ہفتہ ٔ شعر و ادب - خط کی کہانی مخطوطات کی زبانی از ڈاکٹر سید عبداللہ (ایک نادر مقالہ)

محمد وارث

لائبریرین
T25.jpg
 

الف نظامی

لائبریرین
مراسلہ نمبر 3 (تصویری)
صفحہ 1
خط کی کہانی مخطوطات کی زبانی
نگارش
ڈاکٹر سید عبد اللہ​
خط اصوات کو حروف و الفاظ کی تصویروں کے ذریعے ظاہر کرنے کا فن اور عجیب ترین انسانی ایجادات میں سے ہے۔ دنیا کی مختلف اقوام نے ، اپنے اپنے حالات اور ماحول میں اپنے خط ایجاد کیے ہیں۔ خط ابتدا میں عملی اور کاروباری ضرورتوں کے لیے ایجاد ہوئے مگر مسلمانوں نے خط کو حسن کاری کا ایک وسیلہ بنا دیا۔ چناچہ ان کے جمالی ذوق کا ایک مظہر فنِ خطاطی بھی ہے۔
یوں تو فنِ خطاطی پر کافی کتابیں موجود ہیں مگر ابوالفضل نے خط کے موضوع پر جو تبصرہ کیا ہے وہ اس لیے زیادہ مفید مطلب معلوم ہوتا ہے کہ اس میں خط کو تصویر کی ایک قسم بتایا گیا ہے:
"عالم تصویر از بدائع خانہ ء موجوداتست۔۔۔۔ و خط قسمے است از تصویر ، چہ آن شبیہ آرای عالم علوی و سفلی است۔۔۔۔ خط تصویر خاص است کہ صور حروف را۔۔۔۔ بطرزے مخصوص نقش می کنند"
یہ خطبہ مرقع بادشاہی کی عبارت ہے۔ یہ مرقع جو اعلی خطی نمونوں پر مشتمل تھا شاہزاد سلیم نے تیار کرایا تھا اور اس میں ماہر خطاطوں کے شاہکار جمع کرائے تھے۔ ابو الفضل اس مرقع کو "مرآت حسن مطلق" یعنی حسنِ مطلق کا آئینہ کہتا ہے اور اس کی تشریح یوں کرتا ہے:
"مجموعہ از خطوط استاداں انتظام یابد ، تاہم سرمایہ عشرت حسن مطلق سر انجام پذیرد و ھم نشاء حسن مقید جلوہ دھد"
غرض یہ کہ خطاطی مسلمانوں کے نزدیک محض ضرورت کی چیز نہیں بلکہ حسن مطلق کی مظہر اور تصویر کی قائم مقام ہے۔
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
مراسلہ نمبر4(تصویری)
صفحہ 2​

میں اپنے اس مختصر مضمون میں خوش نویسی اور حسنِ خط کے نمونے پیش کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی لائبریری کے مخطوطات کی مدد سے خط کی نمایاں اقسام کا ارتقائی تعارف کرا سکوں۔ اس سے میری ایک غرض یہ بھی ہے کہ یونیورسٹی لائبریری کے اہم سرمائے کے اس حصے کا حال لوگوں کو معلوم ہو جائے اور دوسری غرض یہ کہ خط کی عہد بہ عہد ترقی کی ایک نہایت ہی عام فہم اور اجمالی تاریخ مرتب ہو جائے۔
عربی خط اسلامی زمانے سے پہلے بھی موجود تھا لیکن اس مضمون میں اس تفصیل کی گنجائش نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خط مقوقس کے نام مصر کی خدیویہ لائبریری میں محفوظ ہے۔ یہ خط 7 ھجری میں لکھا گیا تھا۔ اس کے لیے ملاحظہ ہو تختی نمبر 1
اسلامی زمانے میں عربی خط کی جس شکل نے ابتدا میں ترقی کی اس کو عرف عام میں کوفی خط کہتے ہیں۔ زمانے کے اعتبار سے کوفی قدیم اور کوفی جدید دو قسمیں ہیں۔ کوفی کہلانے کی صحیح وجہ تو معلوم نہیں ہوسکی مگر کتابوں میں لکھا ہے کہ اسلام سے پہلے حیرہ ، بین النہرین (دجلہ و فرات) کا ایک مشہور شہر تھا بعد میں کوفہ اسی کے قریب آباد ہوا۔ یہاں سریاک (سریانی) خط سے کوفی خط اُبھرا۔
عرب میں حرب بن امیہ نے اس خط کو پھیلایا۔ چونکہ حرب بن امیہ اس کو کوفے سے مکہ لے گیا تھا اس لیے اسے لوگ کوفی کہنے لگے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
 

