کچھ تاریخی واقعات

فرذوق احمد

محفلین
یہ کتاب میرے پاس بہت پُرانی پڑی ہوئی ۔تو میں نے سوچا کچھ یہاں بھی لکھ ہی ڈالوں ۔۔تو آج ہمت کر کے لکھ رہا ہوں ۔
مصنف کا نام تو خیر نہیں معلوم ۔تو اِس لیے کہ اس مصنف سے معذرت چاہوں ۔کیونکہ کتاب اپنی اصلی حالت میں تو ہے نہیں
کچھ صحفے بچے ہیں




مہاتما بُدھ کو نروان حاصل ہوتا ہے

اہلِ سیلون کا دعویٰ ہے کہ ان کے مُلک میں دنیا کا سب سے پُرانا درخت موجود ہے ۔ یہ اُسی درخت کی شاخ کاٹ کر لگایا گیا تھا
جس کے نیچے سدھارتھ گوتم کو عرفان کی روشنی ملی تھی اور اُس نے بُدھ یعنی بہت بڑے عارف کا لقب حاصل کیا تھا ۔ وہی روشنی بُدھ مت کی محرک روشنی بن گئی ۔
سدھارتھ گوتم (غالباََ چھٹی صدی قبل مسیح میں) میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوا جیس میں دولت کی ریل پیل تھی اور عیش و عشرت کے تمام سامان موجود تھے ۔شادی کو نو سال گُزر چُکے تھے اور ایک بچہ بھی پیدا ہو چکا تھا ۔جب اس کے دِل میں دکھیا انسانیت کے لیے جذبہ بیدار ہوا اور زندگی کی گہری حقیقتیں دریافت کرنے کی طلب پیدا ہوئی ۔وہ گھر بار چھوڑ کر ان رشیوں اور رِمیوں کے پاس پہنچا جو دنیا سے الگ تھلگ پہاڑوں کی تنہائی میں زندگی گزار رہے تھے ۔ یہ رشی اور منی علم اور نجات کی تلاش میں برت رکھتے ، کڑی ریاصتیں کرتے اور اپنے جسموں کو زیادہ زیادہ مشقتوں میں ڈالتے ۔گوتم نے ان کے تمام طور طریقے آزما دیکھے اور اس نتیجے پر پہنچا کے یہ لوگ بھی سچائی کا راستہ گُم کیے بیٹھے ہیں ۔
انہیں چھوڑ کر وہ جگہ جگہ سرگرداں پھرتا رہا ۔آخردریا کے کنارے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا ۔وہیں زندگی کی حقیقت ایک روشنی کی شکل میں اس کے سامنے نمودار ہوئی ۔بنارس میں میں اسے اپنے چیلوں کی ایک جماعت مِل گئی جن کی مدد سے اس نے ہندوستان کی طول و عرض میں اپنی تعلیمات پھیلائیں ۔
اگرچہ بُدھ دھرم پورے ہندوستان کو ہندومت کی اثر سے نہ نکال سکا ،تاہم برما،سیلون ،کمبوڈیا،تھائی لینڈ، چین ۔اور جاپان میں اسں کہ بےشمار کے پیرو موجود ہیں اور اس کے حلم نیز زندگی کے عقائد کی پاکیزگی نے کروڑوں انسانوں کو متاثر کیا ہے ۔
مہاتمابُدھ نے جو اعتدال کا راستہ دکھلایا ،اس کا منشا یہ تھا کہ نہ تو تو انسان کو کو نفسانی خواہشات کا غلام بن جانا چاہیے اور نہ یہ کہ خواہشوں کو بالکل مار دینا چاہیے، بلکہ ان پر قابو پانا چاہیئے ۔اس نے چار سچائیوں کی تعلیم دی ۔وہ کہتا ہے اول تسکینِ نفس کی خواہش ، دوم مادی فائدوں کی خواہش اور سوم بقائے دوام کی خواہش سے رنج و الم پیدا ہوتا ہے چوتھی سچائی یہ ہے کہ انسان رنج سے پاک ہو کر روح کی تسکین کے لیے صحیح اصول اور صحیح اعمال کو اختیار کرے ۔ روح کی اسی تسکین کو اہلِ ہند نروان کہتے ہیں
 

فرذوق احمد

محفلین
بارُود ایجاد ہوتی ہے
قصے کہانیوں میں بتایا جاتا ہے کہ سب سے پہلے چنگیز خاں نے جنگ میں بارُود کا سے کام لیا ۔یہ بار دُرست ہو یا نہ ہو، لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ چنگیز خاں کے زمانے سے بہت پہلے یعنی نویں صدی میں اہلِ چین بارُود بناتے تھے اور اسے آتشیں پٹاخوں میں استعمال کرتے تھے ۔یورپ میں بارود کی ایجاد کا سہرا تیرھویں صدی کے دوراہبوں میں سے کسی ایک کے سر پر ہے ،انگریز راجر بیکن ،یا جرمن برتھولڈ شوارٹر بارودہی کے بل پر یورپی سپاہیوں نے روئے زمین پر حکمرانی کے جال بچھائے ۔
بارود کے لیے تین چیزیں درکار تھیں ۔اول قلمی شورہ ،دوم گندھک سوم کوئلہ بیکن نے شورے کو صاف کرکے قلمی شورہ بنانے کا طریقہ دریافت کیا اور بارود کا نسخہ تیار کیا ۔شوارٹر نے اس سے کام لینے کے لیے آتش بار ہتھیار بنائے ۔
بہرحال بارود سازی کا بندوبست ہو گیا تو یورپ کی فوجیں تلوار نیزے اور تیروں کی جگہ گولیاں استعمال کرنے لگیں ۔بینک برن کی لڑائی میں رابرٹ بروس نے انگریزوں کو مغلوب کر لیا 1314 کریسی میں انگریزوں نے فرانسیسی امیروں کو تباہ کرڈالا
(1346 ) ان دونوں لڑائیوں میں بارود استعمال ہوئی ۔تاہم اس کی اہمیت کا پورا اندازہ نہ ہوسکا ،لہذا تجربات جاری رہے ،یہاں تک کے پندرھویں صدی میں بندوق ایجاد ہوئی اور مدِ مقابل کو دور ہی سے موت کے گھاٹ اُتارا جانے لگا ۔
حقیقت یہ ہے کہ بارود کی ایجاد کے بعد صدیوں یہ مسئلہ پریشانی کا باعث رہا کہ اس سے کام لینے کے لیے موزوں ہتھیار کونسا ہو سکتا ہے پہلے توڑے والی بندوق ایجاد ہوئی پھر چقماقی بندوق نکلی 1807 میں الیگزانڈر جان فاستھ نے ایک ایسی بندوق تیار کی جس کے پیالے پر تانبے کی ٹوپی رکھی جاتی تھی تیس سال کے غورو فکر کہ بعد فوجی ماہروں نے اسے استعمال کرنا منظور کر لیا۔ آتش بار ہتھیاروں میں اصلاحات کا سلسلہ جاری رہا مگر ان میں غیر معمولی ترقی پہلی بار جنگِ عظیم کے دوران ہوئی چھوٹے سے چھوتا ہتھیار 22 نمبر کا پستول تھا اور بڑے سے بڑا ہتھیار جرمنوں کی توپ جسے بگ برتھا کہتے تھے اس کی مار اسی میل تک تھی ۔
بارود سُرنگیں بنانے اور چٹانیں توڑنے میں بھی استعمال ہوتی تھی
 

