کیا مہنگے اسکول میں پڑھنے والے بچے بہتر ہوتے ہیں؟

جاسم محمد نے 'تعلیم و تدریس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 24, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,417
    کیا مہنگے اسکول میں پڑھنے والے بچے بہتر ہوتے ہیں؟
    23/09/2019 ظفر عمران
    ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے، کہ اُن کی اولاد پڑھ لکھ کر کسی اعلا مقام تک پہنچے۔ عمومی طور پر ”اعلا مقام“ سے مراد، سرکاری ادارے میں افسر ”لگ جانا“ لیا جاتا ہے۔ میری اہلیہ سرکاری ادارے میں افسر ہیں، دس برس پہلے ہم کراچی میں ایک سرکاری کالونی میں سکونت پذیر تھے، جہاں قریب ہی اُن کی ڈیوٹی تھی۔ میرے بچوں کی ماں نے چاہا، کہ بچوں کو ایک ایسے نجی اسکول میں داخل کروا دیا جائے جو سرکاری کالونی سے باہر، اور گھر سے خاصا دُور تھا۔

    میرا کہنا تھا، کہ آپ جس سرکاری ادارے میں ہیں، اُس ادارے کے اسکولوں میں داخلے کے لیے والدین سفارشیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ کی ملازمت کی وجہ سے اس نیم سرکاری اسکول میں بچوں کا داخلہ کوئی مسئلہ ہی نہیں، دوسرا یہ کہ نجی اسکول سے فیس بھی تین چار گنا کم ہے۔ اُن دنوں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات معمول بننے لگے تھے۔ میں نہیں چاہتا تھا، کہ میرے بچوں کو کسی خطرے کا سامنا ہو۔ تکرار ہوئی تو میں نے آمرانہ اختیار کا استعمال کرتے حکم سنا دیا کہ میں اپنے بچوں کو خطرے میں ڈالنے کے بہ جائے ان پڑھ رکھنا پسند کروں گا۔ مجھے کچھ طعنے بھی سہنا پڑے، کہ آپ تو خوام خواہ خطرے سونگھتے پھرتے ہیں۔ کوئی مہینا بھر بعد رسال پور میں بچوں کو اسکول لے جانے والی بس پر دہشت گردوں کا ناکام حملہ ہوا، تو اہلیہ کو میری دانش پر اعتبار آیا۔

    میرے ہم سائے کے بچے گھر سے اٹھارہ بیس کلو میٹر دُور ایک ایسے نجی اسکول میں میں داخل تھے، جو پوش علاقے میں تھا۔ سرکاری ڈرائیور اُنھیں اسکول چھوڑنے جاتا، اور اسکول سے وا پس لاتا۔ میرے پڑوسی، افسر تو تھے، لیکن سرکاری ملازم کی تن خواہ کی ایک حد ہے، جس میں وہ اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھتا ہے۔ دس برس پہلے اُن کی تن خواہ ساٹھ ہزار کے لگ بھگ تھی، اور دو بچوں کی سہ ماہی فیس چالیس بیالیس ہزار۔ سچی بات ہے، میں نے اپنے بچوں کی تربیت پر کوئی خاص توجہ نہیں دی، لیکن میری نصف بہ تر کا بہت کردار رہا ہے۔ اُدھر پڑوسی کے بچے تھے، کہ طوفان۔

    ایک روز میں اور پڑوسی صاحب گلی میں چہل قدمی کرتے بیویوں کے رویے کا آفاقی دُکھ بیان کرتے اپنا اپنا غم ہلکا کر رہے تھے، کہ اُن کے دونوں بچوں کو آپس میں دست و گریبان پایا، جب کہ میرے بچے ایک طرف کھڑے حیرت سے یہ لڑائی دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے بے ساختہ کہا، اسکول سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں یونھی ان پر اتنا خرچ کر رہا ہوں۔ کچھ دن بعد انھوں نے اپنے بچوں کو اسی نیم سرکاری اسکول میں داخل کروا دیا، جہاں میرے بچے پڑھتے تھے۔

    میرے ایک کولیگ ایک دن دفتر دیر سے پہنچے۔ استفسار پر بتایا کہ بیٹے کے اسکول میں داخلے کے لیے انٹرویو دینے گئے تھے۔ میں حیران ہوا، کہ تمھارا بیٹا تو ابھی بہ مشکل چھہ ماہ کا ہے! انھوں نے ایک اسکول کا نام لیتے بتایا، کہ وہاں داخلے کے لیے دو دو تین تین سال پہلے رجسٹریشن کروانا پڑتی ہے۔ ماں باپ کا انٹرویو لیا جاتا ہے، وہ اتنے اہل ہیں یا نہیں، کہ ان کے بچوں کو اس اسکول میں داخلہ دیا جائے۔ یہ سن کے مجھے بہت کوفت ہوئی۔ میں نے کہا، انٹرویو تو والدین کو اسکول انتظامیہ نیز اساتذہ کا لینا چاہیے، کہ ہم بچے کو کس کے پاس پڑھانے بھیج رہے ہیں۔ انھوں نے ہنس کے میرا تمسخر اڑایا، کہ تمھیں کیا معلوم۔

    میں نے کہا، تم بچے کو اس اسکول میں داخل تو کروا رہے ہو، جہاں متمول خاندان کے بچے پڑھتے ہیں۔ تمھارا بچہ جب ہوش سنبھالتے اپنے دوستوں کو مہیا کی جانے والی آسایشوں کو دیکھے گا، تو احساس محرومی کا شکار ہو گا، کہ میرے باپ کے پاس وہ کچھ نہیں، جو میرے دوست کے باپ کے پاس ہے۔ ایسے سیکڑوں مثالیں دے سکتا ہوں، کہ ان کے بچے پڑھ کے نہ دیے اور والدین کف افسوس ملتے رہے کہ نہ کوئی بچت کی، نہ بچے پڑھ کے دیے۔ بچوں کو تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب بچوں کو وقت دیا جائے۔

    ہماری مڈل کلاس اس وقت سب سے مشکل میں ہے۔ اشرافیہ کی نقالی میں اس نے اپنے آپ کو اس قدر عذاب میں مبتلا کر لیا ہے، کہ کیا کہیے۔ اپنی اولاد کو منہگے اسکول میں داخل کروانے کی چاہ میں، اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ بچوں کے داخلے، فیسوں اور دیگر لوازمات پر صرف کرتے ہیں، جس کی قیمت ڈبل شفٹ میں کام کر کے ادا کر رہے ہیں۔ ان والدین کو دیکھتا ہوں، کہ کام کاج کا بوجھ اٹھائے دیر سے گھر آتے ہیں، پھر صبح جلدی کام پر جاتے ہیں، تو بچوں پر توجہ اور تربیت دینے کے لیے وقت نہیں۔

    ان اسکولوں کا احوال یہ ہے کہ طالب علم سالانہ امتحان میں فیل ہوجائے، تو اُس کے ذمہ دار والدین ہیں، یہ جواز دے کر اسکول سے بچے کا نام کاٹ دیا جاتا ہے۔ آپ کسی بھی اچھے سے اچھے اسکول کا نام لیں، وہاں پڑھنے والا بچے کو گھر میں ٹیوٹر رکھ کے دیا گیا ہے۔ یوں اُس بچے کے پاس نہ کھیلے کا وقت ہے، نہ کسی قسم کی تفریح کا۔ یہ سب کچھ وہ نسل کر رہی ہے، جو خود سرکاری اسکولوں میں پڑھ کے سرکاری، نیم سرکاری و نجی اداروں میں اچھے عہدوں پر ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر