فارسی شاعری یا چناں کن یا چنیں - نظم علامہ اقبال مع اردو ترجمہ

محمد وارث

لائبریرین
یا مُسلماں را مَدہ فرماں کہ جاں بر کف بنہ
یا دریں فرسودہ پیکر تازہ جانے آفریں
یا چُناں کُن یا چُنیں

(اے خدا) یا تو مسلمانوں کو یہ فرمان مت دے کہ وہ اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ لیں یا پھر ان کے کمزور اور فرسودہ جسموں میں نئی جان ڈال دلے (کہ موجودہ حالت میں تو وہ تیرا فرمان بجا لانے سے رہے)۔یا ویسا کر یا ایسا کر۔

یا بَرَہمن را بَفَرما، نو خداوندے تراش
یا خود اندر سینۂ زنّاریاں خَلوت گزیں
یا چُناں کُن یا چُنیں

یا برہمن کو یہ حکم دے کہ وہ اپنے لیے نئے خدا تراش لیں (کہ پرانے خداؤں کی محبت انکے دل سے بھی اٹھ چکی اور خلوص باقی نہیں ہے) یا خود ان زنار باندھنے والوں برہمنوں کے سینوں میں خلوت اختیار کر (کہ یا ان کو بت پرستی میں راسخ کر یا مسلماں کر دے)۔یا ویسا کر یا ایسا کر۔

یا، دگر آدم کہ از ابلیس باشد کمتَرک
یا، دگر ابلیس بہرِ امتحانِ عقل و دیں
یا چُناں کُن یا چُنیں

یا کوئی اور آدم بنا جو ابلیس سے کم ہو (کہ موجودہ آدم ابلیس سے بھی بڑھ چکا ہے) یا عقل اور دین کے امتحان کے لیے کوئی اور ابلیس بنا (کہ تیرا یہ ابلیس تو انسان کی شیطنت کے آگے ہیچ ہو گیا) ۔یا ویسا کر یا ایسا کر۔

یا جہانے تازۂ یا امتحانے تازۂ
می کنی تا چند با ما آنچہ کردی پیش ازیں
یا چُناں کُن یا چُنیں

یا کوئی نیا جہان بنا یا کوئی نیا امتحان بنا، تو ہمارے ساتھ کب تک وہی کچھ کرے گا جو اس سے پہلے بھی کر چکا ہے یعنی ازلوں سے ایک ہی کشمکش ہے، لہذا یا کوئی نیا جہان بنا یا اس آزمائش اور کشمکش کو ہی بدل دے۔یا ویسا کر یا ایسا کر۔

فقر بخشی؟ با شَکوہِ خسروِ پرویز بخش
یا عطا فرما خرَد با فطرتِ روح الامیں
یا چُناں کُن یا چُنیں

تُو نے (مسلمانوں کو) فقر بخشا ہے، لیکن انہیں خسرو پرویز جیسی شان و شوکت بھی بخش یعنی طاقت بھی دے، یا انہیں ایسی عقل فرما جسکی فطرت روح الامین (جبریل) جیسی ہو یعنی وہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرے۔یا ویسا کر یا ایسا کر۔

یا بکُش در سینۂ ما آرزوئے انقلاب
یا دگرگوں کُن نہادِ ایں زمان و ایں زمیں
یا چُناں کُن یا چُنیں

یا تو ہمارے سینے میں انقلاب کی آرزو ہی (ہمیشہ کیلیے) ختم کر دے یا اس زمان و مکان (زمانے) کی بنیاد ہی دگرگوں کر دے، الٹ پلٹ دے، تہ و بالا کر دے، یعنی اس میں انقلاب برپا کر دے۔ ویسا کر یا ایسا کر۔

(زبورِ عجم - علامہ محمد اقبال)
 

