درآمد یقینی بنانے کےلیے ملکی قوانین میں تبدیلیاں لا کر انھیں ان معاہدات سے ہم آہنگ کیا جائے۔
بہ الفاظِ دیگر، جی ایس پی پلس حیثیت دراصل دام ہم رنگ زمیں ہے۔ دانہ چگنے کےلیے پرندے نے قدم رکھا اور پھنس گیا!

اسی سے ملتا جلتا معاملہ ایف اے ٹی ایف کا ہے۔ یہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس 1987ء میں گروپ آف سیون نامی بین الاقوامی تنظیم نے بنائی۔ گروپ آف سیون میں برطانیہ ، امریکا اور فرانس کے علاوہ جرمنی، اٹلی، کینیڈا اور جاپان کے ممالک شامل ہیں لیکن جب اس گروپ کا سربراہی اجلاس ہوتا ہے تو اس میں یورپی یونین کے نمائندے بھی ہوتے ہیں۔ اس ٹاسک فورس نے پچھلے کچھ عرصے سے نام نہاد بلیک لسٹ اور گرے لسٹ بنا کر دنیا کے کئی ممالک کو اپنے قوانین اور اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے اور بنیادی طور پر یہ کام دہشت گردی کی روک تھام کے نام پر کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان سات ممالک کو یہ اختیار کیسے حاصل ہوا کہ وہ دنیا کے دیگر ممالک پر اپنے فیصلے مسلط کریں؟

یہاں سے ہم اقوامِ متحدہ کی تنظیم کی طرف جاتے ہیں۔ یہ تنظیم 1945ء میں دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کےلیے وجود میں لائی گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس تنظیم کو ایک عالمی تنظیم کی حیثیت حاصل ہوگئی کیونکہ دنیا کے تقریباً سبھی ممالک نے اس کی رکنیت اختیار کی۔ اس تنظیم کے منشور کی رو سے عالمی امن کی حفاظت اور (اگر اسے نقصان پہنچے تو) اس کی بحالی کا اختیار اس کی "سلامتی کونسل" کو دیا گیا ہے۔
سلامتی کونسل میں پانچ مستقل ارکان ہوتے ہیں اور ان میں کوئی ایک بھی "نہ" کہہ دے تو سلامتی کونسل اس کے خلاف نہیں جاسکتی۔ اس اختیار کو ویٹو کا اختیار کہتے ہیں۔
یہ پانچ ممالک وہ ہیں جن کو دوسری جنگِ عظیم میں فاتح کی حیثیت حاصل تھی، یعنی امریکا، روس، برطانیہ، فرانس اور چین۔ روس سے اس وقت مراد سوویت یونین تھا جبکہ چین سے مراد چیانگ کائی شیک کی قومی ریاست تھی ۔
1949ء میں چین میں سرخ انقلاب آیا لیکن امریکا نے کمیونسٹ چین کو اقوامِ متحدہ کی تنظیم اور سلامتی کونسل کا رکن بننے نہیں دیا تاآنکہ 1960ء کی دہائی میں کمیونسٹ چین بھی ایٹمی طاقت بن گیا اور مزید یہ کہ کمیونسٹ بلاک میں سوویت یونین کے ساتھ اس کی سرد جنگ میں بھی شدت آگئی، تو 1970ء میں بالآخر کمیونسٹ چین اقوامِ متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل کا رکن بن کر ویٹو کا اختیار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ 1991ء میں سوویت یونین بکھر گیا تو اس کی جگہ روس کو ہی ملی۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ گیا۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا میں کئی ممالک آزاد ہوگئے اور انھوں نے مغربی طاقتوں کےلیے مسائل پیدا کرلیے۔ چنانچہ 1990ء کی دہائی تک جاتے جاتے نئے عالمی نظام کے منصوبوں پر عمل درآمد شروع ہوگیا۔ گروپ آف سیون کے تحت ایف اے ٹی ایف کی تشکیل کو اسی پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اقوامِ متحدہ کی تنظیم کو چونکہ عالمی حیثیت حاصل ہے، اس لیے جب اس کے منشور کے تحت سلامتی کونسل کوئی فیصلہ کرے تو اسے بین الاقوامی قانون کی رو سے جواز حاصل ہوتا ہے، خواہ وہ فیصلہ کتنا ہی غلط ہو۔

تاہم ایف اے ٹی ایف کے پاس تو ایسا قانونی جواز بھی موجود نہیں ہے۔ پھر اس کے فیصلوں کے نفاذ کے پیچھے قوت کیا ہے؟ اس لحاظ سے بھی غور کیجیے کہ ایف اے ٹی ایف کی تشکیل کرنے والے گروپ آف سیون میں تین ممالک (امریکا، برطانیہ اور فرانس) تو پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں اور انھیں وہاں ویٹو کا اختیار بھی حاصل ہے۔
پھر انھیں اقوامِ متحدہ سے بالا بالا ایک اور ادارہ کھڑا کرنے اور فیصلہ سازی کا ایک اور فورم بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ان سوالات کا جواب سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کہ ان ممالک نے یہ حقیقت جان لی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی تنظیم کی جگہ نیا عالمی نظام کھڑا کرنے کا وقت آگیا ہے اور یہ کہ اقوامِ متحدہ کی تنظیم اب ماضی کی داستان بننے جارہی ہے۔
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
اقوامِ متحدہ کی تنظیم سے قبل 1919ء میں مجلسِ اقوام (League of Nations) تنظیم بنائی گئی تھی جس پہلی جنگِ عظیم کے بعد دوسری جنگِ عظیم کا راستہ ہموار کیا۔
واضح رہے کہ پہلی جنگِ عظیم کو "تہذیب کےلیے عظیم جنگ" (Great War for Civilization) کا نام دیا گیا تھا۔ اس وقت تک موجود بین الاقوامی نظام مغربی اقدار اور مسیحی تصورات پر قائم تھا اور اس میں "قوم" یا "ریاست" کی حیثیت صرف مغربی مسیحی اقوام کو حاصل تھی۔ 1648ء میں ویسٹ فالیا کے معاہدے کے بعد سے اس نظام میں کسی غیر یورپی یا غیر مسیحی قوم یا ریاست کو کوئی جگہ دی ہی نہیں گئی تھی۔
پہلی دفعہ 1856ء میں عثمانیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کرکے ان کےلیے کچھ حقوق مان لیے گئے لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ عثمانی سلطنت مسیحی نہ سہی لیکن نیم یورپی تو تھی۔

بین الاقوامی قانون پر اوپن ہائم کی کتاب کو کلاسیک کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن 1905ء میں شائع ہوا اور دوسرا 1912ء میں۔ بعد میں اس کے کئی نئے ایڈیشن آتے رہے ہیں اور ہمیشہ بین الاقوامی قانون کا کوئی بڑا ماہر پروفیسر یا جج اس کا نیا ایڈیشن تیار کرتا ہے۔ ان پہلے دو ایڈیشنز کا ذکر میں اس لیے کررہا ہوں کہ یہ "تہذیب کےلیے عظیم جنگ" سے قبل شائع ہوئے تھے۔
اوپن ہائم نے اس کتاب میں بڑی صراحت کے ساتھ وہ باتیں لکھی ہیں جو بعد میں اس صراحت سے کسی نے نہیں کہیں۔ چنانچہ وہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی نظام کے متعلق تصریح کرتا ہے کہ
یہ یورپی /مسیحی اقوام کا قانون اور انھی کا نظام ہے۔ وہ ایتھوپیا کے متعلق یہ کہتا ہے کہ اگرچہ وہ مسیحی ملک ہے لیکن ابھی تہذیب کی اس سطح تک نہیں پہنچا کہ اسے یورپی اقوام کے ساتھ بین الاقوامی برادری کا حصہ مانا جائے۔ البتہ امریکا کے متعلق وہ کہتا ہے کہ وہ مسیحی یورپ ہی کی توسیع ہے۔ کیا غیر یورپی و غیر مسیحی اقوام اس نظام میں شامل ہوسکتے ہیں؟ اوپن ہائم کا جواب یہ ہے کہ اس کےلیے تین شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے:
ایک یہ کہ وہ تہذیب کی ایک خاص سطح تک پہنچی ہوئی ہوں ؛
دوسری یہ کہ وہ اس نظام کی شرائط اور قیود قبول کرلیں؛ اور
تیسری یہ کہ اس نظام میں پہلے سے شامل (یورپی مسیحی ) اقوام انھیں اس نظام میں شامل کرنے پر آمادہ بھی ہوں۔


جو اقوام تہذیب کی اس خاص سطح تک نہ پہنچی ہوں، یا وہ اس نظام کی شرائط اور قیود قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں، یا اس نظام میں پہلے سے موجود یورپی مسیحی اقوام انھیں اس نظام میں شامل کرنے پر آمادہ نہ ہوں، تو وہ اس نظام میں شامل نہیں ہوسکتیں۔

چنانچہ ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں کے باشندے اس نظام سے محروم رہے۔ تاہم "تہذیب کےلیے عظیم جنگ" جو چار سال جاری رہی، اس نے ان "مہذب" اقوام کی معیشت کو سخت نقصان پہنچادیا اور رہی سہی کسر اگلی جنگِ عظیم نے نکال لی۔ چنانچہ 1950ء اور پھر 1960ء کی دہائیوں میں کئی غیر یورپی/غیر مسیحی اقوام ان کے چنگل سے آزاد ہوگئیں، یہاں تک کہ 1960ء کی دہائی کو مغربی غلبے کے خاتمے (eradication of colonialism) کی دہائی قرار دیا گیا۔ ان غیر یورپی/غیر مسیحی اقوام کو اقوامِ متحدہ کی تنظیم کا رکن بننے سے نہیں روکا جاسکا لیکن ظاہر ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے رکن تبھی بنے جب پہلے سے موجود ارکان نے انھیں رکن بننے دیا۔ (چنانچہ چین کی مثال ہم نے پہلے ذکر کی کہ 21 سال تک اسے اقوامِ متحدہ کی تنظیم کا رکن بننے سے روکا گیا۔ )

سوال یہ ہے کہ اس دوران میں یہ جانچنے کےلیے کہ کوئی قوم "تہذیب" کی مطلوبہ سطح تک پہنچ گئی ہے یا نہیں، معیار کیا مقرر کیا گیا؟ اس سوال کا جواب "انسانی حقوق" کے معاہدات میں ملتا ہے۔
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
غیر یورپی اور غیر مسیحی اقوام پر اس قانون کے اطلاق کے لیے اوپن ہائم کی بیان کردہ شرائط اوپر ذکر ہوچکیں۔ ان شرائط سے معلوم ہوا کہ اس قانون کے اطلاق کے دائرے میں آنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس قانون کی اقدار کی آفاقیت کا دعوی تسلیم کرکے خود کو ان اقدار کے سانچے میں ڈھالنے کا اعلان کیا جائے۔

چنانچہ جب "تہذیب کےلیے عظیم جنگ" کے دوران میں عثمانیوں پر یہ الزام لگایا گیا کہ انھوں نے آرمینیا میں مسیحیوں کا قتلِ عام کیا ہے، تو پہلے اسے "مسیحیت کے خلاف جرائم" (Crimes against Christianity) کا نام دیا گیا لیکن بعد میں اسے تبدیل کرکے اسے "انسانیت کے خلاف جرائم" (Crimes against Humanity) کا نام دیا گیا۔
اسی نام سے جرائم کی ایک فہرست دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے پر جرمن اور جاپانی مخالفین پر مقدمہ چلانے کےلیے تشکیل دی جانے والی نورمبرگ اور ٹوکیو ٹربیونلز کے منشورات میں شامل کی گئی۔

اسی طرح ایک فہرست 1990ء کی دہائی میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے تشکیل دی جانے والی بین الاقوامی ٹربیونلز براے یوگوسلاویا اور روانڈا کے منشورات میں بھی شامل کی گئی
اور اب اسی عنوان کے تحت جرائم کی ایک فہرست بین الاقوامی فوجداری عدالت (International Criminal Court)کے منشور میں نظر آتی ہے۔ یوں بتدریج جو مسیحی تھا وہ انسانی ہوا اور جو یورپی تھا وہ عالمی ہوا!

