گپت نگر کی چنڈال چوکڑی

یہ کہانی ایک محلے کے ایک گھر کی ہے ۔ اس محلے میں چند ایک حویلیاں ہیں (1) موہن داس کی حویلی (2) محمد علی کی حویلی (3) ظاہر شاہ کی حویلی (4) رضا شاہ کی حویلی (5) ہنری کی حویلی (6) پرتھوی نرائن کا مکان (7) جگ مئے کا مکان (8- فرید دیدی بھائی کا مکان ( 9) پھایا جی کا مکان ۔ اور یہ کہانی ہے محمد علی کی حویلی کی جس کا ایک حصہ موہن داس کی حویلی کے دوسری جانب بھی تھا ۔

اب دیکھتے ہیں اس محلے کی طرف کہ ان تمام گھروں اور گلی کا نقشہ کچھ یوں ہے کہ ان کی دیواریں آپس میں کچھ اس طرح سے ملی ہوئی ہیں کہ اس محلے میں آپس میں کسی کا بھی دوسرے سے بے خبر رہنا ممکن ہی نہیں ہے ۔

موہن داس اور محمد علی آپس میں بھائی تھے اور پہلے دونوں ہندو تھے اور اکٹھے رہتے تھے کہ محمد علی مسلمان ہو گیا اور کچھ عرصے بعد کچھ اپنے اندر کی حساسیت اور کچھ موہن داس کے بیوی بچوں کے وقتا فوقتا کے بے وقوفانہ طرز عمل سے اسے یوں لگا کہ موہن داس کے گھرمیں اس کی نہ سنی جاتی ہے نہ اس کے عقائد و نظریات محفوظ ہیں تو پہلے اس نے کوشش کی کہ اسی گھر میں کچھ کمرے اسے مختص کر دیئے جائیں تاکہ وہ ان کے اندر اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزار سکے لیکن موہن داس کے بیوی بچوں کے سخت ردعمل نے اسے مزید پکا کردیا کہ اس گھر میں اس کا دین خطرے میں ہے لہذا اس نے بٹوارا کروا لیا ۔بظاہر موہن داس کے اہل و عیال اس حق میں نہیں تھے کہ بٹوارا ہو لیکن اندر سے کچھ بچوں اور بڑوں کی حماقتوں سے یہ تاثر بھی ملا کہ وہ خود ہی محمد علی کو ساتھ نہیں رکھنا چاہتے لہذا روز روز کے جھگڑوں سے بچنے کے لئے محمد علی اور موہن داس کو بڑی حویلی کا کچھ حصہ بانٹنا پڑا جس میں بڑی حویلی موہن داس کو دی گئی جبکہ ایک پانچ مرلے کا مکان اور ایک چھوٹی حویلی محمد علی کو ملی ، محمد علی کو ملنے والا پانچ مرلے کا مکان اس کے بیٹے شرف الاسلام کے پاس تھا۔

موہن داس کے گھر میں اس بٹوارے کی وجہ سے اس کے ایک بیٹے نے ناراض ہو کر موہن داس کو قتل کر دیا ۔ جبکہ محمد علی کے گھر میں اس کی اولاد اس کے بڑھاپے میں اس کی دیکھ بھال کرنے میں نااہل ثابت ہوئی اور وہ بھی بیمار ہو گیا ۔اسی دوران موہن داس اور محمد علی کے گھروں کے درمیان کا باغ جو ہری سنگھ کا تھا مگر وہ باغ دونوں کو استعمال کرنے کی اجازت تھی ۔ ہری سنگھ کے بیٹوں میں بھی کچھ مسلمان ہو چکے تھے اور کچھ غیر مسلم تھے ہری سنگھ کا جھگڑا ہوا اس کے بیٹوں میں سے مسلمان اولاد کے ساتھ جہاں محمد علی کے بیٹوں نے ہری سنگھ اور اس کی اولاد کے جھگڑے میں باپ کے خلاف اس کی اولاد کا ساتھ دیا اس کے نتیجے میں باغ کا کچھ حصہ ہری سنگھ کے مسلمان بیٹوں کے زیر انتظام آگیا۔ ہری سنگھ کا جھگڑا جب بیٹوں سے بڑھا تو محمد علی نے گھر کے چوکیدار کو کہا کہ جا کر اس لڑائی میں اس کے بیٹوں کا ساتھ دے اور اس جھگڑے میں ایسی صورت حال پیدا نہ ہونے دے جس سے خون خرابہ زیادہ ہو بلکہ ایسا کرے کہ صلح اور حل کی صورت حال پیدا ہو ۔ لیکن اس کا چوکیدار ہنری والٹر میسروی اس کام میں شامل ہونے سے انکار کرنے لگا ایسے میں محمد علی کے بیٹوں میں آفریدی اور اس کی اولاد میں سے کچھ نے ہری سنگھ کے بیٹوں کے ساتھ مل کر ہری سنگھ کے خلاف لڑنا شروع کر دیا ۔ اب چوکیدار کے نہ ہونے کی صورت میں لڑائی بند کیا ہوتی ۔ہری سنگھ نے باغیچہ موہن داس کی آل اولاد کے حوالے اس شرط پر کیا کہ اس باغیچے کی اپنی شناخت قائم رکھی جائے گی اور یہ موہن داس کی جائیداد نہ ہوگا ۔اس طرح ہری سنگھ کا باغیچہ موہن داس کے حوالے تو ہو گیا لیکن اسی کے بچوں میں سے قیومی نے باغیچہ کی ایک طرف قبضہ قائم کر لیا دوسری جانب موہن داس کے بیٹے آن کھڑے ہوئے کہ یہ باغیچہ ہمارا ہے ۔ آخر شہر کی عدالت میں یہ بات موہن داس اور محمد علی مان کر آئے کہ باغیچے کا فیصلہ ہری سنگھ کی تمامی اولاد جس میں ہندو مسلم سب شامل کی رائے سے ہوگا ۔ لیکن اس سے پہلے دونوں محمد علی اور موہن داس کے بچے اس باغیچے سے نکل جائیں پھر ہری سنگھ کی تمام اولاد سے پوچھا جائے گا کہ باغیچے کا کیا کرنا ہے جہاں زیادہ بچوں کا فیصلہ ہوگا اس کے گھر میں باغیچہ شامل سمجھا جائے گا۔ لیکن محمد علی اور موہن داس دونوں کی اولاد اس معاملے میں ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا بہانہ بناتے ہوئے باغیچے سے نکلنے سے انکاری ہو گئی

محمد علی کے بچوں میں سے چند کو چوکیدار کے ساتھ رکھا گیا تھا تاکہ چوکیداری کا تجربہ حاصل کر کے باہر کے چوکیدار سے مستغنیٰ ہوا جا سکے۔ انہی دنوں محمد علی کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی اسے علاج کے لئےباغ کے ایک جانب والے سرد حصے میں ہی علاج کے لئے رکھا گیا علاج کے بعد گھر آتے ہوئے راستے میں سواری ایندھن کی کمی کی وجہ سے بند ہو گئی اور محمد علی اللہ کو پیارا ہو گیا۔ گھر والوں نے سوگ منایا اور پھر گھر کا سربراہ بنانے کے لئے فیصلہ کیا اس طرح سربراہ چننے کا عمل مکمل ہو ا تو آخر کار محمد علی کا دست و بازو لیاقت گھر کا سربراہ بن چکا تھا ۔ گھر کے سربراہ نے باہر کے چوکیدار گریسی کی بجائے اپنے ہی بھائی بندوں میں سے اسی ایوب کو بڑا چوکیدار چن لیا جس کے بارے میں محمد علی نے خود کہا تھا کہ اس بچے کو بالخصوص کوئی بڑی ذمہ داری والا کام نہ دینا ۔ پھر ایک دن گھر کا سربراہ لیاقت بھی اپنے ہی ایک بچے کے ہاتھوں جان سے مارا گیا ۔اور اس کے بعد خواجہ ناظم الدین نامی بچے کو گھر کی ذمہ داری سونپی گئی ۔خواجہ صاحب محمد علی اس گھر کے اس حصے میں رہنے والے بھائی کے بچے تھے جو پانچ مرلے پر مشتمل تھا ۔ بڑی حویلی میں بیٹے آپس میں ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانا شروع ہوچکے تھے تو ایسے میں ان کی لڑائی جھگڑے مختلف چھوٹی چھوٹی باتوں پر شروع ہو چکے تھے ۔ لیکن صورت حال قابو سے باہر نہ تھی ۔ انہی دنوں سب بچوں نے مل کر ایک تحریری پرچہ تیار کر لیا کہ ہم گھر کا نظام اس طرح سے چلائیں گے ۔اور اس طرح سے محمد علی کا گھر ایک نظام کے ماتحت چلنے کو راضی ہو گیا ۔ اس وقت تک خواجہ کے بعد گھر کی سربراہی حسین شہید سے ہوتے ہوئے محمد علی دوئم اور پھر حسین شہید نامی بچے تک پہنچ چکی تھی۔لیکن ساتھ ہی ساتھ چاچو اسکندر مرزا نے بھی اپنی چودھراہٹ قائم کر رکھی تھی کہ ایک دن اچانک گھر کے بچوں کی آپس میں کسی بات پر چپقلش ہوئی تو گھر کے چوکیدار ایوب نے چاچو اسکندر مرزا کے ساتھ مل کر گھر میں قبضہ کر لیا ۔ اور سب بچوں کو بک بک بند کرنے کا حکم دے دیا۔