فرذوق احمد

محفلین
روئے زمیں پر ریلیں دوڑتی ہیں

اگررچرڈ ٹریوی تھک 1833۔1777 کو اچھے قدر دان مِل جاتے تو وہ بھاپ کے انجنوں سے سر جمیس واٹ کہ مقابلے میں زیادہ دولت کما لیتا ۔اگر وہ ریل کی اچھی پٹریاں بنانے کی زحمت برداشت کر لیتا تو ریل کے لیے بھاپ کے انجن بنانے میں میں جارج سٹیفن سے زیادہ شہرت و عظمت کا مالک بن جاتا ۔ہوا یہ کہ اس نے واٹ کے انجن سے بہترانجن بنایا ۔لیکن اُسے مالی لحاظ سے منفعت بخش نہ بنا سکا ۔اس نے سٹیفن سن سے دس سال پیشتر نہایت عمدہ دخانی انجن تیار کر دیا تھا ،لیکن اس کے لیے جو پٹریاں بنائی وہ بار بار خم کھا جاتی تھیں ۔ اس نے پٹریوں کی درُستی اور اصلاح پو توجہ کرنے کی بجائیں یہ لائن ہی چھوڑ دی اور انجینیری کا پیشہ اختیار کر لیا ۔
واٹ نے زیادہ دباؤ کی بھاپ کا استعمال خطرناک بتایا تھا ۔ٹریوی تھک اپنے تجربات میں لگا رہا اور اس نے ایک سادہ انجن تیار کردیا جس پر خرچ بھی زیادہ نہ ہوتا تھا 1800 میں اسے رجسٹر بھی کرالیا ۔1803 میں اس نے اس انجن کو گاڑیاں کھینچنے کے لیے استعمال کیا ،تجربے میں اسے شاندار کامیابی حاصل ہوئی ،لیکن اچانک اس نے انجن کو ایک آدمی کے ہاتھ فروخت کر دیا
اور گاڑیاں دوسرے کو دے دیں ۔اس کی وجہ یا یہ ہوسکتی تھی کو ٹریوی تھک میں استقلال کو جوہر موجودنہ تھا یا یہ سمجھنا چاہیئے کہ اسے ان چیزوں سے جو دلچسپی پیدا ہوئی تھی جو یکایک ختم ہو گئی ۔
اس نے پہلی ریل ویلز میں چلائی ،انجن میں چالیش پونڈ کے دباؤ کی بھاپ استعمال کی گئی ۔گاڑیوں پر دس ٹن بوجھ لدا ہوا تھا ۔
مُسافر بھی بیٹھے ہوئے تھے ،کوئلہ بھی تھا جو انجن میں استعمال ہوتا تھا ،یہ انجن پانچ چھ میل کی رفتار سے چلا اور یہ یقیناََ بہت بڑی کامیابی تھی ۔لیکن پٹریاں اچھی نہ تھیں ،اس لیے بار بار انجن اور گاڑیاں پٹری سے اُتر جاتیں ۔ٹریوی تھک اس سے تنگ آ گیا ،لہذا اس کا انجن کان سے پانی باہر نکالنے کہ کام آ گیا اور ریل کی پٹریاں بنانے کا اعزاز جارج سٹیفن سن کے حصے میں آ یا۔
 

فرذوق احمد

محفلین
پہلا ہوائی جہاز اُڑتا ہے

اب انسان چاند پر پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے اور فصائے محیط پر پرواز کرتے ہوئے چاند تک پہنچ جانا سائسندانوں کے لئے اب کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ اس کے امکان کے لئے قیل و قال کی جائے
بلکہ اب یہ اندازہ کیا جا رہا ہے کہ اس مہم پر کتنا خرچ ہو گا ۔ان حالات میں دلبررائٹ اور آرویل رائٹ کسے یاد رہیں ۔جنہوں نے سب سے پہلے امریکہ میں پرواز کی تھی ۔
جن ان بھائیوں نے فصائے آسمانہ پر پرواز کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا تو صورتِ حال ایسی تھی کہ لوگ زمین اوپر اُٹھنے کے امکانات کو چنداں وقعت نہ دیتے تھے ۔دلبرا اور آرویل نے بہت جلد دریافت کر لیا کہ ہوائی حرکیات کے بارے میں جتنے نظریات موجود ہیں ۔اس میں سے بیشتر اصل مقصد سے ہٹے ہوئے ہیں
انہوں نے خود ایک نل بنایا جس میں پروا کے خود ہی تجربات کرتے رہے ۔وہ دونوں غیر شادی شدہ تھے ۔
دن بھر سائیکل کی دکان پر کام کرتے اور گھر آکر اپنا سارا وقت تجربات میں گزارتے ۔
آخر انہوں نے کنٹرول کا ایک نظام دریافت کرلیا جس کے ذریعے سے ہوا کا دباؤ مشین کے مختلیف حِصوں میں بدلتا رہتا تھا اور اسے رجسڑ کرالیا ۔
ہوا کے نل میں جو تجربات کرتے رہتے تھے ان کی بنا پر انہوں نے قبل ازوقت علان کردیا کہ ہم ہوا میں پرواز کریں گے ،چنانچہ ایک ایسا جہاز تیار کر لیا جس میں ابتدائی تخمینے کے خلاف ایک چوتھائی سے نصف تک قوت ہوتی تھی ۔
ان کا جہاز چار سلنڈر کا تھا ۔
اس میں بارہ گھوڑوں کی طاقت کا انجن لگایا گیا جو پٹرول سے چلتا تھا ایک مسافر کا وزن شامل کر کہ جہاز کا کُل وزن ساڑھے سات سو پونڈ تھا ۔دسمبر 1903 کو یہ جہاز کٹی ہاک پہنچا 17 دسمبر کو آرویل نے اس میں چار مرتبہ پرواز کی ۔
جہاز تقریباََ ایک منٹ پرواز میں رہا اور صرف تیس میل فی گھنٹے کی رفتار سے پرواز کر سکا مگر آجکل تو ہوائی ترقی کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں
 

