ہمیں امن چاہیے

امن کیسے ائے گا؟

  • اپریشن سے

    Votes: 2 20.0%
  • مزاکرات سے

    Votes: 2 20.0%
  • کچھ نہ کرکے

    Votes: 0 0.0%
  • توبہ کرکے اور اپنے اعمال کی اصلاح سے

    Votes: 6 60.0%
  • امریکہ کو پاکستان پر حملے کی دعوت دےکر

    Votes: 0 0.0%

  • Total voters
    10

Fawad -

محفلین
کئی مرتبہ افغانستان سے مسلح لشکروں نے پاکستانی فوج پر حملہ کیا ان کو امریکہ نے کیوں نہیں روکا؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


افغانستان اور پاکستان کے مابين تعاون پر مبنی تعلقات دونوں ممالک کے مستقبل کے ليے اہميت کے حامل ہيں اور امريکہ اس تعاون کو قائم رکھنے ميں ہر روز کوشاں ہے۔ ہم سب کو انھی متشدد دشمنوں کا سامنا ہے۔ ليکن ميرے ليے يہ امر حيران کن ہے کہ آپ صدر کرزئ کی زير قيادت حکومت کے ليے امريکہ کو ہدف تنقيد بنا کر سوال کر رہے ہيں۔ اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ امريکی حکومت پاکستان اور افغانستان کو اسٹريجک اتحادی تصور کرتی ہے اور ہم دونوں حکومتوں کے ساتھ مل کر تندہی سے دہشت گردی کی جاری کاروائيوں سميت باہم مفادات پر مبنی معاملات پر توجہ مرکوز کيے ہوئے ہيں۔


تاہم ہم اس پوزيشن میں نہيں ہيں کہ خطے ميں اپنے اتحاديوں پر پاليسی ساز فيصلے مسلط کرسکيں۔ يقینی طور پر خطے ميں کسی بھی فريق کی ناکامی يا کاوشوں ميں کمی بيشی پر مبنی تاثر کے ليے ہميں ذمہ دار ٹھہرايا نہيں جا سکتا ہے۔


پاکستان اور افغانستان کی طرح بہت سے جاری معاملات کے ضمن ميں ہمارے بھی خدشات اور تحفظات ہيں۔ ليکن اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ سرحدی علاقوں ميں دراندازی کے واقعات کے تسلسل ميں اضافہ ہماری آشيرباد کے سبب ہو رہا ہے۔ اس قسم کی کسی بھی پاليسی کی حمايت سے ہميں کوئ فائدہ حاصل نہيں ہوتا ہے۔


امريکی حکومت پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر دراندازی کے واقعات سے پوری طرح آگاہ بھی ہے اور اس پر تشويش کا اظہار بھی کرتی ہے، جن کے نتيجے ميں دونوں طرف اموات ہوئ ہيں۔ ميں يہ واضح کر دوں کہ امريکی حکومت اس بات پر مکمل يقين بھی رکھتی ہے اور اسے تسليم بھی کرتی ہے کہ دہشت گردی کا عفريت سرحدوں کی دونوں جانب معصوم افراد کے لیے مشترکہ خطرہ ہے جس سے نبردآزما ہونے کے لیے دونوں ممالک کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر ميں ہمارے ليے يہ غير منطقی اور نقصان دہ امر ہو گا کہ ہم کسی ايک فريق کا ساتھ ديں يا بے مقصد الزام تراشی کريں جس کا واحد فائدہ ہمارے مشترکہ دشمنوں کو ہو گا۔ ہماری پوری توقع اور اميد ہے کہ دونوں ممالک مل کر اس بات کو يقینی بنائيں گے کہ مستقبل ميں اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوں۔


ميں ياد دہانی کروا دوں کہ سال 2011 ميں امريکہ نے افغانستان اور پاکستان کی جانب سے سرحدوں پر واقعات کی جانچ کے لیے ایک مشترکہ عسکری ورکنگ گروپ کی تشکيل کے فيصلے کی بھرپور حمايت کی تھی۔


group-news-international-lhmlEmbffjb.html

يہ کوئ خفيہ امر نہيں ہے کہ امريکہ، پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خلاف لڑائ ميں باہمی شراکت دار ہيں اور اس ضمن ميں معاشی امداد کی منتقلی اور عسکری سازوسامان تک رسائ اس تعاون کا لازمی جزو ہے۔

پاکستان کی فوج اور حکومت نے بارہا اس بات کا اعادہ کيا ہے کہ سرحدوں کے آر پار دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے ليے امريکہ، پاکستان اور افغانستان کے مابين باہم کاوشيں اور جدوجہد جاری رہے گی۔ اگر آپ کی بيان کردہ سوچ پر من وعن يقين کر ليا جاتا تو پھر يقینی طور پر دراندازی کے واقعات کے ضمن ميں حکومت پاکستان کا موقف يہ نا ہوتا۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 
fawad درست کہہ رہا ہے ۔ا مریکہ پاکستان کی بھلائی چاہتا ہے ۔ اگر امریکہ پاکستان اور افغانستان کی بھلائی چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ غربت ختم ہو دھشت گردی ختم ہو تو ہنگامی بنیادوں پر دو کام کرے
1- اپنی پوری فوج جلد از جلد یہاں سے نکال لے
2- جو رقم فوج پر خرچ کررہا ہے اس سے پاکستان اور افغانستان میں کم از کم 15 یونی ورسٹیاں قائم کردے جہاں دن رات سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جاوے