اب گھر میں وہی ہوگا جو ایوب چوکیدار جو اب گھر کا سربراہ ہونے کا دعوے دار تھا چاہے گا ۔اپنی طاقت دکھانے کے لئے اس نے وہ کاغذ جسے دستور کا نام دیا گیا تھا پھاڑ کر پھینک دیا اور یوں گھر کا چوکیدار ہی گھر پر قابض ہو کر بیٹھ گیا ۔ اور کمزور نہتے بچے ڈر اور حیرت جبکہ چھوٹے کم عقل بچے بی ڈی گولیاں اور کچھ کاروباری مواقع یا مواقع کا وعدہ ملنے پر چپ ہو کر بیٹھ گئے ۔ ایوب نے آتے ہی گھر کی پیاری پھپھو فاطمہ جسے بچے پیار سے ماں پکارتے تھے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور بچوں کے کان بھرنے کی کوششیں کرنے لگا کہ وہ گھر کی دشمن ہے حالانکہ جس بہن نے اپنے بھائی محمد علی کے ساتھ مل کر ہمیشہ اس گھر کا بھلا سوچا ہو اس پر گھر کی دشمنی کا الزام کس قدر گھٹیا الزام ہو سکتا ہے ۔ پھر ایک دن اس قربانی کی صورت ، مادر ملت ، قوم کی ماں اور ملک و ملت سے سچی مخلص کو گھر میں گھس کر مار مار کر مار دیا گیا ۔ جس کا اعلان طبعی موت کے طور پر کیا گیا ۔ اس سب کے دوران قابض چوکیداروں اور گھر کے ذمہ دار بچوں کی نظریں شرف الدین والے مکان کی طرف کم ہی رہیں اور جو فوکس میں نہ رہے اسے شکایات پیدا ہو ہی جاتی ہیں ۔ شرف الدین والے مکان میں ایک بیٹا مجیب الرحمن تھا جو گھر بھر کا مخلص تھا اور سب کو بہتر کل کی طرف لے جانا چاہتا تھا ۔​
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
اب گھر میں وہی ہوگا جو ایوب چوکیدار جو اب گھر کا سربراہ ہونے کا دعوے دار تھا چاہے گا ۔اپنی طاقت دکھانے کے لئے اس نے وہ کاغذ جسے دستور کا نام دیا گیا تھا پھاڑ کر پھینک دیا اور یوں گھر کا چوکیدار ہی گھر پر قابض ہو کر بیٹھ گیا ۔ اور کمزور نہتے بچے ڈر اور حیرت جبکہ چھوٹے کم عقل بچے بی ڈی گولیاں اور کچھ کاروباری مواقع یا مواقع کا وعدہ ملنے پر چپ ہو کر بیٹھ گئے ۔ ایوب نے آتے ہی گھر کی پیاری پھپھو فاطمہ جسے بچے پیار سے ماں پکارتے تھے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور بچوں کے کان بھرنے کی کوششیں کرنے لگا کہ وہ گھر کی دشمن ہے حالانکہ جس بہن نے اپنے بھائی محمد علی کے ساتھ مل کر ہمیشہ اس گھر کا بھلا سوچا ہو اس پر گھر کی دشمنی کا الزام کس قدر گھٹیا الزام ہو سکتا ہے ۔
بہت خوب لکھا بھیا ۔۔۔۔جیتے رہیے اوراسی طرح کاغذ پہ
تلخ حقائق لکھتے رہیے بڑی خوبصورتی سے ایک ایک سچ کاغذ پہ منتقل کردیاد ساتھ ساتھ ہم سب حساس دل رکھنے والوں کے دل کی زبان بیان کردی ؀
سن لیا ہوگا ہواؤں میں بکھر جاتا ہے
اس لئے بچے نے کاغذ پہ گھروندا لکھا
 

سیما علی

لائبریرین
محمد علی کا گھر ایک نظام کے ماتحت چلنے کو راضی ہو گیا ۔ اس وقت تک خواجہ کے بعد گھر کی سربراہی حسین شہید سے ہوتے ہوئے محمد علی دوئم اور پھر حسین شہید نامی بچے تک پہنچ چکی تھی۔لیکن ساتھ ہی ساتھ چاچو اسکندر مرزا نے بھی اپنی چودھراہٹ قائم کر رکھی تھی کہ ایک دن اچانک گھر کے بچوں کی آپس میں کسی بات پر چپقلش ہوئی تو گھر کے چوکیدار ایوب نے چاچو اسکندر مرزا کے ساتھ مل کر گھر میں قبضہ کر لیا ۔ اور سب بچوں کو بک بک بند کرنے کا حکم دے دیا۔
گھر مشکل سے بنتے ہیں، گھر بھی انسانیت سے اپنائیت کا احساس مانگتے ہیں، اس قبولیت کے جذبے سے ماحول سازگار بنتے ہیں، اگر انسانوں میں سلوک اور انسانیت ناپید ہو جائے تو تو گھر بھی بے چین و دکھی ہو جاتے ہیں۔ملک بھی ایسے ہی ہیں۔۔۔
مکان کو گھر بننے میں بہت وقت لگتا ہے۔۔۔۔۔بعض اوقات صدیا ں لک جاتیں ہیں ۔جس کھر یا ملک کے لوگ اپنے گھر سے یا اپنے ملک سے محبت نہیں کرتے وہ نہ ختم ہونے والی افراتفری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ گھر اور ملک ایک محفوظ پناہ گاہ ہے۔۔۔جہاں صف میں کھڑا ہر شخص اپناحصہ مانگ رہا ہو بجائے اسکے کہ اسکومحفوظ بنانے اپنا حصہ ڈالے ۔۔۔
جب سے عنقا ہوئی آپس میں رواداری ؀
ستم تم چھوڑ دو میں شکوہ سنجی ہائے ناچاری
کہ فرض عین ہے کیش محبت میں رواداری

کیا کریں پر ہمارے بس میں دعائیں ہیں جو اس ملک کے لئے ہیں کہ اللہ پاک اسے تا قیامت قائم رکھے ۔۔ اور دشمنوں نا پاک عزائم سے محفوظ رکھے ۔۔۔آنین
 
آخری تدوین:
یہ کہانی ایک محلے کے ایک گھر کی ہے ۔ اس محلے میں چند ایک حویلیاں ہیں (1) موہن داس کی حویلی (2) محمد علی کی حویلی (3) ظاہر شاہ کی حویلی (4) رضا شاہ کی حویلی (5) ہنری کی حویلی (6) پرتھوی نرائن کا مکان (7) جگ مئے کا مکان (8- فرید دیدی بھائی کا مکان ( 9) پھایا جی کا مکان ۔ اور یہ کہانی ہے محمد علی کی حویلی کی جس کا ایک حصہ موہن داس کی حویلی کے دوسری جانب بھی تھا ۔

اب دیکھتے ہیں اس محلے کی طرف کہ ان تمام گھروں اور گلی کا نقشہ کچھ یوں ہے کہ ان کی دیواریں آپس میں کچھ اس طرح سے ملی ہوئی ہیں کہ اس محلے میں آپس میں کسی کا بھی دوسرے سے بے خبر رہنا ممکن ہی نہیں ہے ۔

موہن داس اور محمد علی آپس میں بھائی تھے اور پہلے دونوں ہندو تھے اور اکٹھے رہتے تھے کہ محمد علی مسلمان ہو گیا اور کچھ عرصے بعد کچھ اپنے اندر کی حساسیت اور کچھ موہن داس کے بیوی بچوں کے وقتا فوقتا کے بے وقوفانہ طرز عمل سے اسے یوں لگا کہ موہن داس کے گھرمیں اس کی نہ سنی جاتی ہے نہ اس کے عقائد و نظریات محفوظ ہیں تو پہلے اس نے کوشش کی کہ اسی گھر میں کچھ کمرے اسے مختص کر دیئے جائیں تاکہ وہ ان کے اندر اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزار سکے لیکن موہن داس کے بیوی بچوں کے سخت ردعمل نے اسے مزید پکا کردیا کہ اس گھر میں اس کا دین خطرے میں ہے لہذا اس نے بٹوارا کروا لیا ۔بظاہر موہن داس کے اہل و عیال اس حق میں نہیں تھے کہ بٹوارا ہو لیکن اندر سے کچھ بچوں اور بڑوں کی حماقتوں سے یہ تاثر بھی ملا کہ وہ خود ہی محمد علی کو ساتھ نہیں رکھنا چاہتے لہذا روز روز کے جھگڑوں سے بچنے کے لئے محمد علی اور موہن داس کو بڑی حویلی کا کچھ حصہ بانٹنا پڑا جس میں بڑی حویلی موہن داس کو دی گئی جبکہ ایک پانچ مرلے کا مکان اور ایک چھوٹی حویلی محمد علی کو ملی ، محمد علی کو ملنے والا پانچ مرلے کا مکان اس کے بیٹے شرف الاسلام کے پاس تھا۔