فرذوق احمد

محفلین
رومہ وحشیوں کے قبصے میں جاتا ہے



رومہ نہ ایک دن میں تعمیر ہوا اور نہ ایک دن میں فنا کہ گھاٹ اُترا ،لیکن یورپ سے رومی شہشاہی کا ناپید ہونا اتنا عظیم ساخہ تھا کہ ‘‘ سقوطِ رومہ ‘‘ کا جُملہ سُنتے ہی چشمِ تصور کہ سامنے ایک نہایت خوفناک نقشہ اُبھر آتا ہے ، گویا بے درد و وحشی اس شہر کی دولت و حشمت کہ انبار سمیٹ کر اسے آگ اور خون کی جولانگاہ بنارہے ہیں ، حالانکہ دراصل رومہ کی عظمت آہستہ آہستہ زائل ہوئی تھی ۔مئورخوں نے سہولت کہ خیال سے اس کی تسخیر کا آخری سال 476ء قرار دیا ہے
کیونکہ اس سال مغربی رومی سلطنت کہ شہنشاہ نے اپنا تاج وتخت وحشی سردار اوڈوآسرکے حوالے کیا جس نے شہنشاہ نہیں بلکہ صرف اٹلی کی فرمانروائی پر اکتفا کیا ،
یہ مت سمجھیے کہ جنگلی قبیلے کسی بیرونی سردار کہ زیر قیادت اچانک رومہ پر چڑھ آئے تھے ، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ رومی سلطنت کہ پہلے شہنشاہ آگسٹس کہ زمانے ہی میں ان قبائل کو اٹلی میں آباد ہونے کی اجازت مِل گئی تھی ۔ وہ عرصے تک سلطنت کہ لیئے جنگجو سپاہی بھی مہیا کرتے رہے اور اُونچے درجے کہ سرکاری عہدے بھی حاصل کرتے رہے ۔آڈوآسر نے ان قبائلی سپاہیوں سے اٹلی کہ ایک تہائی علاقے کا وعدہ کرکے سرداری کا منصب حاصل کر لیا ، رومی شہشاہ کو جب یقین ہو گیا کہ وہ اس کے مقابے سے عہدہ بر آنہیں سکتا تو عافیت اسی میں سمجھی کہ تخت چھوڑ الگ ہو جائے ۔ادھر قسطنطنیہ کے شہنشاہ زینو نے اگرچہ آڈوآسر کی حکومت تسلیم نہ کی ،تاہم اسے معزول کرنے کہ لیئے بھی کوئی قدم نہ اُٹھایا اور اس کے لیئے وہی خطاب استعمال کرتا رہا جو مغربی رومی سلطنت کہ امیروں کا عام لقب تھا مشرقی گاتھوں کہ سردار تھیوڈورک نے آڈوآسر کو میدانِ جنگ میں شکست فاش دی اور صلح اس شرط پر ہوئی کہ دونوں مشترکہ طور پر حکومت کا کاروبار جاری رکھیں۔ پھر تھیوڈورک نے آڈوآسر کو دعوت میں بُلا کر اپنے ہاتھ سے اس کا سرقلم کر دیا ۔
مغربی رومی سلطنت کہ خاتمے کہ ساتھ یورپ قسطنطنیہ کے اثر سے نکل کے وحشی اقوام کہ تسلط میں آ گیا ، تاہم آگے چل کر اُسے موقع مِل گیا کہ اپنی مخصوص تہذیب کو نشوونما دے
 

فرذوق احمد

محفلین
انگریز فرانس کے نازمنوں سے شکست کھانتے ہیں


اگرچہ لڑائی صرف دوپہر سے رات ہونے تک جاری رہی ، تاہم یہ جنگ سخت خونریز ،فیصلہ کُن اور نتائج کہ اعتبار سے سے بڑی اہم تھی ۔ کوئی انگریز یا امریکی طالبِ علم نہ تاریخ فراموش کرسکتا ہے --------------------
1066ء ---------------- اور نہ میدانِ جنگ -----------------ہیسٹگز --
فرانس گیا تو غالباََ اس نے نار منڈی کو ڈیوک ویم سے انگلستان کے تاج و تخت کا وعدہ کر لیا ۔1064ء میں ویلیکس کے امیر ہیرلڈ کا جہاز ساحل فرانس کے قریب تباہ ہو گیا اور اُسے نارمنڈی میں اُترنا پڑا ۔ولیم لیکن 1066ء میں ہیرلڈ خود انگلستان کا بادشاہ بن گیا ولیم 28 ستمبر 1066ء کو فوج کہ ساتھ ساحل انگلستان پر لنگر انداز ہوا ۔ تاکہ جووعدے توڑے گئے تھے انہیں بزورِ شمشمیر پورا کرائے۔
ہیرلڈ نے جلدی میں سپاہی فراہم کیے اور حملہ آورکہ مقابلے کہ لیئے اس پہاڑی پر پہنچ گیا جو قصبہ ہیسٹنگز سے تقریباََ چھ میل پر ہے ۔اس کی فوج زیادہ تر پیادہ تھی ۔ اگرچہ تعداد میں وہ ولیم آدمیوں سے یقیناََ زیادہ تھی ، لیکن سپاہیوں میں اکثر کے پاس نہ تو اچھے ہتھیار تھے اور نہ نازمنوں جیسا جنگی تجربہ تھا ۔
ایک دوسرے کے بالمقابل صف بندی ہوچکی تو پہلے ولیم کے تیراندازوں نے تیروں کا مینہ برسایا ۔
پھر اس کی پیادہ فوج نے حملہ کیا ۔ہیرلڈ کے سپاہی ڈھالیں جوڑ کر ایک مضبوط دیوار کی شکل میں جم گئے ۔وہ لمبے دستے والے تبراس چابک دستی سے چلاتے تھے کہ ولیم کہ مسلح سوار بھی ان پر غلبہ نہ پاسکے ۔
اب ولیم نے ایک عجیب چال چلی ۔اس نے اپنی سپاہ کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا ۔جونہی وہ پیچھے ہٹی ، ہیرلڈ کی فوج اس کے تعاقب میں آگے بڑھی اور اس طرح وہ مضبوط دیوار ٹوٹ گئی جسے ولیم کی جنگی قوت نہ توڑ سکی ۔ عین اس وقت ولیم کے سواروں نے پلٹ کر شدید حملہ کیا اور ہیرلڈ کی سپاہ کو سخت نقصان پہنچایا تھوڑی دیر کہ بعد ولیم دوبارہ اسی چال پر کاربند ہوا ۔ ہیرلڈ کی محافظ فوج آخری دم تک مقابلے پر جمی رہی ۔لیکن ولیم کہ تیراندازوں نے ایک اس کہ پرخچے اُڑا دئیے ۔اس طرح نارمن انگلستان پر قابص ہو گئے ۔ رومیوں اور ڈینوں سے کہیں زیادہ اثر نازمنوں کی فتوحات سے پڑا ۔اور برطانیہ میں تہذیب و تمدن کا آغاز انہی فرانسیسی فاتحین کہ طفیل ہوا۔
 

