درد ہستی ہے جب تک ہم ہیں اسی اضطراب میں - خواجہ میر درد

حسان خان

لائبریرین
ہستی ہے جب تک ہم ہیں اسی اضطراب میں​
جوں موج آ پھنسے ہیں عجب پیچ و تاب میں​
​
نے خانۂ خدا ہے نہ ہے یہ بتوں کا گھر​
رہتا ہے کون اس دلِ خانہ خراب میں​
​
آئینۂ عدم ہی میں ہستی ہے جلوہ گر​
ہے موج زن تمام یہ دریا سراب میں​
​
غافل جہاں کی دید کو مفتِ نظر سمجھ​
پھر دیکھنا نہیں ہے اس عالم کو خواب میں​
​
ہر جز کو کُل کے ساتھ بمعنی ہے اتصال​
دریا سے دُر جدا ہے پہ ہے غرق آب میں​
​
پیری نے ملکِ تن کو اجاڑا وگرنہ یاں​
تھا بندوبست اور ہی عہدِ شباب میں​
​
میں اور درد مجھ سے خریداریِ بتاں​
ہے ایک دل بساط میں سو کس حساب میں​
​
(خواجہ میر درد)​
 

باباجی

محفلین
واہ بہت خوب کلام
​
نے خانۂ خدا ہے نہ ہے یہ بتوں کا گھر​
رہتا ہے کون اس دلِ خانہ خراب میں​
آئینۂ عدم ہی میں ہستی ہے جلوہ گر​
ہے موج زن تمام یہ دریا سراب میں​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top