موہن داس کے گھر میں اس بٹوارے کی وجہ سے اس کے ایک بیٹے نے ناراض ہو کر موہن داس کو قتل کر دیا ۔ جبکہ محمد علی کے گھر میں اس کی اولاد اس کے بڑھاپے میں اس کی دیکھ بھال کرنے میں نااہل ثابت ہوئی اور وہ بھی بیمار ہو گیا ۔اسی دوران موہن داس اور محمد علی کے گھروں کے درمیان کا باغ جو ہری سنگھ کا تھا مگر وہ باغ دونوں کو استعمال کرنے کی اجازت تھی ۔ ہری سنگھ کے بیٹوں میں بھی کچھ مسلمان ہو چکے تھے اور کچھ غیر مسلم تھے ہری سنگھ کا جھگڑا ہوا اس کے بیٹوں میں سے مسلمان اولاد کے ساتھ جہاں محمد علی کے بیٹوں نے ہری سنگھ اور اس کی اولاد کے جھگڑے میں باپ کے خلاف اس کی اولاد کا ساتھ دیا اس کے نتیجے میں باغ کا کچھ حصہ ہری سنگھ کے مسلمان بیٹوں کے زیر انتظام آگیا۔ ہری سنگھ کا جھگڑا جب بیٹوں سے بڑھا تو محمد علی نے گھر کے چوکیدار کو کہا کہ جا کر اس لڑائی میں اس کے بیٹوں کا ساتھ دے اور اس جھگڑے میں ایسی صورت حال پیدا نہ ہونے دے جس سے خون خرابہ زیادہ ہو بلکہ ایسا کرے کہ صلح اور حل کی صورت حال پیدا ہو ۔ لیکن اس کا چوکیدار ہنری والٹر میسروی اس کام میں شامل ہونے سے انکار کرنے لگا ایسے میں محمد علی کے بیٹوں میں آفریدی اور اس کی اولاد میں سے کچھ نے ہری سنگھ کے بیٹوں کے ساتھ مل کر ہری سنگھ کے خلاف لڑنا شروع کر دیا ۔ اب چوکیدار کے نہ ہونے کی صورت میں لڑائی بند کیا ہوتی ۔ہری سنگھ نے باغیچہ موہن داس کی آل اولاد کے حوالے اس شرط پر کیا کہ اس باغیچے کی اپنی شناخت قائم رکھی جائے گی اور یہ موہن داس کی جائیداد نہ ہوگا ۔اس طرح ہری سنگھ کا باغیچہ موہن داس کے حوالے تو ہو گیا لیکن اسی کے بچوں میں سے قیومی نے باغیچہ کی ایک طرف قبضہ قائم کر لیا دوسری جانب موہن داس کے بیٹے آن کھڑے ہوئے کہ یہ باغیچہ ہمارا ہے ۔ آخر شہر کی عدالت میں یہ بات موہن داس اور محمد علی مان کر آئے کہ باغیچے کا فیصلہ ہری سنگھ کی تمامی اولاد جس میں ہندو مسلم سب شامل کی رائے سے ہوگا ۔ لیکن اس سے پہلے دونوں محمد علی اور موہن داس کے بچے اس باغیچے سے نکل جائیں پھر ہری سنگھ کی تمام اولاد سے پوچھا جائے گا کہ باغیچے کا کیا کرنا ہے جہاں زیادہ بچوں کا فیصلہ ہوگا اس کے گھر میں باغیچہ شامل سمجھا جائے گا۔ لیکن محمد علی اور موہن داس دونوں کی اولاد اس معاملے میں ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا بہانہ بناتے ہوئے باغیچے سے نکلنے سے انکاری ہو گئی

محمد علی کے بچوں میں سے چند کو چوکیدار کے ساتھ رکھا گیا تھا تاکہ چوکیداری کا تجربہ حاصل کر کے باہر کے چوکیدار سے مستغنیٰ ہوا جا سکے۔ انہی دنوں محمد علی کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی اسے علاج کے لئےباغ کے ایک جانب والے سرد حصے میں ہی علاج کے لئے رکھا گیا علاج کے بعد گھر آتے ہوئے راستے میں سواری ایندھن کی کمی کی وجہ سے بند ہو گئی اور محمد علی اللہ کو پیارا ہو گیا۔ گھر والوں نے سوگ منایا اور پھر گھر کا سربراہ بنانے کے لئے فیصلہ کیا اس طرح سربراہ چننے کا عمل مکمل ہو ا تو آخر کار محمد علی کا دست و بازو لیاقت گھر کا سربراہ بن چکا تھا ۔ گھر کے سربراہ نے باہر کے چوکیدار گریسی کی بجائے اپنے ہی بھائی بندوں میں سے اسی ایوب کو بڑا چوکیدار چن لیا جس کے بارے میں محمد علی نے خود کہا تھا کہ اس بچے کو بالخصوص کوئی بڑی ذمہ داری والا کام نہ دینا ۔ پھر ایک دن گھر کا سربراہ لیاقت بھی اپنے ہی ایک بچے کے ہاتھوں جان سے مارا گیا ۔اور اس کے بعد خواجہ ناظم الدین نامی بچے کو گھر کی ذمہ داری سونپی گئی ۔خواجہ صاحب محمد علی اس گھر کے اس حصے میں رہنے والے بھائی کے بچے تھے جو پانچ مرلے پر مشتمل تھا ۔ بڑی حویلی میں بیٹے آپس میں ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانا شروع ہوچکے تھے تو ایسے میں ان کی لڑائی جھگڑے مختلف چھوٹی چھوٹی باتوں پر شروع ہو چکے تھے ۔ لیکن صورت حال قابو سے باہر نہ تھی ۔ انہی دنوں سب بچوں نے مل کر ایک تحریری پرچہ تیار کر لیا کہ ہم گھر کا نظام اس طرح سے چلائیں گے ۔اور اس طرح سے محمد علی کا گھر ایک نظام کے ماتحت چلنے کو راضی ہو گیا ۔ اس وقت تک خواجہ کے بعد گھر کی سربراہی حسین شہید سے ہوتے ہوئے محمد علی دوئم اور پھر حسین شہید نامی بچے تک پہنچ چکی تھی۔لیکن ساتھ ہی ساتھ چاچو اسکندر مرزا نے بھی اپنی چودھراہٹ قائم کر رکھی تھی کہ ایک دن اچانک گھر کے بچوں کی آپس میں کسی بات پر چپقلش ہوئی تو گھر کے چوکیدار ایوب نے چاچو اسکندر مرزا کے ساتھ مل کر گھر میں قبضہ کر لیا ۔ اور سب بچوں کو بک بک بند کرنے کا حکم دے دیا۔


اب گھر میں وہی ہوگا جو ایوب چوکیدار جو اب گھر کا سربراہ ہونے کا دعوے دار تھا چاہے گا ۔اپنی طاقت دکھانے کے لئے اس نے وہ کاغذ جسے دستور کا نام دیا گیا تھا پھاڑ کر پھینک دیا اور یوں گھر کا چوکیدار ہی گھر پر قابض ہو کر بیٹھ گیا ۔ اور کمزور نہتے بچے ڈر اور حیرت جبکہ چھوٹے کم عقل بچے بی ڈی گولیاں اور کچھ کاروباری مواقع یا مواقع کا وعدہ ملنے پر چپ ہو کر بیٹھ گئے ۔ ایوب نے آتے ہی گھر کی پیاری پھپھو فاطمہ جسے بچے پیار سے ماں پکارتے تھے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور بچوں کے کان بھرنے کی کوششیں کرنے لگا کہ وہ گھر کی دشمن ہے حالانکہ جس بہن نے اپنے بھائی محمد علی کے ساتھ مل کر ہمیشہ اس گھر کا بھلا سوچا ہو اس پر گھر کی دشمنی کا الزام کس قدر گھٹیا الزام ہو سکتا ہے ۔​
لیکن کسے پروا تھی ۔ ایوب کا بیٹا یحییٰ پھر گھر پر قابض ہوا تو بچوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ گھر کو ایک نظام کے ماتحت چلاؤ ، آخر ایک دن اس نے سب بچوں کو اکٹھا کر کے کہا کہ سارے بچے مل کر اب پہلے اپنا لیڈر چن لو جو سب سے زیادہ بچوں کا لیڈر ہوگا اسے گھر کی سربراہی دی جائے گی ۔ بچے خوش ہوگئے لیکن شرف الدین کا بیٹا مجیب جو کافی عرصے سے شرف الدین کی اولاد کے حقوق کی بات کرتا تھا یحییٰ کو کچھ خاص پسند نہ تھا ۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ کوئی ولن تھا یا برا بچہ تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ محمد علی کی حویلی میں شرف الدین اور چھوٹے مکان والی اولاد کے متعلق بے بنیاد تعصب اور ان سے برتری کا احساس موجود تھا ۔ حویلی میں بچوں نے ذوالفقار کو اپنا لیڈر چن لیا جبکہ چھوٹے مکان میں مجیب کو بچوں نے اپنا لیڈر چن لیا ۔ اب تعداد میں شرف الدین کی اولاد زیادہ تھی اور کیونکہ وہ تعداد میں زیادہ تھے ان کے گھر کا ماحول بھی تنگ تھا ۔ یہاں بات دلوں کی نہیں ہو رہی اکثر دیکھا گیا ہے کہ چھوٹے گھروں میں بڑے لوگ اور بڑے گھروں میں ذہنی بونے پائے جاتے ہیں ۔ الا ما شاء اللہ تو واپس آتے ہیں موضوع کی طرف جب گھر کے سارے بچوں کے لیڈروں کو دیکھا گیا تو ایک طرف ذوالفقار تھا جب کہ دوسری طرف مجیب تھا تو اصول کے مطابق تو مجیب کا حق تھا کہ وہ پورے گھر کا لیڈر بنادیا جاتا لیکن یحییٰ اور اس کے دیگر سیکیورٹی گارڈز کو پسند نہ تھا اس کی وجہ ایک تو اس کے چھوٹے گھر سے آنے اور دوسرے اس کا کھلے دل کے ساتھ موہن داس کی حویلی کے لوگوں سے میل جول رکھنے کا رویہ بھی کیونکہ یحییٰ کو تو ویسے ہی موہن داس اور اس کی اولاد دشمن لگتی تھی۔ اور اس کی سیکیورٹی ٹیموں کا موہن داس کی حویلی کی سیکیورٹی ٹیموں کے ساتھ کئی بار ٹاکرا ہو چکا تھا ۔ وہ اور بات تھی کہ یہ جھگڑے کس حد تک ہوئے اور کون جیتا اب یحییٰ اور اس کی سیکیورٹی ٹیم کی نظروں میں مجیب بھی غدار تھا اور اس کی غداری ثابت کرنا ضروری ہو چکا تھا ۔ شرف الدین کے بچوں نے شور مچایا تو یحییٰ نے نیازی کو چھوٹے مکان میں بھیج دیا کہ جاؤ ذرا ان بچوں کی سوفٹ وئیر اپ ڈیٹ کر آؤ۔ نیازی نے ڈنڈا اٹھا کر شرف الدین کے بچوں کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا ۔


