کیا عمران خان نے امریکہ کے بااعتماد معید یوسف کو ایٹمی اثاثوں کی رکھوالی سونپ دی؟

زیرک

محفلین
کیا عمران خان نے امریکہ کے بااعتماد معید یوسف کو ایٹمی اثاثوں کی رکھوالی سونپ دی؟
اوریا مقبول جان نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر معید یوسف کو معاون خصوصی برائے قومی سلامتی و سٹریٹجک پالیسی پلاننگ تعینات کر دیا ہے، ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہو گا، جس کے تحت نیشنل سکیورٹی ڈویژن آتا ہے جس میں تزویراتی معاملات اور ایٹمی ہتھیار وغیرہ شامل ہیں جو کہ بڑا حساس معاملہ ہے۔ کل ایک امریکی سینیٹر کی نور خان ائیربیس پر عمران خان سے غیر رسمی ملاقات کے بعد ایسے شخص کی ایک حساس عہدے پر تعیناتی سے بڑے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اللہ خیر کرے، میرا بحیثیت ایک حساس پاکستانی یہ سوال کرنا بنتا ہے کہ قوم کو وہ وجوہات بتائی جائیں کہ جس کے لیے ایک ایسا بندہ جو ساری زندگی امریکہ میں رہا ہوں، اس نے وہیں تعلیم حاصل کی، اگر آپ اس کے ہاتھ اپنے اپنےتزویراتی اثاثوں کی حفاظت کی ذمہ داری دیں گے تو پھر ایسے شخص کو لانے، اور ایسے عہدے پر تعینات کرنے والے سبھی افراد پر انگلیاں تو اٹھیں گی ناں۔ بحیثیت ایک حساس پاکستانی کے میں یہ سوال پوچھنا اپنا حق سمجھتا ہوں کہ قومی سلامتی و سٹریٹجک پالیسی پلاننگ جیسی حساس جگہ پر ایک ایسے مشکوک شخص کو ہی کیوں تعینات کیا گیا ہے جو امریکہ میں اہم عہدوں پر بھی فائز رہا ہو، اب اللہ جانتا ہے اس کی وفاداری کس ملک کی ساتھ ہے؟ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ معید یوسف امریکی پے رول پر ہے۔ موجودہ تعیناتی کے بعد میرے لیے پاکستان کی اس وقت کی مقتدر قوتوں میں سے کسی ایک شخص پر بھی اعتماد کرنا ممکن نہیں رہا۔
 
آخری تدوین:

زیرک

محفلین
٭قارئین آپ کو سابق وزیر اعظم نوازشریف کے مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کیا دوہری شہریت کا کیس اور اس کا فیصلہ تو یاد ہے ناں جب 2013 میں کورٹ رولنگ کے بعد سے شجاعت عظیم نے اپنا استعفیٰ دے دیا تھا۔ اچھا کیا کیونکہ شجاعت عظیم کینیڈین شہری تھا، اس کی وفاداری کینیڈا کے ساتھ دی، اسے جانا ہی چاہیے تھا۔
٭٭لیکن یہاں تو عمران خان نےڈاکٹر معید یوسف کو پہلے چیئرمین اسٹریٹیجک پالیسی پلاننگ سیل لگایا، لیکن اب تو حد ہی ہو گئی کہ انہیں اپنا معاون خصوصی برائے قومی سلامتی و سٹریٹجک پالیسی پلاننگ جیسی بہت زیادہ حساس جگہ پر تعینات کیا گیا ہے۔ آج کی تاریخ 25 دسمبر 2019 کی تاریخ تک معید صاحب امریکی شہری ہیں۔
٭٭٭عمران خان کے ارد گرد دیکھیں تو ذلفی بخاری، برطانوی شہری ہیں، لیکن ان کو کام کرنے دیا جا رہا ہے، یہاں کورٹ نے پتہ نہیں کس قانون کی عینک پہن رکھی ہے۔ زلفی بخاری کی بہن ملائکہ بخاری بھی مخصوص سیٹوں پر ایم این اے ہیں، خواتین ممبران و وزراء میں کئی دہری شہریت کی حامل خواتین بیٹھی ہیں لیکن قانون خاموش ہے۔
 

زیرک

محفلین
ملاحظہ کیجئے 2016 میں شیریں مزاری انہی معید یوسف کے بارے میں کیا فرمایا کرتی تھیں۔ گویا کل کا مشکوک آج معشوق بن گیا ہے، کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے، انشاءاللہ پردہ اٹھ کر رہے گا۔
 