یہ معاملہ اس سے زیادہ واضح طور پر "حقوقِ انسانی" کے معاہدات میں نظر آتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں جب ہٹلر، مسولینی اور جاپان کا خطرہ سر پر تھا تو اشتراکی سوویت یونین اور سرمایہ دار برطانیہ، فرانس اور امریکا اکٹھے ہوگئے اور پھر جب مخالف قوتوں کی شکست کے آثار نظر آنے لگے تو جنگ کے بعد کے عالمی نظام پر مذاکرات شروع ہوئے۔ ابتدا میں خیال یہ تھا کہ "انسانی حقوق" کی ایک فہرست نئی تنظیم کے منشور میں شامل کرلی جائے گی لیکن جب حقوق پر بات شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ اشتراکی اور سرمایہ دار کیمپوں میں اختلاف اتنا گہرا ہے کہ اسے اتنی آسانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ اس پر اتفاق ہوا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور میں صرف اتنا ذکر کیا جائے کہ انسانی حقوق کا تحفظ اس تنظیم کا بنیادی ہدف ہے اور اس کے بعد انسانی حقوق پر الگ سے ایک بین الاقوامی میثاق طے کیا جائے ۔ اس کے بعد جب تنظیم وجود میں آئی اور انسانی حقوق کے میثاق کےلیے کوشش شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ اختلافات کی بنا پر میثاق پر اتفاق ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ اس مرحلے پر 1948ء میں صرف ایک اعلان (declaration) پر اکتفا کیا گیا جو "انسانی حقوق کا آفاقی اعلان" (Universal Declaration of Human Rights) کہلاتا ہے۔

اس "آفاقی اعلان" کی تیاری میں مسلمان، یا غیر یورپی، ممالک کا کتنا حصہ تھا، یہ ہر کوئی جانتا ہے لیکن اس کے بعد سے اسے آفاقی اقدار پر مشتمل دستاویز قرار دیا جانے لگا۔
اس کے بعد بھی انسانی حقوق کے بین الاقوامی میثاق کی تشکیل میں اٹھارہ سال لگے اور 1966ء میں بھی ایسا ممکن صرف اس لیے ہوسکا کہ سرمایہ دارانہ ریاستوں کی دلچسپی والے حقوق (شہری و سیاسی حقوق) اور اشتراکی ریاستوں کی دلچسپی کے حقوق (معاشی، معاشرتی اور سماجی حقوق)کو الگ الگ معاہدات میں رکھا گیا۔
یہ دومیثاق
(International Covenant on Civil and Political Rights
اور
International Covenant on Economic, Social and Cultural Rights)
انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے بنیادی ستون قرار پائے۔ اس کے بعد دو پہلوؤں پر بات آگے بڑھی:
ایک یہ عمومی انسانی حقوق کے بجاے خصوصی طبقات کے حقوق ، یا خصوصی موضوعات، کےلیے معاہدات کا رخ کیا گیا، جیسے
خواتین کے خلاف ہر طرح کے امتیازی سلوک کے خاتمے کا معاہدہ
(Convention on Elimination of All Forms of Discrimination against Women)
یا
بچے کے حقوق کا معاہدہ
(Convention on the Rights of the Child)،
یا
تشدد کے خلاف معاہدہ (Convention against Torture)؛
اور
دوسرا، مختلف خطوں نے اپنے اپنے خطے کی حد تک انسانی حقوق کی تنفیذ کےلیے نظام بنالیے جیسے یورپی یونین نے یورپی معاہدہ براے انسانی حقوق (European Convention on Human Rights) کے تحت یورپی عدالت براے انسانی حقوق (European Court of Human Rights) بنایا۔ اسی طرح امریکی ریاستوں کی تنظیم اور افریقی یونین نے اپنے نظام بنائے۔
اس ضمن میں یہ بات اہم ہے کہ 1991ء میں اشتراکی روس کے بکھر جانے کے بعد جب اشتراکیت اور سرمایہ داری کے درمیان نظریاتی کشمکش ختم ہوگئی تو سابقہ اشتراکیوں نے بھی لبرلزم کا لبادہ اوڑھ کر حقوق ِ انسانی کی وہی تعبیر اپنا لی جو سرمایہ دارانہ نظام کے علم بردار پیش کررہے تھے اور یوں صورت ایسی بن گئی کہ:
من تو شدم، تو من شدی، من تن شدم، تو جاں شدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں: من دیگرم، تو دیگری!

اس ساری بحث میں مسلمان یا غیر یورپی اقوام کہاں ہیں؟
کیسے یورپی/ مسیحی تصورات کو عالمی/آفاقی/انسانی اقدار تسلیم کیا جاسکتا ہے اور ساری دنیا کو زبردستی ان اقدار کے سانچے میں ڈھالا جاسکتا ہے؟


یہ اہم سوالات ہیں اور ان پر بحث ضروری ہے لیکن یہاں ایک اور پہلو کی نشاندہی بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر یہ تصویر پوری نہیں ہوسکتی۔

وہ پہلو یہ ہے کہ ان اقدار کی ترویج کےلیے طاقت کے استعمال اور جنگوں کو نہ صرف جائز بلکہ اہم ذمہ داری سمجھا جاتا ہے اور اسے "انسانیت کے نام پر مداخلت" (Humanitarian Intervention) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ بدمعاش ریاستوں (rogue states) یا مجرم حکمرانوں (criminal rulers) کے خلاف اور جمہوریت اور انسانی حقوق کی ترویج (to promote democracy and human rights) جنگ کو پہلے اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری قرار دیا گیا کیونکہ منشور کی رو سے بین الاقوامی امن کی حفاظت اور اس کی بحالی سلامتی کونسل کی ذمہ داری تھی۔ تاہم جب سوویت یونین اور امریکا کی سرد جنگ کے دوران میں کئی دفعہ ایسا ہوا کہ کسی مستقل رکن کے ویٹو کی وجہ سے سلامتی کونسل کارروائی سے معذور ہوگئی ، تو امریکا یا دیگر بڑی طاقتوں نے اپنے طور پر، اور اقوامِ متحدہ کی تنظیم سے ماورا، کسی ملک پر حملہ کیا، اس میں تباہی مچائی، ہزاروں انسانوں کا قتلِ عام کیا، اور یہ سب کچھ انسانیت اور جمہوریت کے فروغ اور ترویج کے نام پر جائز قرار دیا گیا!

واضح رہے کہ سلامتی کونسل کے پاس کسی بدمعاش ملک سے اپنی بات منوانے کےلیے جنگ کے علاوہ ایک اور راستہ بھی ہے اور وہ اس ملک پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا ! اس راستے کو "نرم سزا" یا (soft sanction) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ 1990ء کی دہائی میں عراق پر اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں جن کے نتیجے میں صدام حسین یا اس کے خاندان کا تو کچھ نہیں بگڑا لیکن لاکھوں بچے ادویات نہ ملنے کی وجہ سے مرگئے۔
(ویپن آف ماس ڈسٹرکشن جس کی بنیاد پر عراق پر حملہ کیا گیا تھا وہ کبھی نہ مل سکے یعنی یہ عراق پر جنگ مسلط کرنے کا ایک خود ساختہ بہانہ تھا)


یہاں تک کی بحث سے یہ معلوم ہوا کہ انسانی حقوق کی ترویج کے نام پر مغربی تصور زندگی دنیا بھر میں ایک آفاقی حقیقت کے طور پر نافذ کرنے کےلیے دو پہلوؤں سے کام کیا جاتا ہے:
ایک دام بچھانے کا پہلو ہے جب آپ سے کہا جاتا ہے کہ آپ ان معاہدات میں شامل ہوجائیں تو آپ کو یہ مراعات حاصل ہوں گی؛ اور
دوسرا سزا دینے اور نشانِ عبرت بنانے کا پہلو جس سے کبھی آپ پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور کبھی (ضرورت پڑے تو) آپ پر حملہ بھی کرلیا جاتا ہے۔
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
اس سارے پس منظر کے واضح ہوجانے کے بعد اب ہم ان سوالات پر گفتگو کرسکتے ہیں جو اس بحث کی ابتدا میں ہم اٹھائے تھے۔
ایک سوال یہ تھا کہ کیا یورپی یونین کا مطالبہ صرف توہینِ مذہب پر سزا کے خاتمے کی حد تک ہے؟
یہاں تک کی بحث سے یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے اور یہ معاملہ یہاں رکنے والا نہیں ہے بلکہ اسے بہت آگے جائے گا۔
مثلاً یورپی یونین کو سزاے موت پر بھی اعتراض ہے اور اس کا مستقل مطالبہ ہے کہ کسی بھی جرم پر سزاے موت نہ ہو۔ ابتدائی مرحلے میں اس نے اتنی رعایت برتی کہ سزاے موت کا خاتمہ ابھی ممکن نہ ہو تو کم از کم اس کا نفاذ روک دیں۔ چنانچہ سالہاسال ہمارے ہاں کسی جرم پر بھی سزاے موت نافذ نہیں ہوسکی۔

سوال یہ ہے کہ آج آپ توہینِ مذہب کی سزا ختم کردیں گے تو کل قصاص اور حدود میں بھی سزاے موت کو منسوخ کردیں گے؟

پھر یورپی یونین کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ عاقل بالغ مرد اور عورت کے درمیان مرضی سے جنسی تعلق ہو تو یہ قابلِ سزا جرم نہیں ہے، اور اس نے آپ سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ اسے جرائم کی فہرست سے نکال لیں، تو کیا یہ بھی کرگزریں گے؟

اسی طرح یورپی یونین کا آپ سے تقاضا ہے کہ ہم جنس پرستی کو جرائم کی فہرست سے نکال لیں اور اس پر سزا کا خاتمہ کرلیں، تو کیا آپ جی ایس پی پلس کی خاطر یہ اقدام بھی اٹھالیں گے؟

پھر یورپی یونین کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ نکاح ، طلاق اور میراث سمیت ہر معاملے میں مرد اور عورت کے درمیان برابری ہو، تو کیا آپ اپنے قانونِ نکاح، قانونِ طلاق اور قانونِ وراثت پر بھی خطِّ تنسیخ پھیر لیں گے؟

پھر یورپی یونین کا مطالبہ ہے کہ عورت کا جسم ، عورت کی مرضی اور اس وجہ سے عورت کے لیے "اسقاطِ حمل کا حق" مان لیا جائے، تو کیا آپ یہ بھی کر گزریں گے؟

یوں ذرا ان 27 معاہدات کی دفعات پر ایک نظر ڈال تو لیجیے اور ہر سال یورپی یونین اور انسانی حقوق کی کمیٹی آپ سے جو مطالبات کرتی ہے، اس فہرست پر بھی ذرا غور کیجیے اور پھر سوچیے کہ یہ سلسلہ کہاں رکے گا اور جی ایس پی پلس کی خاطر آپ کہاں تک گرنا قبول کرسکتے ہیں؟

اس کے جواب میں اگر یہ کہا جائے کہ آخر ہمارے پاس اور راستہ کیا ہے؟
تو آئیے دیکھتے ہیں کہ خود کو مجبور فرض کرنے والے ان مسلمان اہل ِ علم کی جانب سے اس معاملے میں عموماً کیا رویے اختیار کیے گئے ہیں؟
ایک رویے کو ہم perpetual surrenderیعنی دائمی شکست کا نام دیں گے۔ اس رویے کے حاملین نے حقوق ِ انسانی کے مغربی اقدار کو واقعتاً آفاقی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے اور اسلامی قانون اور تراث میں اسے جو کچھ بھی ان اقدار سے متصادم نظر آتا ہے یہ گروہ اس کا انکار کرنے میں ہی عافیت سمجھتا ہے۔

دوسرا رویہ apologetic یعنی عذر خواہی کا ہے۔ اس رویے کے حاملین پہلے گروہ سے تھوڑا مختلف راستہ اختیار کرتے ہیں لیکن نتائج میں پہلے گروہ ہی سے اتفاق پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یہ گروہ یہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ جو کچھ مغرب ہمیں حقوق ِ انسانی کے نام پر پیش کررہا ہے وہ تو اسلام صدیوں پہلے پیش کرچکا ہے۔ یوں یہ گروہ اسلامی تراث کو ان حقوق ِانسانی سے مکمل طور پر ہم آہنگ بنا کر پیش کرتا ہے اور جہاں اسے مسائل نظر آئیں وہاں یہ گروہ ایسی تاویل پیش کرتا ہے کہ اسلامی قانون کے مسائل کو ان مغربی اقدار کے مطابق ثابت کیا جائے اور جب یہ ممکن نہ ہو تو یہ کہا جائے کہ مسلمان اس مسئلے پر اسلام کو صحیح سمجھ نہیں سکے تھے، اس لیے مسئلہ اسلام کے ساتھ نہیں بلکہ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔

ان دونوں رویوں میں بہت سنجیدہ مسائل ہیں اور اسی وجہ سے انھیں مسلمانوں کے ہاں ابھی تک عمومی قبولیت حاصل نہیں ہوسکی ہے۔تو پھر مطلوب رویہ کیا ہے؟
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
یورپی یونین کی قرارداد پر تو آنے والے دنوں میں بات کریں گے جب صورتحال تھوڑی واضح ہوگی۔ فی الحال یہ ایک قرارداد ہے جو پہلی نظر میں فرانس کے ساتھ اظہار یکجہتی کا معاملہ زیادہ لگ رہا ہے۔ اس وقت بات کرتے ہیں ایک اور عالمی معاملے کی۔ جس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ عالمی معاملات میں "برادری" نہیں مفادات اہم ہوتے ہیں۔ دنیا میں پانچ ملکوں کا ایک کلب ہے جسے "فائیو آئیز" کہا جاتا ہے۔ یہ پانچ آنکھیں ہیں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، اور نیوزی لینڈ۔ یہ خود کو فائیو آئیز اس معنی میں کہتے ہیں کہ عالمی معاملات میں اپنے مفادات کو ایک ہی آنکھ سے دیکھیں گے۔ ہمارے دوست اور دشمن بھی مشترک ہوں گے۔ بقول دیسی لبرلز دنیا میں "امت واحدہ" نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ لیکن ان پانچ آنکھوں کا قدر مشترک یہ ہے کہ یہ پانچوں ملک انگریزی زبان بولنے والے ملک ہیں۔ جو خود کو گوروں میں سے سب سے برتر گورے بتاتے ہیں۔ یوں گویا یہ کلب ایک لسانی "جسد واحد" کے طور پر بنا ہے۔ طے تو ان میں یہ پایا تھا کہ یہ پانچوں آنکھیں کسی بھی ملک کو ایک ہی نظر سے دیکھیں گی۔ مگر اب پرابلم یہ کھڑی ہوگئی ہے کہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، اور آسٹریلیا تو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں چین دشمن نظر آرہا ہے۔ اس کے خلاف ہمیں مل کر کچھ کرنا ہوگا۔ مگر پانچویں آنکھ یعنی نیوزی لینڈ نے فرما دیا ہے کہ ہمیں تو چین دوست نظر آرہا ہے۔ اور اس موقف کی وجہ یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کی 29 فیصد تجارت چین کے ساتھ ہے۔ اور یوں چین اس کا سب سے بڑا بزنس پاررٹنر بن چکا ہے۔ سو باقی چار آنکھیں نیوزی لینڈ کو بری طرح گھور رہی ہیں۔ اور دنیا کہہ رہی ہے کہ یہ چائنیز پیش رفت کا ایک اہم سنگ میل ہے، اور یہ اتحاد توگیا بھاڑ میں۔ یہ تو آپ کو یاد ہی ہوگا کہ یورپ بھی حال ہی میں ٹوٹا ہے اور برطانیہ اس سے اس بات پر الگ ہوگیا ہے کہ مشترک بارڈر کے سبب بعض مسکین سے یورپی ممالک کے باشندوں نے حالیہ سالوں میں لاکھوں کی تعداد میں برطانیہ ہجرت کی ہے۔ اور گورا کہتا ہے کہ اس ہجرت سے ہمارے کلچر کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔
 