مہ جبین

محفلین
بہت عمدہ ترجمہ کیا ہے محمد وارث بھائی
ایک بات معلوم کرنا ہے کہ میں نے اسی محفل پر فارسی سکھانے کے دھاگے میں ہی پڑھا تھا کہ فارسی میں "ں " نہیں ہوتا لیکن اس میں بھی " ں" موجود ہے اور اکثر کلام میں بھی میں نے دیکھا ہے ، تو اس کی کیا وجہ ہے ؟ کیا یہ غلطی غلط العام ہوگئی ہے یا پھر یہ جدت ہے؟
 

محمد وارث

لائبریرین
بہت عمدہ ترجمہ کیا ہے محمد وارث بھائی
ایک بات معلوم کرنا ہے کہ میں نے اسی محفل پر فارسی سکھانے کے دھاگے میں ہی پڑھا تھا کہ فارسی میں "ں " نہیں ہوتا لیکن اس میں بھی " ں" موجود ہے اور اکثر کلام میں بھی میں نے دیکھا ہے ، تو اس کی کیا وجہ ہے ؟ کیا یہ غلطی غلط العام ہوگئی ہے یا پھر یہ جدت ہے؟

جی بہن جی، جدید فارسی میں جو آج کل ایران اور دیگر علاقوں میں رائج ہے اس میں نون غنہ ں اور بڑی یے دونوں استعمال نہیں ہوتے، لیکن کلاسیکی فارسی میں اور جو فارسی ہمارے ہاں یعنی برصغیر میں رائج رہی ہے اس میں یہ دونوں حروف استعمال ہوتے ہیں اور یہاں مطبوعہ کتابوں میں بھی ایسے ہی لکھا جاتا ہے اور میری بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ یہاں رائج رسم الخط کے مطابق ہی لکھوں۔
 

مہ جبین

محفلین
جی بہن جی، جدید فارسی میں جو آج کل ایران اور دیگر علاقوں میں رائج ہے اس میں نون غنہ ں اور بڑی یے دونوں استعمال نہیں ہوتے، لیکن کلاسیکی فارسی میں اور جو فارسی ہمارے ہاں یعنی برصغیر میں رائج رہی ہے اس میں یہ دونوں حروف استعمال ہوتے ہیں اور یہاں مطبوعہ کتابوں میں بھی ایسے ہی لکھا جاتا ہے اور میری بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ یہاں رائج رسم الخط کے مطابق ہی لکھوں۔
@محمدوارث بھائی ، بہت شکریہ ، آپکے جواب سے میری الجھن دور ہوگئی
 

محمد وارث

لائبریرین
واہ بہت خوب - وارث بھائی کلام اور ترجمہ شئیر کرنے کا شکریہ

شکریہ مرزا صاحب


جی نظامی صاحب یہ میں دیکھ چکا اور کیا خوب کلام ہے یہ بھی۔
 

حسان خان

لائبریرین
علامہ اقبال کی اسی نظم کی پیروی میں ایک تاجکستانی شاعرہ مغفرت یوسفی کی عشقیہ نظم ترجمے کے ہمراہ ملاحظہ ہو:

یا برو پیش رقیبم، یار باش و همنشین.
یا بیا پیش من و بگشا گره های جبین.
یا چنان کن یا چنین.

یا تو میرے رقیب کے پاس جاؤ اور (اُس کے) یار و ہمنشیں بن جاؤ، یا پھر میرے پاس آ کر میری جبیں پر موجود گرہیں کھول دو۔ یا ویسا کرو یا ایسا کرو۔

یا بمان، خورشید عشقت نور پاشد بر سرم،
یا غمم را دور از من ساز و کن نقش زمین.
یا چنان کن یا چنین.

یا تو (میرے پاس) رُکو، تاکہ تمہارے عشق کا خورشید میری ذات پر نور پاشی کرتا رہے یا پھر میرے غم کو مجھ سے دور کر کے اسے نقشِ زمیں (یعنی زمین پر گرا کر پسپا) کر دو۔ یا ویسا کرو یا ایسا کرو۔

یا بزن در پای من زولانه ی بخت سیاه
یا بیا انداز در انگشت بخت من نگین
یا چنان کن یا چنین.