اب نیازی ، یحییٰ اصل گھر والوں کے دلوں کو کیا جانیں وہ تو چوکیدار تھے جنہیں صرف لڑنا مرنا سکھایا گیا تھا ۔ لیکن گھر چلانا انہیں کہاں سے آتا ۔ بچوں سے شفقت ، بہنوں کی عزت ، ماؤں کا احترام کرنا جو گھروں کو جوڑ کر رکھتا ہے یہ وحشی کیا جانتے ۔ کچھ انہوں نے بدتمیزیاں کیں کچھ رنگ بھرنے کو دوسروں نے بڑھا چڑھا کر پیش کیں نتیجہ شرف الدین کے بچوں میں گھر کا احترام جو رہا سہا تھا جاتا رہا انہوں نے مل کر اور موہن داس کے سیکیورٹی گارڈز کو ساتھ بلوا کر نیازی اور اس کی ٹیم کو پہلے دبا کر دھویا پھر انہیں پکڑ کر وہیں شرف الدین والے مکان میں بٹھا لیا جہاں پر نیازی نے پریس کانفرنس میں یحیی کی سیکیورٹی ٹیم سمیت اپنے آپ کو موہن داس کی سیکیورٹی ٹیم کے حوالے کردیا اور شرف الدین کے بچوں اور اس گھر کو اپنی حویلی کے ماتحت ہونے سے آزاد تسلیم کر لیا۔ اب موہن داس کی سیکیورٹی ٹیم نے انہیں بچا کر اپنی حویلی پہنچایا تاکہ انہیں کسی اصول قاعدے سے محمد علی کے گھر واپس کیا جا سکے ۔ اس سارے جھگڑے میں گھر کے منتظم کے اختیارات اور طاقت یحییٰ کے ہاتھ میں ہی رہی اور جب ایسا ہوا کہ گھر میں صحیح حقدار کو اس کا حق نہ ملا اور شرف الدین کا مکان بھوکا ننگا کہہ کر ، مار پیٹ کر کے ، بیٹیوں ماؤں کو بے عزت کر کے ۔محمد علی کے خانوادے سے الگ کر دیا گیا تو موہن داس کی بیٹی اندرا نے یہ الفاظ کہے کہ آج ہم نے ان کے باپ کی اس سوچ اس نظریئے کو دفن کر دیا کہ دین الگ ہونے سے کوئی الگ ہو سکتا ہے ۔اب محمد علی کا گھر ٹوٹ چکا تھا ۔سیکیورٹی ٹیم موہن داس کے لوگوں کے قبضے میں تھی ۔ بچوں کا دل ٹوٹا ہوا تھا ۔ بچے کھچے بچوں نے یحییٰ کو نکال باہر کیا اور ذوالفقار کو اپنا سربراہ چنا اور ایک نظام مل جل کر طے کیا تاکہ اس کے مطابق چلا جا سکے ۔ پھر ذوالفقار کوبات چیت کے لئے موہن داس کے گھر بھیجا جہاں ان کے گھر کے سربراہ اسے مل کر ان دونوں نے مل کر ایک معاہدہ تیار کیااور بڑی حکمت عملی سے ذوالفقار اپنی سیکیورٹی ٹیم کو ساتھ لے کر واپس محمد علی کی حویلی پہنچا ۔ آخر سیکیورٹی ٹیم میں بھی اپنے ہی بچے تھے ۔ انہیں عزت کے ساتھ پھر سے سیکیورٹی کے کام پر لگایا اور نظام کے مطابق ان سے حلف لیا کہآئندہ وہ سیکیورٹی کا کام کریں گے اور نظام کے ماتحت رہیں گے ۔ اور جیسے پہلے ایوب اور یحییٰ نے گھر کے سربراہ کی جگہ لینے کی کوشش کی ویسا ہرگز نہ کریں گے ۔اگر ایسا کریں گے تو ایسا کرنا غداری ہوگا اور اس کی سزا موت ہوگی ۔

نیازی واپس آکر خاموشی سے اپنی مدت تک چوکیدارہ کرتا رہا جبکہ اس کے بعد ضیا کو چوکیداری کا کام سونپا گیا ۔ ذوالفقار کی مدت بھی پوری ہو رہی تھی تو دوبارہ بچے کھچے گھر میں رہ نما چننے کا وقت آن پڑا ۔نظام کے مطابق جب چناؤ ہوا تو ذوالفقار دوبارہ رہ نما چن لیا گیا۔ لیکن کچھ بچوں نے شور مچا دیا کہ ذوالفقار نے بے ایمانی کی ہے ۔ پھر دونوں گروہ آپس میں لڑ پڑے لیکن مل جل کر بیٹھنا پڑا ان کی صلح ہونے ہی والی تھی کہ ضیاء کے دماغ میں کیڑا کلبلایا اور اس نے وہی کام کیا جو اس سے پہلے ایوب اور یحییٰ کر چکے تھے اور اس نے ذوالفقار کو جھوٹا الزام لگا کر مار ڈالا ۔ نہ صرف اسے مار ڈالا بلکہ گھر کا نظام چلانے والی دستاویز کو بھی اپنے مطابق ایسے توڑ مروڑ ڈالا کہ گھر کا چوکیدار جو پھر سے گھر سے بغاوت کر کے گھر کا سربراہ ہونے کا دعویٰ کر چکا تھا کو ایسے اختیارات حاصل ہو گئے کہ جب چاہے جس کا چاہے بھنگ ٹوکرا اٹھوا کر گھر کی رہبری اور نظام سے باہر پھینک سکتا تھا ۔ ایسے میں محمد خان کو گھر کا سربراہ چن لیا گیا لیکن اختیارات تو ضیا کے پاس ہی تھے ۔لہذا ایک حادثہ ہوتا ہے جس میں چوکیدار کے گودام میں آگ لگنے سے جب اسلحہ کا ذخیرہ پھٹتا ہے ۔ گھر کے بہت سے بچے مر جاتے ہیں ۔ تحقیقات میں چوکیداروں کی نا اہلی سامنے آنے پر جب محمد خان نے سب کو بتایا تو ضیاء کو یہ بات پسند نہ آئی لہذا اپنے خود سے حاصل کردہ اختیارات کے تحت ضیاء نے محمد خان کو رہ بری سے نکال باہر کیا ۔ لیکن خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ۔ اس وعدہ خلاف چوکیدار کو جس نے رات کے اندھیرے میں اپنے ہی مالک ذوالفقار کو پکڑ کر اس کے ہی بچوں کے بیچ میں قتل کیا تھا اس کے محفوظ کمرے میں آگ لگنے سے خدائے بزرگ و برتر کا بھیجا ہوا فرشتہ اپنے ساتھ لے گیا اس طرح ایک طویل ظلم کی رات کا اختتام ہوا جو حلف کی خلاف ورزی، پھر سے حلف ، پھر اس کی خلاف ورزی ، پھر سے حلف پر مشتمل تھی اور جس میں اس گھر کے بچے لاوارثوں کی طرح پلتے رہے ۔ گو کہ ان کی آپسی لڑائیاں کچھ کم نظر آئیں لیکن یہ سب ایک خوف و دہشت کا اثر تھا جو ضیاء نے ان معصوموں پر ڈال رکھا تھا ۔

ضیاء کے مرتے ہی گھر والوں نے پھر سے فیصلہ کیا کہ گھر کو اسی نظام کے ماتحت چلایا جائے جو آخری بار سب بچوں نے مل کر طے کیا تھا ۔ ضیاء کی موت سے چوکیداروں نے گھر پر سے قبضہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا اور پھر بچوں نے اپنا رہبر بے نظیر نامی لڑکی کو چنا ، بے نظیر ذوالفقار کی بیٹی تھی، لیکن چوکیداروں نے اندر ہی اندر طے کر لیا تھا کہ کھل کر طاقت کی ہوس میں سب کے سامنے ننگے ہونے سے بہتر ہے کہ بچوں میں سے ہی کمزور بچوں کو اٹھا کر رہبر بنانے دیتے ہیں اور پھر اسی آڑ میں ہم اپنے مقاصد پورے کرتے رہیں گے ۔ اسی سلسلے میں بے نظیر کو اسحاق کے ذریعے ہٹا دیا جاتا ہے ۔ بچےاس صورت حال میں یہ سمجھتے ہیں کہ شاید چوکیداروں کو ہم سے ہمدردی ہے اس لئے وہ بے نظیر کے خلاف ہو کر ہماری مدد کر رہے ہیں تو ان چوکیداروں نے کچھ ادھر ادھر کے بچوں کو جن کی تھوڑی بہت بچوں میں بات چیت تھی ساتھ ملایا اور شور شرابے میں بے نظیر کو ہرا کر مقابلے میں نواز کو چنا ۔ نواز نے بچوں میں اچھی اچھی چیزیں تقسیم کیں ۔ لیکن اندر ہی اندر ہر تقسیم ہونے والی چیز میں سے اپنا کمیشن بھی رکھتا تھا ۔چوکیداروں کو ان حرکتوں کا علم تھا لیکن انہیں کیا ان کا مقصد پورا ہو رہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ گھر کے ایک تہائی علاقے کو باقاعدہ اپنی ملکیت میں لے چکے تھے ۔ گھر کا راشن ، کپڑا ، اسلحہ ہر چیز پر ان کی اجارہ داری قائم ہوتی جا رہی تھی ۔ جو چوکیدار گھر کے باہر رہنا تھا اب گھر کے اندر گھس چکا تھا ۔ بے نظیر کو رہ بری سے ہٹا کر نواز کو لگا دیا اور جب نواز سے جی بھرا تو پھر بے نظیر کو رہبر بنا دیا ۔ اسی طرح کھیلتے کھیلتے کچھ عرصہ گزرا تو نواز کی باری میں اس نے مشرف کو جو اس وقت کا چوکیدار تھا اسے براہ راست ہٹانے کی کوشش کی اور بٹ کو چوکیدار لگانے کی کوشش کی ۔ اس کوشش کے ردعمل میں سارے چوکیدار آپس میں مل کر بچوں پر پل پڑے اور گھر پر قبضہ کر لیا ۔
 
آخری تدوین:
Grizzly-Bear-vs.-Bison-Who-Would-Win-in-a-Fight.jpg


ضیاء کی زندگی میں ظاہر شاہ کے گھر میں کچھ تبدیلیاں آئیں جن کے نتیجے میں ایک بھورا ریچھ اس کے گھر گھس آیا تھا ۔ ایسی صورت حال میں ضیاء نے گھر کے بچوں کو اسلام کی دہائی دے کر ظاہر شاہ کے گھر بھیجا کہ اپنے بھائی کا گھر بچاؤ ۔ مقصد ظاہر شاہ کا گھر بچانے سے زیادہ کچھ اور تھا ۔ پہلا مقصد محمد علی کی حویلی کو بھورے ریچھ سے محفوظ رکھنا تاکہ چوکیداروں کے کھانے پینے میں رکاوٹ نہ آ سکے ۔اور حویلی ہے تو ان کا کھانا پینا بھی چلتا رہے گا ۔ اسی کو کوڈ کی زبان میں وہ یہ کہتے تھے کہ یہ گھر ہے تو ہم ہیں ۔ یہ گھر نہیں تو ہم بھی کہاں ہوتے ۔ اور دوسرا مقصد اپنے بڑے اور خفیہ اصلی مالکان کے بھینسے کو محفوظ رکھنا ۔ اور اس معاملے میں مالی طور پر بھی چاچے سام کی طرف سے فل سپورٹ کا اعلان تھا ۔ یہ بھورا ریچھ اپنے حاجی لق لق حجازی کو بھی نا پسند تھا اس لئے اس نے بھی اپنے مسلمان بھائی کی مدد میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ کافی شدید لڑائیوں کے بعد بھورا ریچھ تو بھاگ گیا لیکن ظاہر شاہ کے مرنے کے بعد اس کی اولاد آپس میں لڑ پڑی اور ان لڑائیوں میں بہت نقصان ہوا ۔ پھر ضیا تو مر گیا لیکن اس کے جانشین چوکیداروں نے ظاہر شاہ کے گھر میں بڑا گند ڈالا ۔ کبھی اس کے ساتھ کبھی اس کے ساتھ اور پھر محمد علی کے گھر میں جو اس کے اور ظاہر شاہ کی اولاد میں کچھ بچے قرآن پڑھنے آتے تھے انہیں ملا کر اس نے ان کے ذریعے ظاہر شاہ کے گھر پر قبضہ کر لیا ۔ یہ بات ظاہر شاہ کی اولاد اچھی طرح دیکھ رہی تھی اور اس سب کی وجہ سے وہ محمد علی کے گھر سے ہی آہستہ آہستہ نفرتیں دل میں پالنے لگے ۔ قبضہ کرنے کے بعد محمد علی کے طالب علم بچوں اور ظاہر شاہ کی اولاد میں سے طالب علموں نے مل کر اس کے گھر کا نظام بہترین طریقے سے چلایا ۔ بچے سمجھ دار تھے انہوں نے زیادہ عرصہ تک محمد علی کے گھر کے چوکیداروں کے زیر اثر تھوڑی رہنا تھا ۔ آہستہ آہستہ ظاہر شاہ کی اولاد کو مکمل کنٹرول منتقل ہوتا گیا ۔اور محمد علی کے بچے پیچھے ہٹتے گئے ۔ دوسری طرف محمد علی کے گھر میں چوکیداروں نے پھر سے بغاوت کر کے گھر پر قبضہ کر لیا اور اپنا رہبر پرویز کو تسلیم کر لیا۔ یہ صورت حال بڑی عجیب سی تھی کہ اسی دوران ایک واقعے میں چاچے سام کے گھر پر حملہ ہوا اور اس کے گھر کے کھڑکیاں دروازے کسی نے توڑ دیئے۔

اس سب کا ملبہ طالب علم بچوں پر پڑا اور چاچے سام نے پرویز عرف چاچے پیجے سے مل کر ظاہر شاہ کے گھر پر حملہ کر دیا ۔ بچہ بچہ بیچا گیا ۔ اور اس کے بدلے پیسہ وصول کیا گیا ۔ نہ اپنا طالب علم چھوڑا نہ ظاہر شاہ کا ایک ایک کی قیمت وصول کی گئی ۔ اور محمد علی کے گھر میں رنگ برنگے مداری ، بھانڈ ، میراثی بلوا کر بچوں کو بے وقوف بنایا جاتا رہا ۔ چاچے پیجے نے ویلیں کرا کرا کے بچوں کو یہ احساس دلایا کہ وہ نہ صرف آزاد ہیں نہ بلکہ گھر میں ٹی وی ، ریڈیو ، رسالے ، اور اخبار بھی آنے شروع ہو گئے ۔ گھر کی بچیوں کو آزادی کے نام پر مادر پدر آزاد کر دیا ، گھر میں جو اخلاقی قوانین پہلے سے نافذ تھے ان کے سلسلے میں سختی کو قصدا ختم کر دیا تاکہ بچے کھل کر کردار اور اخلاق کی پابندیوں سے آزاد رہ سکیں ۔ اسی دوران بے نظیر نے شیخ کندورے والے کے گھر پناہ لے رکھی تھی ۔نواز کو حاجی لق لق کے گھرکی طرف بھگا دیا گیا تھا ، جو بچے دینی علم حاصل کرنے والے تھے انہیں چن چن کر نشانہ بنایا گیا اور پھر ایک دن بے نظیر نے تنگ آ کر گھر واپس آنے کا سوچا ۔ جب وہ گھر آئی تو اسے خوش آمدید کرنے والے بچوں پر پٹاخے پھینک کر انہیں ڈرانے کی کوشش کی گئی ۔ جب وہ نہ ڈری تو پھر ایک دن اس کے سر میں گولی مار کر پٹاخے پھوڑ کر اس کا قتل کر دیا گیا ۔یہ اتنا اندوہناک واقعہ تھا کہ تین دن تک پورے گھر کے بچے باؤلائے پھرتے رہے ۔ کبھی اپنی چیزیں توڑیں کبھی اپنی ہی بہنوں کو ماریں اور ان سے بدتمیزیان کریں ۔ اس سب میں چوکیدار کوئی کہیں نظر نہ آیا ۔البتہ چاچا پیجا یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ بے نظیر کی موت کی قیمت دینی پڑے گی تو اس نے ایک بار پھر سب کو اپنا رہبر چننے کا موقع دے کر بے نظیر کے اہل و عیال میں سے آصف کو گھر کا کنٹرول دے دیا ۔ اس گھر میں جہاں بار بار کے چوکیدار بغاوتیں کر کر کے گھر پر قبضہ کرتے رہتے تھے اس عمل کو روکنے کی کوشش میں آصف نے سب بچوں کو ساتھ ملایا اور چاچے پیجے کو پکڑ کر بٹھا لیاجب ساری جاتی دیکھی تو چاچے پیجے نے سودے بازی کی اور اوپر اوپر سے رہبری اور اختیار آصف کو دے دیا۔ آصف نے بڑی سمجھداری سے اس اختیار میں رہتے ہوئے اسے یوں استعمال کیا کہ بچے چیخیں یا روئیں کسی کو نظر نہ آ سکا کہ بظاہر یہ اپنوں کی رہبری ہے لیکن یہ اپنے تو چوکیداروں کے ہاتھوں یرغمال تھے ۔ جانتے تھے کہ جب سے گھر الگ ہوا ہے چوکیدار ہی کسی نظام کے ماتحت نہیں آ رہے ۔ تو انہیں آہستہ آہستہ نظام کے ساتھ ساتھ چلاتے چلاتے پیچھے کرتے جائیں گے ۔

