کیوں وہ کرتے ہیں مگر بات پریشانی کی ۔۔۔ زنیرہ گل (برائے اصلاح)

زنیرہ عقیل نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 4, 2018

ٹیگ:
  1. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل محفلین

    مراسلے:
    384
    پیار کی عمر نہیں عمر ہے نادانی کی
    کیوں وہ کرتے ہیں مگر بات پریشانی کی
    مجھ کو رکھنا ہے قدم سوچ سمجھ کر ہر پل
    فکرپھرنہ ہو بڑھاپے میں اس جوانی کی
    در بدر ٹھوکریں کھانے سے تو بہتر یہ ہے
    اپنے مسکن میں رہوں فکر ہو ویرانی کی
    میں نے چن لی ہے نئی راہ سفر کی خاطر
    اب نہ منزل کی نہ ہی فکر ہے نشانی کی
    تیرنا آتا نہیں "گُل" کو کنارہ ہے پسند
    مجھے ساحل پہ نہیں وحشت ِعمق پانی کی



    زنیرہ "گُل"​
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 5, 2018

اس صفحے کی تشہیر