زیرک

محفلین
امریکی پیارے معید یوسف کی حساس جگہ تعیناتی کا تو آپ کو پتہ چل گیا، آئیے اب دیکھیں ڈاکٹر دانش دوسرے برطانوی زلفی بخاری کو کیسے بے نقاب کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "جہلم کے عمران چودھری نے دبئی سے5 لاکھ ڈالر اکٹھا کر کے بھجوایا ہے جس کا ذکر گورنر پنجاب سرور نے اپنی تقریر میں بھی کیا، یہ پیسے بقول عمران چودھری کے بالآخر زلفی بخاری کے پاس پہنچے"، اور ڈاکٹر دانش کے بقول "ہم نے پتہ کروایا ہے اس میں سے ایک پیسہ بھی وہاں نہیں لگایا گیا"۔
 

زیرک

محفلین
اس کے بعد کچھ پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ اوریا مقبول جیسے سازشی تھیورسٹ کو کیا معلوم ان حساس چیزوں کے بارہ میں۔
اوریا مقبول کو چاہے جوتے مارو مجھے کوئی غرض نہیں اوریا مقبول جان تم جیسوں سے کہیں زیادہ حساس عہدے پر کام کر چکا ہے، وہ بیوروکریسی کا سابقہ عہدے دار رہ چکا ہے، تم شاید اسے صرف صحافت کے حوالے سے جانتے ہو گے۔ ویسے بھلا ہو اوریا مقبول جان کا کہ جیسے وہ بھگو بھگو کر چھترول کر رہا ہے ناں اس کے بعد باقی دنیا بھر کے حساس پاکستانی اس میں جتناحصہ ڈالیں گے ناں تمہیں اس کا اندازہ ہی نہیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ معید یوسف امریکہ کا خاص آدمی ہے، انہوں نے ایک واقعہ بھی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 4 اکتوبر 2019 کو ایک امریکی سائنسدان نے الزام لگایا تھا کہ معید یوسف پاکستانی ایجنٹ ہے، اس لیے اسے امریکہ سے نکالا جائے، لیکن امریکیوں نے اس کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ ہمارا بندہ ہے، اور اب یہ “ساڈا بندہ” پاکستان آ گیا ہے اور وزیراعظم نے اسے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی و سٹریٹجک پالیسی پلاننگ تعینات کر دیا ہے جس کے تحت تمام حساس تزویراتی معاملات ہوتے ہیں۔ لیکن ایک حساس عہدے پر ایک امریکی کی تعیناتی پر میرا بحیثیت پاکستانی سوال اٹھانا بنتا ہے اور میں یہ کام کرتا رہوں گا۔
 
آخری تدوین:

زیرک

محفلین
بس پر مزاح ہی رہ گیا ہے جواب میں؟ڈوب مرو کہ تمہیں شیریں مزاری کی 3 سال پرانی پوسٹ نظر نہیں آئی؟ یوٹرن خان کے اندھے معتقدونظریں چیک کرواؤ ویسے میرا خیال ہے کہ یہ نظر سے زیادہ عقل کے اندھے افراد ہیں جن کو اپنی آنکھ کا شہتیر تکنظر نہیں آتا لیکن دوسروں کی آنکھ کا باریک بال ضرور دیکھ لیتے ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
اوریا مقبول کو چاہے جوتے مارو مجھے کوئی غرض نہیں اوریا مقبول جان تم جیسوں سے کہیں زیادہ حساس عہدے پر کام کر چکا ہے، وہ بیوروکریسی کا سابقہ عہدے دار رہ چکا ہے، تم شاید اسے صرف صحافت کے حوالے سے جانتے ہو گے۔ ویسے بھلا ہو اوریا مقبول جان کا کہ جیسے وہ بھگو بھگو کر چھترول کر رہا ہے ناں اس کے بعد باقی دنیا بھر کے حساس پاکستانی اس میں جتناحصہ ڈالیں گے ناں تمہیں اس کا اندازہ ہی نہیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ معید یوسف امریکہ کا خاص آدمی ہے، انہوں نے ایک واقعہ بھی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 4 اکتوبر 2019 کو ایک امریکی سائنسدان نے الزام لگایا تھا کہ معید یوسف پاکستانی ایجنٹ ہے، اس لیے اسے امریکہ سے نکالا جائے، لیکن امریکیوں نے اس کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ ہمارا بندہ ہے، اور اب یہ “ساڈا بندہ” پاکستان آ گیا ہے اور وزیراعظم نے اسے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی و سٹریٹجک پالیسی پلاننگ تعینات کر دیا ہے جس کے تحت تمام حساس تزویراتی معاملات ہوتے ہیں۔ لیکن ایک حساس عہدے پر ایک امریکی کی تعیناتی پر میرا بحیثیت پاکستانی سوال اٹھانا بنتا ہے اور میں یہ کام کرتا رہوں گا۔
معروف ماہر معیشت ڈاکٹر عاطف میاں کو اہم سرکاری عہدہ دیتے وقت بھی اسی طرح اوریا مقبول جان جیسے سازشی تھیورسٹس نے کہا تھا کہ موصوف قادیانی ہونے کی وجہ سے ملکی سالمیت کیلئے خطرہ ہیں۔ حکومت نے دباؤ میں آکر ان کو فارغ کر دیا۔ جس کے بعد ان کے ساتھی پروفیسرز جو مغربی یونیورسٹیز میں بہترین پوسٹس پر براجمان تھے حکومت کی اقتصادی مشاورتی کونسل سے احتجاجا مستعفی ہو گئے۔ چار و ناچار حکومت کو بگڑتی معیشت درست کرنے کیلئے آئی ایم ایف سے ایکسپرٹس بلوانے پڑے۔ ان سے بھی عوام خوش نہیں ہے۔
اب حکومت نے ان موصوف کو قابلیت کی بنیاد پر رکھا ہےتو پھر سازشی تھیورسٹس کی گردان شروع ہو گئی ہے۔
Screenshot-2019-12-26-Moeed-Yusuf-Associate-Vice-President-As.png

https://www.linkedin.com/in/moeed-y...issionId=e77b58cd-24f8-e315-324a-275b8f2bd248
 

زیرک

محفلین
شیریں مزاری تو وزیر خزانہ حفیظ شیخ سے متعلق بھی ایسی ہی باتیں کر چکی ہیں۔
اور آج حفیظ شیخ کس کے ساتھ ہے؟ حکومت کے ساتھ۔ کل کہتے تھے انہوں نے معیشت خراب کی ہے، آج خود گلے لگایاہوا ہے۔تمہارے بیانات تو اپنی پارٹی کے خلاف جا رہے ہیں۔ کھوہ وژن لوگوں سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔
 

زیرک

محفلین
معروف ماہر معیشت ڈاکٹر عاطف میاں کو اہم سرکاری عہدہ دیتے وقت بھی اسی طرح اوریا مقبول جان جیسے سازشی تھیورسٹس نے کہا تھا کہ موصوف قادیانی ہونے کی وجہ سے ملکی سالمیت کیلئے خطرہ ہیں۔ حکومت نے دباؤ میں آکر ان کو فارغ کر دیا۔ جس کے بعد ان کے ساتھی پروفیسرز جو مغربی یونیورسٹیز میں بہترین پوسٹس پر براجمان تھے حکومت کی اقتصادی مشاورتی کونسل سے احتجاجا مستعفی ہو گئے۔ چار و ناچار حکومت کو بگڑتی معیشت درست کرنے کیلئے آئی ایم ایف سے ایکسپرٹس بلوانے پڑے۔ ان سے بھی عوام خوش نہیں ہے۔
اب حکومت نے ان موصوف کو قابلیت کی بنیاد پر رکھا ہےتو پھر سازشی تھیورسٹس کی گردان شروع ہو گئی ہے۔
Screenshot-2019-12-26-Moeed-Yusuf-Associate-Vice-President-As.png

https://www.linkedin.com/in/moeed-y...issionId=e77b58cd-24f8-e315-324a-275b8f2bd248
جو قادیانیت کو بنیاد بنا کر اور ریاستِ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے بیرون ملک سیاسی پناہ لیتے ہوں، ان کی ریاست پاکستان سے وابستگی کیسے ممکن ہے؟ قابلیت کو نہیں اس کی وابستگی اہم ہوتی ہے، جو امریکی پے رول پہ ہو وہ پاکستان کا حامی کیسے ہو سکتا ہے۔
 

فرقان احمد

محفلین
شیریں مزاری تو وزیر خزانہ حفیظ شیخ سے متعلق بھی ایسی ہی باتیں کر چکی ہیں۔
یہ حکومت ایک اُدھڑتی ہوئی فنی (انگریزی والا فنی) ٹائپ سوئیٹر ہے۔ ہر رنگ کا تاگا مانگا تانگا سب یہاں ملے گا؛ ہر رنگ، ہر روپ بے مثل ہے!
 