سوچ تو غلط نہ تھی لیکن وسائل نہ تھے ۔ اسلحہ تمام تر چوکیداروں کے ہاتھ میں تھا ۔ بچے انہیں اپنا بھائی سمجھتے تھے اور وہ بھی بچوں کے بھائی تھے لیکن اپنے لئے وہ حکم کے غلام تھے ۔ اگر حکم ہو کہ ایک چوکیدار اپنے بھائی اپنے خون کو مار دے تو چوکیدار اس سب پر مستعد ہوتے تھے ۔جس بچے کا اپنا بھائی چوکی دار بن جاتا تو وہ خود بھی فخر کا شکار ہو جاتا ۔ گھر بھر میں چوکیداروں کی تعریف میں دن رات ایک ہونے لگے اور چوکیدار آہستہ آہستہ گھر کے (نعوذ باللہ) منی خدا کی تفسیر بننے لگے ۔ ان کی مرضی سے رہبر آتے ، ان کے سامنے پورے گھر میں کوئی نہ بولتا ۔ جہاں ایک چوکیدار ہوتا وہاں بیسیوں بچے اس کی حمایت میں کھڑے ہوجاتے ۔ یہ سب لمبے عرصے کی اس پراپیگنڈا مہم کا نتیجہ تھا کہ چوکیدار گھر والوں سے زیادہ نہ صرف طاقت ور ہوتے گئے بلکہ غیر اعلانیہ حکمران بھی متصور ہوئے ۔ اب آصف کا وقت مکمل ہوا تو چاچا پیجا گھر سے نکل کر شیخ کندورے کے گھر جان پہنچا تھا اور نواز بھی حاجی لق لق کے گھر سے نکل کر گھومتا گھامتا گھر واپس آ ہی چکا تھا ۔اس دوران اختیار و سلطت کے میدان میں عمران بھی آ چکا تھا ۔ یہ لمبے عرصے سے کھدی کھنڈا کھیلنے والا لونڈا تھا ۔ بس اسے گھر بھر کے بچوں کی حالت پر دکھ ہوا تو اس نے بیڑا اٹھایا کہ وہ بچوں کی حالت سدھارے گا ۔ لیکن بچے اسے تسلیم نہ کرتے تھے ۔ البتہ آصف کے بعد باری نواز کو ملی اور اسے رہبری کے نام پر چوکیدار چاچا کی گودی کے مزے بھی ملے اور ساتھ گولیاں ٹافیاں ںالگ سے ملیں ۔ عمران چیخ چیخ کر ان کی ملی بھگت سب کو بتانے کی کوشش کرنے لگا ۔ کبھی نواز کبھی آصف کبھی نواز تو کبھی شہباز یہ سب اسی نورا کشتی کا نتیجہ تھا جو بچوں کو بے وقوف بنانے کے لئے سب کھیلتے آرہے تھے ۔
 
سوچ تو غلط نہ تھی لیکن وسائل نہ تھے ۔ اسلحہ تمام تر چوکیداروں کے ہاتھ میں تھا ۔ بچے انہیں اپنا بھائی سمجھتے تھے اور وہ بھی بچوں کے بھائی تھے لیکن اپنے لئے وہ حکم کے غلام تھے ۔ اگر حکم ہو کہ ایک چوکیدار اپنے بھائی اپنے خون کو مار دے تو چوکیدار اس سب پر مستعد ہوتے تھے ۔جس بچے کا اپنا بھائی چوکی دار بن جاتا تو وہ خود بھی فخر کا شکار ہو جاتا ۔ گھر بھر میں چوکیداروں کی تعریف میں دن رات ایک ہونے لگے اور چوکیدار آہستہ آہستہ گھر کے (نعوذ باللہ) منی خدا کی تفسیر بننے لگے ۔ ان کی مرضی سے رہبر آتے ، ان کے سامنے پورے گھر میں کوئی نہ بولتا ۔ جہاں ایک چوکیدار ہوتا وہاں بیسیوں بچے اس کی حمایت میں کھڑے ہوجاتے ۔ یہ سب لمبے عرصے کی اس پراپیگنڈا مہم کا نتیجہ تھا کہ چوکیدار گھر والوں سے زیادہ نہ صرف طاقت ور ہوتے گئے بلکہ غیر اعلانیہ حکمران بھی متصور ہوئے ۔ اب آصف کا وقت مکمل ہوا تو چاچا پیجا گھر سے نکل کر شیخ کندورے کے گھر جان پہنچا تھا اور نواز بھی حاجی لق لق کے گھر سے نکل کر گھومتا گھامتا گھر واپس آ ہی چکا تھا ۔اس دوران اختیار و سلطت کے میدان میں عمران بھی آ چکا تھا ۔ یہ لمبے عرصے سے کھدی کھنڈا کھیلنے والا لونڈا تھا ۔ بس اسے گھر بھر کے بچوں کی حالت پر دکھ ہوا تو اس نے بیڑا اٹھایا کہ وہ بچوں کی حالت سدھارے گا ۔ لیکن بچے اسے تسلیم نہ کرتے تھے ۔ البتہ آصف کے بعد باری نواز کو ملی اور اسے رہبری کے نام پر چوکیدار چاچا کی گودی کے مزے بھی ملے اور ساتھ گولیاں ٹافیاں ںالگ سے ملیں ۔ عمران چیخ چیخ کر ان کی ملی بھگت سب کو بتانے کی کوشش کرنے لگا ۔ کبھی نواز کبھی آصف کبھی نواز تو کبھی شہباز یہ سب اسی نورا کشتی کا نتیجہ تھا جو بچوں کو بے وقوف بنانے کے لئے سب کھیلتے آرہے تھے ۔

c611f13fb5b8f3e6be38ee1110db6a31.jpeg

اب جب کہ عمران شور شرابہ کر رہا تھا اس دوران چوکیداروں کا سربراہ راحیل بن چکا تھا جو اپنی مدت پوری کر کے حاجی لق لق کی حویلی میں چوکیدارا کرنے لگا تھا ۔ جبکہ نواز کے ساتھ محمد علی کی حویلی میں قمر چوکیداروں کا سربراہ بنا یہ قمر بھی اپنے پیشروؤں سے ہرگز کم نہ تھا ۔ اس نے شطرنج کی نئی بساط بچھائی اور نواز کو مکمل سپورٹ دی لیکن بچوں کے جذبات سے کھیلتے ہوئے نواز بنائے ہوئے ایک توہین کے قانون میں سقم دریافت کرنے میں اور اس سقم کو استعمال کر کے نواز کو بچوں کی نظروں میں برا بنانے میں بھی اپنے خادم چورن فروش کے کارندوں کے ذریعے عوام الناس یعنی بچوں کو خوب مصالحے اور غیر صحت مندانہ سرگرمیوں کا موقع فراہم کر دیا ۔ بچے تو بچے ہوتے ہیں دین کے لئے ، ملک کے لئے ، گھر کے لئے ، بڑوں کی عزت و ناموس کے لئے لڑنے بھڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ ایسا ہی ہوا ۔ گھر کے ماحول میں تشویش پھیلتی جا رہی تھی ۔
دوسری طرف عمران نے اپنے دوست طاہر کے ساتھ مل کر گھر میں دھرنا دے رکھا ہے کہ نواز کو رہبری سے فارغ کیا جائے اور اس عمل کو تیزی سے بچوں کی حمایت ملتی جا رہی تھی ۔ اب چوکیداروں کو اس سلسلے میں کچھ واضح نہیں تھا کہ وہ ان کی کٹھ پتلی بن سکے گا کہ نہیں ۔ انہوں نے نواز سے ڈیل کی کہ عمران کا پتہ صاف کرتے ہیں ۔دوسری طرف عمران کے یار دوستوں کی جگہ تمام تر اپنے لوگ لگا دیئے ۔ جہانگیر، فواد، اسد ، علیم ، اور دیگراں کو اس کے ادراگرد ایسے پھیلایا کہ اسے احساس ہی نہ ہو سکا کہ وہ تو چوکیدار کے پٹھؤں میں گھر چکا ہے ۔ پھر عمران سے ایک ڈیل کرنے کی کوشش کی ایک طرف اپنے لوگوں کے ذریعے اس کی برین واشنگ کی کوشش دوسری طرف سے سودے بازی کا عمل جاری کر دیا جاتا ہے ۔ عمران کو نظر آگیا تھا کہ چوکیدار سے ملی بھگت کئے بغیر گھر کے بچوں پر نواز اور آصف بمع اہل و عیال کی بے ایمانیوں کا کچا چٹھا نہیں کھل سکے گا۔لہذا اند ر ہی اندر وہ راضی ہو گیا کہ ایسے میں جب نواز چوکیداروں کے پاؤں پڑ رہا تھا کہ عمران کو اٹھاؤ اور شہباز جو نواز کا بھائی تھا اس نے طاہر کے بہن بھائیوں میں کچھ کا براہ راست قتل کروا دیا جس سے طاہر اپنے بھائی بچوں کو بچانے کے لئے اس دھرنے سے نکلنے کو تیار ہو گیا تھا لیکن اس کے پاس اپنی عزت بچانے کے لئے کوئی واضح سبب نظر نہیں آ رہا تھا ۔ اب صورت حال کچھ یوں تھی کہ

