کیا یہ بھی زندگی ہے کے راحت کبھی نا ہو ۔

عمر سیف

محفلین
کیا یہ بھی زندگی ہے کے راحت کبھی نا ہو ​
​
کیا یہ بھی زندگی ہے کے راحت کبھی نا ہو ​
ایسی بھی تو کسی سے محبت کبھی نا ہو ​

وعدہ ضرور کرتے ہیں آتے نہیں کبھی ​
پھر یہ بھی چاہتے ہیں شکایت کبھی نا ہو ​

شام وصال بھی یہ تغافل یہ بےرخُی ​
تیری رضا ہے مجھ کو مسرت کبھی نا ہو ​

احباب نے دیئے ہیں مجھے کس طرح فریب ​
مجھ سا بھی کوئی سادہ طبیعت کبھی نا ہو ​

لب تو یہ کہہ رہے ہیں کے اٹھ ، بڑھ کے چوم لے ​
آنکھوں کا یہ اشارہ کے جرات کبھی نا ہو ​

دل چاہتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن ​
مجھ کو تو تیرے خیال سے فرصت کبھی نا ہو . . . !​
​
کرشنا موہن​
​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top