الف نظامی

لائبریرین
پس چہ باید کرد؟اس سارے قضیے سے نمٹنے کےلیے حکمتِ عملی کیا ہو؟
اس سوال کے جواب میں دو پہلوؤں ، علمی اور عملی ، پر بحث کی ضرورت ہے۔
علمی پہلو پر حقوقِ انسانی کے پورے ڈسکورس کے بارے میں تنقیدی اور تحلیلی تجزیے کے بعد ایک سوچا سمجھا موقف اپنانا ضروری ہے۔ صرف اتنا کہنا کافی نہیں ہے کہ یہ سارے حقوق تو ہم صدیوں پہلے دے چکے ہیں، یا اس سے بہتر حقوق دے چکے ہیں۔ حقوقِ انسانی کا پورا ڈسکورس لادینیت، بلکہ الحاد، پر مبنی ہے اور اس کا سامنا کرنے کے یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ آپ جزئیات کو الگ الگ لے کر ان کی اسلام سے مطابقت، یا اسلام کی ان سے مطابقت پیش کریں۔ مکرر عرض ہے کہ ہمارا اپنا تصورِ جہاں ہی بالکل مختلف ہے اور ہمارے نظام کی اقدار اور ان اقدار کی ترتیب ہی الگ ہے۔
اس لیے ہمارے نزدیک سب سے اہم کام یہ ہے کہ پہلے اس حقیقت کا اعتراف کیا جائے کہ بین الاقوامی قانون مغربی تہذیب کی پیداوار ہے اور اس کے اقدار اسلامی قانون کے اقدار سے مختلف ہیں۔ (واضح رہے کہ ہم انھیں ’مختلف‘کہہ رہے ہیں جس کا لازمی مطلب ’متعارض‘ نہیں ہوتا۔) جب تک اختلاف کا اقرار نہیں کیا جاتا، اختلاف ختم کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جاسکتا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ان دونوں نظام ہاے قوانین میں موجود اختلاف معمولی نوعیت کا نہیں بلکہ یہ اختلاف اساسی امور پر ہے اور اقداری سطح پر ہے۔
اس لیے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ اسلامی قانون کو بھی اپنی اقدار کو آفاقی اقدار کے طور پر پوری دنیا کے انسانوں کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ بہ الفاظِ دیگر، دونوں نظام ہاے قوانین کے درمیان آزاد انہ مسابقت ہونی چاہیے۔ جب تک بین الاقوامی قانون اپنے مقابل کے طور پر اسلامی قانون کا یہ حق نہیں مانتا، مسلمانوں اور مغرب کے درمیان ہونے والا کوئی بھی مکالمہ لایعنی اور بے مقصد ہے۔
جب تک ایسے آزادانہ مسابقت کا ماحول پیدا نہ ہوجس میں اسلامی قانون کو اپنی اقدار پوری دنیا کے سامنے آفاقی اقدار کے طور پر پیش کرنے کا موقع ہو، کم از کم یہ کیا جاسکتا ہے کہ دونوں نظام ہاے قوانین کے درمیان کوئی ’مشترک نکتہ‘ یا ’کلمۃ سوآء‘ تلاش کیا جائے لیکن اختلاف کی نفی کیے بغیر! کوئی بھی بامعنی مکالمہ اختلاف کی نفی کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔ فریقین کو حالت ِ انکار (state of denial)سے نکلنا ہوگا۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اسلامی قانون روزِ اول سے ہی فرد سے مخاطب ہے اور کسی اعتباری شخصیت کا پردہ انسانوں کو اسلامی قانون کے خطاب سے نہیں روک سکا۔ مغربی بین الاقوامی قانون نے صدیوں کے سفر کے بعد بالآخر یہ راز پالیا ہے کہ جب تک وہ اعتباری شخصیت کا پردہ چاک کرکے براہِ راست انسان کو مخاطب نہ کرے، مسائل حل نہیں ہوں گے۔چنانچہ بیسویں صدی کے نصف ِ آخر میں اسے ریاست کی اعتباری شخصیت کے پردے میں چھید کرنے پڑے اور یوں حقوق ِ انسانی کے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی فوجداری قانون نے جنم لیا۔ اس لیے یہ دونوں قوانین کم از کم اس بنیادی سطح پر اسلامی قانون سے قریب ہیں اور ان کو مشترک نکتے یا کلمۃ سوآء کے طور پرلیا جاسکتا ہے۔ ان دونوں قوانین پر بامعنی مکالمے کی ضرورت ہے۔
ایسا کوئی بھی مکالمہ تک تب تک بامعنی نہیں ہوسکتا جب تک یہ دو باتیں تسلیم نہ کی جائیں:
ایک یہ کہ دونوں نظام ہاے قوانین کے اقدار ایک دوسرے سے مختلف ہیں؛ اور
دوسری یہ کہ دونوں نظام ہاے قوانین کے اقدار میں ترتیب بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اس آخری نکتے پر وضاحت کی ضرورت ہو تو حقوق ِ انسانی کے بین الاقوامی میں اظہار ِ راے کی آزادی کے حق کا موازنہ اسلامی قانون کے تصورِ توہین ِ رسالت کے ساتھ کیجیے۔ ذرا سے تامل سے ہی معلوم ہوجائے گاکہ اقدار کی ترتیب پر اختلاف ہو تو قانون کی تفصیلات میں اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں؟
 

الف نظامی

لائبریرین
توہینِ رسالت کے مسئلے پر مغربی اقدار اور اسلامی اقدار کا فرق جب تک واضح نہ ہو، اس مسئلے کی نوعیت اور شدت کو سمجھا ہی نہیں جاسکتا ۔ "توہینِ مذہب کے حق "کے متعلق مغربی طرزِ فکر کو سمجھنے کےلیے زیادہ نہیں تو دو صفحات کا ایک مضمون پڑھنے کی تجویز دوں گا جو مشہور امریکی فلسفیِ قانون رونالڈ ڈوورکن نے The Right to Ridicule (تضحیک کا حق) کے عنوان سے نیو یارک ٹائمز کےلیے لکھا تھا اور 23 جون 2006ء کو شائع ہوا تھا۔ ڈوورکن کے مضمون کا پس منظر یہ ہے کہ 2006ء میں ڈنمارک کے بعض اخبارات نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق توہین آمیز خاکے شائع کیے تھے جس پر مسلم دنیا میں شدید ردعمل ہوا تھا۔ بعد میں بعض برطانوی اور امریکی اخبارات نے بھی یہ خاکے شائع کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم مسلمانوں کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے انھوں نے یہ فیصلہ منسوخ کردیا اور یہ خاکے شائع نہیں کیے۔
ڈوورکن یہ اہم سوال اٹھاتا ہے کہ خواہ عملی نتائج کے اعتبار سے کارٹونوں کی اشاعت روکنے کا فیصلہ حکیمانہ نظر آتا ہو ، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اظہار راے کی آزادی کے حق پر بالخصوص "کثیر الثقافتی معاشرے" کے تناظر میں قدغن لگائی جاسکتی ہے؟ کیا کسی مذہب کےلیے جو بات توہین آمیز یا مضحکہ خیز ہو ، اسے جرم قرار دیا جانا چاہیے؟ وہ پوری صراحت کے ساتھ یہ دعوی کرتا ہے کہ اظہار راے کی آزادی مغربی ثقافت کی کوئی امتیازی خصوصیت نہیں ہے جسے دوسری ثقافتوں کی خاطر، جو اسے نہیں مانتیں، محدود کیا جاسکے، بالکل اسی طرح جیسے مسیحی علامات کے ساتھ ہلال یا منارے کےلیے گنجائش پیدا کی جائے۔ اس کے برعکس اس کا کہنا ہے کہ اظہار راے کی آزادی حکومت کے جواز کی شرط ہے! (Free speech is a condition of legitimate government.)کوئی قانون اور کوئی پالیسی اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک اسے جمہوری طریقے سے نہ بنایا جائے اور جب کسی کو کسی قانون یا پالیسی کے متعلق اپنی راے کے اظہار سے روکا جائےتو جمہوریت بے معنی ہوجاتی ہے۔
وہ مزید کہتا ہے کہ تضحیک اظہار کا ایک خاص پیرایہ ہے اور اگر اس کی نوک پلک درست کرنے یا اصلاح کی کوشش کی جائے تو وہ پیرایہ غیرمؤثر ہوجاتا ہےاور اسی وجہ سے صدیوں سے اچھے یا برے ہر طرح کے مقاصد کےلیے کارٹون اور تضحیک کے ہتھیار استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ چنانچہ اس بنیاد پر ڈوورکن یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ جمہوریت میں کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور یا کتنا ہی کمزور ہو، کہ اس کی توہین یا تضحیک نہیں کی جائے گی۔
یہاں ڈوورکن اس بات کی وضاحت کےلیے ، کہ کیوں جمہوریت میں اظہار راے کے حق پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی، کہتا ہے کہ اگر کمزور اور غیرمقبول اقلیتیں یہ چاہتی ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ ہو اور اکثریت محض اپنی اکثریت کی وجہ سے ان کے حقوق سلب نہ کرسکے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اظہار راے کے حق پر کوئی قدغن نہ مانیں خواہ اس کے نتیجے میں خود انھیں بھی تضحیک کا سامنا کرنا پڑے کیونکہ اقلیت میں ہونے اور کمزور ہونے کے باوجود اظہار راے کے حق کے ذریعے وہ کسی بھی قانون یا پالیسی کے خلاف کھل کر بات کرسکیں گے۔
اسی استدلال پر وہ مسلمانوں سے کہتا ہے کہ اظہار راے پر قدغن سے ان کو نقصان ہوگا ۔ اس ضمن میں وہ اس بات پر بھی بحث کرتا ہے جس کی طرف مسلمان عام طور پر توجہ دلاتے رہتے ہیں کہ کئی یورپی ممالک میں دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے قتل عام سے انکار کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے اور اظہار راے پر اس قدغن کو عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ مسلمان بالعموم اسے دوغلی پالیسی اور منافقت سے تعبیر کرتے ہیں۔ ڈوورکن کہتا ہے کہ مسلمانوں کا یہ اعتراض بالکل درست ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اظہار راے پر ایک اور قدغن بھی مان لیں۔ اس کے نزدیک اس کا حل یہ ہے کہ مذکور قدغن بھی دور کردی جائے ۔
ڈوورکن مزید یہ کہتا ہے کہ اگر مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ ایسے قوانین اور پالیسیاں ختم کی جائیں جو مسلمانوں کی پروفائلنگ کو جواز دیں یا جن کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے سے دکھائی دینے والے لوگوں کی نگرانی کی جائے کیونکہ ان پر دہشت گردی کا شبہ ہوتا ہے ، تو پھر مسلمانوں کو اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی راے کو بھی برداشت کرنا پڑے گا جو انھیں دہشت گردی سے منسلک کرتے ہیں اور کارٹونوں کے ذریعے ان کی تضحیک کرتے ہیں، خواہ ان لوگوں کی یہ بات کتنی ہی بے بنیاد اور بذات خود مضحکہ خیز ہو !
آخر میں وہ ساری بحث کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کرتا ہے :
Religion must observe the principles of democracy, not the other way around. No religion can be permitted to legislate for everyone about what can or cannot be drawn any more than it can legislate about what may or may not be eaten. No one’s religious convictions can be thought to trump the freedom that makes democracy possible.
(مذہب پر لازم ہے کہ وہ جمہوریت کے اصولوں کی پابندی کرے ، نہ کہ الٹا جمہوریت کو مذہب کا پابند بنایا جائے۔ کسی مذہب کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ سب کےلیےیہ قانون بناسکے کہ وہ کیسا خاکہ بناسکتے ہیں اور کیسا نہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ ہر کسی کےلیے یہ قانون نہیں بناسکتی کہ وہ کیا کھاسکتے ہیں اور کیا نہیں ۔ کسی کے مذہبی اعتقادات کے متعلق یہ نہیں سوچا جاسکتا کہ وہ اس آزادی کو فتح کرلیں گے جو جمہوریت نے ممکن بنادی ہے ۔ )
ڈوررکن کے اس اقتباس کو بار بار پڑھیے اور اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا مذہب کو جمہوریت کے اصولوں کی پابندی اختیار کرنی چاہیے یا جمہوریت کو مذہبی قیود کی پابندی تسلیم کرنی چاہیے؟ جب تک اس بنیادی مسئلے پر بحث نہیں کی جائے گی، ضمنی سوالات پر بحث کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اسی سوال پر بحث سے ناروے یا دیگر مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی مجبوریاں بھی سمجھ میں آجاتی ہیں اور یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کیوں وہ صبر و تحمل اور اعراض کا رویہ اپنانے کی تلقین کرتے ہیں؟ یادرکھیے کہ ناروے ، یاکہیں اور ، پولیس یا دیگر ادارے اگر اس طرح کی حرکتیں روکنے کی کوشش کریں تو وہ اس وجہ سے نہیں کہ ان کے قانون کی رو سے "توہینِ مذہب" جرم یا ان کے اخلاقی پیمانے پر یہ برا کام ہے۔ ان کےلیے اصل معیار "جمہوریت" اور "حقوقِ انسانی" کا معیار ہے اور اس معیار پر اس کام کو وہ برا نہیں سمجھتے۔ یہ کام صرف تب برا بنتا ہے جب اس کی وجہ سے "خوفِ فسادِ خلق" پیدا ہو۔
ڈیڑھ سال قبل جب ناروے میں قرآن جلانے کی کوشش کی جارہی تھی اور ایک نوجوان شامی مسلمان عمر نے اس بدبخت پر حملہ کیا تھا، تو اس کے بعد کیا ہوا تھا؟ ناروے پولیس نے جو کارروائی کی ، اس کا تعلق "توہینِ مذہب" سے نہیں بلکہ "نفرت انگیز" تحریر و تقریر یا حرکات سے ہے اور دونوں باتوں میں اصولی طور پر بہت بڑا فرق ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کےلیے صرف اس بات پر توجہ کریں کہ اگر ایسی تحریر و تقریر یا حرکات کو آپ ٹھنڈے پیٹوں قبول کرلیں ، یعنی ان پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے اعراض کا رویہ اختیار کرلیں، تو یہ معاشرے میں فساد پھیلانے کا باعث نہیں رہیں گی اور اس وجہ سے ان کو "نفرت انگیز" نہیں مانا جائے گا اور قانون ان کو تحفظ فراہم کرے گا۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو شامی نوجوان عمر نے جو کچھ کیا اس کا کم سے کم فائدہ یہ ہے کہ ایسی تحریر و تقریر و حرکات کو بدستور نفرت انگیز اور معاشرے میں فساد پھیلانے کا باعث سمجھا جاتا رہے گا اور اس وجہ سے پولیس ان کو روکنے پر خود کو مجبور پائے گی۔ اگر عمر کی طرح کے "جنونی " اور "جذباتی" مسلمان مفقود ہوجائیں تو پھر ناروے کی پولیس یا دیگر ادارے کبھی اس کام میں مداخلت نہیں کریں گے بلکہ اس کام میں مداخلت کرنے والوں کو مجرم اور برا سمجھیں گے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
اب آئیے عملی پہلو کی طرف۔
توہینِ مذہب کے مسئلے پر مغرب کے ساتھ مکالمے کا فورم کیا ہے؟ کہاں بات کی جائے؟ کیا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی یا سلامتی کونسل میں؟ کیا بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں؟ کیا حقوقِ انسانی کی کمیٹی میں؟ کیا یورپی پارلیمنٹ میں؟ کیا یورپی عدالت براے حقوقِ انسانی میں؟
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تمام رکن ممالک موجود ہوتے ہیں اور ہر ایک کا ایک ہی ووٹ ہوتا ہے۔ اس میں قرارداد لائی جاسکتی ہے اور غالب امکان ہے کہ منظور بھی ہوجائے گی، اگر تھوڑی سنجیدگی سے لابنگ کی جائے۔ جنرل اسمبلی میں ویٹو کا کوئی امکان بھی نہیں ہوتا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جنرل اسمبلی سے منظور شدہ قرارداد کوئی الزامی (binding) حیثیت نہیں رکھتی۔ اس کی حیثیت صرف ایک خواہش کے اظہارکی ہوتی ہے، لیکن پھر بھی اگر 57 اسلامی ممالک مل کر ایک خواہش کا اظہار کریں اور اس خواہش کے اظہار میں ان کے ساتھ دیگر ممالک شامل ہوجائیں اور جنرل اسمبلی کی اکثریت اس کا اعلان کرے، تو اس کا اثر یقیناً بہت زیادہ ہوگا۔ یہ کام مشکل ضرور ہے، اس کےلیے اچھی خاصی محنت اور لابنگ کی ضرورت ہوگی، لیکن یہ ناممکن ہرگز نہیں ہے۔ بارہا جنرل اسمبلی سے امریکا، اسرائیل اور مغربی ممالک کی بدمعاشی کے خلاف قراردادیں منظور ہوتی رہی ہیں۔
اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ امریکا، برطانیہ، فرانس، اسرائیل اور ان کے ساتھیوں کی بھرپور مخالفت کے باوجود جنرل اسمبلی نے قرارداد منظور کرکے بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے، جو اقوامِ متحدہ کی عدالت ہے، یہ قانونی سوال پوچھا کہ وہ واضح کرے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی جانب سے دیوار کی تعمیر کی قانونی حیثیت کیا ہے، بحیثیتِ قابض طاقت کیا اس کے پاس یہ اختیار ہے، اس دیوار کی تعمیر کے قانونی نتائج کیا ہیں؟ پھر بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے کر اس پر بین الاقوامی قانون کی رو سے اپنا فیصلہ دیا ۔کیا یہی طریقہ توہینِ مذہب کے معاملے میں اختیار نہیں کیا جاسکتا؟ یقیناً کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ ایک دو دھاری تلوار ہے اور اچھی خاصی تیاری کے بغیر، اور انتہائی ماہر متخصصین کی ٹیم بنائے بغیر اس آپشن کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کسی قانونی مسئلے پر جواب بین الاقوامی قانون کی روشنی میں دیتی ہے۔ یہ درست ہے کہ اس عدالت کے منشور میں یہ مذکور ہے کہ فیصلوں میں یہ ان قواعدِ عامہ کو بطورِ ماخذ دیکھے گی جو "مہذب اقوام" نے تسلیم کیے ہیں لیکن ،جیسا کہ ہم تفصیل سے بتاچکے ہیں، مہذب اقوام سے مراد مغربی اقوام ہی تھے اور بڑی مشکل سے غیر مغربی اور غیر مسیحی اقوام کو اس نظام میں قبول کیا گیا ہے۔ اس قبولیت کے بعد بھی فیصلوں میں عملاً برطانوی کامن لا یا فرانسیسی سول لا کے اصولوں کی طرف ہی دیکھا جاتا ہے اور اسلامی اصولوں کا ذکر شاذ و نادر ہی آپ کو ملے گا، اور جہاں اسلامی اصول کبھی ذکر بھی کیے گئے ہیں تو محض خانہ پری کےلیے اور انتہائی سطحی انداز میں! یہ باوجود اس کے کہ اس عدالت کے منشور میں یہ بھی مذکور ہے کہ عدالت کے ججز میں دنیا کے تمام بڑے نظام ہاے قوانین کو نمائندگی دی جائے گی اور اس وجہ سے عموماً کوئی ایک مسلمان جج ضرور عدالت میں ہوتا ہے، مگر یہ ایک الگ المیہ ہے کہ خود مسلمان ججز میں کتنے ہوتے ہیں جو اسلامی قانون اور اس کے اصولوں کی روشنی میں فیصلہ کرسکتے ہوں، یا ایسا کرنا ضروری سمجھتے ہوں! اس لیے بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے بین الاقوامی قانون براے حقوقِ انسانی کی ایسی تشریح حاصل کرنا، جس کی رو سے توہینِ رسالت کا راستہ رک جائے، اس وقت تک محض خواب و خیال ہی رہے گا جب تک خود مسلمان اہل علم اور قانون دان اس پر محنت نہ کریں اور مسلمان ریاستوں کی جانب سے انھیں بھرپور تعاون اور مدد حاصل نہ ہو۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں مقدمات کی ایک اور قسم بھی ہوتی ہے ۔ اگر دو یا زائد ریاستوں کے درمیان تنازعہ ہو اور دونوں اس تنازعے کا فیصلہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے کرانے پر آمادہ ہوں، تو یہ عدالت اس مقدمے کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں، یا کسی ایسے ماخذ کی روشنی میں جس پر فریقین کا اتفاق ہو، کرسکتی ہے۔ کیا پاکستان اور فرانس، یا پاکستان اور یورپی یونین یہ راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں؟ کہنے دیجیے کہ موجودہ عالمی صورت حال میں یہ محض ایک خواب ہی ہے اور اس خواب کا عملی صورت میں وقوع پذیر ہونا اس پچھلے والے خواب کی بہ نسبت زیادہ مشکل ہے۔
اور ہاں۔ جب جنرل اسمبلی کوئی سوال بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں بھیجتی ہے تو اس صورت میں متعلقہ ریاست کی مرضی ضروری نہیں ہوتی، جیسے اسرائیل کی مرضی کے خلاف عدالت کو سوال بھیجا گیا اور عدالت نے اس کا جواب دے دیا۔ البتہ متعلقہ ریاست کا ایک ایڈ ہاک جج ضرور عدالت میں ہوتا ہے۔
جہاں تک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا تعلق ہے، تو وہاں سے کوئی توقع نہیں ہے کیونکہ ایک تو اس کے مستقل ارکان میں، جن کے پاس ویٹو کا اختیار ہے، ایک بھی مسلمان ملک نہیں ہے۔ دوسرے، سلامتی کونسل کا تعلق "بین الاقوامی امن کے تحفظ اور اس کی بحالی" سے ہے اور کم از کم اس وقت تک بین الاقوامی امن کو توہینِ رسالت سے کوئی واقعی خطرہ پیدا نہیں ہوا ہے۔ ہاں، اگر مسلمان ممالک نے توہینِ رسالت کو جنگی اقدام قرار دے کر اس کے خلاف جنگ کو اپنا حق قرار دیا، جیسا کہ شرعاً حکم ہے، تو اس صورت میں یقیناً سلامتی کونسل کو ہنگامی بنیادوں پر اس جنگ کو روکنے کےلیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ لیکن سوال وہی ہے۔ کیا مسلمان ممالک ایسا کرسکتے ہیں؟
مسلمان ممالک، پاکستان سمیت، تو اس وقت یہ تک نہیں کرپارہے کہ حقوقِ انسانی کی کمیٹی میں ہر سال رپورٹ پیش کرتے وقت یہ موقف اختیار کریں کہ توہینِ رسالت (اور اسی طرح حدود اور دیگر اسلامی احکام) کے معاملے میں ہم اسلامی اصولوں پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ یہاں تک کہ جب پچھلی دفعہ پاکستان سے ہم جنس پرستی کے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا، تو پاکستان نے جواب دینے کے بجاے "Noted" کا موقف اختیار کیا۔ ایسی صورت میں کیسے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ یورپی پارلیمنٹ کے سامنے توہینِ رسالت کے متعلق اپنا موقف دلائل کے ساتھ پیش کرسکیں گے؟ یہ الگ بات ہے کہ پیش کر بھی لیں تو کیا یہ موقف یورپی پارلیمنٹ مان لے گی؟ پچھلی تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ معاملہ اقدار اور تصورِ جہاں کے اختلاف کا ہے اور یہ اتنی آسانی سے حل ہونے والا نہیں ہے کہ آپ ایک دو تقریریں کرکے، یا ایک دو مضامین لکھ کر، یا چند کتب لکھ کر ان کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر آمادہ کرلیں گے۔ یہ صدیوں سے جاری تنازعہ ہے جس کے فوری حل کا کوئی امکان نہیں ہے۔
ہاں۔ جسے یقین نہ ہو، وہ ایک اور کوشش کرکے دیکھ لیں۔ کوئی مسلمان فرد، جو یورپ میں مقیم ہو، وہ یورپ میں، بالخصوص فرانس میں، ہونے والےتوہینِ رسالت کے مسئلے کو حقوقِ انسانی کا مسئلہ بنا کر یورپی عدالت براے حقوقِ انسانی میں مقدمہ لے جائے اور وہاں سے منوانے کی کوشش کرلے کہ اس توہین سے اس کے حقوق متاثر ہوئے ہیں، اس لیے اس توہین کا سلسلہ رکوایا جائے! یورپ میں مقیم مسلمان اس محاذ پر کوشش کرکے دیکھ تو لیں کہ اس کا نتیجہ کیا برآمد ہوگا۔ چونکہ یہ ایک خالصتاً قانونی مقدمہ ہوگا، اس لیے اسے قانونی انداز میں لڑا جائے اور یورپ میں مسلمانوں کی تنظیمیں اس پر پورے وسائل لگالیں۔ ساتھ ہی مسلمان ریاستوں کی جانب سےعالمی سطح پر لابنگ ہو۔ کیا پتہ آپ منوا ہی لیں!
 

