کیا عورت مرد برابر ہیں؟

ظفری

لائبریرین
میرا سوال یہ ہے کہ ایسا سوال ہی کیوں پیدا ہوتا ہے :)
میرا خیال ہے کہ مرد تاحال اپنی حاکمیت کے غلط تصور سے نجات حاصل نہیں کرسکا ۔ اگر کہیں ایسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے تو ایسے کالم وجود میں آتے ہیں ۔ :)
گُل نوخیز اختر ایک مزاح نگار ہے ۔ اس نے جس پیرائے میں اس موضوع کو تختہِ مشق بنایا ہے ۔ اس کے برعکس کچھ صاحبان نے اس کو اپنی مذہبی اصطلاح کی آڑ میں لے لیا ہے ۔
یہ بات بلکل واضع ہے کہ اللہ نے اس دنیا میں جو بھی مخلوقات پیدا کی ہے ۔ ان کے درمیان مزاج ، عادت ، صلاحیت ، جبلت اور جسمانی ساخت کے لحاظ سے فرق رکھا ہے ۔ انسان کی حیثیت سے عورت اور مرد بلکل برابر ہیں ۔ ( یا کسی کو شک ہے ) ۔ :)
قرآن نے صاف لفظوں میں مرد و عورت کو آدم و حوا کی اولاد قرار دیا ہے ۔ نیز یہ بھی بتایا کہ " ہم نے تم کو نفسِ واحدیہ سے پیدا کیا اور اُسی سے تمہارا جوڑا بنایا ۔ لہذا اس بنیاد پر کوئی فرق مرد و عورت کے مابین نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن یہ بات بھی واضع ہے کہ اپنی عادت ، طبعیت ، مزاج اور جسمانی ساخت کے لحاظ سے عورت مرد سے " مختلف " ہے ۔ ۔ یہاں کوئی کمتر اور کمزور ہونا زیرِ بحث نہیں ہے ۔ بلکہ مختلف ہونا زیرِ بحث ہے ۔ جب وہ مختلف ہے تو بعض احکام میں بھی اختلاف ( فرق ) رہے گا ۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ جبلتی کیفیتوں میں بھی بہت فرق ہے ۔ جنسی اور نفسیاتی بنیاد پر بھی یہ فرق پایا جاتا ہے ۔ سو یہ ایک اختلاف ( فرق) ہے ۔ اور اس فرق کے بارے میں بھی قرآن مجید نے یہ بات واضع کی ہے کہ ان میں سے ہر چیز پر ہر صنف کو فخر کرنا چاہیئے ۔ یعنی اللہ نے جس میں اسے بنایا ہے اُسی میں اس کے لیئے فضلیت کے بہت سے مواقع ہیں ۔ یہاں کمتری اور برتری کسی بھی طور پر زیرِ بحث ہی نہیں ہے ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ عورت و مرد پیدا ہو رہے ہیں ۔ ان کے درمیان بھی یہ فرق یا اختلاف اپنی اپنی فضلیت کی بنیاد پر بہت واضع ہے ۔ مردوں میں کوئی شاعر ہے ، کوئی ادیب ہے تو کوئی سائنٹیس ہے ، کسی کو قیادت کی صلاحیت بخشی ہے ، کسی کو چیزوں کو سمجھنے کی بے انتہا صلاحیت بخشی ہے ۔۔ کوئی مہیز محنت کش ہے ۔ سو یہ فرق مردوں میں بھی بہت واضع ہے ۔ اسی طرح عورتوں کو دیکھ لیں تو ہمیں بھی یہ اختلاف وہاں بھی صاف نظر آتا ہے ۔ اللہ تعالی نے اس کائنات میں جو حسن پیدا کیا ہے وہ اختلاف اور تنوع سے کیا ہے ۔ اگر کوئی اس بات کا انکار کرتا ہے تو ایک واضع اور حقیقی بات کا انکار کررہا ہے ۔
اب اگلا مرحلہ وہ ہے جہاں سے حسبِ معمول غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہے ۔ :)
