کیوں کرتے ہو تم خامہِ مجبور سے شکوہ؟

سید ذیشان

محفلین
ایک غزل اصلاح کے لئے پیش خدمت ہے۔(نوٹ: اس میں صوتی قوافی کا ستعمال کیا ہے)

کیوں کرتے ہو تم خامہِ مجبور سے شکوہ؟
شاہوں کا نمک خوار ہے خوں ان کو ہی دے گا
آنی نہیں اس تیرگی میں نصرتِ غیبی
بن روشنی کر کے تو ہی قدرت کا اشارہ
گو راہ کی دشواریوں کی فکر بجا ہے
تھا شوقِ سفر، وہ انہی افکار نے مارا
ہے نورِ محبت سے دلِ غم زدہ روشن
اور چرخِ زر افشاں پہ ہے تاروں کا چراغاں
دشواریوں کے ڈر سے مرے ہاتھ سے چھُوٹی
جوں باگ زمانے کی، قضا نے اِسے تھاما
عاشق کو ترے وعظ کی حاجت نہیں، اس نے
اسباق کو آفاق کے اوراق سے سیکھا
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
مجرد قوافی ہیں، صرف ایک جگہ ’صوتی‘ قافیہ ہے، کہ ’چراغاں‘ کو ’چراغا‘ کی طرح باندھا گیا ہے۔ بھئی، ایسی آسان بحروں میں اس کی کیا ضرورت؟ میرا مشورہ ہے کہ اس شعر کو زنبیل میں دال کر رکھ دو۔ کسی دوسری جگہ کام میں لیا جا سکتا ہے۔ کم از کم میں اسے صوتی قافیہ نہیں مان سکتا۔ س یا ص، ز۔ ض، ذ کے قوافی مانے جا سکتے ہیں۔لیکن اس میں تو نون غنہ کی آواز واضح ہے۔ صوتی کیسے ہوا؟
 

الف عین

لائبریرین
یہ دو اشعار بہت خوب
ہے نورِ محبت سے دلِ غم زدہ روشن
اور چرخِ زر افشاں پہ ہے تاروں کا چراغاں

عاشق کو ترے وعظ کی حاجت نہیں، اس نے
اسباق کو آفاق کے اوراق سے سیکھا
لیکن باقی اشعار ذرا ترسیل و ابلاغ کے مسائل کا شکار ہیں۔
اس کے علاوہ
کر روشنی، بن جا تو ہی قدرت کا اشارہ
میں کر۔روشنی میں ر کی تکرارہے
اور
پر شوقِ سفر بھی انہی افکار نے مارا
پر بمعنی ’لیکن‘ بول چال میں تو چل سکتا ہے، فصیح شاعری میں نہیں۔
 

سید ذیشان

محفلین
مجرد قوافی ہیں، صرف ایک جگہ ’صوتی‘ قافیہ ہے، کہ ’چراغاں‘ کو ’چراغا‘ کی طرح باندھا گیا ہے۔ بھئی، ایسی آسان بحروں میں اس کی کیا ضرورت؟ میرا مشورہ ہے کہ اس شعر کو زنبیل میں دال کر رکھ دو۔ کسی دوسری جگہ کام میں لیا جا سکتا ہے۔ کم از کم میں اسے صوتی قافیہ نہیں مان سکتا۔ س یا ص، ز۔ ض، ذ کے قوافی مانے جا سکتے ہیں۔لیکن اس میں تو نون غنہ کی آواز واضح ہے۔ صوتی کیسے ہوا؟
یہ دو اشعار بہت خوب
ہے نورِ محبت سے دلِ غم زدہ روشن
اور چرخِ زر افشاں پہ ہے تاروں کا چراغاں

عاشق کو ترے وعظ کی حاجت نہیں، اس نے
اسباق کو آفاق کے اوراق سے سیکھا
لیکن باقی اشعار ذرا ترسیل و ابلاغ کے مسائل کا شکار ہیں۔
اس کے علاوہ
کر روشنی، بن جا تو ہی قدرت کا اشارہ
میں کر۔روشنی میں ر کی تکرارہے
اور
پر شوقِ سفر بھی انہی افکار نے مارا
پر بمعنی ’لیکن‘ بول چال میں تو چل سکتا ہے، فصیح شاعری میں نہیں۔

بہت شکریہ۔ آپ کے تمام مشورے بہت مفید ہیں۔
 

سید ذیشان

محفلین
یہ دو اشعار بہت خوب
ہے نورِ محبت سے دلِ غم زدہ روشن
اور چرخِ زر افشاں پہ ہے تاروں کا چراغاں

عاشق کو ترے وعظ کی حاجت نہیں، اس نے
اسباق کو آفاق کے اوراق سے سیکھا
لیکن باقی اشعار ذرا ترسیل و ابلاغ کے مسائل کا شکار ہیں۔
اس کے علاوہ
کر روشنی، بن جا تو ہی قدرت کا اشارہ
میں کر۔روشنی میں ر کی تکرارہے
اور
پر شوقِ سفر بھی انہی افکار نے مارا
پر بمعنی ’لیکن‘ بول چال میں تو چل سکتا ہے، فصیح شاعری میں نہیں۔

آپ کے مشورے پر ان اشعار کو تبدیل کر دیا ہے:

کیوں کرتے ہو تم خامہِ مجبور سے شکوہ؟
شاہوں کا نمک خوار ہے خوں ان کو ہی دے گا
آنی نہیں اس تیرگی میں نصرتِ غیبی
بن روشنی کر کے تو ہی قدرت کا اشارہ

گو راہ کی دشواریوں کی فکر بجا ہے
تھا شوقِ سفر، وہ انہی افکار نے مارا

دشواریوں کے ڈر سے مرے ہاتھ سے چھُوٹی
جوں باگ زمانے کی، قضا نے اِسے تھاما
 
Top