الف نظامی

لائبریرین
کے صحابہ میں سے بعد کوفی خط جانتے تھے مگر اس زمانے میں اعراب ( زبر ، زیر ، پیش لگانے کا) اور اعجام (نقطے ڈالنے) کا رواج نہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ابو الاسود الدولی نے اعراب کے لیے نقطے ایجاد کیے۔ ایک بڑے عرصے تک زبر ، زیر ، پیش کے لیے نقطوں کا استعمال ہوتا رہا۔
دور بنو امیہ میں عبد الحمید وزیر نے دفتری ضرورتوں کے لیے اس میں مناسب ترمیمات کیں۔
بنو عباس کے زمانے میں اسحاق بن حماد (متوفی 154 ھ) نے اس کو زیادہ کاروباری اور سہل الاستعمال بنانے کے لیے ، اس کی مختلف شکلیں تجویز کیں مثلا:
(1) خط طومار: مساجد و عمارات کی پیشانیوں کے لیے
(2) سجلات : اہم دفتری دستاویزات کے لیے ، درھم و پیچیدہ ، تا کہ ان میں تصرف نہ ہو سکے۔
(3)عہدہ : فرامین و احکام کے لیے
کوفی خط چونکہ سیدھی لکیروں سے مرتب ہوتا تھا اس لیے عام ضرورتوں کے لیے اور طبع انسانی کے لیے یہ پابندی کڑی تھی۔ اس لیے جیسے جیسے ضرورتوں نے مجبور کیا اس میں ذوق اور قلم نے تبدیلیاں پیدا کیں۔ چناچہ کہا جاتا ہے کہ کوفی سے مختلف مقاصد کے لیے 37 قسمیں یا شاخیں ایجاد کی گئیں۔
مسلمانوں میں تصنیف و تالیف اور تحریر کا رواج غیر معمولی طور پر بڑھ چکا تھا اور سلطنت کا کاروبار بھی بہت وسیع تھا۔ اس لیے سہل تر خط کے لیے ذوق کی جستجو جاری رہی۔ کہا جاتا ہے کہ ابن مقلہ (ولادت 272 ھ - وفات 338 ھ) نے سہل تر خط ایجاد کیا اور اس کا نام محقق رکھا۔ اسی سے خطِ ریحان اور ثلث بھی ایجاد ہوئے۔
نسخ کی ایجاد:
نسخ کس نے ایجاد کیا؟ ابن مقلہ نے یا کسی اور نے؟
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
قیاس یہ ہے کہ ابن مقلہ کی اصول پسند طبیعت نے خط کو ایک ریاضیاتی علم بنانے میں پہل کی۔ یوں دوسرے تقاضے بھی ممد ہوئے۔ قرآن مجید کے حروف و الفاظ کو نحوی ، صرفی اور لغوی لحاظ سے اصولوں میں منضبط کرنے کی تحریک عرصے سے جاری تھی۔
اس لیے املا کی صحت ، ریاضیاتی باقاعدگی اور حسن کے رجحان نے ایک بااصول خط کی ضرورت محسوس کرائی ، یہ ضرورت نسخ کی صورت میں پوری ہوئی۔ عباسی خلیفہ مقتدر باللہ متوفی 320 ھ کے زمانے میں نسخ نے باقاعدہ شکل اختیار کرلی۔ یوں اس کے میلانات عرصے سے ابھر رہے تھے۔
غرض یہ بااصول اور عملی خط تھا اور اصول یہ ٹھہرا کہ ہر حرف خواہ وہ کھڑا سیدھا ہو یا لیٹا ہوا سیدھا ، یا گول ، یا قوسی یا کج یا شوشہ دار ، دراصل نقطوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے جن کے تسلسل اور مختلف ترکیب و ترتیب سے ایک حرف بن جاتا ہے۔ اس لیے یہ اصول بنانے پڑے کہ ہر حرف پورا یا عبارت کے اندر کٹا ہو کتنے نقطوں کے برابر ہونا چاہیے۔ اس کے لیے بارہ قاعدے بنائے گئے تا کہ تمام کتابت اصول سے ہو سکے۔
اس کے علاوہ گولائی (دور) اور سطح کے اصول بھی بنائے۔ نسخ کی بے شمار شکلیں اور نمونے ہیں۔ مگر ابتدا میں اس کا اصول یہ ٹھہرا کہ اس کا دور چار دانگ (چار حصے) اور سطح دو حصے ہوں۔ یعنی گولائیاں پوری نہ تھیں لہذا ٹیڑھا پن ، قوس نما نیم گولائی اس کی عام خصوصیت رہی۔
کہا جاتا ہے کہ نسخ کو یہ نام اس لیے ملا کہ یہ باقی خطوط کا ناسخ ثابت ہوا یا کم از کم خطِ کوفی کا ناسخ ثابت ہوا۔ لیکن نسخ کے نمونے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کسی ایک شکل کا نام نہیں۔ ہر بڑے نسخ نویس کے انداز میں کچھ نہ کچھ انفرادیت نظر آتی ہے مگر اصول سب کا تقریبا ایک ہی ہے لیکن کوفی کے مقابلے میں گولائی کی طرف میلان اس کی اہم خصوصیت ہے۔
 

عائشہ عزیز

لائبریرین

قرآن مجید اور بعض دوسری تحریروں کی کتابت کے امتیاز کے لیے نسخ ہی کی ایک شاخ توقیع کے نام سے جاری ہوئی جس کا اصول نصف سطح اور نصف دور قرار پایا۔ نسخی اصول پر جس خط میں رقعے اور فرامین لکھے جاتے تھے اس کا نام رقاع ٹھہرا۔
خط کی تاریخ میں ابن بواب (علی بن ھلال متوفی 413-423 ھ) کا نام امتیاز خاص رکھتا ہے۔ اس نے خط نسخ کو اور بھی ریاضیاتی بنا دیا۔ اس کے اصول زیادہ صحت کے ساتھ منضبط کیے۔ سطح، دور اور تناسب کامل کے قاعدے وضع کیے اور نقطہ دار حروف کا ایک قاعدہ و اصول مقرر کیا۔ مختلف حرفوں کے طول، مختلف حرفوں کے مابین فاصلے، اصلی مدار خط سے خط کے اوپر اٹھنے اور نیچے گرنے کی نسبتیں مقرر کیں۔ اس لیے اس کے ایجاد کردہ اصولوں کی بناء پر اس خط کو خط منسوب یا نسب (یعنی وہ خط جس میں نسبتوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے) کہا گیا۔
نسخ اور اس کی مختلف شاخوں کے اندر سے ایک اور خط ابھرا۔ اس کا نام تعلیق ہے۔ یہ بھی سہولت اور ضرورت کی وجہ سے ہوا۔ نسخ اگرچہ کوفی کے مقابلے میں زیادہ سہل اور خوبصورت خط تھا تاہم اس کے اصول بھی سخت تھے۔ ریاضیاتی اصولوں اور قاعدوں کے ساتھ ساتھ حسن کے تقاضوں نے نسخ کی اصول بندی کو توڑ ڈالا اور کاتب اورخطاطوں نے ضرورت کے تحت اس سے آزادی حاصل کر لی۔عام نظر سے دیکھنے والا اس خط کو بھی نسخ ہی کہتا ہے لیکن غور سے دیکھنے والے کو خود بخود معلوم ہو جاتا ہے کہ تعلیق ایک آزاد خط ہے جس کا اصول ظاہرا نسخی ہی ہےلیکن اس میں قلم نے آزاد عمل کو اپنا اصول بنایا، ہر کاتب کی انفرادیت سے قطع نظر اس کی سب سے بڑی تعریف یہی ہو سکتی ہے کہ یہ نسخ سے نکل کر پہلے نستعلیق اور پھر شکستہ کی صورتیں اختیار کرتا جاتا ہے۔ نستعلیق نے اس کی نسخیت کو دور کرکے حسن کی تخلیق کی اور شکستہ نے اس کی روانی سے فائدہ اٹھا کر، بے اصول مگر رواں کاروباری خط کے لیے راستہ صاف کیا۔
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین

قرآن مجید اور بعض دوسری تحریروں کی کتابت کے امتیاز کے لیے نسخ ہی کی ایک شاخ توقیع کے نام سے جاری ہوئی جس کا اصول نصف سطح اور نصف دور قرار پایا۔ نسخی اصول پر جس خط میں رقعے اور فرامین لکھے جاتے تھے اس کا نام رقاع ٹھہرا۔
درست لفظ رقاع ہے
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
صفحہ نمبر 6 (مراسلہ نمبر 9)

تعلیق چونکہ آزادی کا علم بردار ہے اس لیے ہر خطے میں اس آزادی نے اپنی ایک خاص صورت اختیار کی۔ ایک خطے کی کتابت کا دوسرے خطے پر اثر ہونا ناگزیر ہے لیکن جدا جدا رنگ بھی موجود ہیں۔ ایران کا تعلیق جدا، ماوراء النہر کا تعلیق مختلف، ہندوستان کا تعلیق الگ اور ہندوستان میں بھی مختلف مراکز کے خطوں کا طور خاص، جدا جدا نظر آتا ہے۔ ہندوستان میں ایک خاص تعلیق، خط بہار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تعلیق صفویوں کے زمانے میں پیدا ہوا مگر خطی نمونے اس سے پہلے کے بھی موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حسن بن حسین بن علی فارسی نے 700ھ میں ایجاد کیا۔ پیدائش خط و خطاطاں کے مصنف کا خیال ہے کہ یہ خط ابو العال کی ایجاد ہے۔ خط کوفی و پہلوی سے اس کی ترکیب اٹھائی لیکن یہ قیاس شاید درست ہوگا کہ وقتی ضرورتوں نے مجبور کیا اور نسخ ہی کو کڑے اصولوں سے آزادی دے کر ایک نسبتا بے تکلف آزاد خط وضع کرنا پڑا۔ پیدائش خط و خطاطاں کے مصنف کا خیال ہے کہ ب، ژ اور چ کے لیے ابو العال ہی نے تین نقطوں کو رواج دیا1۔
نستعلیق :
کہا جاتا ہے کہ 770ھ میں خواجہ میر علی تبریزی نے بہ عہد تیمور نستعلیق ایجاد کیا2۔ ابو الفضل کی رائے ہے کہ یہ خط اس سے پہلے وجود میں آ چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) ابو الفضل کہتا ہے کہ بعض مورخوں کی رائے میں نسخ یا قرت مستعصمی نے ایجاد کیا ہے مگر یہ درست معلوم نہیں ہوتا۔
(2) ابو الفضل نے لکھا ہے کہ ثلث اور نسخ، دور دو دانگ و سطح چہار دانگ، جلی را ثلث گوبند و خفی را نسخ۔
توقیع و رقاع را چہار و نیم دانگ دور است و بک و نیم دانگ سطح، جلی را توقیع دانند و خفی را رقاع
محقق و ریحان چہار و نیم دانگ سطح است و دور بک و نیم جلی را محقق و خفی را ریحان نامند
خط ھفتم تعلیق است کہ از رقاع و توقیع استنباط نمودہ اند۔ سطحش بغایت کم است۔
خط تستعلیق تمام دور است۔
 
Top