یعنی شریعت ۔۔۔ کہ اللہ تعالی نے وہاں کیا فرق رکھا ہے ۔ ہمیں اللہ نے جو شریعت دی ہے ۔ وہ فرقِ مراتب پر مبنی ہے ۔ یعنی خاندان کی بنیاد پر اللہ نے جو نظم قائم کیا ہے اس میں فرقِ مراتب کو پیشِ نظر رکھا ہے ۔ مثال کے طور پر انہی انسانوںمیں سے جب ہم کسی کو اپنا حکمران بنا لیتے ہیں تو یہ یہاں ایک مرتبہ کا فرق واقع ہوجاتا ہے ۔ انہی انسانوں میں سے کسی کو جب ہم اپنا استاد قرار دیکر اس کے پاس تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تو اس کی اور ہماری خلقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا مگر مرتبہ کا فرق نمایاں ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح والدین اور اولاد میں بھی یہ فرق فضلیت کے اعتبار سے واضع ہے ۔ جن قرآنی آیتیوں کا ذکر عورت و مرد کے درمیان فرق کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔ وہاں یہی فرقِ مراتب بیان کیا گیا ہے ۔ عورت اور مرد کے درمیان قوام اور غیر قوام کا کوئی رشتہ نہیں قائم کیا گیا ۔ جب ایک مرد اور عورت یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب ان کو بیوی اور شوہر بن کر رہنا ہے ۔ تو بیوی اور شوہر کے درمیان یہ فرقِ مراتب قائم کیا گیا ہے ۔ جس کو عموما لوگ مرد کی فضلیت سے گردانتے ہیں ۔ جب یہی بیوی ماں بنتی ہے تو یہاں بھی اللہ نے فرقِ مراتب وضع کیا ہے کہ ماں کو اپنی اولاد پر ایک درجے فضلیت حاصل ہے ۔خواہ اس کی اولاد مرد ہی کیوں نہ ہو ۔
دوسرا معاملہ تادیب کا ہے ۔ یعنی باپ بڑی عمر کو پہنچ جائے اور وہ اپنے بیٹے کو تادیب کرے تو حفظِ مراتب کے اصول کو سامنے رکھتے ہوئے شرافت اسی کو سمجھا جاتا ہے کہ آدمی اس کو قبول کرے ۔ بلکل یہی معاملہ فضلیت کے اعتبار سے " بیوی اور شوہر " کے درمیان بھی ہے ۔ یہ وہ تعلقات ہیں جن کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے احکامات دیئے ہیں ۔ نہ کہ عورت و مرد کے درمیان کوئی فرق روا رکھا ہے ۔ اگر ایسا معاملہ ہوتا تو ماں اور اولاد کے درمیان کوئی فرق نہیں رہتا ۔
شوہر کی حیثیت سے مرد کو بیوی پر ایک درجے فضلیت دی گئی کہ خاندان کا ادارہ مضبوط ہوسکے ۔ پھر وہی شوہر اور بیوی ، ماں باپ بنتے ہیں تو اولاد پر ان کو ایک درجے فضلیت حاصل ہوجاتی ہے کہ ادارے ( خاندان ) کو استحکام میسر آئے ۔ یہی حسن معاشرت ہے ۔ اور انہی اولادوں میں سے جب کوئی حکمران بنتا ہے تو اسے درجے کی فضلیت کے اعتبار سے تادیب کا حق حاصل ہوجاتا ہے ۔کیونکہ اس کے بغیر دنیا کا نظم نہیں چل سکتا ہے ۔
عورت و مرد میں تفریق مراتب کے فرق کی بنیاد پر رکھی گئی ہے ۔ اور یہی ہمارے معاشرے کی اساس ہے ۔ مغربی تہذیب کے بے انتہا غلبے کے باوجود ہمیں اس پر ڈٹ جانا چاہیئے کہ یہ وہ مقام ہے جس سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہے ۔ جس دن باپ اور بیٹے ، حکمران اور رعایا اور بیوی اور شوہر کے درمیان یہ فرقِ مراتب قائم نہیں رہے گا تو خاندان ختم ہوجائیں گے اور معاشرہ انتشار کا شکار ہوجائے گا ۔
 

