ہمیں غصہ دلایا جا رہا ہے

دوست

محفلین
مجھے غصہ دکھایا جا رہا ہے
تبسّم کو چبایا جا رہا ہے
وہیں تک آبروئے ضبطِ غم ہے
جہاں تک مُسکرایا جا رہا ہے
دو عالم میں نے چھوڑے جس کی خاطر
وہی دامن چھُڑایا جا رہا ہے
قریب آنے میں ہے اُن کو تکلّف
وہیں سے مُسکرایا جا رہا ہے
 
Top