اس کے علاوہ اگر کچھ رقم بچ پڑے تو جدید پیمانے پر 25 ہسپتال ہر دو ملک میں قائم کردے
پھر بھی رقم بچ پڑے تو پاکستان اور افغانستان کے ہر شہر میں 50 اور چھوٹے شہر میں 12 اسکول کے لیے رقم متعلقہ گورنمنٹ کو دی جاوے
مزید براہ یہ کہ جو رقم کو اپنے ایجنٹ صحافیوں کو اور اشتھارات میں دیتا ہے اس کو ایدھی اور چھیپا کے حوالے کردے

اپنی مارکیٹز کو پاکستان اور افغانستان کی پراڈکٹز کے لیے کھول دیوے
ہنگامی بنیادوں میں اپنی تمام یونی ورسٹیوں میں پاکستانی طالب علموں کے لیے اسکالرشپ مخصوص کردوے ہر یونی ورسٹی میں 25 سے پچاس طالب علموں تک۔
 
x25167_81513554.jpg.pagespeed.ic.zUC0MEbjUY.jpg
 

Fawad -

محفلین
fawad درست کہہ رہا ہے ۔ا مریکہ پاکستان کی بھلائی چاہتا ہے ۔ اگر امریکہ پاکستان اور افغانستان کی بھلائی چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ غربت ختم ہو دھشت گردی ختم ہو تو ہنگامی بنیادوں پر دو کام کرے
1- اپنی پوری فوج جلد از جلد یہاں سے نکال لے
2- جو رقم فوج پر خرچ کررہا ہے اس سے پاکستان اور افغانستان میں کم از کم 15 یونی ورسٹیاں قائم کردے جہاں دن رات سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جاوے

ہنگامی بنیادوں میں اپنی تمام یونی ورسٹیوں میں پاکستانی طالب علموں کے لیے اسکالرشپ مخصوص کردوے ہر یونی ورسٹی میں 25 سے پچاس طالب علموں تک۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

اصولی طور پر امريکی حکومت اس سوچ سے متفق ہے کہ تعليم تک رسائ اور بہتر معاشی مواقعے اس متشدد سوچ کو روکنے کے ليے اشد ضروری ہيں جو بالآخر دہشت گردی کا باعث بنتی ہے۔ يہی وہ وجہ ہے کہ جس کے سبب امريکی حکومت نے خطے ميں يو ايس ايڈ کے تعاون سے جاری منصوبوں کا محور ومرکز بہتر تعليمی اصلاحات اور پاکستان اور افغانستان کے بچوں تک سکولوں اور نصابی کتابوں تک بہتر رسائ رکھا ہے۔

دلچسپ امر يہ ہے کہ اگر آپ واقعی پوری ايمانداری سے اس بات پر يقين رکھتے ہيں تو پھر اسی کسوٹی پر آپ کو افغانستان ميں حاليہ امريکی حکومتوں کی مثبت کاوشوں کو بھی تسليم کرنا چاہیے کيونکہ آج کی حقيقت تو يہ ہے کہ ہر سال لاکھوں کی تعداد ميں نصابی کتب افغانستان بھجوائ جا رہی ہيں جس کا مقصد افغانستان کی آئندہ نسل کو تعليم کے زيور سے آشنا کرنا ہے۔

ميں يہ نشاندہی بھی کردوں کہ افغانستان ميں عسکری کاروائ کے آغاز ميں بھی ہم اس امر پر متفق تھے کہ کم سن بچوں کو دہشت گرد تنطيموں ميں شموليت سے روکنے کے ليے تعليم ہی کنجی ہے۔

اس ضمن ميں مارچ 16 2002 کو سابق امريکی صدر بش کا اپنے ہفتہ وار خطاب کے دوران ديا گيا ايک بيان پيش ہے

"اور سال کے اختتام تک ہم 10 ملين نصابی کتب افغانستان ميں بچوں کے ليے بھجوائيں گے۔ يہ نصابی کتب طالب علموں کو عدم رواداری اور شدت پسندی کی بجائے برداشت اور انسانی قدروں کا احترام کرنا سکھائيں گی۔"

http://www.c-spanvideo.org/program/169177-1

اسی طرح اوماہہ ورلڈ ہيرالڈ ميں ايک کالم سے ليا گيا اقتتباس

"جنگ اور ظلم کی راکھ سے جديد اور صحت مند افغان معاشرے کی تشکيل کے عمل کے ليے اميد کی ايک کرن موجود ہے کيونکہ يونيورسٹی آف نبراسکا کے حکام پڑوس ملک پاکستان ميں اپنے چھاپہ خانوں ميں نصابی کتب کی تياری ميں مصروف ہيں۔ اور يہ سب کچھ يو ايس ايڈ کی جانب سے دی گئ 5۔6 ملين ڈالرز کی امداد کے سبب ممکن ہو سکا ہے۔"

دہشت گردی گروہوں کی جانب سے کی جانے والی متششد کاروائيوں کے ليے تاريخ کے اوراق ميں سے جواز تلاش کرنے اور تمام تر ملبہ امريکہ کے سر ڈالنے کے ليے نت نئ تاويليوں کی بجائے آج کے دور کے زمينی حقائ‍ق اور اعداد وشمار پر توجہ مرکوز رکھيں۔