ظفری

لائبریرین
قرآنِ کریم کے الفاظ میں ’’الرجال قوامون علی النساء‘‘ اور ’’ھن لباس لکم و انتم لباس لھن‘‘، کوئی اشتباہ رہ ہی نہیں جاتا۔
نبیء اکرم محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جملہ معروف کتبِ حدیث میں ہے: ’’علیکم بالنساء‘‘ (عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو)۔ عورت میں خاص طور پر ماں کے بارے میں ہے کہ پہلے تین درجے ماں کی اطاعت (فی الدین) کے ہیں اور چوتھا درجہ باپ کی اطاعت کا ہے۔
قرآن کی آیت اور حدیث کے مفہوم جو آپ نے درج کیئے ہیں ۔ ان میں ایک دوسرے سے تضاد پایا جاتا ہے ۔ ( آپ کی پوسٹ نمبر 2 ) کے مطابق ۔ اور سرخ رنگ میں مقید جملہ اس کی مذید تصدیق کر رہا ہے ۔ :)
باقی جس قرآنی آیتوں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے ۔میں اس کے بارے میں اپنی آخری پوسٹ میں کہہ چکا ہوں کہ یہاں یہ فرق مرد و عورت کے درمیان نہیں بلکہ بیوی اور شوہر کے درمیان حفظِ مراتب کے فرق کو سامنے رکھ کر بیان کیا گیا ہے ۔
 
قرآن اور حدیث میں تضاد؟ اللہ ہم سب پر رحم کرے۔
اس پر کچھ اضافہ نہیں کر سکوں گا۔ ماسوائے اس دعا کے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم فرمائی:
اللھم ارنا الحق حقاً و ارزقنا اتباعہ و ارنا الباطل باطلاً و ارزقنا اجتنابہ ۔
آمین، ثم آمین۔
 

ظفری

لائبریرین
قرآن اور حدیث میں تضاد؟ اللہ ہم سب پر رحم کرے۔
اس پر کچھ اضافہ نہیں کر سکوں گا۔ ماسوائے اس دعا کے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم فرمائی:
اللھم ارنا الحق حقاً و ارزقنا اتباعہ و ارنا الباطل باطلاً و ارزقنا اجتنابہ ۔
آمین، ثم آمین۔
بندہ خدا ۔۔۔۔۔ میری بات کا مفہوم تو سمجھ لجیئے ،
قرآنی آیت میں آپ کی تفسیر کے مطابق ۔۔۔۔ مرد کو حاکم بتایا گیا ہے ۔
حدیث میں اسی عورت کو ماں کا درجے دیتے ہوئے ، اسے اولاد پر باپ یعنی مرد سے تین درجے زیادہ فضلیت دی گئی ہے ۔
میں نے آپ کی قرآنی تفسیر اور حدیث کے درمیان مفہوم کی بات کی ہے ۔ جو ایک دوسرے سے متضاد ہیں ۔
اگر آپ نے میری پہلی پوسٹ پڑھی ہوتی تو یہ بات واضع ہوجاتی ہے اللہ نے شوہر کو بیوی پر جو فضلیت دی ہے وہی حدیث میں ماں کے درجے کے حوالے سے دی جا رہی ہے ۔ یعنی قرآن بھی حفظِ مراتب کی بات کر رہا ہے اور حدیث کے الفاظ بھی یہی بات ظاہر کر رہے ہیں ۔ مگر جب آپInterpretation کی پر جاؤ تو دونوں کے مفہوم میں تضاد پیدا ہوجاتا ہے ۔ میرا خیال ہے اس سے زیادہ آسان الفاظ میں آپ کی بات کا جواب نہیں دیا جاسکتا ۔
 

نایاب

لائبریرین
یہ جو مرد سے " بہتر " حوروں کا وعدہ فرمایا گیا ہے ۔
دودھ کی نہریں ۔ سلسبیل کے چشمے ۔ غلمان ۔ ان سب نعمتوں کا وعدہ مردوں سے ہی ہے ۔۔۔ ؟
یا عورتیں بھی ان میں شامل ہیں ۔۔۔۔۔؟
شاید اسی نسبت سے کچھ مرد کو برتر اور عورت کو کمتر قرار دیتے ہیں ۔
 

arifkarim

معطل
بالکل غلط عنوان ہے۔ عنوان یہ ہونا چاہئے:کیا مرد عورت کے برابر ہے؟ کیا مرد بچہ پیدا کر سکتا ہے؟ اسکو دودھ پلا سکتا ہے؟ بیماروں کی تیمارداری کر سکتا ہے؟ بچوں کی تربیت اور تعلیمی نشو نما کر سکتا ہے؟ اگر نہیں تو عورت مرد سے افضل ہے۔
 

arifkarim

معطل
عورت اور مرد کی برابری کی بحث بہت پرانی ہے‘ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے‘ دونوں جسمانی طور پر بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ذہنی طور پر بھی
جسمانی طور کی تو سمجھ آتی ہے، لیکن ذہنی طور پر کیا مختلف ہے۔ اس کا اثبوت درکار ہے؟ کیا عورت مرد کی طرح سائنسدان، پروفیسر، مصنف، وغیرہ نہیں بن سکتی؟ :laugh:

مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ عورت اگر مردکی برابری پر آگئی تو پتا نہیں کیسا کیسا سین دیکھنے کو ملے گا‘ عین ممکن ہے آپ بس میں کھڑکی کے پاس بیٹھے ہوں اورکسی سٹاپ پر ایک دوشیزہ بس میں سوار ہو اور آپ کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ کر مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہے’’اوئے۔۔۔ کھڑکی بند کر ‘ ہوا آرہی ہے‘‘۔
یہاں مغرب میں عورت اور مردوں کے یکساں حقوق و فرائض ہیں۔ یہاں ایسی کوئی صورت حال نہیں ہے۔ ہاں البتہ یہاں بچوں اور بڑھوں کے حقوق جوانوں سے زیادہ ہیں۔
 

arifkarim

معطل
میرا سوال یہ ہے کہ ایسا سوال ہی کیوں پیدا ہوتا ہے :)
کیونکہ جب تک سوچتا انسان دنیا میں موجود ہے۔ سماجی سوالات تو ختم نہیں ہو سکتے نا!

ہمارا اصل مسئلہ بلکہ المیہ یہ ہے کہ ہم قرآن و سنت سے دور ہو چکے ہیں۔ اور جو کچھ کوئی کہہ دے، اُس کے یا تو پیچھے لگ جاتے ہیں یا پیچھے پڑ جاتے ہیں۔
قرآن و سنت سے دوری کیا ہوتی ہے؟ تھوڑی وضاحت تو کریں۔
 
قرآن کی آیت اور حدیث کے مفہوم جو آپ نے درج کیئے ہیں ۔ ان میں ایک دوسرے سے تضاد پایا جاتا ہے ۔ ( آپ کی پوسٹ نمبر 2 ) کے مطابق ۔ اور سرخ رنگ میں مقید جملہ اس کی مذید تصدیق کر رہا ہے ۔ :)
باقی جس قرآنی آیتوں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے ۔میں اس کے بارے میں اپنی آخری پوسٹ میں کہہ چکا ہوں کہ یہاں یہ فرق مرد و عورت کے درمیان نہیں بلکہ بیوی اور شوہر کے درمیان حفظِ مراتب کے فرق کو سامنے رکھ کر بیان کیا گیا ہے ۔
اس طرح میری پوسٹ سے چار متفقین آپ کی اور نور العین کی دانست میں غلط ثابت ہوئے ۔;)
اللہ ضد اور انا پرستی سے ہم کو محفوظ رکھے ۔
حضرت وہاں وہ تضاد تھا ہی نہیں جو پہلے آپ نے بدقت پیدا کیا اور پھر اپنے تئیں اسے ختم فرما کر اسلام کی گردن پر احسان عظیم کیا ، وہاں اشارتا ان نصوص کا ذکر تھا جس سے عورت و مرد کے مرتبے پر عمومی رائے قائم ہو سکتی تھی۔ بعض اوقات تضاد قاری کے اپنے دماغ میں ہوتا ہے ۔
اگر آپ ریٹنگز کے معاملے میں اتنے حساس و باریک بین ہیں تو اللہ ہی حافظ ہے ۔
 

ظفری

لائبریرین
حضرت وہاں وہ تضاد تھا ہی نہیں جو پہلے آپ نے بدقت پیدا کیا اور پھر اپنے تئیں اسے ختم فرما کر اسلام کی گردن پر احسان عظیم کیا ، وہاں اشارتا ان نصوص کا ذکر تھا جس سے عورت و مرد کے مرتبے پر عمومی رائے قائم ہو سکتی تھی۔ بعض اوقات تضاد قاری کے اپنے دماغ میں ہوتا ہے ۔
اگر آپ ریٹنگز کے معاملے میں اتنے حساس و باریک بین ہیں تو اللہ ہی حافظ ہے ۔
سرخ رنگ میں مقید آپ کے جملے کی بھر پور تائید کرتا ہوں ۔ :)
 