الف نظامی

لائبریرین
کیا توہینِ رسالت کو بین الاقوامی قانون کی رو سے قابلِ سزا جرم قرار دیا جاسکتا ہے؟
یہ سوال کئی لوگوں نے مختلف انداز میں اٹھایا ہے۔ اس کے جواب کےلیے پہلے تو یہ نوٹ کرلیں کہ اس وقت رائج نظام میں بین الاقوامی قانون کے تین بڑے مآخذ ہیں: بین الاقوامی معاہدات، بین الاقوامی عرف اور قانون کے قواعدِ عامہ جو مہذب اقوام نے تسلیم کیے ہوں۔ آخر الذکر ماخذ پر پیچھے بحث ہوچکی۔ اب پہلے دو مآخذ پر بھی مختصر بات کرلیتے ہیں۔
جہاں تک بین الاقوامی عرف کا تعلق ہے، اس سے مراد ریاستوں کا تعامل ہے جو ایک طویل عرصے تک یکساں طریقے سے رائج رہے اور اس کے رائج ہونے کا سبب یہ ہو کہ ریاستیں اس طرزِ عمل کو اپنے اوپر قانوناً لازم سمجھتی ہیں۔ ریاستوں کے تعامل کے ثبوت کےلیے ریاستوں کے قوانین، ان کے عدالتی نظائر، ان کے حکومتی اقدامات اور اس طرح کے دیگر عوامل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو یہ بات واضح ہے کہ بین الاقوامی عرف کے لحاظ سے توہینِ رسالت کو قابلِ سزا جرم ثابت کرنا ممکن نہیں ہے۔ غیرمسلم ریاستیں تو ایک طرف، 57 مسلمان ریاستوں میں کتنی ایسی ہیں جہاں قانوناً توہینِ رسالت کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہو؟ ایسی صورت میں اسے بین الاقوامی عرف سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بھی ظاہر ہے کہ توہینِ رسالت کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کےلیے کوئی بین الاقوامی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ حقوقِ انسانی کے معاہدات میں اظہارِ راے کی آزادی کے حق کی بات ہوتی ہے اور اس کے علاوہ کچھ قیود کی بات بھی ہوتی ہے جن کو بنیاد بنا کر یہ نظریہ پیش کیا جاسکتا ہے کہ اظہارِ راے کی آزادی میں توہینِ رسالت شامل نہیں ہے لیکن ،جیسا کہ تفصیل سے واضح کیا گیا، یہ کوئی مسلمہ نظریہ نہیں ہے اور مغربی ریاستیں اسے نہیں مانتیں۔ اسی طرح بین الاقوامی فوجداری قانون کے جتنے معاہدات ہیں، جن میں بعض افعال کو جرم قرار دے کر ان کے مرتکبین پر مقدمہ چلانے کا طریقہ وضع کیا گیا ہے، جیسے بین الاقوامی فوجداری عدالت کا منشور، تو اس میں بھی "توہینِ رسالت" یا "توہینِ مذہب" کا جرم موجود نہیں ہے۔
تو کیا مسلمان ریاستیں اس ضمن میں آپس میں معاہدہ کرسکتی ہیں؟ ظاہر ہے کہ کرسکتی ہیں اور ایسا کوئی معاہدہ کرنے سے انھیں قانوناً کوئی نہیں روک سکتا۔ آخر جن افعال کو اب "انسانیت کے خلاف جرائم" قرار دیا جاتا ہے ، کسی دور میں انھیں "مسیحیت کے خلاف جرائم" کا عنوان دیا گیا تھا اور یورپی ریاستوں نے آپس میں ان کے متعلق سمجھوتے کیے تھے۔ اسی نہج پر مسلمان ریاستیں اگر توہینِ رسالت کے مسئلے سے واقعی نمٹنا چاہتی ہیں، تو ان کے لیے سب سے مناسب اور سب سے مؤثر راستہ یہی ہے کہ وہ آپس میں معاہدہ کرکے اسے قابلِ سزا جرم قرار دیں۔ اگر اس سے آگے بڑھ کر وہ اسے مسلمانوں کے خلاف جنگی اقدام اقدام بھی قرار دیں، تو یقین کیجیے کہ عالمی سطح پر اس سلسلے کو روکنے کی سنجیدہ کوششیں شروع ہوجائیں گی۔ اس ضمن میں مسلمان ریاستوں کی تنظیم ، یعنی اسلامی تعاون کی تنظیم (Organization of Islamic Cooperation/OIC) کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے۔ اگر بین الاقوامی سطح پر یگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مل کر معاہدہ کرنے میں رکاوٹ ہے، مثلاً کیا آپ مرزا غلام احمد قادیانی کی "شان میں گستاخی" کو بھی قابلِ سزا جرم قرار دیں گے، تو کیا اس سے بہتر یہ نہیں ہے کہ مسلمان آپس میں صرف رسول اللہ ﷺ ہی کی حد تک ایسا کوئی معاہدہ کرلیں؟ اگر اس فورم پر واقعی ایسا کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو یہ ایک بہت بڑی اور دوررس تبدیلی کا نقطۂ آغاز ہوسکتا ہے۔ لیکن کیا مسلمان ریاستیں یہ کرسکیں گی؟ یا یہ کرنا چاہتی بھی ہیں؟ شاید ان دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے اور اس کی کچھ وجوہات خارجی اور کچھ داخلی ہیں۔ مثلاً مسلمان ریاستیں عموماً ضعف کا، اور اس سے زیادہ وہن کا ، یعنی موت کے خوف کا، شکار ہیں۔ وہ یہ خظرہ مول لینے کےلیے تیار ہی نہیں ہیں کہ یورپ و امریکا ان سے ناراض ہوں۔ پھر یہ بھی ایک مسئلہ ہےکہ ان ریاستوں کی آپس میں چپقلش اور کشمکش کی عجیب صورتیں پائی جاتی ہیں (مثلاً ایران/سعودی، سعودی/ترکی، ترکی/ایران) جن کی موجودگی میں کسی بامعنی نتیجے تک پہنچنا انتہائی حد تک مشکل کام ہے۔ مشکل ہی سہی، لیکن اگر مسلمان اس معاملے میں بین الاقوامی سطح پر کچھ کرنا چاہتے ہیں، تو اس کا راستہ او آئی سی سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔
یہ عالمی منظرنامہ اس لیے تفصیل سے پیش کیا گیا کہ یہ بات واضح ہو کہ یہ مسئلہ تنہا پاکستان کا نہیں ہے، نہ ہی پاکستان تنہا اس کےلیے کوئی بہت بڑا اقدام کرسکتا ہے۔ یہ کام مسلمان ریاستوں نے مل کر ہی کرنا ہے اور مل کر کوشش کیے بغیر یہ ممکن بھی نہیں ہوگا۔ دردِ دل رکھنے والے اور سوچنے سمجھنے والے مسلمانوں کو اگر اس مسئلے کا مستقل حل ڈھونڈنا ہے تو انھیں اسی زاویے سے کام کرنا ہوگا کہ کیسے مسلمان ریاستیں مل کر اس معاملے پر کوئی مشترکہ موقف اختیار کرلیں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
اب سوال یہ ہے کہ جب تک مسلمان ریاستیں آپس میں مل کر کوئی لائحۂ عمل طے نہیں کرلیتیں اور کوئی مشترکہ اقدام اٹھا نہیں لیتیں، پاکستان جیسے ملک کے پاس کیا آپشن باقی ہیں؟
مثلاً کیا فرانس کے سفیر کو واپس بھجوانا اس مسئلے کا حل ہے؟ کیا آپ صرف اسی سفیر کو واپس بھجوانا چاہتے ہیں اور اس فرانس نے پھر کوئی اور سفیر بھجوادیا تو آپ کو اعتراض نہیں ہوگا؟ یا آپ فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ہی ختم کرنا چاہتے ہیں؟ اگر یہ آخر الذکر آپشن ہے، تو کیا اس اقدام سے صرف فرانس کے ساتھ تعلقات ختم ہوجائیں گے، یا یورپ اور اس کے دیگر اتحادیوں کے ساتھ تعلقات بھی توڑنے پڑیں گے؟یہ سوال بھی اہم ہے کہ جس طرح کا اتحاد یورپی یونین نے اس معاملے پر دکھایا ہے، اس طرح کا اتحاد مسلمان ممالک کی جانب سے دکھائے بغیر کسی ایک ملک کےلیے تنہا یہ پوزیشن لینا ممکن ہے یا مناسب ہے؟ قرآنِ کریم نے غزوۂ بدر کے بعد کے حالات میں مسلمانوں کو آگاہ کیا تھا:
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍۚ إِلَّا تَفۡعَلُوهُ تَكُن فِتۡنَةٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَفَسَادٞ كَبِيرٞ (سورۃ الانفال، آیت 73)
" اور جنھوں نے کفر کیا وہ آپس میں ایک دوسرے کے حامی و مددگار ہیں ، تو اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں ظلم اور بڑا فساد ہو گا۔"
اس لیے پچھلی اقساط میں تفصیل سے بتایا گیا کہ اس موضوع پر اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان ممالک اس پر مشترکہ موقف اپنائیں۔ اس کے بغیر تنہا پاکستان کےلیے یہ آپشن ہرگز مناسب نہیں ہے کہ وہ فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلے۔
سفارتی تعلقات منقطع نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ فرانس میں بہت سے پاکستانیوں کی زندگی، تجارت اور دیگر حقوق داؤ پر لگ جائیں گے۔ کسی بھی مسلمان کی ذمہ داریوں میں ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ اس نے کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھانا جس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچے۔ فقہاے کرام نے تصریح کی ہے کہ اگر دشمن کی قید میں موجود مسلمانوں پر شدید ظلم کیا جارہا ہو اور ان سے سخت مشقت لی جارہی ہو، اور ان میں کچھ مسلمان دشمن پر حملہ کرنے کا سوچیں تو حملہ کرنے سے قبل انھیں لازماً یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں ان کا یہ اقدام خودکشی تو نہیں ہے، اور اسی طرح انھیں یہ بھی لازماً دیکھنا ہوگا کہ کہیں ان کے اس اقدام کی وجہ سے باقی مسلمانوں کو زیادہ بڑی مصیبت کا سامنا تو نہیں کرنا پڑے گا؟ جہاد اور قتال میں ہر اقدام کے وقت مجاہد اور مقاتل کے سامنے یہ دو سوالات رہنے چاہئیں۔ شرح السیر الکبیر سے امام محمد کے متن اور امام سرخسی کی شرح کے ساتھ یہ جزئیات دیکھ لیجیے:
و ان کانوا یستعملونہ فی الأعمال الشاقۃ فاشتد ذلک علیہ ، فشد علی بعضھم لیقتلہ ، فان کان فعلہ ینکیء فیھم فلا بأس بذلک ۔ و ان کان یعلم أنہ لا ینکیء فیھم فالأولی ألا یفعلہ ، الا أن یکونوا کلفوہ من العمل ما لا یطیق فظن أن لہ فیما یصنع نجاۃ أو ترفھاً ، فحینئذٍ لا بأس بذلک لطلب النجاۃ ۔
( اگر وہ اس سے سخت مشقت کے کام لیں اور اس پر وہ بہت بھاری گزرے جس کی وجہ سے وہ ان میں سے کسی کو قتل کرنے کے لیے اس پر حملہ کردے تو اگر اس کا یہ فعل ان کو دہشت زدہ کرنے کا باعث بنے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ اور اگر وہ جانتا ہو کہ اس طرح وہ انھیں دہشت زدہ نہیں کرسکے گا تو بہتر یہی ہے کہ وہ ایسا نہ کرے ، سوائے اس حالت کے جب وہ اس سے ایسا کام لیتے ہوں جو اس کی طاقت سے زیادہ ہو ( جس سے مقصود اسے سسکا سسکا کر مارنا ہو) اور اس کا گمان ہو کہاس طرح حملہ کرکے اسے نجات اور راحت ملے گی تو ایسی صورت میں نجات حاصل کرنے کی خاطر اس حملے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ )
وإن كان يعلم أن فعله هذا يضر بغيره من الأسراء في أيديهم فالأفضل ألا يفعل خصوصاً إذا كان نكايته فيهم لا تبلغ بعض ما يجب لأنہ مندوب الی النظر للمسلمین و دفع الشر العدو عنھم ۔ ألا تری أن المجاھد لھذا یقاتل المشرکین ؟ فان کان فعلہ ھذا یصیر سبب الاضرار بالمسلمین بأن یقتلوا أو یعذبوا فالأفضل لہ ألا یفعل ۔
(اور اگر وہ جانتا ہو کہ اس کے اس فعل سے ان کے قبضے میں موجود دیگر قیدیوں کو نقصان پہنچے گا تو بہتر یہ ہے کہ وہ ایسا نہ کرے، بالخصوص جبکہ وہ دشمن کو اتنا دہشت زدہ بھی نہیں کرسکتا جتنا ضروری ہے، کیونکہ مسلمانوں کے مصالح کا خیال رکھنا اور ان سے دشمن کے شر کو دور رکھنا اس کے لیے مندوب ہے ۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ مجاہد اسی مقصد کے لیے تو لڑتا ہے ؟ پس جب اس کا یہ فعل مسلمانوں کے لیے ضررکا باعث بنے گا کہ اس کی وجہ سے انھیں قتل کیا جائے گا یا سخت سزائیں دی جائیں گی تو بہتر یہی ہے کہ وہ ایسا نہ کرے ۔)
واضح رہے کہ فرد کو ایسی صورت میں پھر بھی کسی نہ کسی حد اقدام کی رخصت مل سکتی ہے لیکن حکمران کا معاملہ زیادہ سنگین ہے کیونکہ اس پر واجب ہے کہ وہ مسلمانوں کا تحفظ کرے اور انھیں نقصان نہ پہنچنے دے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
جہاد کو ہماری رزمیہ شاعری کی وجہ سے صرف ایک جذباتی عمل سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ فقہاے کرام نے جس طرح اسلام کا تصورِ جہاد واضح کیا ہے، اس کی رو سے اس میں ہر ہر قدم پر عقل و منطق کا استعمال ضروری ہے۔ ہاں، جذبۂ ایمانی کے بغیر محض عقلی استدلال کسی کام کا نہیں ہے، لیکن عقلی تجزیے کے بغیر محض جذبۂ ایمانی کی بنیاد پر جہاد کی خواہش خودکشی کا باعث بن سکتی ہے۔
چنانچہ فقہاے کرام نے تفصیل سے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فعل کی طرح جہاد کےلیے بھی استطاعت کی شرط ہے۔ چنانچہ مثلاً عدمِ استطاعت ہی کی وجہ سے نابینا اور دوسرے معذور افراد پر قتال کا فریضہ عائد نہیں ہوتا ۔ البتہ عدم قدرت کے لیے کوئی لگا بندھا اصول نہیں ہے کیونکہ حالات میں تبدیلی کے ساتھ حکم بھی تبدیل ہوتا ہے ، نیز مختلف زمانوں میں جنگ کے طریقے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور آلات حرب اور ہتھیاروں کی نوعیت بھی وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے ۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ ایک زمانے میں ایک شخص قتال کے نااہل سمجھا گیا ہو اور دوسرے زمانے میں وہی شخص قتال کی قدرت رکھتا ہو ، اور اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے ۔ سورۃ الانفال کی آیت ۶۶ سے بعض اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ جب تک مسلمان فوج کی تعداد دشمن کے مقابلے میں کم از کم دوگنا نہ ہو اس وقت تک ان پر جہاد فرض نہیں ہوتا۔ یہ رائے کئی وجوہ سے صحیح معلوم نہیں ہوتی ۔
مثلاً عددی نسبت کا لحاظ تو اس زمانے میں رکھا جاسکتا تھا جب افرادی قوت ہی میدان جنگ میں اہم کردار ادا کرتی تھی ۔ موجودہ دور میں جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے فرد کی اہمیت کو نسبتاً کم کردیا ہے کیا زیادہ اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے دشمن کہاں کھڑا ہے؟ اگر مسلمان فوج کی تعداد دس ہزار ہے مگر اس کے پاس روایتی بندوق ہیں اور دشمن کی تعداد سو ہے مگر اس کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں تو مقدرت کا اندازہ تعداد سے لگایاجائے گا یا اسلحے کی نوعیت سے ؟ امام سمرقندی نے کئی سو سال پہلے اس حقیقت کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے :
و لا ینبغی للغزاۃ أن یفر واحد من اثنین منھم ۔ و الحاصل أن الأمر مبنی علی غالب الظن ۔ فان غلب فی ظن المقاتل أنہ یغلب و یقتل فلا بأس بأن یفر منھم۔ و لا عبرۃ بالعدد ، حتی ان الواحد اذا لم یکن معہ سلاح فلا بأس بأن یفر من اثنین معھما السلاح ، أو من الواحد الذی معہ السلاح ۔
( مجاہدین کے لیے یہ مناسب نہیں کہ دو دشمنوں کے مقابلے سے ایک مجاہد فرارہو جائے ۔ بحث کا حاصل یہ ہے کہ معاملہ غالب گمان پر مبنی ہے ۔ پس اگر مجاہد کا غالب گمان یہ ہے کہ وہ مغلوب ہوجائے گا اور قتل کردیا جائے گا تو فرار ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ اور اس سلسلے میں عدد کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، یہاں تک کہ ایک نہتا مجاہد اگر دو مسلح دشمنوں یا ایک ہی مسلح دشمن سے فرار ہوجائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہوگی )
ابن رشد نے تصریح کی ہے کہ امام مالک سے بھی اس طرح کی روایت کی گئی ہے :
و ذھب ابن الماجشون ، و رواہ عن مالک ، أن الضعف انما یعتبر فی القوۃ ، لا فی العدد ، و أنہ یجوز أن یفر الواحد عن واحد اذا کان أعتق جواداً منہ و أجود سلاحاً و أشد قوۃً ۔
( ابن ماجشون کی رائے یہ ہے ، اور وہ اسے امام مالک سے روایت کرتے ہیں ، کہ دوگنے کا معیار قوت ہے نہ کہ عدد ، اور اسی وجہ سے جائز ہے کہ تنہا شخص کسی ایک شخص کے مقابلے سے فرار ہوجائے اگر وہ اسے بہتر گھوڑا ، اچھی تلوار یا زیادہ قوت رکھتا ہو ۔)
امام سرخسی نے اس موضوع پر جو کچھ کہا ہے وہ یقینا قول فیصل کی حیثیت رکھتا ہے :
ان کان عدد المسلمین مثل نصف عدد المشرکین لا یحل لھم أن یفروا ۔۔۔ و ھذا اذا کان بھم قوۃ القتال بأن کانت معھم الأسلحۃ فأما من لا سلاح لہ فلا بأس بأن یفر ممن معہ سلاح ۔ و کذلک لا بأس بأن یفر ممن یرمی اذا لم یکن معہ آلۃ الرمی ۔ ألا تری أن لہ أن یفر من باب الحصن ، و من الموضع الذی یرمی فیہ بالمنجنیق ، لعجزہ عن المقام فی ذلک الموضع ۔
( اگر مسلمانوں کی تعداد مشرکین کے نصف کے برابر ہو تو ان کے لیے جائز نہیں کہ وہ فرار اختیار کریں ۔۔۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جب ان میں جنگ کی قوت ہو ، یعنی ان کے پاس اسلحہ ہو ۔ پس جس کے پاس اسلحہ نہ ہو اس کے لیے اسلحہ رکھنے والے کے مقابلے سے فرار اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ اسی طرح اس میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ اگر اس کے پاس رمی کا آلہ نہ ہو تو وہ رمی کرنے والے سے فرار اختیار کرلے ۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس کے لیے جائز ہے کہ قلعے کے دروازے سے اور اس جگہ سے جہاں منجنیق سے گولے پھینکے جارہے ہوں فرار ہوجائے کیونکہ وہ اس جگہ ٹھہرنے سے عاجز ہوتا ہے ؟)
 