طالبان کے دور حکومت ميں افغانستان ميں صرف 900000 طالب علم تھے اور خواتين کو تعليم کی اجازت نہيں تھی۔ آج 7 ملين طالب علم افغانستان ميں زير تعليم ہيں جن ميں سے 2 ملين براہراست يو ايس ايڈ کے مرہون منت ہيں اور 37 فيصد طالبات بھی زير تعليم ہيں۔

يو ايس ايڈ کے زير انتظام 52،000 اساتذہ کو تربيت دينے کے علاوہ 3695 کلاس رومز کا اجراء کيا گيا ہے جن ميں 52،504 بچوں کو تعليم دی جا رہی ہے جن ميں 65 فيصد بچياں شامل ہيں۔ تعليم کے اعلی اداروں کو مستحکم کرنے کے ليے يو ايس ايڈ نے افغان پرفيسروں کو ماسٹرز ڈگری کے حصول کے ليے معاونت فراہم کی اور تعليم کے معيار کو بہتر بنانے اور جديد خطوط پر استوار کرنے کے ليے کئ مختصر مدت کے کورسز کا بھی اہتمام کيا گيا ہے۔ يو ايس ايڈ کے سپورٹ پروگرامز کے ذريعے افغانسان کے نوجوانوں اور بالغوں کو تکنيکی تعليم سے بھی روشناس کروايا جا رہا ہے تا کہ وہ ايک پرامن معاشرے کی تشکيل ميں اپنا فعال کردار ادا کر سکيں۔

دہشت گردی کے عفريت کے سدباب کے ليے تعليمی اصلاحات کی ضرورت تو مسلم حقيقت ہے تاہم يہ نہيں بھولنا چاہيے کہ ديرپا امن کے ليے ان عناصر کو کيفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے جو دانستہ تشدد کو فروغ دے رہے ہيں۔

کوئ بھی مہذب معاشرہ اپنی فوج، پوليس اور قانون نافذ کرنے والے ديگر اداروں کو يکسر ختم کر کے محض اس بنياد پر اپنے شہريوں کی حفاظت کی ضمانت نہيں دے سکتا کہ سکولوں اور يونيورسٹيوں کی تعداد ميں اضافے سے بالآخر معاشرے کے متشدد عناصر پر قابو پايا جا سکتا ہے۔

جب دہشت گرد دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوئے بازاروں، ہسپتالوں اور يہاں تک کہ سکولوں اور جنازوں پر بھی اس ليے بم دھماکے کريں تا کہ زيادہ سے زيادہ شہريوں کو ہلاک کيا جا سکے اور پھر اپنی "عظيم کاميابيوں" پر اترانے کے ساتھ ساتھ مستقبل ميں بھی ايسے ہی غير انسانی حملے کرنے کا عنديہ ديں تو پھر آپ ان منتخب حکومتوں اور حکام بالا سے کيا توقع رکھيں گے جو ہر شہری کی حفاظت اور عوامی سيکورٹی کے ذمہ دار ہيں؟

کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ متاثرين کے لواحقين کے ليے "معافی اور درگزر" کی پاليسی اس بنياد پر قبول کر لينا ممکن ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کوئ بھی قدم خطے کے مجموعی امن کو خطرے ميں ڈال دے گا؟ کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ وہ افراد جو مجرمانہ کاروائ کے ذمہ دار ہیں، ان کے مطالبات تسليم کر لينے سے اور ان کے خلاف کوئ کاروائ نا کرنے سے دہشت گردی ختم ہو جائے گی اور تشدد ميں کمی واقع ہو جائے گی؟

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu




 
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

اصولی طور پر امريکی حکومت اس سوچ سے متفق ہے کہ تعليم تک رسائ اور بہتر معاشی مواقعے اس متشدد سوچ کو روکنے کے ليے اشد ضروری ہيں جو بالآخر دہشت گردی کا باعث بنتی ہے۔ يہی وہ وجہ ہے کہ جس کے سبب امريکی حکومت نے خطے ميں يو ايس ايڈ کے تعاون سے جاری منصوبوں کا محور ومرکز بہتر تعليمی اصلاحات اور پاکستان اور افغانستان کے بچوں تک سکولوں اور نصابی کتابوں تک بہتر رسائ رکھا ہے۔

دلچسپ امر يہ ہے کہ اگر آپ واقعی پوری ايمانداری سے اس بات پر يقين رکھتے ہيں تو پھر اسی کسوٹی پر آپ کو افغانستان ميں حاليہ امريکی حکومتوں کی مثبت کاوشوں کو بھی تسليم کرنا چاہیے کيونکہ آج کی حقيقت تو يہ ہے کہ ہر سال لاکھوں کی تعداد ميں نصابی کتب افغانستان بھجوائ جا رہی ہيں جس کا مقصد افغانستان کی آئندہ نسل کو تعليم کے زيور سے آشنا کرنا ہے۔

ميں يہ نشاندہی بھی کردوں کہ افغانستان ميں عسکری کاروائ کے آغاز ميں بھی ہم اس امر پر متفق تھے کہ کم سن بچوں کو دہشت گرد تنطيموں ميں شموليت سے روکنے کے ليے تعليم ہی کنجی ہے۔