جاسم محمد

محفلین
اور آج حفیظ شیخ کس کے ساتھ ہے؟ حکومت کے ساتھ۔ کل کہتے تھے انہوں نے معیشت خراب کی ہے، آج خود گلے لگایاہوا ہے۔تمہارے بیانات تو اپنی پارٹی کے خلاف جا رہے ہیں۔ کھوہ وژن لوگوں سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔
حفیظ شیخ سے پہلے ڈاکٹر عاطف میاں اور ان کے ساتھی پروفیسرز کو رکھا تھا جو آزمودہ نہیں تھے۔ ان پر قوم کو اعتراض یہ تھا کہ وہ قادیانی ہیں ، آئی ایم ایف کے ایجنٹ ہیں۔ حکومت کچھ بھی کر لے آپ لوگوں کے اعتراضات ختم نہیں ہو سکتے۔
 

زیرک

محفلین
یہ حکومت ایک اُدھڑتی ہوئی فنی (انگریزی والا فنی) ٹائپ سوئیٹر ہے۔ ہر رنگ کا تاگا مانگا تانگا سب یہاں ملے گا؛ ہر رنگ، ہر روپ بے مثل ہے!
اپنی حکومت کی نااہلی خود ہی بتا کر ناچنے والے کو بندر ہی کہا جا سکتا ہے:LOL:
 

فرقان احمد

محفلین
حفیظ شیخ سے پہلے ڈاکٹر عاطف میاں اور ان کے ساتھی پروفیسرز کو رکھا تھا جو آزمودہ نہیں تھے۔ ان پر اعتراض یہ تھا کہ وہ قادیانی ہیں ، آئی ایم ایف کے ایجنٹ ہیں۔ حکومت کچھ بھی کر لے آپ لوگوں کے اعتراضات ختم نہیں ہو سکتے۔
آپ بھول گئے۔ ڈاکٹر عاطف میاں خود گئے، بقیہ حکومت کے آئے روز کے موقف بدلنے کے بعد خود پتلی گلی سے نکل گئے!
 

جاسم محمد

محفلین
جو قادیانیت کو بنیاد بنا کر اور ریاستِ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے بیرون ملک سیاسی پناہ لیتے ہوں، ان کی ریاست پاکستان سے وابستگی کیسے ممکن ہے؟
موصوف نے قادیانیت بہت بعد میں مغرب جا کر اختیار کی تھی۔ وہ پیدائشی مسلمان اور حب الوطن پاکستانی ہیں۔ مذہب کی تبدیلی ملک دشمنی بنا کر پیش کی گئی۔ یہ حال ہے قوم کا۔
 

زیرک

محفلین
موصوف نے قادیانیت بہت بعد میں مغرب جا کر اختیار کی تھی۔ وہ پیدائشی مسلمان اور حب الوطن پاکستانی ہیں۔ مذہب کی تبدیلی ملک دشمنی بنا کر پیش کی گئی۔ یہ حال ہے قوم کا۔
تو ہم نے اسے اس کے عقائد پر عمل درآمد سے تو نہیں روکا نہ وہ اپنے عقیدہ قائم رکھے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
قابلیت کو نہیں اس کی وابستگی اہم ہوتی ہے، جو امریکی پے رول پہ ہو وہ پاکستان کا حامی کیسے ہو سکتا ہے۔
اس طرح تو ہر حب الوطن پاکستانی جو مغرب میں اعلیٰ تعلیم کی غرض سے گیا ، وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہاں کام کرنے پر امریکی پے رول پہ پلنے والا غدار کہلائے گا۔ اس دلیل میں کوئی منطق ہے؟
قائد اعظم نے بھی اعلیٰ تعلیم مغرب میں حاصل کی تھی۔ کچھ عرصہ انگلینڈ میں وکالت بھی کرتے رہے۔ محض اس بنیاد پر اس وقت کے علما کرام ان کو کافر اعظم اور انگریزوں کا پٹھو کہتے تھے۔ آج تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سب سے بڑے محب الوطن تھے۔
 
Top