فرذوق احمد

محفلین
قیصر شام سے رخصت ہوتا ہے



الوداع اے شام ! تو کتنا اچھا مُلک ہے ، جسے دشمنوں کے حوالے کرنا پڑا ،، یہ الفاظ مشرقی رومی سلطنت کے شہنشاہ نے اسوقت کہے تھے ، جب یرموک کی لڑائی میں شکست فاش ہو چکی تھی اور اسے صاف نظر آرہا تھا کہ کم ازکم شام کا علاقہ ضرور چھوڑنا پڑے گا
جنگِ یرموک دنیا کی چند فیصلہ کُن لڑائیوں میں شمار ہوتی ہے ، عربوں کے عروج اور رومیوں کے زوال میں میں اسے ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے ۔
عرب دمشق کو فتح کرنے کہ بعد تیزی سے بڑھتے چلے جا رہے تھے ۔ اسی اثناء میں میں رومی سلطنت کہ شہنشاہ نے فوجیں جمع کرنے کا عام حکم دے دیا اور تھوڑی ہی دیر میں فوجوں کا طوفان اُمنڈ آیا جن کی تعداد دولاکھ سے زیادہ تھی ،ان کے مقابلے میں عرب تیس پینتیس ہزار ہو گے اور وہ بھی مختلیف محاذوں پر بِکھرے ہوئے ۔اس حالات میں دانشمدی کا تقاضہ یہی تھا کہ تمام سپہ سالاروں کو پیچھے ہٹ کر ایک موزوں مقام پر جمع کرانے کا حکم دیا جائے تاکہ وہ متحد ہو کر لڑ سکیں اور دشمنوں کہ علاقوں میں جابجا محصور نہ ہو جائیں ،اس غرض سے دریائے اُردن کی کی پہاڑیوں سے نِکل کر بحیرہ طبریہ کے نیچے دریائے اُردن میں مِل جاتا ہے(اور آج کل اُردن میں واقع ہے) ۔
عربوں نے جن جن مفتوحہ علاقوں سے خراج کی رقم وصول کی تھی اور وہ کئی لاکھ تھی۔ پوری کی پوری مقامی لوگوں کو اس اس لیئے واپس کردی کہ وہ حفاظت کی غرض سے لئی گئی تھی اور اب عرب جنگی حالات سے مجبور ہو کر پیچھے ہٹ رہے تھے اور حفاظت کا فرض سر انجام دے سکتے تھے ۔ اس واقع کا اثر اہل شام پر ہوا کہ وہ لوگ رو رہے تھے ۔ایک شہر کہ یہودی نے تورات پر حلف اُٹھایا کہ جب تک ہم زندہ ہیں رومی ہمارے شہر پر قبصہ نہیں کرسکتے ، یہ فیصلہ کن معرکہ قادسیہ سے ایک سال پہلے 15ھ 632 ء میں لڑا گیا ۔
عربوں کی فوج اگرچہ کم تھی ، مگر رومیوں کو ان کی جانبازی کا پورا اندازہ تھا ۔ اس لیے انہوں نے کوشش کی عرب صلح پر راضی ہو جائی ۔ چنانچہ حضرت خالدرضی اللہ تعالٰی عنہ کہ سامنے تجویز پیش کی کہ سپہ سالاروں کو دس دس ہزار دینار افسروں کو ایک ایک ہزار دینار اور سپاہیوں کو ایک ایک سو دینار دیئے جائیں گے ۔عرب واپس چلے جائیں ، حضرت خالد نے انکار کردیا اور کہا جو شخص اسلام قبول کر لے وہ ہمارا بھائی ہے
اگر یہ منظور ہو تو جزیہ دینے کا اقرار کرلو ہم حمایت و حفاظت کا ذمہ لیتے ہیں یہ بھی منظور نہ ہو تو لڑائی کے لئے تیار ہوجاؤ۔
رومی فوج بہت زیادہ تھی اور جوش کا یہ عالم تھا کہ کہ تیس ہزار آدمیوں نے پاؤں میں بیٹریاں پہن لی تھیں تاکہ ہٹنا چاہیں بھی تو نہ ہٹ سکیں ۔لڑائی بڑی سخت ہوئی ۔کئی مرتبہ عربوں کے مختلیف دستوں کو پیچھے ہٹنا پڑا ،آخر کا رومی ستر ہزار جانوں کا نقصان اُٹھا کر بھاگ نکلے ۔ عربوں میں صرف تین ہزار شہید ہوئے ۔
اس کے بعد تھوڑے ہی دنوں میں شام کہ تمام شہر عربوں کہ قبصے میں آگئے اور رومی ہمیشہ کے لئے وہاں سے رخصت ہوگئے ۔
اتنے تھوڑے عرصے میں میں شام فلسطین جیسے اہم علاقوں کی تسخیر نے دنیا بھر میں عربوں کی دھاک بٹھا دی اور وہ بھی پورے اعتماد سے اپنے تقدیر کی شاہئرہ پر گامزن ہو گئے
 

