غالب ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

Faizi Butt

محفلین
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ سے ہی* نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

یہ شعر مجھے بہت اچھا لگتا ہے
 
Top