ہے خوشی غمگین اور غم بھی اُداس غزل نمبر 110 شاعر امین شارؔق

امین شارق

محفلین
الف عین سر
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
ہے خوشی غمگین اور غم بھی اُداس
آج وہ بھی خوش نہیں ہم بھی اُداس

دل کو آنسُو لگتی ہیں یہ بارشیں
بِن تمہارے آج موسم بھی اُداس

تُو نہیں آیا تو اِک میں ہی نہیں
پُھول، کلیاں اور شبنم بھی اُداس

اس قدر زخمی ہوا دِل عشق میں
زخم کو دیکھا تو مرہم بھی اُداس

نعمتیں چِھن جانے پر روتا ہے دَل
خُلد سے نکلے تھے آدم بھی اُداس

حضرتِ اقبال شاعر باکمال
اُن کے جانے پر ہے عالم بھی اُداس

عِشق میں شارؔق تُو ہی غمگیں نہیں
اور بھی ہیں دیدہِ نم بھی اُداس
 

الف عین

لائبریرین
یہ بحر تو فاعلاتن فاعلاتن فاعلن ہی ہے، ایک رکن زائد لکھا ہے تم نے
خُلد سے نکلے تھے آدم بھی اُداس
اور
اُن کے جانے پر ہے عالم بھی اُداس
ان دونوں مصرعوں میں ہی بات مکمل لگتی ہے، باقی سارے ثانی مصرعوں میں 'ہے'، 'ہیں' 'تھے' وغیرہ کی کمی محسوس ہوتی ہے
اقبال کا ابھی ابھی انتقال ہوا؟
 

امین شارق

محفلین
سر یہ اشعار دیکھئے گا۔۔
دل کو آنسُو لگتی ہیں یہ بارشیں
بِن ہے تیرے دیکھ موسم بھی اُداس

تُو نہیں آیا تو اِک میں ہی نہیں
ہیں بہت گُل اور شبنم بھی اُداس
 
Top