اس ضمن ميں مارچ 16 2002 کو سابق امريکی صدر بش کا اپنے ہفتہ وار خطاب کے دوران ديا گيا ايک بيان پيش ہے

"اور سال کے اختتام تک ہم 10 ملين نصابی کتب افغانستان ميں بچوں کے ليے بھجوائيں گے۔ يہ نصابی کتب طالب علموں کو عدم رواداری اور شدت پسندی کی بجائے برداشت اور انسانی قدروں کا احترام کرنا سکھائيں گی۔"

http://www.c-spanvideo.org/program/169177-1

اسی طرح اوماہہ ورلڈ ہيرالڈ ميں ايک کالم سے ليا گيا اقتتباس

"جنگ اور ظلم کی راکھ سے جديد اور صحت مند افغان معاشرے کی تشکيل کے عمل کے ليے اميد کی ايک کرن موجود ہے کيونکہ يونيورسٹی آف نبراسکا کے حکام پڑوس ملک پاکستان ميں اپنے چھاپہ خانوں ميں نصابی کتب کی تياری ميں مصروف ہيں۔ اور يہ سب کچھ يو ايس ايڈ کی جانب سے دی گئ 5۔6 ملين ڈالرز کی امداد کے سبب ممکن ہو سکا ہے۔"

دہشت گردی گروہوں کی جانب سے کی جانے والی متششد کاروائيوں کے ليے تاريخ کے اوراق ميں سے جواز تلاش کرنے اور تمام تر ملبہ امريکہ کے سر ڈالنے کے ليے نت نئ تاويليوں کی بجائے آج کے دور کے زمينی حقائ‍ق اور اعداد وشمار پر توجہ مرکوز رکھيں۔

طالبان کے دور حکومت ميں افغانستان ميں صرف 900000 طالب علم تھے اور خواتين کو تعليم کی اجازت نہيں تھی۔ آج 7 ملين طالب علم افغانستان ميں زير تعليم ہيں جن ميں سے 2 ملين براہراست يو ايس ايڈ کے مرہون منت ہيں اور 37 فيصد طالبات بھی زير تعليم ہيں۔

يو ايس ايڈ کے زير انتظام 52،000 اساتذہ کو تربيت دينے کے علاوہ 3695 کلاس رومز کا اجراء کيا گيا ہے جن ميں 52،504 بچوں کو تعليم دی جا رہی ہے جن ميں 65 فيصد بچياں شامل ہيں۔ تعليم کے اعلی اداروں کو مستحکم کرنے کے ليے يو ايس ايڈ نے افغان پرفيسروں کو ماسٹرز ڈگری کے حصول کے ليے معاونت فراہم کی اور تعليم کے معيار کو بہتر بنانے اور جديد خطوط پر استوار کرنے کے ليے کئ مختصر مدت کے کورسز کا بھی اہتمام کيا گيا ہے۔ يو ايس ايڈ کے سپورٹ پروگرامز کے ذريعے افغانسان کے نوجوانوں اور بالغوں کو تکنيکی تعليم سے بھی روشناس کروايا جا رہا ہے تا کہ وہ ايک پرامن معاشرے کی تشکيل ميں اپنا فعال کردار ادا کر سکيں۔

دہشت گردی کے عفريت کے سدباب کے ليے تعليمی اصلاحات کی ضرورت تو مسلم حقيقت ہے تاہم يہ نہيں بھولنا چاہيے کہ ديرپا امن کے ليے ان عناصر کو کيفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے جو دانستہ تشدد کو فروغ دے رہے ہيں۔

کوئ بھی مہذب معاشرہ اپنی فوج، پوليس اور قانون نافذ کرنے والے ديگر اداروں کو يکسر ختم کر کے محض اس بنياد پر اپنے شہريوں کی حفاظت کی ضمانت نہيں دے سکتا کہ سکولوں اور يونيورسٹيوں کی تعداد ميں اضافے سے بالآخر معاشرے کے متشدد عناصر پر قابو پايا جا سکتا ہے۔

جب دہشت گرد دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوئے بازاروں، ہسپتالوں اور يہاں تک کہ سکولوں اور جنازوں پر بھی اس ليے بم دھماکے کريں تا کہ زيادہ سے زيادہ شہريوں کو ہلاک کيا جا سکے اور پھر اپنی "عظيم کاميابيوں" پر اترانے کے ساتھ ساتھ مستقبل ميں بھی ايسے ہی غير انسانی حملے کرنے کا عنديہ ديں تو پھر آپ ان منتخب حکومتوں اور حکام بالا سے کيا توقع رکھيں گے جو ہر شہری کی حفاظت اور عوامی سيکورٹی کے ذمہ دار ہيں؟

کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ متاثرين کے لواحقين کے ليے "معافی اور درگزر" کی پاليسی اس بنياد پر قبول کر لينا ممکن ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کوئ بھی قدم خطے کے مجموعی امن کو خطرے ميں ڈال دے گا؟ کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ وہ افراد جو مجرمانہ کاروائ کے ذمہ دار ہیں، ان کے مطالبات تسليم کر لينے سے اور ان کے خلاف کوئ کاروائ نا کرنے سے دہشت گردی ختم ہو جائے گی اور تشدد ميں کمی واقع ہو جائے گی؟