یا تو میرے میرے پاؤں میں سیاہ بختی کی زنجیر پہنا دو یا پھر آؤ اور میری قسمت کی انگشت میں (خوشی بختی کی) انگشتری پہنا دو۔ یا ویسا کرو یا ایسا کرو۔

یا بیا از سوی مردم، بی بهانه سوی من
یا گناه خویش را کن عیب آن و عیب این
یا چنان کن یا چنین.

یا تو لوگوں کے پاس سے میری جانب بغیر بہانے کے چلے آؤ، یا پھر اپنے گناہ کو افرادِ دیگر سے منسوب کر دو۔ یا ویسا کرو یا ایسا کرو۔

یا بشو خسرو، که باشد عشق شیرینت نصیب
یا بشو مجنون، که بر عهدت بگویم آفرین
یا چنان کن یا چنین.

یا تو خسرو پرویز بن جاؤ تاکہ شیریں کا عشق تمہیں نصیب ہو جائے، یا پھر مجنوں بنو تاکہ تمہارے عہد و پیماں پر میں آفریں کہوں۔ یا ویسا کرو یا ایسا کرو۔

یا بکن با دخت ارمان دل من ازدواج
یا برو با هر که پیش آید ز ره، شو همنشین
یا چنان کن یا چنین.

یا تو میرے دل کے ارمان کی دختر سے ازدواج کر لو یا پھر جاؤ اور راہ میں جو بھی سامنے آئے اُس کے ہم نشیں بن جاؤ۔ یا ویسا کرو یا ایسا کرو۔
(میرا خیال ہے کہ یہاں ارمانِ دل کو دختر سے تشبیہ دینے کی غرض سے اضافتِ تشبیہی کا استعمال ہوا ہے۔)

یا گرفتارم مکن هرگز به عشق بی پناه
یا علیه عشق پاکم صد کمان گیر و کمین
یا چنان کن یا چنین.

یا تو مجھے ہرگز بے پناہ عشق کا گرفتار مت کرو یا پھر میرے پاک عشق کے خلاف سینکڑوں کمانیں اور کمین گاہیں اپنی دسترس میں لے لو۔ یا ویسا کرو یا ایسا کرو۔

یا مرا بگذار و بگذر، تلخ گریم بعد از این
یا نصیبم کن ز دنیا قسمتی چون انگبین
یا چنان کن یا چنین.

یا تو مجھے چھوڑ کر گذر جاؤ تاکہ اس کے بعد میں تلخ دل سے گریہ و زاری کرتی رہوں یا پھر مجھے اس دنیا میں شہد جیسی اچھی قسمت نصیب کرو (یا یہ کہ مجھے اس دنیا کا شہد جیسا کوئی خوب حصہ نصیب کرو۔) یا ویسا کرو یا ایسا کرو۔

(مغفرت یوسفی)

نظم کا منبع
 
آخری تدوین:

زبیر صدیقی

محفلین
السلام علیکم محمد وارث صاحب۔ آپ سے ہمیشہ ہی کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔ اللّہ آپ کو خوش رکھے۔ آپ کے دیے ہوئے ترجمہ کی مدد دے احقر نے منظوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنی رائے سے آگاہ کریں۔

یا مسلماں سے نہ فرما، جاں ہتھیلی پر رکھیں
یا تو اِن فرسودہ تن میں جان تازہ پیدا کر
یا تو یہ کر یا وہ کر

یا برہمن سے یہ کہہ دے اب تراشیں بت نئے
یا تو خود اب بُت پرستوں کے دلوں میں کر لے گھر
یا تو یہ کر یا وہ کر

یا نیا آدم بنا، ابلیس سے کم تر جو ہو
یا نیا ابلیس، کر دے عقل و دیں حیران تر
یا تو یہ کر یا وہ کر

یا جہاں اب ہو نیا یا امتحاں اب ہو نیا
کب تلک کرتا رہوں مشق کہن شام و سحر
یا تو یہ کر یا وہ کر

یا بجائے فقر مجھ کو بادشاہی ہو عطا
یا عطا ہو اب فرشتوں کا مجھے قلب و نظر
یا تو یہ کر یا وہ کر

والسلام
 
Top