فرذوق احمد

محفلین
ہسپانیہ کی تقدیر کا فیصلہ ہوتا ہے​


26 جولائی 711ء (3 شوال 92ھ) کو ہسپانیہ میں دریائے برباط کہ کنارے جو لڑائی ہوئی اس میں ایک طرف گیارہ بارہ ہزار فوج تھی جس کا سالار طارق بن زیاد تھا ، دوسری طرف ہسپانیہ کا بادشادہ راڈرک تھا جس کی فوج دُگنی سے کم نہ تھی ۔ لیکن راڈرک نے شکست کھائی اور مارا گیا ۔ ہسپانیہ مسلمانوں کہ قبصے میں آگیا جہاں انہوں نے آٹھ سو سال تک حکومت کی یہی حکومت تھی جس نے یورپ میں صدیوں تک علم حکمت اور تہذیب و دانش کا چراغ روشن رکھا اسی چراغ کی لو سے یورپ کے اندھیرے میں اُجالے کا سامان ہوا ۔
مسلمان شمالی افریقہ پر قابض ہو چکے تھے اور ہسپانیہ ان کے سامنے تھا ، وہاں ایک طرف تاج و تخت کے جھگڑے شروع تھے ، دوسری طرف راڈرک کے ظلم وجور نے عوام کو پریشان کر رکھا تھا وہ لوگ بار بار مسلمانوں سے امداد کی درخواستیں کر رہے تھے ۔ آخر شمالی افریقہ کے بادشاہ نے طارق بن زیاد کو بارہ ہزار فوج دے کر ہسپانیہ پر حملہ کرنے کہ لیے بھیجا ۔ اس کے پاس صرف چند جہاز تھے جب پوری سپاہ اس مقام پر پہنچ گئی جو بعد میں جبل طارق کہ نام سے مشہور ہوا اس نے جہازوں کو جلوا دیا ۔
جب پو چھا گیا ایسا کیوں کیا اور شریعت میں ترکِ اسباب کب جائز ہے ! تو طارق نے تلوار کے قبصے کو ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا کہ ہرملک ہمارا ہے اس لیے کہ ہمارے خدا کا ہے ،
برباط کے کنارے دو دن فریقین لڑتے رہے مگر کوئی فیصلہ نہ ہوا ، تیسرے دن نماز کے بعد طارق نے ایک ولولہ افروز تقریر کی اور کہا ‘‘ بھائیو! تم بھاگ کر کہاں جا سکتے ہو؟ اپنی حالت کا اندازہ کرو طاقتور دُشمن سے مقابلہ ہے جو طوفانی سمندر کی لہروں کی طرح تمہیں گھیر سکتا ہے اس کے پاس ہر قسم کا سامانِ جنگ موجود ہے کھانے پینے کی چیزیں بھی کم نہیں تمہارے پاس تلواروں اور نیزوں کے سوا کیا ہے ؟۔
لیکن یقین رکھو فتح ہماری ہے ۔ یہ لوگ ہماری تلواروں کی کاٹ کہ سامنے ٹہر نہیں سکتے خدا کہ حکموں پر چلو گے اور دین کا جھنڈا اس سرزمین میں گاڑ دوگے تو خدا کی بارگاہ سے تمہیں بہت بڑا انعام ملے گا
خدا تعالٰی تمہیں دُنیا اور آخرت میں سرخروئی بخشے گا ۔

پھر خود سب سے پہلے آگے بڑھ کر حملہ کیا اسی روز جنگ کا فیصلہ ہوگیا ۔تھوڑی ہی مدت میں پورا سپانیہ مسلمانوں کہ زیرِ نگین آ گیا
 

فرذوق احمد

محفلین
بے وطن شہزادہ سلطنت قائم کرتا ہے




عربوں کے ہاتھوں ہسپانیہ کی تقدیر کا آغاز 92ھ 711ء میں ہوا ۔
لیکن وہاں عربوں کی مسقبل سلطنت کا سنگِ بنیاد عبدالرحٰمن 138ھ 752ء میں رکھا وہ دمشق کہ اموی خلیفہ ہشام بن عبدلملک کا پوتا تھا ۔
عبدالرحمان پانچ سال کا تھا ، جن اُس کہ باپ معاویہ نے وفات پائی
دادا نے یتیم پوتے کو کو نازو نعمت سے پالا ۔ چونکہ اُسے ولی عہد بنانا چاہتا تھا ۔ اس لیے بڑی اعلٰی نعلیم دلائی ۔وہ بیس سال کا ہوا تو خاندان کے اقبال کا سورج ڈوب گیا ۔ حکومت عباسیوں کے قبصے میں چلی گئی ۔ اموی خاندان کے بہت سے لوگ مارے گئے ۔ عبدالرحمان جان بچا کر شام سے نِکلا اور سخت مصائب و خطرات جھیل کر مراکش پہنچا۔ کوئی سامان پاس نہ تھا ۔۔ ایک وفادار غلام کے سوا کوئی آدمی ساتھ نہ تھا ، لیکن جوانمردی اور عالی ہمتی کا یہ عالم تھا کہ نظت تاج و تخت کے سوا کسی چیز پر نہ جمتی تھی ۔
ایک معمولی کشتی میں سوار ہوکر مراکش سے ہسپانیہ پہنچا۔
وہاں کچھ لوگ اموی خاندان کے شہزادے کا نام سُن کر ساتھ ہوگئے ، لیکن قرطبہ کے حاکم نے مقابلے کی ٹھانی ۔ عبدالرحمان نے بے سروسامانی اسے شکست دے دی ۔ پھر سارے اسلام علاقوں کو ایک مرکز کے ماتحت لاکر اس بادشاہی کی بنیاد رکھی جوساڑھے تین سو سال تک قائم رہی ۔ یورپ اس کی ہیبت سے لرزتا تھا ۔اس اموی عہد میں جو عمارتیں بنیں اُن کی نظیر کوئی دوسرا مُلک پیش نہ کرسکا ۔ان میں صرف ایک مسجد باقی ہے اگرچہ اس کی پرانی شان و شوکت ماند پڑ چُکی ہے تاہم اب بھی وہ دنیا کی عبادت گاہوں میں یگانہ مانی جاتی ہے ۔
عبدالرحمان کی عظمت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ باپ دادا کی سلطنت چھن گئی کوئی بھی قابلِ ذکر چیز پاس نہ رہی ۔ بمشکل جان بچا کر وطن سے نِکلا اور بے سرو سامانی کے باوجود نئی سلطنت کا مالک بن گیا ، لیکن اس کی سیرت کا جو پہلو خاص توجہ کا مستحق ہے ! یہ ہے کہ بہت بڑی سلطنت کا فرمانرواہوتے ہوئے بھی عربی سادگی اور بےتکلفی قائم رکھی ۔ ہمیشہ سفید لباس پہنا اور سفید عمامہ باندھتا ۔ شہر میں جِن لوگوں کی بیمار ہونے کی خبر مل جاتی ، وہ امیر ہوتے یا غریب ، سب کی مزاج پرسی کے لیے اُن کے گھروں میں جاتا۔ ہر جنازے کی نماز کی نماز آپ پڑھاتا اور ہر میت کو دفن کرنے میں شریک ہوتا ۔ جو شخص بھی ملاقات کے لیے آجاتا ۔ اس سے بے تکلف ملتا ۔ ہرشکایت پر خود توجہ کرتا اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں بڑے چھوٹے یا طاقتور اور کمزور میں امتیاز کو روانہ رکھتا ۔ ایک بار سوار ہو کر باہر جا رہاتھا ۔ ایک شخض نے اس کے گھوڑے کی باگ تھام کر روک اور کہا کہ جب تک میرا انصاف نہ کرو گے ،ہلنے نہ دونگا عبدالرحمان نے فوراََ قاضی کو بُلوایا اور کھٹرے کھٹرے اپنے سامنے فریادی کا فیصلہ کروا دیا۔
 