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu





فواد۔ میں واقعی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ خون خرابہ حالات کے سدھار کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ تعلیم اور شعور کے ذریعہ ہی متشدد رویہ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ میں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ جبرا ور طاقت کے ذریعہ اپنانظریہ اور اپنی اقدار دوسروں پر مسلط کرنا حماقت ہی ہوگی۔ اس طرح کرنے کا لازمی نتیجہ تشدد کی صورت میں برامد ہوگا۔
البتہ تعلیم کی ترویج اور اس میں مدد سے انسانی تہذیب کی نشوونما ممکن ہے

جاری
 
فواد امریکی تاریخ پر نظر دوڑاو۔ کیا تم یہ بات تسلیم نہیں کروگے کہ بالادست طبقےکا یورپ اور انگلینڈ سے تعلق ہونے کے باوجود امریکیوں نے انگلستان کے خلاف آزادی کی لڑائی لڑی ہے؟ جب کہ وہاں زبان، کلچر، مذہب اور رسم و رواج بھی مختلف نہیں تھا۔ مگران سب چیزوں سے بڑی ہوتی ہے آزادی۔ مجھے امریکن اسی لیے پسند ہیں کہ آزادی پسند ہیں۔ پھر تم کیا سول وار کو بھلا کر امریکہ کی بات کرسکتے ہو۔ جب امریکیوں نے غلامی کے خلاف اور جاگیر دارنہ نظام کے خلاف باقاعدہ آزادی کے لیے ایک جنگ لڑی؟ میں نہیں سمجھتا کہ آزادی کے معنی امریکیوں سے زیادہ کوئی سمجھ سکتا ہے۔

جاری
 
فواد! ذرا غور کرو کہ اگر آج میکسکو کی حکومت امریکہ کی ٹیکسٹ بکس شائع کرنا شروع کردے اور انگلینڈ اپنے اسکول امریکہ میں کھول دے تو کیا امریکہ اس بات کو پسند کریں گے؟ میرا نہیں خیال۔ امریکہ آزاد ہیں اور آزادی کے ساتھ اپنی تعلیم، ترجیحات اور ترقی کے لیے کام کرنے کے لیے جدوجہد کریں گے۔ میرا گمان غالب یہی ہے۔ یہ بھی خیال رکھو کہ نظریہ کبھی مر نہیں سکتا۔ زمین پر قبضہ ہوسکتا ہے مگر نظریہ گرفتار نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک آزاد چیز ہے۔ مجھے یقین ہے کہ امریکی لوگ آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ بالفرض اگر کوئی دوسرا ملک امریکہ کو فتح بھی کرلے قبضہ بھی کرلے تب بھی امریکی عوام کو زیرنگین نہیں کیا جاسکتا جب تک وہ ایک نظریہ پر متحد ہیں۔ ایک بالاتر نظریہ کی بنیاد پر اقوام کے بقا کی نیو پڑتی ہے۔

جاری
 
فواد! ذرا غور کرو کہ اگر آج میکسکو کی حکومت امریکہ کی ٹیکسٹ بکس شائع کرنا شروع کردے اور انگلینڈ اپنے اسکول امریکہ میں کھول دے تو کیا امریکہ اس بات کو پسند کریں گے؟ میرا نہیں خیال۔ امریکہ آزاد ہیں اور آزادی کے ساتھ اپنی تعلیم، ترجیحات اور ترقی کے لیے کام کرنے کے لیے جدوجہد کریں گے۔ میرا گمان غالب یہی ہے۔ یہ بھی خیال رکھو کہ نظریہ کبھی مر نہیں سکتا۔ زمین پر قبضہ ہوسکتا ہے مگر نظریہ گرفتار نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک آزاد چیز ہے۔ مجھے یقین ہے کہ امریکی لوگ آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ بالفرض اگر کوئی دوسرا ملک امریکہ کو فتح بھی کرلے قبضہ بھی کرلے تب بھی امریکی عوام کو زیرنگین نہیں کیا جاسکتا جب تک وہ ایک نظریہ پر متحد ہیں۔ ایک بالاتر نظریہ کی بنیاد پر اقوام کے بقا کی نیو پڑتی ہے۔

جاری
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

محترم ايچ – اے – خان،

آپ کی آراء سے يہ تاثر ملتا ہے کہ گويا امريکی حکومت کی جانب سے کئ برسوں پر محيط جو مدد اور تعاون فراہم کيا گيا ہے وہ کسی طور قوم کو خود انحصاری کے بنيادی فلسفے سے دور کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان پر امريکہ کی پاليسيوں اور سوچ زبردستی مسلط کرنے کا سبب بھی ہے۔

کچھ باتوں کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ امريکہ سميت دنيا کا کوئ بھی ملک حکومت پاکستان اور متعلقہ عہديداروں کو ان کی مرضی کے برخلاف اس بات کے ليے مجبور نہيں کر سکتا کہ وہ امدادی پيکجز، ترقيانی منصوبے اور مالی مفادات وصول کريں۔ کن منصوبوں کو حتمی منظوری دی جانی ہے، کتنی امدادی رقم، سازوسامان، مہارت اور وسائل تک رسائ کی اجازت دی جانی ہے اور ملک ميں ان کی ترسيل کے ليے کيا طريقہ کار اور عمل وضع کيا جانا ہے، وہ فيصلے ہيں جو پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مکمل تعاون کے بعد ہی کيے جاتے ہيں۔ يو ايس ايڈ يا کسی بھی دوسری سرکاری يا غير سرکاری اين جی او کے پاکستان ميں دائرہ کار کی مکمل اجازت کا اختيار پاکستان کے جمہوری طور پر منتخب قائدين کے پاس ہوتا ہے۔

