گنیش بہاری طرزؔ : مجھے دے کے مے میرے ساقیا! میری تشنگی کو ہوا نہ دے

سید زبیر

محفلین

مجھے دے کے مے میرے ساقیا! میری تشنگی کو ہوا نہ دے​
میری پیاس پر بھی تو کر نظر، مجھے میکشی کی سزا نہ دے​
میرا ساتھ، اے میرے ہمسفر! نہیں چاہتا ہے، تو جام دے​
مگر اس طرح سرِ راہگزر مجھے ہر قدم پہ صدا نہ دے​
میرا غم نہ کر میرے چارہ گر، تیری چارہ جوئی بجا مگر​
میرا درد ہے میری زندگی، مجھے دردِ دل کی دوا نہ دے​
میں وہاں ہوں اب میرے ناصحا! کہ جہاں خُوشی کا گزر نہیں​
میرا غم حدّوں سے گزر گیا، مجھے اب خُوشی کی دُعا نہ دے​
وہ گِرائیں شوق سے بجلیاں، یہ سِتم کرم ہیں سِتم نہیں​
کہ وہ طرزؔ برقِ جفا نہیں، جو چمک کہ نُورِ وفا نہ دے​
​
گنیش بہاری طرزؔ​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top