فرذوق احمد

محفلین
اٹھارہ آدمی مُلک فتح کرتے ہیں​




کیا آپ نے کبھی سُنا ہے کہ صرف اٹھارہ آدمیوں نے ایک بہت بڑی حکومت کی راج دھانی پر قبصہ کر لیا ہو؟؟؟؟؟؟؟؟؟
ہندوستان کی اسلامی تاریخ میں ایک ایسا واقع بھی موجود ہے ۔ اور کسی دوسرے ملک میں شائد ہی اس کی نظیر مل سکے ۔ یہ محمد بن بختیار خلیجی کا کارنامہ تھا ، جوہندوستان کے پہلے بادشاہ قطب الدین ایبک کا ایک سردار تھا ۔
محمد بن بختیار کے کارنامے افسانوں سے بھی زیادہ عجیب ہیں ۔ یہ ایک معمولی آدمی تھا ۔ پہلے اُس نے غزنی میں سپاہی بھرتی ہونے کی کوشش کی ، مگر کامیاب نہ ہوا ۔ پھر دہلی پہنچا ۔ یہاں بھی اسے کوئی جگہ نہ مل سکی تو بدایوں کی طرف چلا گیا اسلامی حکومت کی مشرقی سرحد پر تھوڑی سی زمین مل گئی اور اُس نے اپنے طور پر کچھ سوار بھرتی کر لیے
1197ء میں دو سواروں کو لے کر ہلہ بول دیا اور تھوڑے ہی دنوں میں پورے علاقے پر قابص ہو گیا قطبالدین اُس زمانے میں بادشاہ نہ تھا بلکہ سلطان محد غوری کی جانب سے نائب السطنت تھا ۔
اُسے محمد بن بختیار کے اس کارنامے کا علم ہوا تو اعلٰی درجے کا خلعت عطاکیا اور اُس کو فتح کیا ہوئے عاقے کا حاکم بنا دیا ۔
اب محمد بن بختیار کو اپنی مردانگی اور کاردانی کے جوہر دکھانے کا پورا موقع مل گیا اس نے ایک فوج تیار کی اور بنگال کے راجا رائے لکشمن سین کی راج دھانی ندیا کا رُخ کیا ۔ اس کی شہرت پہلے ہی دوردور پھیلی ہوئی تھی ۔ نِکلا تو اس تیزی سے نکلا کے ساری فوج پیچھے رہ گئی ۔ صرف اٹھارہ آدمی ساتھ تھے ۔ اسی طرح وہ شہر میں راجا کے قلعے کے دروازے مینم پہنچ گیا ۔پہنچتے ہی پہرہ داروں پر حملہ کر دیا۔اور فوج کا انتظار نہ کیا ، اسے یقین تھا کہ ساتھیوں کا کی تھوڑی تعداد کا خیال کوئی نہ کرے گا سب یہی سمجھے گے کہ بہت بڑی فوج لے کر آیا ہے بیباکانہ لڑ رہا ہے اس کا یہ خیال بالکل دُرست نکلا ۔
راجا اُس وقت کھانا کھا رہا تھا ۔ باہر سے لوگوں کی چیخ و پکار کان تک پہنچی تو حواش باختہ ہو گیا اور ننگے پاؤں بھاگا اور سُنار گاؤں میں پہنچ کر دم لیا جو کسی زمانے میں ایک بڑا شہر ہوا کرتاتھا اور اب بھی خاصہ مشہور ہے ۔ ڈھاکہ سے کوئی تیرہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہوگا ۔ پہلے قدم پر شکست کے بعد راجا کہ لیے کہیں جم کر لڑنے میں کیا صورت تھی ۔ تھوڑے ہی دنوں میں محمد بن بختیار بہار کی طرح پورے بنگال پر قابص ہوگیا اور اپنے کارناموں کی ایسی یادگار چھوڑ‌گیا جو بڑے آدمیوں میں سے بہت تھوڑے انجام دے سکے ہیں
 

فرذوق احمد

محفلین
برطانیہ میں آزادی کے منشور پر دستخط ہوتے ہیں​


1215ء اس وجہ سے ایک ناقابلِ فراموش سال بن گیا ہے کہ اس سال انگلستان کے بادشاہ جان نے اس فرمان پر دستخط کیے جو منشور اعظم کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ منشور امریکہ اور برطانیہ کی شہری آزادی کا بنیادی پتھر بن گیا ۔
جان عالی ظرف بادشاہ نہ تھا کہ اپنے کسی قیمتی حق کو خوش دلی سے چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتا ۔ لیکن بہت سے لوگ مخالف تھے ۔ وہ امیروں اور عوام کو عجیب و غریب منضوبوں سے پریشان کرتا ۔ اُس نے بھاری ٹیکس لگائے ۔ صلیبی لڑائیوں اور جنگِ فرانس کا خرچا عوام کے ذمے ڈال دیا ۔ عدالتی نطام بِگڑ گیا-
کلیسا کو بھی شکائیتیں پیدا ہوئیں ۔ علاوہ ازیں جان کی نجی زندگی بھی رُسوائی کے دھبوں سے آلودہ تھی۔
آخرکار امیروں نے اس کے سامنے جچے تلے مطالنے پیش کر دئیے ۔ساتھ ہی دھمکی دی کہ اگر ان کے مطالبات مانے نہ گئے تو بغاوت ہو جائیں گے ۔ جان نے کھلی شکست سے بچنے کے لیے کلیسا کو کچھ رعایتیں دے دیں ، ان کے لیے آزاد انتخاب کا اصول تسلیم کر لیا اور باشند گانِ لندن کو خاص حقوق عطا کیے ۔ تاہم جو مطالبات امیر پیش کر چکے تھے ان پر وہ مضبوطی سے جمے رہے۔ آخر کار 15 جون 1215ء کو خفیف ردوبدل کے منشوراعظم پر دستخط ہوگئے ۔ بعدازاں تمام بادشاہ اس کی تصدیق کرتے رہے ۔
یہ بھی جان لینا چاہئیے کہ اس نام نہاد منشور اعظم میں صرف بادشاہ اور کلیسا ، نیز بادشاہ اور امراء کے باہمی تعلقات کی وضاحت کی گئی تھی ۔ لیکن ان میں سے کسی کو عوام کی بہتری اور بہبود مقصور نہ تھی ۔ جو لوگ آزاد تھے انہیں یہ حق مل گیا کہ وہ اپنے مقدمات کا فیصلہ اپنے حلقے کے امیروں سے کرالیں ۔ انگلسات کے زیادہ تر باشندے زرعی غلام تھے انہیں چار سو سال اور اسی حال میں گزارنے پڑے ، بایں ہمہ منشور اعظم حقیقی جمہوریت کی شاہراہ پر بلا ارادہ ایک اہم سنگ میل بن گیا
 