کچھ ماہ قبل پاکستان کے منتخب وزيراعظم جناب نواز شريف صاحب واشنگٹن ڈی سی تشريف لائے تھے اور انھيں يہ موقع ملا تھا کہ وہ مختلف عالمی فورمز اور تھنک ٹيکنس کے سامنے اپنی نومنتخب حکومت کو درپيش کچھ اہم چيلنجز کو اجاگر کريں۔ ميں بذات خود ايک سيمينار ميں موجود تھا جس ميں انھوں نے امريکہ اور پاکستان کے مابين تعلقات ميں مضبوطی اور اس ميں وسعت کے ليے توانائ، تعليم، معيشت، قانون کے نفاذ اور ديگر باہمی اہميت کے حامل شعبوں ميں وسا‏ئل اور مہارت ميں شراکت کی ضرورت پر زور ديا۔ کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ امريکہ کے ليے زيادہ بہتر حکمت عملی يہ ہے کہ ان جذبات کو آپ کے خيالات کی روشنی میں يکسر مسترد کر ديا جائے؟

حاليہ ہفتوں ميں يو ايس ايڈ کے توسط سے جاری کچھ اہم منصوبوں پر ايک سرسری نظر ڈالیں اور پھر مجھے بتائيں کہ باہمی اتفاق رائے سے منظور شدہ ان منصوبوں سے پاکستانی معاشرے کو نقصان پہنچانے کا کوئ بھی پہلو اجاگر ہوتا ہے؟




Faisalabad.jpg

Gazahi_Qilat.jpg

HEC.jpg

leadership.jpg

mobile_agree.jpg

pakistan_startup.jpg

photography_comp.jpg

PIMS.jpg

reconstructing_schhools.jpg

under_grad_prog.jpg

undergrads2.jpg

USAID_Dairy_project.jpg


usaid_electricity.jpg

voilence.jpg


کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ يہ بات پاکستان کے مفاد ميں ہے کہ دونوں ممالک کے مابين تعلقات کو منقطع کر ديا جائے اور اس امريکی امداد کو بھی مسترد کر ديا جائے جس سے لاکھوں عام پاکستانی شہريوں کے مفادات وابستہ ہيں؟

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 
میں نے یہ کب کہا
۔
کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ يہ بات پاکستان کے مفاد ميں ہے کہ دونوں ممالک کے مابين تعلقات کو منقطع کر ديا جائے اور اس امريکی امداد کو بھی مسترد کر ديا جائے جس سے لاکھوں عام پاکستانی شہريوں کے مفادات وابستہ ہيں؟
۔؟

اگر نہیں کہا تو اپ کو معافی مانگنی چاہیے اور اپ نے ایک غیر اخلاقی بات کی ہے
 

Fawad -

محفلین
میں نے یہ کب کہا
۔
کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ يہ بات پاکستان کے مفاد ميں ہے کہ دونوں ممالک کے مابين تعلقات کو منقطع کر ديا جائے اور اس امريکی امداد کو بھی مسترد کر ديا جائے جس سے لاکھوں عام پاکستانی شہريوں کے مفادات وابستہ ہيں؟
۔؟

اگر نہیں کہا تو اپ کو معافی مانگنی چاہیے اور اپ نے ایک غیر اخلاقی بات کی ہے

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


محترم،

ميں نے اپنی پوسٹ کے آغاز ميں يہ جملہ کہا کہ "آپ کی آراء سے تاثر ملتا ہے" اور پھر اسی تناظر ميں آخر ميں سوال اٹھايا۔ مقصد براہراست آپ سے منسوب کرنا نہيں تھا۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



www.state.gov

http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 

Fawad -

محفلین
فواد! ذرا غور کرو کہ اگر آج میکسکو کی حکومت امریکہ کی ٹیکسٹ بکس شائع کرنا شروع کردے اور انگلینڈ اپنے اسکول امریکہ میں کھول دے تو کیا امریکہ اس بات کو پسند کریں گے؟ میرا نہیں خیال۔ امریکہ آزاد ہیں اور آزادی کے ساتھ اپنی تعلیم، ترجیحات اور ترقی کے لیے کام کرنے کے لیے جدوجہد کریں گے۔ میرا گمان غالب یہی ہے۔ یہ بھی خیال رکھو کہ نظریہ کبھی مر نہیں سکتا۔ زمین پر قبضہ ہوسکتا ہے مگر نظریہ گرفتار نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک آزاد چیز ہے۔ مجھے یقین ہے کہ امریکی لوگ آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ بالفرض اگر کوئی دوسرا ملک امریکہ کو فتح بھی کرلے قبضہ بھی کرلے تب بھی امریکی عوام کو زیرنگین نہیں کیا جاسکتا جب تک وہ ایک نظریہ پر متحد ہیں۔ ایک بالاتر نظریہ کی بنیاد پر اقوام کے بقا کی نیو پڑتی ہے۔

