ابن انشا ہو نہ دنیا میں کوئی ہم سا بھی پیاسا لوگو ( ابنِ انشاء )

ظفری

لائبریرین
ہو نہ دنیا میں کوئی ہم سا بھی پیاسا لوگو
جی میں آتی ہے کہ پی جائیں یہ دریا لوگو

کتنی اس شہر کے سخیوں کی سُنی تھی باتیں
ہم جو آئے تو کسی نے بھی نہ پوچھا لوگو

اتفاقاً ہی سہی ، پر کوئی در تو کُھلتا
جھلملاتا پسِ چلمن کوئی سایا لوگو

سب کے سب مست رہے اپنے نہاں خانوں میں
کوئی کچھ بات مسافر کی بھی سُنتا لوگو

ہونگے اس شہر میں کچھ اس کے بھی پڑھنے والے
یوں تو یہ شخص بھی مشہور تھا خاصا لوگو

کسی دامن ، کسی آنچل کی ہوا تو ملتی
جب سرِ راہ یہ واماندہ گرا تھا لوگو

ایک تصویر تھی کیا جانیئے کس کی تصویر
نقش موہوم سے اور رنگ اُڑا سا لوگو

ایک آواز تھی کیا جانیئے کس کی یہ آواز
اس نے آواز کا رشتہ بھی نہ رکھا لوگو

کچھ پتا اس کا ہمیں ہو تو ، تو تمہیں بتائیں
کون گھر ، کون نگر ، کون محلہ لوگو

( ابنِ انشاء )​
 

محمداحمد

لائبریرین

کتنی اس شہر کے سخیوں کی سُنی تھی باتیں​
ہم جو آئے تو کسی نے بھی نہ پوچھا لوگو​
اتفاقاً ہی سہی ، پر کوئی در تو کُھلتا​
جھلملاتا پسِ چلمن کوئی سایا لوگو​
سب کے سب مست رہے اپنے نہاں خانوں میں​
کوئی کچھ بات مسافر کی بھی سُنتا لوگو​
ہونگے اس شہر میں کچھ اس کے بھی پڑھنے والے​
یوں تو یہ شخص بھی مشہور تھا خاصا لوگو​
کسی دامن ، کسی آنچل کی ہوا تو ملتی​
جب سرِ راہ یہ واماندہ گرا تھا لوگو​
ایک تصویر تھی کیا جانیئے کس کی تصویر​
نقش موہوم سے اور رنگ اُڑا سا لوگو​
ایک آواز تھی کیا جانیئے کس کی یہ آواز​
اس نے آواز کا رشتہ بھی نہ رکھا لوگو​
کچھ پتا اس کا ہمیں ہو تو ، تو تمہیں بتائیں​
کون گھر ، کون نگر ، کون محلہ لوگو​
بہت ہی عمدہ اشعار ہیں۔ دل نہیں بھرتا ان سے۔
 

عمران اسلم

محفلین
ایک آواز تھی کیا جانیئے کس کی یہ آواز​
اس نے آواز کا رشتہ بھی نہ رکھا لوگو​
بندے کے پسندیدہ اشعار میں سے ایک۔
بہت شکریہ جناب۔ :)
 

غدیر زھرا

لائبریرین
بہت خوب :)

اسی غزل کے چند مزید اشعار ۔۔۔

چند حرفوں کا معمہ تھا وہ الجھا سلجھا
اُس نے تو نام بھی پورا نہ بتایا لوگو

ہائے یہ درد کہ مشکل سے تھما تھا دل میں
چاند پونم کا ابھی سے نکل آیا لوگو

پھر وہی دشت ، وہی دشت کی تنہائی ہے
وحشتِ دل نے کہیں کا بھی نہ رکھا کوگو

اُس میں ہمت ہےتو در آئے، اُٹھا دے یہ حصار
اپنے گنبد میں تو در ہے نہ دریچہ لوگو

جی کی جی ہی میں رہیں حسرتیں طوفانوں کی
یہ سفینہ تو کنارے ہی پہ ڈوبا لوگو

بند آنکھیں ہوئی جاتی ہیں پساریں پاؤں
نیند سی نیند ! ہمیں اب نہ اٹھانا لوگو

ایک ہی شب ہے طویل، اتنی طویل، اتنی طویل
اپنےایّام میں امروز نہ فردا لوگو

اب کوئی آئے تو کہنا کہ "مسافر تو گیا"
یہ بھی کہنا کہ "بھلا اب بھی نہ جاتا لوگو"

راہ تکتےہوئے پتھرا سی گئی تھیں آنکھیں
آہ بھرتے ہوئے چھلنی ہوا سینہ لوگو

ہونٹ جلتے تھے جو لیتا تھا کبھی آپ کا نام
اس طرح اور کسی کو نہ ستانا لوگو
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
بہت خوب :)

اسی غزل کے چند مزید اشعار ---

چند حرفوں کا معمہ تھا وہ الجھا سلجھا
اُس نے تو نام بھی پورا نہ بتایا لوگو

ہائے یہ درد کہ مشکل سے تھما تھا دل میں
چاند پونم کا ابھی سے نکل آیا لوگو

پھر وہی دشت ، وہی دشت کی تنہائی ہے
وحشتِ دل نے کہیں کا بھی نہ رکھا کوگو

اُس میں ہمت ہےتو در آئے، اُٹھا دے یہ حصار
اپنے گنبد میں تو در ہے نہ دریچہ لوگو

جی کی جی ہی میں رہیں حسرتیں طوفانوں کی
یہ سفینہ تو کنارے ہی پہ ڈوبا لوگو

بند آنکھیں ہوئی جاتی ہیں پساریں پاؤں
نیند سی نیند ! ہمیں اب نہ اٹھانا لوگو

ایک ہی شب ہے طویل، اتنی طویل، اتنی طویل
اپنےایّام میں امروز نہ فردا لوگو

اب کوئی آئے تو کہنا کہ "مسافر تو گیا"
یہ بھی کہنا کہ "بھلا اب بھی نہ جاتا لوگو"

راہ تکتےہوئے پتھرا سی گئی تھیں آنکھیں
آہ بھرتے ہوئے چھلنی ہوا سینہ لوگو

ہونٹ جلتے تھے جو لیتا تھا کبھی آپ کا نام
اس طرح اور کسی کو نہ ستانا لوگو
واہ
بہت ہی زبردست
 

محمداحمد

لائبریرین
ویسے عادت تو ہمیں گرین سے مارک کرنے کی ہی ہے مگر کچھ سوچ کر ریڈ ہی کر دیا :battingeyelashes:

آج کل محفل کا ماحول کچھ بدل رہا ہے، سو ہم بھی تبدیلی کے بگولے کے ساتھ چکرا سے گئے ہیں۔ :)

ویسے بھی اردو لکھ کر لوگوں کو سمجھانی بھی پڑتی ہے نا۔ :D
 
Top