فرذوق احمد

محفلین
کوپر نیکس سورج کے گرد
زمین کی گردش
کا
انکشاف کرتاہے


جس زمانے میں میجی لن عملاَ َ زمین کے گول ہونے کا ثبوت پیش کر رہا تھا ، اسی زمانے میں نکولس کوپرنیکس ایک اور نکتہ ایک اور نُکتہ پیس کرنے میں لگا ہوا تھا اور وہ یہ کہ زمین بھی دوسرے سیاروں کی طرح سورج کے گرد گھوم رہی ہے ۔ کوپرنیکس کو دوسرے اہلِ علم کی طرح زمین کے گول ہونے کا یقین تھا ۔ اور اُس نے جو نیا نُکتہ دریافت کیا اس کے اثرات بھی بڑے دُرست تھے ۔
کوپر نیکس 19 فروری 1473ء کو تھورن (پولینڈ) میں پیدا ہوا کراکو کی یونیورسٹی میں ریاضیات کی تعلیم پائی ۔پھر بولینا(اٹلی) جا کر بیک وقت عیسوی دینیات اور علیم ہیت پڑھاتا رہا ،
حالانکہ ان دونوں میں کوئی مناسبت نہ تھی ۔ پیڈوا (اٹلی) پہنچا تو اس کی توجہ طبابت کی طرف مغطف ہوئی ۔ تعلیم مکمل کر کے واطن واپس ہوا تو طبابت شروع کر دی ۔ ساتھ ساتھ کلیسا کے بہت سے کام بھی سرانجام دیتا رہا ، اگرچہ اس نے کلیسا سے باقاعدہ ملازمت کا تعلق کبھی پیدا نہ کیا علاوہ بریں اقتضادیات اور بنک کاری سے بھی دلچسپی لیتا رہا ۔بلکہ اس نے سکے میں اصلاح کی ایک تجویز بھی پیش کی تھی ۔ فرصت میں وہ ہیت کے نئے نظام پر غوروفکر کرتا رہتا ۔ اسی کا نتیجہ کائنات کہ متعلق انسانی فکر میں ایک نیا انقلاب پیدا ہوگیا ۔
ہیت دنیا کے قدیم ترین علوم میں سے ہے ۔ اور اسے بہت ضروری سمجھا جاتا ہے ، غیر مذہب لوگ بھی اجرام سماوی کے مشاہدے سے وقت اور موسموں کا حال دریافت کرتے تھے۔
قبل تاریخ زمانے میں مصروبابل چین و ہند میں ہیئات کی بہت کچھ معلومات حاصل ہوئیں ۔ لیکن اس علم کا نکتہ آغاز یہی تھا کہ زمین کا کائنات کا مرکز ہے ۔ تیسری صدی ----------------- ق۔م ---------- میں جزیرہ ساموس کے سائسندان ایرسٹارکس نے سب سے پہلے سورج کو مرکز قرار دے دیا ۔ پھر ارشمیدش نے اپنا نظریہ پیش کیا ۔ ایک ہزارآٹھ سوسال بعد کوپرنیکس بھی اسی نتیجے پر پہنچا جس پر ارشمیدش پہنچا تھا ۔ کوپر نیکس اس دور میں پیدا ہوا جسے یورپ میں اجیاء علوم کا دور کہا جاتا ہے ۔ لوگ قدیمی فکرو نظر کی زنجیریں توڑنے پر آماد ہوچکے تھے ۔ لہذا کوپرنیکس کے انقلابی نظریے کے لیے قبول و پذیرائی کا بندوبست ہو گیا۔
کوپر نیکس کو اپنی کتاب کا پہلا مطبوعہ نسخہ اپنی وفات
(24 مئی 1543ء) سے چند روز پہلے ملا ۔ اسے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کتاب پر بِلا اجازت ایک مقدمہ لکھ کر اس کے مضبوط دلائل کو محض ایک مفروضے کی حثیت دے دی گئی ہے ،اس خوف سے کہیں لوگ اس کی مخالفت پر آمادہ نہ ہو جائیں ۔
 

فرذوق احمد

محفلین
بھاپ کا انجن تیار کیا جاتا ہے


ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ معمولی مشینوں کی مرمت کرنے والا کوئی شخص اپنے کسی عجیب و غریب کارنامے سے تاریخ کا رُخ بدل دے ، 1764ء میں بمقام گلاسکو (سکاٹ لینڈ) ایک ایسا ہی واقع پیش آیا ۔
بھاپ کے انجن کا خیال یا خود انجن کوئی انوکھی چیز نہ تھی ،ایسی مشینیں بن چکی تھیں جو کوئلے کی کانوں سے پانی باہر نکالنے میں کام آتی تھیں ۔اور بھاپ سے چلتی تھیں ۔ایک مرتبہ ایک مشین میں کچھ خرابی پیدا ہو گئی جیمز واٹ (1736- 1819) سے کیا گیا اسے درست کر دے ۔ اس وقت واٹ کی عمر اٹھائیس سال کی تھی اور وہ لندن میں اوزار بنانے کے کام سیکھ چکا تھا ۔
واٹ کو مشین درست کرنے میں کوئی مشکل تو پیش نہ آئی ۔ لیکن مشین کو دیکھ کر اُس کے دماغ میں بھاپ کے انجن کا وہ خیال تازہ ہو گیا جو تین سال سے بار بار آ رہا تھا ۔ مشین کا معائنہ غور سے کیا تو واٹ کو اندازہ ہو گیا کہ اس میں بھاپ بہت زیادہ خرچ ہوتی ہے لہذا اسے کفایت شعاری سے نہیں چلایا جا سکتا۔ وہ مشین میں نئی نئی ترمیمیں سوچتا رہا تاکہ خرچ میں کمی کی صورت نِکل آئے ۔سوچتے سوچتے اس پر حقیقت منکشف ہوئی ہوئی کہ جو انجن اب تک بنائے گئے ہیں ان میں سلنڈر ( ابیلن) کے ذریعے ایک غیر ممکن کام انجام دینے کی کوشش کی گئی ہے اس سے معلوم ہو گیا کہ جمع شدہ بھاپ کا درجئہ حرارت بہ حالت عمل کم ہونا چاہیئے۔البتہ سلنڈر کو اتنا ہی گرم ہونا چاہئیے جتنی اس میں داخل ہونے والی بھاپ گرم ہوتی ہے ۔غرض اس نے ایک نئی چیز تیار کر دی جس کا نام آلئہ تکثیف (کنڈنسر) ہے ۔ اس کے لیے پانی ٹھنڈا ہوتے رہنا کا انتظام کر دیا ۔ اور سلنڈد کو بدستور گرم رہنے دیا اس اصول کے مطابق نیا انجن بنایا تواس کی مرضی کے مطابق کام دینے لگا ۔اس میں پہلے انجن سے ایک چوتھائی یا اس بھی کم بھاپ خرچ ہوتی تھی ۔
بعدازاں واٹ نے اپنے انجن میں مزید اصلاحیں کیں اور ان تمام اصلاحوں کے پیشِ نظر اسے بھاپ کے انجن کے موجد کا اعزاز دینا غیر مناسب نہ ہوگا ۔ اسی انجن کا سے آگے چل کر حمل و نقل صنعت و حرفت اور بجلی پیدا کرنے کے بڑے بڑے کام لیے گئے
 