جاری



فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

ستم ظريفی ديکھيے کہ آپ نے امريکہ سے اظہار ناراضگی اور اپنے نقطے کی وضاحت کے ليے تواتر کے ساتھ لفظ "آزادی" استعمال کيا ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ کوئ بھی قوم جو اپنے مستقبل کی نسلوں کی حفاظت اور سيکورٹی کو يقینی بنانے اور مہذب دنيا ميں ايک ترقی پسند ملک کی حيثيت سے ايک مقام بنانے کی جستجو کر رہی ہو، اس کے ليے سب سے قيمتی اثاثہ آزادی ہی ہے۔ تاہم آپ کو غير جانب داری اور جذباتيت ترک کر کے خود سے يہ سوال پوچھنا چاہيے کہ آج پاکستانی قوم کی ترقی ميں کيا رکاوٹ حائل ہے اور کيا امر جناح اور ديگر آباؤ و اجداد کی حاصل کردہ آزادی کے ليے خطرہ بنا ہوا ہے؟ کيا يہ دہشت گردی کا عفريت ہے جس نے ايک دہائ کے دوران ہزاروں افراد کی جان لی ہے يا پھر امريکہ جو نا صرف يہ کہ اتحاديوں ميں پيش پيش رہا ہے بلکہ جس نے اس خطرے سے نبردآزما ہونے کے ليے پاکستان کو ہر ممکن وسيلہ فراہم کيا ہے؟

دہشت گرد گروہوں سے بات چيت کے عمل کے امکانات اور پھر اس کے نتيجے ميں پاکستان ميں جاری بحث جو دہشت گردی کی لہر اور 23 پاکستانی فوجيوں کے بے رحمانہ قتل پر منتہج ہوئ، وہ يقینی طور پر کسی بھی غير جانب دار سوچ کے حامل شخص کی آنکھيں کھولنے کے ليے کافی ہے۔

قوموں کی آزادی نا تو رياستوں کے مابين عالمی تعلقات ميں ردوبدل کے نتيجے ميں خطرات سے دوچار ہوتی ہے اور نا ہی چھينی جا سکتی ہے اور پاک امريکہ معاملے ميں تو يہ تعلقات کئ دہائيوں پر محيط جغرافيائ تبديليوں اور سياسی نشيب وفراز کے اثرات کے باوجود قائم ودائم رہے ہيں۔ تاہم معاشرے کے ان پرتشدد اور مجرمانہ عناصر کے خلاف کھڑے ہونا اور مشترکہ جدوجہد کرنا انتہائ اہم ہے جو نا صرف يہ کہ رياست کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کر کے بلاتفريق زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے عام شہريوں کو قتل کر رہے ہيں بلکہ ايک ايسی متضاد سوچ کی بنياد پر ملک کے آئينی اور جمہوری اداروں کو چيلنج کر رہے ہیں جو پاکستانی معاشرے کی اساس کا انکار کر کے اسے مسترد کرتی ہے۔

پاکستان کے مستبقل کی نسلوں کو اس امريکی حمايت سے کوئ خطرہ لاحق نہيں ہے جو گزشتہ چھ دہائيوں سے عام شہريوں کے ليے مواقعوں اور مفادات کا سبب بنی ہے۔ يہ تو دہشت گردی کا عفريت ہے جو نا صرف يہ کہ پورے ملک کے ليے ايک کھلا خطرہ ہے بلکہ ملک کی بدنامی کا باعث بھی ہے۔

خطے ميں ہماری موجودگی نا تو ہماری خواہش تھی اور نا ہی ہمارا ايسا کوئ منصوبہ تھا۔ ہميں مجبوری کے عالم ميں اس وقت فوجی کاروائ کرنا پڑی جب ہماری سرحدوں کے اندر ہم پر حملہ کيا گيا۔ ليکن ہمارا ہدف، مقصد اور ہماری کاوشوں کا محور ان خونی عناصر کو روکنا ہے جو نا صرف يہ کہ ہمارے ليے خطرہ ہيں بلکہ پاکستان کے خلاف بھی پے در پے حملے کر رہے ہيں۔

آپ آزادی اور نظريے کی جس ممکنہ جنگ کا خدشہ ظاہر کر رہے ہيں، وہ تو پہلے ہی سے پاکستانی قوم کے سروں پر ہے۔ ہميں اس سوچ کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے جو کم سن بچوں کو خودکش حملہ آور بنا کر نا صرف يہ کہ ايک پوری نسل کو برباد کر رہے ہيں بلکہ اس آئين، قومی اقدار اور ان اداروں کو بھی نيست ونابود کرنے کے درپے ہيں جن کی تشکيل ميں جناح اور ان کے ساتھيوں کی کئ دہائيوں کی قربانيوں شامل ہے


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 
میں نے چوں کہ پوسٹ پوری نہیں کی اس لیے مغالطہ پڑا

