ہیں آنکھیں جھیل سی، چہرہ کتاب جیسا ہے۔ سعید واثق

عمر سیف

محفلین
ہیں آنکھیں جھیل سی، چہرہ کتاب جیسا ہے​
کہ میرے یار کا ہر نقش خواب جیسا ہے​
کسی بھی بات پر اب بھیگتی نہیں آنکھیں​
کہ اپنا حال سُوکھے چناب جیسا ہے​
یہ آرزو ہے کبھی تو اندھیری شب میں ملے​
وہ ایک شخص کہ جو ماہتاب جیسا ہے​
یہ سازِ جان تو خاموش ایک عمر سے ہے​
اگرچہ لہجہ ابھی تک رباب جیسا ہے​
میں اُس کے حسن کی تعریف کس طرح سے کروں؟​
وہ آفتاب سا، ماہتاب جیسا ہے​
تمھارے بعد میں کس چیز سے لگاؤں دل؟​
مری نظر میں سبھی کچھ حباب جیسا ہے​
ہر ایک ذرہ چمکدار کیوں نہیں ہوتا؟​
ہر ایک ذرہ اگر آفتاب جیسا ہے​
کسے سناؤں میں اس دل کی داستاں واثق؟​
شبِ فراق کا ہر پل عذاب جیسا ہے​
​
​
سعید واثق​

​
 

نایاب

لائبریرین
واہہہہہہہہہہہ
محترم بھائی
لگتا ہے آج کسی باعث ضبط کا دامن چھوٹ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عرصے بعد آپ کی جانب سے اس قدر خوبصورت شراکتیں دکھ رہی ہیں ۔
بہت شکریہ بہت دعائیں
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top