1۔ نواز عمران کا دھرنا ختم کرانا چاہتا تھا اور اس کی کوئی بھی قیمت دینے کو تیار تھا۔

2۔ عمران ڈیل کرنے کو تیار تھا اور کسی بھی قیمت پر نواز اور شہباز کو ہٹانا چاہتا تھا۔اور اصولی طور پر دھرنا بند کرنے کو تیار تھا لیکن عزت بچانا اور کسی کے سر احسان کر کے دھرنا بند کرنا ضروری تھا۔

3۔ طاہر دھرنے کے مسئلے سے باہر نکلنا چاہتا تھا لیکن عزت بچانے کے لئے کسی کے سر پر احسان کرنا ضروری تھا ۔

4۔ خادم کا چورن اچھی طرح بک رہا تھا اور آنے والے وقتوں کے لئے اثاثے زیر تعمیر تھے ۔ بس تربیت ضروری تھی۔

ایسے میں جب یہ تمام تر ڈرامے عروج پر تھے اچانک ایک ایسا سانحہ ہوتا ہے جو تمام گھر کو ہلا کر رکھ دیتا ہے ۔ اور وہ سانحہ ہے چوکیداروں کے زیر اہتمام ایک پڑھنے کی جگہ پر جہاں عام بچے بھی پڑھتے تھے کچھ ایسے بچے حملہ کر دیتے ہیں جو ظاہر شاہ کے گھر میں موجود کچھ ناراض بچوں کے ساتھی تھے اور ان کے ہاتھوں محمد علی کے گھر کے بہت سے بچوں کا قتل عام ہوجاتا ہے ۔ ایسے میں چوکیداروں کی طرف سے کاروائی کی جاتی ہے اور حملہ آور بچوں کو قتل کردیا جاتا ہے اور بہت سے اپنے معصوم بچے بچا لیئے جاتے ہیں۔

عمران اور طاہر فورا اپنے گھر سے یک جہتی کے لئے اپنا دھرنا ختم کر دیتے ہیں انہیں اپنی عزت بچانے کا موقع قدرتی طور پر مل گیا اور نواز کا مسئلہ بھی حل ہو گیا۔ ایسے میں چوکیداروں کے اختیارات کو اور وسیع کر دیا جاتا ہے کہ وہ گھر کے بچوں کی مکمل حفاظت کا فرض انجام دے سکیں ۔ اسی دوران خادم چورن فروش اور اس کے چورن کے خریداروں نے نواز کے خلاف دھرنا دے دیا ۔اب اس سے جان چھڑانا نواز کے لئے مشکل ہو گیا اور پھر اسی دوران پتہ چلا کہ نواز نے تو گھر سے بہت رقمیں چرائی ہیں اور ان رقموں سے اس نے گوروں کے محلے میں ملک برٹ کے گھر میں کمرہ خرید رکھا ہے ۔معاملہ محمد علی کے گھر کی عدالت میں پہنچا تو نواز اور اس کی بیٹی مریم دونوں پر الٹے سیدھے الزام ثابت کر کے حکم سزا ہاتھ میں تھما دیا گیا اس طرح نواز کو بھی نکال باہر کر دیا گیا اور محمد علی کی حویلی میں ہر طرف شور مچ گیا ۔ نواز ہر جگہ یہی شور کرتا مجھے کیوں نکالا ، مجھے کیوں نکالا؟؟

اسی دوران چوکیداروں نے اعلان کیا کہ سانحہ چوکیداری مدرسے کے ذمہ دار احسان کو پکڑ لیا گیا ہے اور اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گی پھر اس کے متعلق کسی کو کچھ پتہ نہیں چلنے دیا جاتا

اسی شور شرابے میں نیا رہبر چننے کا وقت آن پہنچا اور بچوں نے اپنا رہبر چننے میں واضح طور پر کسی کو نہیں چنا ۔ کچھ بچوں نے نواز کے بچے کھچے ساتھیوں کو چنا جبکہ کچھ بچوں نے عمران کو چنا اور کچھ بچوں نے آزاد نمائندے چنے جنہیں چوکیداروں نے اندر کھاتے خرید کر عمران کے ساتھ کھڑے کر دیا ایسے میں ایسے میں جبکہ بظاہر عمران رہ بری کی پوزیشن میں آچکا تھا وہ دراصل یرغمال بن رہا تھا چوکیداروں کے ہاتھوں میں اور دوسری طرف نواز اور مریم اپنے معاملات میں برے کاموں کے نام پر بری طرح پھنس چکے تھے ۔اندر ہی اندر چوکیداروں سے بلک بلک کر مدد طلب کر رہے تھے ۔ اب ایسی صورت حال میں جب وہ مصیبت میں تھے تو مددگار چوکیداروں نے انہیں ایک طرف تو نواز کو ملک برٹ کی حویلی کی طرف بھاگ جانے کا موقع دیا دوسری طرف مریم کو بہانے سے یوں کھیل سکھایا کہ وہ عمران کے سامنے نئی سے نئی بک بک جھک جھک لانے لگی ۔ سب بچے جانتے تھے کہ مریم ہو یا عمران یا آصف یا پھر کوئی اور چوکیداروں کی کٹھ پتلی بنے بنا وہ رہ بری کا کام نہیں کر سکتے تھے ۔اتنے میں ملک برٹ کے محلے میں میاں پٹیناں والا اور ولادی میر کے گھروں میں لڑائی کا امکان ہوتا جا رہا تھا میاں پٹیناں والا ولادی میر کو منع کر رہا تھا کہ تم انجمن مراثیاں میں شامل مت ہونا کیونکہ میری ان سے دشمنی ہے اور تم میرے ہمسائے ہو اگر تم ان کے یار بن گئے تو میرے دروازے پر دشمن آ کر بیٹھ جائے گا لیکن ولادی میر کو میاں پٹیناں والے کی بات سمجھ نہ آ رہی تھی ۔ دوسری طرف کافی عرصے سے چوکیداروں کا منصوبہ تھا کہ میاں پٹیناں والے سے بھی تھوڑے تعلق واسطے بنائے جائیں کہ چلو ہور کچھ نہ سہی تھوڑا بالن شالن سستا مل جائے گا ۔ تو انہوں نے عمران کو بتایا کہ یہ منصوبہ ہے تمہیں جانا ہے۔ عمران تو پہلے ہی ہر جگہ یہ کہتا پھرتا تھا کہ ہم اور چوکیدار ایک پیج پر ہیں مطلب میرا کنٹرول ان کے ہاتھ میں ہے وہ فورا تیار ہو گیا ۔اور ایک دن عمران نے اپنی حویلی سے نکل کر میاں پٹیناں والے کی حویلی کا رخ کیا۔ ابھی یہ وہاں پہنچے ہی تھے کہ میاں پٹیناں والے کے بچے اور چوکیدار مل کر ولادی میر کے گھر پر حملہ آور ہو گئے ۔ یہ ایسا کام تھا جس کی توقع نہ عمران کو تھی نہ قمر کو البتہ وہ وہاں مل ملا کر اپنے گھر واپس آگئے ۔