آزادی کی بات میں نے سمجھانے کے لیے کی تھی نہ کہ امریکہ سے ناراضگی کے لیے۔

یہ بات جان رکھیں کہ تعاون میں سب کی بہتری ہے نہ کہ جنگ میں۔ امریکہ چوں کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان کا سرخیل ہےاور ایک نئی تہذیب کا بانی ہے لہذا اس پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے
پاکستان ایک جدید مسلم ملک ہے۔ یہ اک جہموری ملک ہے۔ اور اب یہ ایک نیوکلیر پاور ہے۔ یہ نہ عراق ہے نہ لیبا نہ افغانستان۔ پاکستان کی مددا مریکہ کو اور امریکہ کی مدد پاکستان کو چاہیے۔

حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ امریکہ ایوب خان کی کتاب فرینڈز ناٹ ماسٹرز پر بھی نظر کرے
 

Fawad -

محفلین
پاکستان ایک جدید مسلم ملک ہے۔ یہ اک جہموری ملک ہے۔ اور اب یہ ایک نیوکلیر پاور ہے۔ یہ نہ عراق ہے نہ لیبا نہ افغانستان۔ پاکستان کی مددا مریکہ کو اور امریکہ کی مدد پاکستان کو چاہیے۔

حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ امریکہ ایوب خان کی کتاب فرینڈز ناٹ ماسٹرز پر بھی نظر کرے


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

امريکی حکومت نے ہميشہ اس حقيقت کو مانا ہے کہ خطے ميں اس وقت تک پائيدار امن نہيں ہو سکتا جب تک کہ پاکستان بھی اس دور رس حل کا لازم وملزوم حصہ نا ہو جو تمام فريقين کی سلامتی اور سيکورٹی کو يقینی بنائے۔ ميں آپ کو ياد دلا دوں کہ "ايف پاک" کی اصطلاح اسی سوچ کے ساتھ پيش کی گئ تھی کہ پاکستان کو بھی اس اسٹريجک لائحہ عمل کا حصہ بنايا جائے جو دہشت گردی کے خلاف جاری کاوشوں کے ضمن میں مثبت نتائج پيدا کر سکے۔

کسی بھی قوم يا ملک کو "غلام" تصور کرنا اور وہ بھی آج کے دور ميں نا صرف يہ کہ ناقابل عمل ہے بلکہ اقوام کے درميان سفارتی روابط کی کمزور تشريح ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ ممالک کے مابين تعلقات مستقل نہيں رہتے بلکہ تغير کے عمل سے گزرتے رہتے ہيں اور تبديل ہوتے ہوئے سياسی منظرنامے اورارضی سياسيات کے حقائق کے سبب مسلسل نشيب وفراز کا شکار رہتے ہيں۔ تاہم اگر دو طويل المدت اسٹريجک اتحاديوں کے مابين سفارتی تعلقات کی نوعيت يکساں نہيں رہتی تو اس کا يہ مطلب نہيں ہے کہ ان ممالک کے تعلقات کو "آقا غلام" جيسی نامناسب اصطلاحات کے تناظر ميں پرکھا جائے۔

گزشتہ دس برسوں کے دوران واقعات کے تسلسل کا سرسری جائزہ بشمول اہم ترين موقعوں کے، پاک امريکہ مضبوط تعلقات کو واضح کرتا ہے باوجود اس کے کہ اس دوران کئ مشکل گھڑياں بھی آئيں اور ايسے معاملات بھی تھے جو شديد اختلافات اور مختلف نقطہ نظر کی وجہ بنے۔

جو رائے دہندگان اس بات پر بضد ہيں کہ امريکہ "پاکستانيوں" کو غلام تصور کرتا ہے اور پاکستان ميں مبينہ قيادت امريکی حکومت کے اشاروں پر انحصار کرتی ہے، انھيں چاہیے کہ واقعات کے اس تسلسل کا بغور جائزہ ليں جو کيری لوگر بل کے وقت پيش آئے تھے جب کئ ہفتوں تک دونوں ممالک کے مابين سفارتی تعلقات جمود کا شکار رہے تھے تاوقتيکہ پاکستان ميں تمام فريقين کے خدشات اور تحفظات دور نہيں کر ديے گئے۔

اور پھر يہ کون بھول سکتا ہے کہ نيٹو کی آمدورفت سے متعلقہ راستوں پر سات ماہ سے زيادہ عرصے تک بندشيں لگائ گئ تھيں اور امريکی حکومت کی اعلی ترين قيادت کی جانب سے تواتر کے ساتھ ملاقاتوں سميت انتھک سفارتی کاوشوں کے باوجود ہم اپنی مبينہ "کٹھ پتليوں" کو منانے ميں ناکام رہے تھے جس کی پاداش ميں ہميں کئ ملين ڈالرز کا نقصان بھی ہوا تھا اور پڑوسی افغانستان ميں ہماری کاوشوں کو بھی زک پہنچی تھی۔

چاہے وہ وزيرستان ميں فوجی آپريشن کے وقت کا تعين يا اس کے دائرہ کار کا معاملہ ہو، حقانی نيٹ ورکس کے حوالے سے ہمارے تحفظات ہوں، حافظ سعيد کا ايشو ہو يا دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے، کسی بھی غير جانب دار سوچ کے حامل شخص کے ليے يہ واضح ہونا چاہيے کہ دونوں ممالک کے مابين مضبوط اور ديرپا اسٹريجک تعلقات کے باوجود ہمارے تعلقات کی نوعيت کو "آقا اور غلام" سے ہرگز تعبير نہيں کيا جا سکتا ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 
Top