الف نظامی

لائبریرین
یہ بھی واضح رہے کہ استطاعت اور قدرت کی یہ شرط صرف عام جہادی معرکوں کےلیے ہی نہیں بلکہ توہینِ رسالت کے معاملے میں بھی ہے۔ چنانچہ فقہاے کرام نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے کہ اگر کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف گستاخانہ کلمہ کہنے پر مجبور کیا جائے تو کیا وہ مجبور کیا گیا شخص اس کام کے لیے ذمہ دار ٹھہرے گا ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
مَن کَفَرَ بِاللّٰہِ مِن بَعْدِ إیْمَانِہِ إِلاَّ مَنْ أُکْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِیْمَانِ وَلَ۔کِن مَّن شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْراً فَعَلَیْہِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ( سورۃ النحل ، آیت ۱۰۶(
( جس نے اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس کا کفر کیا ، سوائے اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے مگر وہ جس نے کفر کے لیے سینہ کھول دیا ، تو ان لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے بڑا عذاب ہے ۔ )
چونکہ ایمان دل کا معاملہ ہے جس سے وہ شخص واقف نہیں ہوسکتا جو کسی کو کلمۂ کفر بولنے پر مجبور کرتا ہے اس لیے بظاہر کلمۂ کفر بول کر جان بچانے کی اجازت دی گئی ہے ۔ تاہم عزیمت کی راہ یہی ہے کہ آدمی کفر کا کلمہ نہ کہے اور اگر اس کی موت واقع ہوئی تو وہ شہادت کا درجہ پائے گا ۔ چنانچہ سیدنا حبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے یہی عزیمت کی راہ اختیار کی اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے نہایت اعلیٰ مرتبے کی بشارت دی ۔ دوسری طرف سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے رخصت پر عمل کیا لیکن پھر انتہائی زیادہ غمزدہ ہوگئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں تسلی دی اور فرمایا :
و ان عادوا فعد ۔
( اگر وہ پھر ایسا کریں تو تم بھی ایسا ہی کرو ۔ )
کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں کلمۂ کفر بولنے کی تلقین کی ؟ امام سرخسی نے سختی سے اس کی تردید کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں :
و بعض العلماء رحمھم اللہ یحملون قولہ ﷺ (و ان عادوا فعد ) علی ظاھرہ ، یعنی : ان عادوا الی الاکراہ فعد الی ما کان منک من النیل منی و ذکر آلھتھم بخیر ۔ و ھو غلط ، فانہ لا یظن برسول اللہ ﷺ أنہ یأمر أحداً بالتکلم بکلمۃ الشرک ، ولکن مرادہ ﷺ : فان عادوا الی الاکراہ فعد الی طمأنینۃ القلب بالایمان ۔ و ھذا لأن التکلم و ان کان یرخص لہ فیہ فالامتناع منہ أفضل ۔
( بعض علماء - اللہ ان پر رحم کرے - نے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد مبارک (اگر وہ پھر ایسا کریں تو تم بھی ایسا ہی کرو) کا ظاہری مفہوم مراد لیا ہے یعنی اگر وہ تم پرو دوبارہ اکراہ کریں تو تم بھی مجھے برا کہو اور ان کے خداؤں کا اچھا ذکر کرو۔ مگر یہ غلط ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی کو شرک کا کلمہ بولنے کی ہدایت کریں گے ۔ آپ ﷺ کی مراد دراصل یہ تھی کہ اگر وہ اکراہ کی طرف لوٹیں تو تم پھر اطمینان قلب کی طرف لوٹ جاؤ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کلمۂ کفر کے کہنے کی اگرچہ رخصت ہے مگر اس سے باز رہنا افضل ہے ۔ )
یہ بات امام سرخسی اس صورت میں کہہ رہے ہیں جب کسی کو گستاخانہ کلمہ کہنے پر مجبور کیا جائے۔ ہمارے سامنے موجود مسئلہ تو اس کی بہ نسبت کم شناعت کا ہے کیونکہ اس وقت سوال یہ نہیں کہ کسی کو گستاخانہ کلمہ کہنے پر مجبور کیا جارہا ہو، بلکہ یہ ہے کہ گستاخانہ کلمہ کہنے والے کی پشت پناہی کرنے والی قوم کے ساتھ جنگ سے ہم مجبوراً گریز کی راہ اختیار کرسکتے ہیں یا نہیں؟
البتہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ گریز کی یہ راہ مجبوراً ہی اختیار کی جاسکتی ہے اور مجبوری کا لحاظ مجبوری کی حد تک ہی کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ جب نابینا اور دیگر افراد کو، جو جہاد کی استطاعت نہیں رکھتے تھے ، رخصت دی گئی تو ساتھ ہی یہ قید بھی لگادی گئی کہ:
إِذَا نَصَحُوا لِلّٰہِ وَرَسُولِہِ (سورۃ التوبۃ، آیت 91)
(جبکہ وہ خلوص دل سے اللہ اور اس کے رسول کے وفادار ہوں ۔)
اس سے معلوم یہ ہوا کہ قتال سے رہ جانے والوں سے یہ مطالبہ برقرار رہے گا کہ ان کی ہمدردیاں جنگ میں حصہ لینے والوں کے ساتھ ہوں ۔ وہ جنگ میں عملی شرکت نہیں کرسکتے تو مالی امداد دے کر ہی حصہ ڈالیں ، مقاتلین کے اہل و عیال کا خیال رکھیں ، دعاؤں میں مجاہدین کو یاد رکھیں ، کم از کم دل میں تمنا رکھیں کہ کاش وہ بھی اس عظیم فریضے کے ادا کرنے کے اہل ہوتے اور اس فریضے کے ادا کرنے سے قاصر رہ جانے پر انہیں افسوس ہو ۔
وَلاَ عَلَی الَّذِیْنَ إِذَا مَا أَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوا وَّأَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَناً أَلاَّ یَجِدُوا مَا یُنفِقُونَ ۔إِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَسْتَأْذِنُونَکَ وَہُمْ أَغْنِیَاءُ رَضُوا بِأَن یَکُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللّٰہُ عَلَی قُلُوبِہِمْ فَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (سورۃ التوبۃ ، آیت ۹۲ ، ۹۳(
( اور ان لوگوں پر بھی کوئی الزام نہیں جنہوں نے خود آکر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں تو تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کرسکتا ، پھر وہ واپس مجبورا لوٹے اس حال میں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس رنج کی وجہ سے کہ وہ اپنے خرچ پر جہاد میں شرکت کی مقدرت نہیں رکھتے ۔ البتہ اعتراض ان لوگوں پر ہے جو مالدار ہوتے ہوئے بھی پیچھے رہ جانے کے لیے تم سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ وہ اس پر خوش ہوئے کہ گھر بیٹھنے والیوں کے ساتھ بیٹھ رہیں ، اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگادیا ، پس اب یہ اپنی شامت اعمال کے متعلق کچھ نہیں جانتے ۔ )
پس مقدرت کی شرط کا یہ مطلب نہیں کہ عدم قدرت کا بہانہ بنا کر جہاد اور دفاع کے فریضے کی ادائیگی کی فکر ہی چھوڑ دیں ۔بلکہ اس شرط کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ مسلمان امت میں اجتماعی طور پر بھی اور ہر فرد کی سطح پر بھی اس فریضے کی ادائیگی کی کوششیں جاری رہیں ۔اسی لیے پیچھے تفصیل سے واضح کیا گیا کہ توہین کے اس معاملے میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو مشترکہ موقف اپنانا چاہیے اور تنہا لڑنے کے بجاے ہمارا اصل فریضہ یہ ہے کہ ہم اس مشترکہ موقف کےلیے جدوجہد کریں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
کیا اس کے جواب میں صرف یہ کہنا کافی ہوگا کہ اس حساس ترین مسئلے پر ہمیں ہر طرح کی قربانی دینی چاہیے اور کسی کے ساتھ تعلقات کی پروا نہیں کرنی چاہیے؟ کیا واقعی ہماری قوم ایسی قربانی کےلیے تیار ہے؟ کیا واقعی ہماری قوم اس جذبۂ ایمانی سے سرشار ہے؟
اگر ان سوالات کے جوابات اثبات میں بھی ہوں، تو سوال یہ ہے کہ کیا جہاد کےلیے صرف جذبۂ ایمانی سے سرشار ہونا کافی ہے یا شریعت نے اس سلسلے میں استطاعت کی بھی شرط رکھی ہے ؟ جنگ کے دوران میں کسی وقت بے تیغ بھی لڑنے کا موقع مل سکتا ہے، کسی وقت تنہا دشمن کی صفوں کو چیر کر اندر تک گھسنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے، لیکن مجاہد کو کبھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ شریعت نے خودکشی حرام کی ہے۔ چنانچہ فقہاے کرام نے تو یہاں تک تصریح کی ہے کہ اگر دشمن کسی مجاہد کے سینے میں نیزہ گھونپے تو اس وقت مجاہد کو آگے بڑھ کر جوابی حملہ کرنے سے قبل سوچنا چاہیے کہ اس کا یہ اقدام خودکشی تو نہیں کہلائے گا؟ ذرا امام محمد کے متن اور امام سرخسی کی شرح میں یہ مقام تو دیکھ لیجیے۔
امام محمد فرماتے ہیں :
و لو ان مشرکا طعن مسلما برمح ، فانفذہ ، فاراد ان یمشی فی الرمح الیہ لیضربہ بالسیف : فان کان یخاف الھلاک ان فعل ذلک ، و یرجو النجاۃ ان خرج من الرمح ؛ فعلیہ ان یخرج ۔
( اگر کسی مشرک نے کسی مسلمان کو نیزے سے زخمی کرکے نیزہ اس کے بدن میں گھونپ دیا اور پھر وہ مجروح مسلمان اس حملہ آور مشرک کو تلوار سے زخمی کرنے کے لیے اس کی طرف چلے جبکہ یوں وہ نیزہ مزید اپنے بدن میں گھونپ رہا ہوتا ہے تو: اگر اسے ایسا کرنے میں اپنی موت کا اندیشہ ہو اور نیزہ بدن سے نکل جانے کی صورت میں اسے زندگی بچ جانے کی امید ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ نیزہ سے نجات حاصل کرلے ۔ )
امام سرخسی قانونی اصول ان الفاظ میں واضح کرتے ہیں :
لان المشی الیہ فی الرمح اعانۃ علی قتل نفسہ ؛ و الواجب علی کل الدفع عن نفسہ بجھدہ اولاً ، ثم النیل من عدوہ ۔
( کیونکہ اس کی طرف حرکت کی کوشش میں وہ نیزہ مزید اپنے بدن میں گھونپ کر اپنے قتل میں اعانت کرتا ہے اور ہر شخص پر لازم ہے کہ پہلے اپنی جان بچائے اور اس کے بعد اپنے دشمن کو نقصان پہنچائے ۔)
امام محمد آگے اس مسئلے کے دیگر پہلووں کی وضاحت کے لیے مزید فرماتے ہیں :
و ان استوی الجانبان عندہ فی التیقن بالھلاک فیھما ، او رجاء النجاۃ فیھما۔
( اگر اس (مجروح مسلمان) کے خیال میں دونوں صورتیں (دشمن پر حملہ اور بدن سے نیزہ نکالنا) اس لحاظ سے برابر ہوں کہ دونوں میں موت یقینی ہو ، یا دونوں میں بچ جانے کی یکساں امید ہو ۔)
امام سرخسی وضاحت فرماتے ہیں :
من حیث انہ لا یزید فی جراحتہ ۔
( کہ دونوں صورتوں میں وہ اپنے زخم میں اضافہ نہیں کرے گا ۔)
تو اس صورت میں امام محمد حکم کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں :
فلا باس بان یمشی الیہ فی الرمح حتی یضربہ بالسیف ؛ و ان شاء خرج من الرمح ۔
( تو اس حالت میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ بدن میں پیوست نیزے سمیت دشمن پر حملہ کرکے اس پر تلوار سے ضرب لگائے ؛ اور اگر وہ چاہے تو نیزے سے نجات حاصل کرلے ۔)
امام سرخسی فرماتے ہیں :
لانہ لابد من ان یخرج الرمح من ای الجانبین شاء ۔
(کیونکہ اس کے پاس کوئی راستہ اس کے سوا نہیں کہ نیزہ بدن سے نکالے خواہ آگے سے ہو یا پیچھے سے ۔ )
آگے امام سرخسی مزید واضح کرتے ہیں کہ اس صورت میں اور پہلی صورت میں فرق ہے اور اس فرق کو وہ امام محمد کے الفاظ میں ہی نقل کرتے ہیں :
و فرق محمد رحمہ اللہ بین ھذا و بین ما سبق ، و قال : لیس ھناک فی القاء نفسہ معنی النیل من العدو ، و ھا ھنا فی المشی الیہ فی الرمح معنی النیل من العدو ؛ و ھذا القصد یبیح لہ الاقدام ۔
( اور امام محمد رحمہ اللہ نے اس میں اور پچھلے مسئلے میں فرق کرتے ہوئے کہا: وہاں وہ اپنی جان کھوکر دشمن کو کوئی نقصان نہیں پہنچارہا ، جبکہ یہاں نیزے میں آگے حرکت کرنے سے وہ دشمن کو نقصان پہنچاسکتا ہے ۔ اس لیے یہاں اس کے لیے اقدام جائز ہوجاتا ہے ۔)
ان جزئیات اور ان کے پیچھے موجود اصولوں کا یہ تجزیہ واضح کرتا ہے کہ جب فرد کےلیے بھی شریعت نے اتنی کڑی پابندیاں لگائی ہیں، تو نظمِ اجتماعی کو کیسے یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کا جائزہ لیے بغیر ایک بھاری ذمہ داری اپنے اوپر اٹھائے اور نتیجے میں مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث بنے؟
 