فرذوق احمد

محفلین
تصویریں حرکت
کرنے
لگتی ہیں



ٹامسن آلو ایڈیسن نے 6 اکتوبر 1879ء کو اپنی تجربہ گاہ(واقع نیوجرسی) میں نئی ایجاد کے مظاہرے کاانتظام کیا جس کانام کینیٹو سکوپ رکھا اور آج دنیا میں یہ سنیما کے نام سے مشہور ہے یہ اس طرح کی مشین جیسی آج لوگوں کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں اوراسے سیر بین کہا جاتا ہے ۔ بس جہاں کسی نے چیند پیسے دیے مشین زمین پر رکھی اور چند منٹ کے لیے تصویروں کا تماشا دکھادیا ۔
ایڈیسن نے اس وقت اس ایجاد کو چنداں اہمیت نہ دی ۔ دراصل وہ چاہتا تھا کہ بولنے والی جو مشین ایجاد کر چکا ہے ۔ اس کے ساتھ تصویریں بھی دکھائی جا سکیں ، گویا اس نے چالیس سال پیشتر بولنے والی فلموں کا تصور قائم کر لیا تھا ۔ دو سال بعد اس نے اپنے بنائے ہوئے کیمرے کو رجسٹرڈ کرایا ۔ اور 1894ء میں نیویارک شہر کو پہلے متحرک تصویریں دیکھنے کا شرف حاصل ہوا ۔
متحرک تصویریں تیار کرنے کے لیے ایڈیسن نے سلوسلائڈ کے ایک فیتے پر ایسے مسالے لگائے جو روشنی کا اثر ٹھیک ٹھاک قبول کر سکتے تھے اور اس کا نام فلم رکھا ۔ تصویوں کے متحرک اور چلتے پھرتے نظر آنے کا راز یہ ہے کہ ہر تصویر سکینڈ کے ایک حصے کے لیے آنکھ کے پردے پر جمی رہتی ہے پھر بہت ہی قلیل وقفے تک کوئی تصویر سامنے نہیں ہوتی ، اس کے بعد دوسری تصویر سامنے آ جاتی ہے اس طرح پہلے سے دوسری تصویر کا نقش ملتا جاتا ہے اور ایک چلتا پھرتا سلسلہ نظروں کے سامنے قائم ہو جاتا ہے۔
آجکل کی متحرک تصویروں کی فلم ایک چرخی پر لپٹی ہوتی ہے اور ایک جانب کی چرخی سے تیز روشنی میں کھلتی اور دوسری جانب کی چرخی پر لپٹتی جاتی ہے ۔ روشنی تصویروں کا یہ سایہ سامنے لٹکے ہوئے سفید پردے پر ڈالتی ہے اور ایک سکینڈ میں چوبیس مختلیف تصویریں سامنے سے گُزر جاتی ہیں ہر تصویر کے درمیان ایک وقفہ ہوتا ہے جو ایک سکینڈ کے 1۔40 یا 1-100 حصے کے برابر سمجھنا چاہئیے ۔
ایڈیسن کی ایجاد سے متحرک تصویروں کی صنعت جاری ہوئی ۔اس صنعت نے محض تفریحی مشاغل ہی میں انقلاب پیدا نہیں کیا ، بلکہ اب فلمیں تعلیم دینے کا بھی ایک مئوثر ذریعہ بن گئی ہیں۔
 

فرذوق احمد

محفلین
سمندر کی گہرائیوں
میں
تار بچھتا ہے


سیموئل مورس نے 1844ء میں تار برقی کے سلسلے کو کامیاب بنا دیاتھا ۔ دس سال بد امریکہ کے بہت بڑے سرمایہ دار کے دل میں یہ جزبہ پیدا ہوا کہ اٹلانٹک میں سے تار گزار کر یورپ اور امرکہ کے درمیان برقی خبر رسانی کا سلسلہ قائم کر دے اس کا نام سائرس ڈبلیو فیلڈ تھا ۔
اس سلسلے میں پہلی ضرورت یہ تھی کہ ایسے آلے تیار کرکیے جائیں ، جو سمندر میں سے گُزرنے والے تار پر اتنے لمبے فاصلے سے برقی اشارے ایک دوسرے تک ٹھیک ٹھاک پہنچا سکتے ہوں ، یہ مشکل یہ حل ہو گئی کہ لارڈ کیلونِ نے شیشیے کا مقناطیسی برق پیما تیار کیا ، پھر ہزار میل لمبا مصبوط اور لچک دار تار تیار کرنا ضروری تھا ، جس پر گٹا پرچا چڑھا ہوا ہوتا کہ بجلی کی لہریں اندر محفوظ رہتیں اور گٹے پرچے کےاوپر پیتل کا ایسا خول چڑھا دیا جاتا جس کیں کوئی آبی جانور سوراخ نہ کرسکتا اس تار کے بڑے بڑے پیپے جہازوں میں لاد کر کام شروع کردیا گیا ۔ اس امر کا خاص انتطام کیا گیا کہ اگر تار اتفاقیہ کہیں ٹوٹ جائے تو اس کے سرے مشین سے اٹکے رہیں۔ ان انجینیروں کے تجربات سے بھی فائدہ اُٹھایا گیا جو رودبارِ انگلستان اور بحیرہ روم میں بجلی کے تار بچھا چکے تھے ۔
ان احتیاطوں اور پیش بندیوں کے باوجود اگست 1857ء اور جون 1857ء کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں
1865ء میں ایک بہت بڑا جہاز اس غرض سے استعمال کیا گیا ۔اس میں مسافروں کے لیے جو کمرے بنے ہوئے تھے وہ سب توڑ دئیے گئے ، تاکہ تار کے پیپے رکھنے کی گنائش نکل آئے دو تہائی تار بچھ چکا تو اچانک ٹوٹ گیا اور اس کا سرا تلاش کے باوجود نہ مِل سکا ۔
1866ء میں تار کا سلسلہ درست ہوا تو 28 جولائی کو مبارک باد کا پہلا پیغام ملکہ وکٹوریا کی طرف سے جمہوریہ امریکہ کے صدر اینڈریو جانسن کو بھیجا گیا ،
نیو یارک میں یہ تقریب بڑی دھوم دھام سے منائی گئی ۔ کوئی شبہ نہیں کہ یہ تاریخ کا بہت بڑا واقعہ تھا ۔ یورپ سے امریکہ کی علحیدگی قطعی طورپر ہمیشہ کےلیے ختم ہوگئی ۔​
 
Top