ظفری

لائبریرین
یہ جو مرد سے " بہتر " حوروں کا وعدہ فرمایا گیا ہے ۔
دودھ کی نہریں ۔ سلسبیل کے چشمے ۔ غلمان ۔ ان سب نعمتوں کا وعدہ مردوں سے ہی ہے ۔۔۔ ؟
یا عورتیں بھی ان میں شامل ہیں ۔۔۔ ۔۔؟
شاید اسی نسبت سے کچھ مرد کو برتر اور عورت کو کمتر قرار دیتے ہیں ۔
حور کا قرآن میں ایک Object کے طور پرذکرہوا ہے ۔ اسے مرد کے لیئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
 

فرخ

محفلین
یہاں تو مرد اور مرد ۔۔ عورت اور عورت برابر نہیں ہوتے، تو مرد اور عورت کیسے برابر ہونگے۔۔۔۔ :chatterbox:
 

سعود الحسن

محفلین
جسمانی طور کی تو سمجھ آتی ہے، لیکن ذہنی طور پر کیا مختلف ہے۔ اس کا اثبوت درکار ہے؟ کیا عورت مرد کی طرح سائنسدان، پروفیسر، مصنف، وغیرہ نہیں بن سکتی؟ :laugh:

مردوں کا ’ذہنی سرکٹ‘ عورتوں سے مختلف بی بی سی اردو
منگل 3 دسمبر 2013
انسانی ذہن کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ مردوں اور خواتین کے ذہن اپنی ساخت کے اعتبار سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے مردوں اور خواتین میں ذہن کے دائیں اور بائیں نصف کرے کو آپس میں منسلک کرنے والی اندرونی ’تاریں‘ مختلف انداز میں جُڑی ہوتی ہیں۔

ان تاروں سے مراد ان راستوں کی ہے جن کے ذریعے ذہن کے مختلف حصے ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے ہیں۔

131203132057_brain_scan_549x549_nationalacademyofsciences_nocredit.jpg

نیلا دماغ (اوپر والی دو تصاویر) مرد کا ہے جب کہ نیچے نارنجی سرکٹوں والا دماغ عورت کا ہے

انسانی دماغ کی پیچیدہ وائرنگ

امریکہ کی یونیورسٹی آف پینسلوینیا میں محققین نے تقریباً ایک ہزار افراد کے ذہنوں کے سکینز کا جائزہ کیا جن میں مرد، عورتیں، لڑکے اور لڑکیاں شامل تھے۔

مردوں کے ذہنوں میں تاروں کا یہ جال سامنے کی جانب سے ذہن کے پیچھے والے حصے کی جانب بچھا ہوتا ہے اور ذہن کے دائیں اور بائیں کروں کو آپس میں منسلک کرنے والی تاریں نسبتاً کم ہوتی ہیں۔

اس کے برعکس خواتین میں ذہن کے دائیں اور بائیں کروں کے درمیان بہت سی تاریں ہوتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ شاید یہی وجہ ہے کہ مرد ایک وقت میں ایک کام سیکھنے اور اسے انجام دینے میں تو بہتر ہوسکتے ہیں مگر عورتیں ایک ہی وقت میں کئی کام کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہوتی ہیں۔

اس تحقیق کے شرکا سے بطور ٹیسٹ مختلف کام کرنے کے لیے بھی کہا گیا اور ان کے نتائج اس مفروضے کی حمایت کرتے ہیں۔

خواتین نے چیزوں پر غور کرنے، چہروں اور الفاظ کو یاد رکھنے اور سماجی شعور میں سبقت حاصل کی جبکہ مردوں نے اپنے ارد گرد کی جگہ کا اندازہ لگانے اور حرکت کرنے میں تیزی کا مظاہرہ کیا۔

محقق ڈاکٹر روبن گر کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ خواتین اور مردوں کے ذہن جیسے ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے بنائے گئے ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ذہن کے اندر پیغامات کے راستوں کا تفصیلی جائزہ لینے سے ہم یہ بہتر طور پر سمجھ سکیں گے کہ مرد اور عورتیں سوچتے کیسے ہیں اور ان سے ہمیں ذہنی امراض کے بارے میں بھی پتا چلے گا۔ ذہنی امراض کا انحصار اکثر مریض کی جنس پر ہوتا ہے۔‘
 
Top