الف نظامی

لائبریرین
اس بڑی تصویر کو اس کے پورے پس منظر کے ساتھ دیکھنے کے بعد اب اس سامنے کے سوال کا جواب آسان ہوگیا ہےکہ یورپی یونین نے جب ہم سے توہینِ رسالت کے قانون کی تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے، اور اس مطالبے کے پورا نہ کرنے کی صورت میں جی ایس پی پلس واپس لینے کی بات کی ہے، تو اس صورت میں پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا جی ایس پی پلس کی حیثیت ہمارے لیے اتنی اہم ہے، کیا یہ ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، کیا یہ اس قدر ضروری امر ہے کہ اس کےلیے ہمیں توہینِ رسالت کی سزا کو ختم کرنا پڑے تو مجبوری اور اضطرار کے نام پر ہم یہ کرگزریں گے؟ پچھلے سوال، کہ کیا فرانس اور یورپی یونین کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرکے حالتِ جنگ میں چلے جائیں، کا جواب ہم نے نفی میں دیا تھا اور اس کی وجوہات تفصیل سے ذکر کردی ہیں، لیکن یہ معاملہ اس سے مختلف ہے۔
ہر سوال کو اس کے اپنے میرٹ پر دیکھا جاتا ہے۔ جی ایس پی پلس کی حیثیت کے خاتمے سے ہمارے لیے اس طرح کی مجبوری کا عالم پیدا نہیں ہوسکتا، جو اعلانِ جنگ سے وجود میں آسکتا ہے؛ اور جی ایس پی پلس کے حصول کےلیے جو مطالبہ ہم سے کیا جارہا ہے، کہ توہینِ رسالت کی سزا کا خاتمہ کیا جائے، وہ ہمارے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ پہلی صورت میں تو ہم اضطراراً، صرف مجبوری کی حد تک، توہینِ رسالت کے مرتکبین سے جنگ سے وقتی گریز اختیار کررہے ہیں، جبکہ اس صورت میں ہم سے یہ مطالبہ کیاجارہا ہے کہ ہم اپنے ملک میں ہی توہینِ رسالت کو قابلِ سزا جرائم کی فہرست سے نکال لیں۔
توہینِ رسالت کی سزا کے خاتمے کے بجاے ہمیں آگے بڑھ کر اس مسئلے پر، اور حقوقِ انسانی کے بڑے کینوس پر، اپنے موقف کو پوری قوت اور مکمل اعتماد کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں سب سے اہم ذمہ داری ہماری وزارتِ خارجہ کی ہے۔ دنیا کو ملک کے موقف سے مناسب انداز اور معقول دلائل کے ساتھ آگاہ کرنا اسی وزارت کا کام ہے۔ اسی طرح ملکی جامعات، بالخصوص سیاسیات، بین الاقوامی تعلقات اور قانون کے شعبوں میں کی جانے والی تحقیق کا اس میں بہت اہم کردار ہوسکتا ہے۔ بدقسمتی سے جب سے ڈاکٹر عطاء الرحمان کی پالیسیوں کو لے کر ایچ ای سی نے ملک میں اعلی تعلیم کی تنظیمِ نو کا بیڑا اٹھایا، تب سے تعلیم و تحقیق کا معیار ہی تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔ ویسے بھی اس سکیم میں سوشل سائنسز ، قانون اور فنون کو غیراہم اور محض بھرتی کے مضامین کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ دنیا بھر میں پالیسی سازی میں انھی علوم کے ماہرین کا اصل کردار ہوتا ہے۔ یہی کچھ ہمارے نام نہاد مجالس دانش (Think Tanks) کا ہے۔ ہمارے کتنے ادارے ایسے ہیں جو غیر ملکی فنڈز اور ایجنڈا پر ملکی مفاد، نظریے اور پالیسی کو قربان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کریں؟ نام نہاد غیرسرکاری تنظیموں کا کام بھی بس اتنا ہی رہ گیا ہے کہ جو لائن مغربی آقاؤں کی جانب سے مل جائے، بس اسی لائن کی سیدھ میں چلتے رہیں ۔
ان سب باتوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہمارے ہاں سب اچھا ہے اور ہمیں اپنے نظام یا قانون کی بہتری کےلیے کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے برعکس ہماری اولین ترجیح یہی ہونی چاہیے کہ خود اپنے اصولوں اور مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے قانون سے سقم دور کریں۔ توہینِ مذہب، بالخصوص توہینِ رسالت، کی سزا کا معاملہ ہمارے ہاں اتنی حساسیت اختیار کرگیا ہے کہ اس پر خالص علمی انداز میں گفتگو بھی مشکل ہوگئی ہے اور اس قانون میں بہتری کےلیے دی گئی تجاویز کو بھی شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس معاملے میں سب سے بھاری ذمہ داری علماے کرام پر عائد ہوتی ہے۔ یہ انھی کا کام ہے کہ وہ جذبات کے بجاے دلیل سے بات کریں اور دلیل کی رو سے ہی اس قانون کا تجزیہ کرکے دیکھیں کہ اس میں کہاں کیا مسئلہ پایا جاتا ہے اور اسے کیسے دور کیا جائے؟ یاد رکھیے کہ اگر علماے کرام یہ کام اب بھی نہیں کریں گے اور صرف جذباتی نعروں اور جلسے جلوسوں کو ہی کافی سمجھتے رہیں گے، تو جلد ہی معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور پھر جس قسم کی تبدیلیاں لائی جائیں گی، ان کا راستہ روکنے کےلیے ہمارے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔
اسی احساس کی بنا پر اب یہاں توہینِ رسالت کی سزا کے قانون میں موجود کچھ مسائل کی نشاندہی کرکے اس کی بہتری کےلیے تجاویز پیش کی جائیں گی۔
 

الف نظامی

لائبریرین
توہینِ رسالت کے قانون پر بات کرنے والوں میں کچھ وہ ہیں جو سرے سے اس قانون کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ان کے بالکل برعکس وہ ہیں جن کے نزدیک اس قانون میں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اول الذکر گروہ اس پوسٹ کا مخاطب نہیں ہے اور ویسے بھی پاکستان میں یہ گروہ اپنی انتہائی زیادہ قلت کے سبب سے ناقابلِ توجہ ہے ۔
البتہ وہ لوگ جو اس قانون کو بالکل درست مانتے ہیں، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ اصولی لحاظ سے اس قانون میں کئی مسائل ہیں:
ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس کی رو سے مسلمان اور غیرمسلم میں کوئی فرق نہیں کیا گیا؛
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اس قانون میں ملزم کی نیت اور ارادے کو سرے سے غیرمتعلق قرار دیا گیا ہے؛
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ اس قانون میں ملزم/مجرم کی جانب سے توبہ اور رجوع کےلیے، یا موت کے سوا کسی اور سزا کےلیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی؛
چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ اس قانون میں ، باوجود اس کے کہ اس جرم کو حدود میں شمار سمجھا گیا ہے، جرم کے ثابت کرنے کےلیے حدود کے معیارِ ثبوت کو مقرر نہیں کیا گیا، نہ ہی اسلامی قانون کے تصورِ "شبہہ" کا کچھ خیال رکھا گیا ہے حالانکہ حدود کی سزائیں "شبہہ" کی بنا پر ساقط ہوجاتی ہیں ۔ (یاد رکھیے کہ شبہہ سے یہاں مراد Benefit of the Doubt نہیں بلکہ Mistake of Law کی کچھ قسمیں ہیں۔)
ان چار بنیادی مسائل کی بنا پر یہ قانون انتہائی زیادہ سخت ہوگیا ہے اور اس قانون پر عمل درآمد نہ ہونے کےلیے یہ ایک بڑا سبب ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے علماے کرام خود اس قانون کے جائزے اور ان مسائل کے حل کےلیے مل بیٹھ کر اس قانون میں بہتری کی تجاویز سامنے لے آئیں۔ اگر وہ یہ کام نہیں کریں گے تو اس قانون کا سوء استعمال اس طور پر ہوتا رہے گا کہ فرقہ وارانہ اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کے خلاف مقدمات کی بھرمار ہوگی لیکن اس کا عدم استعمال اس طور پر جاری رہے گا کہ عدالت کسی کو سزا نہیں دے سکے گی۔ یوں یہ مسئلہ جوں کا توں باقی رہے گا اور جب کبھی توہینِ رسالت کے کسی ملزم کا ماوراے عدالت قتل ہوگا تو قوم اسی طرح تقسیم ہوگی، اسی طرح چند دن بحث میں مبتلا رہے گی اور پھر کسی نئے ایشو کی طرف رخ کرلے گی۔
اس قانون کے سوء استعمال کو روکنے کی ایک کوشش جنرل مشرف کے دور میں ہوئی جب اس قانون کے بجاے اس پر عمل کے طریقِ کار ، یعنی Procedure، میں یہ تبدیلی کی گئی کہ اس قانون کے تحت ایف آئی آر کاٹنے سے قبل ایس پی کی سطح کے افسر کی جانب سے تفتیش کو ضروری قرار دیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی نے سوء استعمال کو تو نہیں روکا لیکن قانون کو غیرمؤثر ضرور کردیا ہے ۔
ہمارے نزدیک طریقِ کار کی یہ تبدیلی مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ اصل حل یہ ہے کہ اس قانون میں موجود مذکورہ بالا چار مسائل دور کیے جائیں۔اس کے بعد اس قانون کا سوء استعمال بڑی حد تک رک جائے گا۔
باقی رہا اس کے مؤثر نفاذ کا مسئلہ، تو اس کےلیے ضرورت اس امر کی ہے کہ توہینِ رسالت کے مقدمات کے فیصلے کےلیے خصوصی عدالتیں ہوں جہاں صرف انھی مقدمات کی سماعت ہو تاکہ یہ گلہ دور کیا جاسکے، جو بے بنیاد بالکل بھی نہیں ہے ، کہ صرف ماتحت عدالت میں ہی توہین رسالت کے ایک مقدمے کی سماعت میں سالہاسال لگ جاتے ہیں۔ (ملتان میں جنید حفیظ کے خلاف مقدمہ 2013ء میں دائر کیا گیا لیکن ماتحت عدالت کی جانب سے فیصلہ 2019ء میں سنایا گیا، یعنی چھے سال بعد!) سوال یہ ہے کہ اگر دہشت گردی کے مقدمات کےلیے خصوصی عدالتیں ہوسکتی ہیں، بینکوں کے تنازعات کےلیے خصوصی عدالتیں ہوسکتی ہیں، بلکہ نکاح و طلاق کے مقدمات کےلیے بھی خصوصی عدالتیں ہوسکتی ہیں، تو توہینِ رسالت کے مقدمات کےلیے خصوصی عدالتیں کیوں نہیں ہوسکتیں؟
 