عمران کٹھ پتلی تھا لیکن جسے وہ درست سمجھتا اپنی اس بات پر قائم رہنا اپنی عزت سمجھتا تھا ۔ چاچے سام کے گھر میں محمد علی کے گھر کا ایک بچہ تھا جسے چاچے سام کے گھر کے ایک بچے نے جو کوئی بھی بات چاچے سام سے پوچھے بغیر نہیں کرتا تھا ایک جگہ مل کر کہا کہ عمران کا یہ کام کہ وہ میاں پٹیناں والے سے تعلق بڑھائے ہمیں پسند نہیں ہے۔اور ہمارے دوستوں کو یعنی انجمن مراثیاں کو بھی یہ کام پسند نہیں آیا ۔ اب اگر تمہارے گھر کے بچے خود ہی مل کر عمران کو رہ بری سے ہٹا دیں تو ہم تمہارے سارے گناہ معاف کر دیں گے نہیں تو یہاں سے آگے مشکل وقت شروع ہو جائے گا ۔محمد علی کے گھر کا بچہ جسے یہ پیغام دیا گیا اس نے اپنے گھر یہ پیغام پھولوں میں چھپا کر بھیج دیا جو عمران کو دکھایا گیا ۔ تو عمران کو بہت غصہ آیا کہ یہ کیسے کہ ہمارے گھر میں ہمارے ہی بچوں کو دوسرے گھر کا آلہ کار بننے کا کہا جا رہا ہے ۔لیکن یہیں پہ دھوکا کھا گیا عمران ۔ کہ جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ۔ چاچے سام کے ایجنٹ کوئی نقصان کرتے تو کیا کرتے اپنے ہی گھر میں قمر، نواز کا بھائی شہباز ، نواز کی بیٹی مریم ، آصف ، اس کا بیٹا بلو ، فضلو ، اور عمران کے ہی ساتھیوں میں سے چالیس پچاس ساتھی مل کر چاچے سام کو خوش کرنے کے لئے خود ہی اپنی عزت پلیٹ میں رکھ کر پیش کرنے کو مستعد بیٹھے تھے ۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار چوکیدار اور بچوں کے نمائندے چاچے سام کے گھر کے ایک بچے کے ایک مشورے پر گھر بار ، دھوتیاں پگڑیاں کھول کر ۔تمبیاں شمبیاں اتار کر لیٹ گئے اور سب نے مل کر عمران کو رہ بری سے فارغ کر دیا۔ اس طرح عمران بھی چک کے مودھا مار دیا گیا۔

پھر ایک بار پھر اسی دوران چوکیداروں نے اعلان کیا کہ سانحہ چوکیداری مدرسے کا ذمہ دار احسان فرار ہو گیا ہے اور اسے تلاش کر کے پکڑ کے سخت سے سخت سزا دی جائے گی پھر اس کے متعلق کسی کو کچھ پتہ نہیں لگ سکا ۔
 
آخری تدوین:
عمران نے نکلتے ہی شور مچا دیا کہ میرے خلاف سازش ہوئی ہے اور چاچے سام کے کہنے پر گھر کے بچوں نے چوکیدار سے مل کر مجھے رہ بری سے فارغ کر دیا ہے۔ دوسری طرف آنے والے بچوں نے شہباز کو رہ بر چن لیا اور بیٹھ گئے ۔ چوکیداروں نے ہلا شیری دی اور شہباز کے حمایتیوں نے عمران کے ساتھیوں کا جینا اجیرن کر دیا۔ نہ دستور کی مانی نہ اصول کی مانی اور ہر طریقے سلیقے کی والدہ ہمشیرہ کرنے لگے ۔ چوکیدار اور شہباز ایک جان دو قالب تھے اسی دوران چوکیداروں کا سربراہ قمر سے حافظ ہو گیا اور اس نے آتے ہی گھر کے مفاد میں شہباز کا ساتھ دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا۔عمران نے بچوں کو متحرک کرنا شروع کر دیا ۔ اور عمران کو حافظ کے ساتھی فیصل چیتے کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ اس کی جان کا دشمن بن گیا ہے ۔ اب چاچے سام پر الزام لگاتے عمران کو جھوٹا ثابت کرنا تھا تو انہوں نے ایک میٹنگ بلوائی اور اس کے بعد اعلان کر دیا کہ چاچے سام کے گھر سے جو خط ہمیں ہمارے بندے نے بھیجا تھا اس میں سازش کے الفاظ یا ثبوت نہیں ملا ۔ حالانکہ یہ تو ہر بندہ سمجھ سکتا ہے کہ کیا ہوا تھا ۔ کیسے چاچے سام کے گھر کا بچہ محمد علی کے گھر کے بچے کو میٹنگ میں یہ کہہ سکتا تھا کہ اگر عمران کو یہ پراسیس پورا کر کے نکال دیا جائے تو چاچا سام سب معاف کر دے گا ۔ محمد علی کے گھر کے بکاؤ بچوں کے لئے تو اتنی شہ ہی کافی تھی ۔ لیکن جناب یہ سب اعلامیے جاری کر کے خوش کہ لو جی عمران جھوٹا ثابت ہو رہا ہے ۔ ایک بار عمران پر گولی چلائی جاتی ہے۔ اور عمران معمولی زخمی بھی ہوتا ہے ۔ چوکیدار اور شہباز کے ہرکارے عمران پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں سینکڑوں جگہ سے عمران کو الزامات کی صفائی کے لئے حاضری کے حکم نامے ملنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اس کے کمرے پر چھاپے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں اور چھاپے مارنے والا ہرکارہ شہباز کے ماتحت ہوتا ہے ۔ عمران کے ہمدرد بچے اس ہرکارے کی کئی کوششوں کو ناکام بنا دیتے ہیں ۔ دوسری طرف انصاف کرنے والے کے پاس درخواستوں پر درخواستیں جمع ہوتی جاتی ہیں ۔ اور وہ کوشش کرتا ہے کہ ایک ایک کر کے صفائی لی جا سکے لیکن شہباز کے ساتھی اور ہرکارے ہر کوشش میں اپنی بدمعاشی چلاتے ہیں ۔ اس سب میں ایک دن چوکیداروں کا ایک گروپ مقام عدل کے اندر سے عمران کو زبردستی غلط طریقے سے اٹھا کر لے جاتا ہے اور اس کی ویڈیو گھر بھر کے بچوں میں پھیلائی جاتی ہے ۔تاکہ گھر کے بچے غصہ میں آئیں اور احتجاج کریں ۔ یہ کوشش کامیاب ہو جاتی ہے اور عمران کے حمایتی اور گھر سے محبت کرنے والے بچے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا ۔گھر کا بچہ چوکیدار کیسے اٹھا کر لے جا سکتے ہیں جو قانون اور اصول دونوں کے مطابق غلط تھا۔ لیکن اس موقع کا انتظار کرتے شہباز اور حافظ کے ہرکارے اس احتجاج کے دوران چوکیداروں کے کچھ کمروں میں اور کچھ ڈیکوریشن پیسز کو توڑ پھوڑ کر دیتے ہیں ۔ عمرانی حمایتیوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلتی ہے لیکن شہباز میڈیا اس کی خبر نہیں دیتا کہ کتنے لوگ سڑکوں پر نکلے ان پر چوکیداروں کی طرف سے فائرنگ بھی ہوتی ہے لیکن شہباز میڈیا اس کی خبر بھی کھا جاتا ہے البتہ ان کی توڑ پھوڑ کا چیخ چیخ کر اعلان کیا جاتا ہے ۔اور انہیں گھر کا غدار کہا جاتا ہے ۔ شہباز اور حافظ اعلان کرتے ہیں کہ عمرانی حمایتیوں کو وہ چن چن کا اٹھائیں گے اور ان پر چوکیداری قوانین کے مطابق مقدمات چلائیں گے جن میں چوکیدار ہی وکیل ہونگے ، چوکیدار ہی جج اور چوکیدار ہی مدعی ہونگے ۔اس سب کا نتیجہ بچوں میں شہباز اور چوکیداروں سے نفرت پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے ۔ کیونکہ سب دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ غلط ہے اور اس سب کی کوئی منطق اور اصول نہیں ہے لیکن جب طاقت ننگی ہو کر اپنے شکار پر ٹوٹ پڑتی ہے تو کہاں کی منطق اور کہاں کا اصول ۔ اور یہی محمد علی کے گھر کا آج کا سچ ہے۔ بچوں میں محرومی، بے بسی اور مظلومیت کا احساس انہیں چوکیداروں سے محبت کرنے سے روکتا ہے جبکہ اپنے ہی گھر میں اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں لٹنے اور مرنے کے باوجود یہ گھر ان بچوں سے کیسے توقع کر سکتا ہے کہ وہ اب بھی اس کی محبت کے گیت گائیں؟ بھوک ، ننگ ، بیماریاں ، سب دیکھا اس گھر کی خاطر اور جواب میں کیا ملا؟ طاقت والوں کے خلاف الگ قانون اور عام بچوں کے خلاف الگ قانون ۔ اپنی مرضی سے دستور کے مطابق بھی جینے کا حق نہ ملنا اور پھر یہی مانگ ۔ یہ گھر تو تمہارا ہے ۔ تم ہو پاس بان اس کے ۔ گھر کی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ان آخری دنوں میں دیکھنے کو ملی ۔ لیکن کسے پروا ہے ۔ حافظ ہو یا شہباز ہو یا کاکڑ ۔ ان کی دنیا الگ، ان کے لئے اصول و قانون الگ اور ان کے حقوق الگ۔ رہ گئے باقی رہتے بچے؟؟ وہ تو پہلے بھی کیڑے مکوڑے تھے اور آج بھی کچھ اس سے بلند درجہ نہیں ملا انہیں ۔
 
Top