الف نظامی

لائبریرین
توہینِ رسالت کی سزا کے قانون پر ایک عام تنقید یہ بھی کی جاتی ہے کہ توہینِ رسالت کے جھوٹے الزام پر سزا نہیں ہے اور اس وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرتے ہیں۔ کئی لوگ یہ جذباتی تجویز بھی دیتے نظر آتے ہیں کہ توہینِ رسالت کے ملزم کے بری ہوجانے کی صورت میں اس پر الزام لگانے والے کو توہینِ رسالت کی سزا دینی چاہیے۔
یہاں پہلی بات یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ الزام ثابت نہ کرسکنا اور الزام کا جھوٹا ثابت ہوجانا ، دو الگ باتیں ہیں۔ ملزم بری ہوجانے سے الزام لگانے والے کا جھوٹا ثابت ہونا ضروری نہیں ہے، بالخصوص جہاں ملزم کو شک کا فائدہ دے کر بری کیا جائے۔
دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کے قانونی نظام کی رو سے الزام کا ثابت کرنا استغاثہ کا کام ہے، نہ کہ شکایت کنندہ کا۔ قانون کا مفروضہ یہ ہے کہ شکایت کنندہ نے تو جرم کے وقوع کی اطلاع دے کر ریاست کی مدد کی ہے۔ اب ریاستی اداروں، بالخصوص پولیس کے تفتیشی افسران، کی ذمہ داری ہے کہ وہ جرم کے متعلق ثبوت اور شواہد اکٹھے کریں اور مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔ اگر پولیس اس معاملے میں کام چوری یا خیانت کرتی ہے تو اس کی ذمہ داری شکایت کنندہ پر عائد نہیں ہوسکتی۔
البتہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے خلاف جھوٹی شکایت کرے، جھوٹا مقدمہ دائر کرے یا جھوٹے گواہ بنائے یا شواہد گھڑے۔ بہ الفاظِ دیگر، وہ انصاف کے نظام کو ظلم کےلیے استعمال کرنے کی کوشش کرے۔ چنانچہ اس کوشش کی مختلف قسموں پر اسے مختلف سزائیں دی جاسکتی ہیں اور اس کےلیے قانون میں پہلے ہی سے مناسب دفعات موجود ہیں۔
مثلاً مجموعۂ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 250 میں عدالت کو اختیار دیا گیا ہےکہ اگر وہ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ شکایت کنندہ نے جھوٹا مقدمہ دائر کیا تھا، تو وہ ملزم کو بری کرنے کے حکم کے ساتھ شکایت کنندہ کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
پھر مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 182 میں قرار دیا گیا ہے کہ پولیس یا دیگر حکام کو جرم کے متعلق جھوٹی اطلاع پہنچانے والے کو سات سال تک کی قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے، اگر اس نے ایسے جرم کے متعلق جھوٹی اطلاع دی ہو جس کے سچا ثابت ہونے پر مجرم کو سزاے موت دی جاتی۔ چونکہ توہینِ رسالت کی سزا پاکستان میں موت ہے، اس لیے اس قانون کی رو سے اس شخص کو سات سال تک کی قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے جس نے کسی شخص کی جانب سے توہینِ رسالت کے ارتکاب کی جھوٹی اطلاع پولیس تک پہنچائی ہو۔
مزید دیکھیے کہ مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 211 کے تحت یہی سات سال تک قید کی سزا ایسا جھوٹا مقدمہ دائر کرنے پر بھی ہے جس کے سچا ثابت ہونے پر مجرم کو سزاے موت دی جاتی۔
مزید دیکھیے کہ مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 181 کے تحت جھوٹا بیانِ حلفی دینے والے کو تین سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔
کیا یہ سزائیں توہینِ رسالت کے جھوٹے مقدمات کی روک تھام کےلیے کافی نہیں ہیں؟
ہاں، اگر عدالت میں یہ ثابت ہوجائے کہ شکایت کنندہ نے صرف جھوٹا مقدمہ ہی دائر نہیں کیا، یا صرف جھوٹی اطلاع ہی نہیں دی، یا صرف جھوٹا بیانِ حلفی ہی نہیں دیا، بلکہ اس نے ایسے الفاظ گھڑ کر، یا ثبوت گھڑ کر، ملزم کی طرف منسوب کیے ہیں جو توہینِ رسالت پر مبنی ہیں، تو اس صورت میں یقیناً کہا جاسکتا ہے کہ شکایت کنندہ نے توہینِ رسالت کا ارتکاب کیا ہے اور اس کے خلاف توہینِ رسالت کے قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔
اس ایک صورت کے سوا، عام طور پر ایک سویپنگ سٹیٹمنٹ دینا کہ جو توہین کا الزام ثابت نہ کرسکا، اسے توہین کی سزا دی جائے، انتہائی غلط ہے۔
بعض لوگوں نے یہ حوالہ بھی دیا ہے کہ شریعت نے زنا کا الزام ثابت نہ کرسکنے والوں کے لیے قذف کی سزا مقرر کی ہے لیکن وہ دو باتیں بھول جاتے ہیں:
ایک یہ کہ زنا کے الزام کے متعلق شریعت نے عام قواعد سے الگ خصوصی حکم دیا ہے کہ جس نے زنا کا الزام لگایا اور پھر اسے چار گواہوں کے ذریعے ثابت نہ کرسکا (اور ملزم انکاری ہو) ، تو الزام لگانے والے کو زنا کا جھوٹا الزام لگانے (قذف) پر اسی کوڑوں کی سزا دی جائے۔ چنانچہ یہاں صرف الزام ہی نہیں بلکہ اس کی گواہی کو بھی قذف ہی سمجھا جائے گا، جب تک چار گواہوں کی گواہی پوری نہ ہوجائے۔ چنانچہ اگر تین گواہوں نے زنا کی گواہی دی اور چوتھا پھر گیا، یا خاموش رہا، یا اس کی گواہی زنا کے بارے میں صریح نہ ہو، تو چوتھا گواہ تو بچ جائے گا لیکن پہلے تین گواہوں کو زنا کے جھوٹے الزام پر قذف کی سزا کے طور پر اسی کوڑے مارے جائیں گے۔ البتہ اگر چار گواہ پورے ہوجائیں تو ان کی گواہی مل کر زنا کے جرم کے اثبات کےلیے کافی ہوجائے گی۔ چنانچہ زنا کے ملزم کا جرم ثابت ہوجانے پر اسے زنا کی سزا دی جائے گی اور اس کے خلاف زنا کی گواہی دینے والے گواہ قذف کی سزا سے بچ جائیں گے ۔
دوسری یہ کہ شریعت نے زنا کی سزا اور اس کے جھوٹے الزام کی سزا میں فرق کیا ہے۔ زنا کی سزا غیر محصن کےلیے سو کوڑے اور محصن کےلیے رجم ہے، جبکہ زنا کے جھوٹے الزام پر اسی کوڑوں کی سزا ہے۔
آخری سوال یہ ہے کہ جب جھوٹی شکایت، جھوٹے مقدمے اور جھوٹے بیانِ حلفی پر سزائیں موجود ہیں، تو پھر لوگ جھوٹے مقدمات بنا کر بچ کیسے جاتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف توہینِ رسالت کے جرم کا نہیں، بلکہ دیگر جرائم کا بھی ہے۔ کیا قتل کے جھوٹے مقدمات نہیں بنائے جاتے؟ جھوٹی گواہیاں نہیں دی جاتیں؟ جھوٹی ایف آئی آرز کا اندراج نہیں کیا جاتا؟ اس سب کچھ کا سبب یہ نہیں کہ ان کو روکنے کےلیے قانون موجود نہیں، بلکہ سبب یہ ہے کہ قانون پر عمل نہیں ہوتا اور یہ ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی عمومی لاقانونیت کا نتیجہ ہے۔ اس عمومی اخلاقی فساد کی موجودگی میں یہ توقع رکھنا کہ کوئی نیا قانون بنا کر آپ جرم کے سدّ باب میں کامیاب ہوجائیں گے، محض دیوانے کا خواب ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
اب آخر میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خلاصۂ بحث چند نکات کی صورت میں پیش کروں:
1۔ یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کی حیثیت واپس لینے کا معاملہ ہو، یا ایف اے ٹی ایف کے مطالبے پر وقف اور دیگر قوانین میں تبدیلی کا سوال، یہ ایک بڑی تصویر کے چند حصے ہیں۔ جب تک بڑی تصویر پر نظر نہیں ہوگی، ان جزئیات کا درست فہم حاصل نہیں ہوسکتا۔
2۔ سوویت یونین کے بکھرنے اور بالخصوص نائن الیون کے بعد کے نئے عالمی نظام میں یورپی یونین اور ایف اے ٹی ایف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور کئی پہلوؤں سے انھوں نے اقوامِ متحدہ کی تنظیم کی جگہ لے لی ہے۔
3۔ اس نئے عالمی نظام میں کسی ملک کی شمولیت کی بنیادی شرائط میں ایک اہم شرط یہ ہے کہ وہ تہذیب کی ایک خاص سطح تک ترقی حاصل کرچکا ہو۔ اس سطح کو ناپنے کا معیار وہ جسے آسان زبان میں "انسانی حقوق" کہا جاتا ہے۔ اسی لیے یورپی یونین نے جی ایس پی پلس کی حیثیت کو انسانی حقوق کے 27 معاہدات کی توثیق کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ اسی طرح ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے آپ تب تک نہیں نکل سکتے جب تک ان کے مطالبات کے مطابق اپنے قانونی و معاشرتی نظام کو تبدیل نہ کرلیں۔
4۔ انسانی حقوق کے ان معاہدات کے ذریعے مغربی اقدار کو ، جن کی تہہ میں رومی و یونانی بت پرستی اور مسیحی تصورات کے علاوہ جدید و مابعد جدید الحادی نظریات کارفرما ہیں، اخلاقیات کے عالمی و آفاقی معیارات کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور اخلاق یا حقوق کے کسی بھی متبادل تصور کو سرے سے پیش کرنے کی ہی اجازت نہیں دی جارہی۔
5۔ چنانچہ انسانی حقوق کے ان معاہدات کی توثیق کے بعد آپ کو مجبور کیا جاتا ہے کہ آپ اپنے ملکی قوانین کو ان سے ہم آہنگ بنائیں اور اس مقصد کےلیے ان قوانین میں تبدیلیاں کریں۔ ان تبدیلیوں سے انکار کی صورت میں یورپی یونین جی ایس پی پلس حیثیت بھی واپس لے سکتی ہے اور ایف اے ٹی ایف آپ کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں بھی دھکیل سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے آپ کی اقتصادی ناکہ بندی بھی کی جاسکتی ہے اور جمہوریت کے فروغ اور انسانی حقوق کی ترویج کےلیے آپ کے ملک پر حملہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
6۔ انسانی حقوق کے اس الحادی تصور کے مقابلے میں نہ ہی مستقل شکست خوردگی کا رویہ آپ کو نقصان سے بچا سکتا ہے،نہ ہی عذر خواہی کا رویہ کچھ مفید ثابت ہوا ہے۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی حقوق اور تہذیبی و اخلاقی اقدار و معیارات کےلیے اسلامی تصور کو باقاعدہ ایک مستقل اور متبادل نظام کے طور پر پیش کیا جائے۔ یہ کام کسی ایک ملک کے تنہا کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اس کےلیے تمام مسلمان ممالک کو مل کر باہمی مشورے سے مشترکہ لائحۂ عمل بنانا ہوگا۔
7۔ توہینِ مذہب اور توہینِ رسالت کے مسائل پر پاکستان، یا مسلمانوں، کا موقف یورپی یونین یا مغرب کے اس نام نہاد آفاقی انسانی حقوق کے تصور سے یکسر مختلف ہے۔ اس حوالے سے وزارتِ خارجہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا موقف دنیا کے سامنے مناسب انداز میں پیش کرنے کےلیے باقاعدہ لابنگ کرے ۔ ملکی جامعات کا اس سلسلے میں کردار نہایت اہم ہے لیکن بدقسمتی سے اس طرف بالکل ہی توجہ نہیں دی جارہی۔
8۔ دنیا کو اس سلسلے میں آگاہی دینے کےلیے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فورم کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح جنرل اسمبلی کے ذریعے اس توہینِ مذہب اور اظہارِ راے کی آزادی کے تعلق پر قانونی سوال کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں بھی پیش کیا جاسکتا ہے ۔ انفرادی سطح پر یہ سوال یورپ میں مقیم مسلمان یورپی عدالت براے حقوقِ انسانی تک بھی لے جاسکتے ہیں۔ تاہم ان دونوں فورمز پر مقدمہ جیتنے کےلیے بہت زیادہ منصوبہ بندی، تحقیق اور محنت کی ضرورت ہوگی۔ اس ضمن میں مسلمان ممالک کی تنظیم او آئی سی کو فعال بنانے کی ضرورت ہے۔
9۔ پاکستان یا کسی بھی مسلمان ملک کےلیے مناسب نہیں ہےکہ وہ فرانس یا کسی دوسرے یورپی ملک کے ساتھ سفارت تعلقات منقطع کرنے یا حالتِ جنگ میں چلے جانے کا فیصلہ تنہا کرے۔ پاکستان کی حکومت پر پاکستانی عوام کی حفاظت اور ان کے بہترین مفاد میں فیصلہ کرنا لازم ہے اور اگر اس وجہ سے وہ مجبوراً جنگ میں جانے سے گریز کرے تو یہی اس کےلیے مناسب طرزِ عمل ہے کیونکہ شریعت نے جہاد کےلیے استطاعت کی شرط رکھی ہے اور جہاد میں بھی خودکشی سے روکا ہے۔ البتہ جی ایس پی پلس کی حیثیت کا حصول اتنا ضروری نہیں ہے ، نہ ہی یہ پاکستان کی اتنی بڑی مجبوری ہے کہ اس کےلیے پاکستان کو توہینِ مذہب کی سزا ختم کرنے کا اقدام اٹھانا پڑے۔ چنانچہ اس معاملے میں پاکستان کو بھرپور مزاحمت کرنی چاہیے۔
10۔ البتہ توہینِ مذہب کی سزا کے قانون پر اسلامی اصولوں کی روشنی میں غور و فکر کی ضرورت ہے تاکہ اس کا غلط استعمال بھی روکا جائے اور اس کے عدمِ نفاذ کی صورت بھی ختم ہوجائے۔ اس سلسلے میں خود علماے کرام اور مذہبی طبقےکو آگے بڑھ کر فعال کردار ادا کرنا چاہیے قبل اس کے کہ معاملہ کسی اور کے ہاتھ میں چلا جائے اور پھر وہ سانپ کے گزرنے کے بعد لکیر ہی پیٹتے رہیں۔
ھذا ما عندی، والعلم عند اللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top