کيا ميڈيا کو مار کٹائي کي کھلي اجازت ہے؟

مہوش علی

لائبریرین
1) قومي اسمبلي ميں صحافي کارنر سے آئين کے خلاف ورزي کرتے ہوئے ميڈيا نے نعرے بازي شروع کر دي، جس ميں اپوزيشن بھي ان سے مل کر نعرے لگانے لگي

کيا صحافي اپنے آپ کو ہر قانون سے مبراء سمجھتے ہيں؟


2) پھر انہي قوم کے درخشاں صحافيوں نے دوسرے صحافيوں پر حملہ کر کے مار پيٹ شروع کر دي



ميڈيا نے اسکے جواب ميں يہ دليل دي ہے کہ اُن لوگوں کو اس ليے مارا پيٹا گيا کيونکہ وہ جعلي لوگ تھے

تو کيا ميڈيا کو يہ حق حاصل ہے کہ پھر بھي يہ بہانہ بنا کر دوسرے لوگوں پر حملہ آور ہو سکے؟

حکومت کا کہنا يہ ہے کہ يہ لوگ بھي صحافي ہيں اور کسي نئے قوم کو يہ کارڈ جاري نہيں کيے گئے، اور دوسرا يہ کہ اگر يہ جعلي لوگ بھي تھے تو اسکي شکايت ميڈيا والوں کو سپيکر اسمبلي سے کرني چاہيے تھي يا پھر خود قانون ہاتھ ميں ليکر مارنا شروع کر دينا چاہيے تھا؟


اگر ايسي ہي کوئي غلطي حکومت سے ہو جاتي تو يہ ميڈيا والے آسمان سر پر کھڑا کر ليتے، مگر جب اپنے گريبان ميں جھانکنے کي باري آئي تو دم سادھ لي

تو اپوزيشن کي طرف سے ميڈيا پر کوئي تنقيد نہيں اور نہ ہي يہاں کسي ممبر کي کي طرف سے ميڈيا کي اس غير قانونيت پر کوئي تبصرہ (يعني يہاں بھي ابھي تک سب دم سادھے بيٹھے ہيں)


ميرے نزديک مسئلہ يہ ہے کہ چھوٹي موٹي غلطياں ہر کوئي کرتا ہے، مگر مجھے يہ بہت ناانصافي لگتي ہے کہ ايک کي غلطي پر آسمان سر پر ڈھا ديا جائے اور دوسرے کے ليے دل ايسا وسيع ہو کہ اُسے سات خون بھي معاف ہوں (جيسا ميڈيا والوں نے ايم کيو ايم کے سات کارکنوں کا خون معاف کر رکھا ہے اور اس پر دوسري مسلح تنظيموں پر کوئي تبصرہ نہيں ہے)
 

غازی عثمان

محفلین
میرا مشورہ ہے کہ آپ اخبار پڑھا کریں کچھ نہیں تو کم از کم بی بی سی ہی پڑھ لیا کریں ( جس کے حوالے آپ کثرت سے دیتی تھیں )
÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷
سات بندوں کا خون معاف ؟؟؟؟؟
یہ سات بندے کون تھے؟؟؟
جن کی جنازے نماز صرف ایک جنازے میں‌بھکتا دی گئی بقایہ چھ؟؟؟
ایم کیو ایم کہ مذکورہ شہید کارکن ( جی ہاں صرف ایک ) جو کہ فیڈرل بی ایریا کی رہائشی تھے ( جن کے جنازے کے بعد واٹر پمپ پر پٹھانوں کی پوری مارکیٹ کو آگ لگادی گئی تھی ) وہ ریلی میں گرومندر کیوں نہیں گئے ملیر ہالٹ پر چیف جسٹس کے استقبال پر ( یا استقبالیوں پر گولیاں برسانے ) کیوں تشریف لے آئے جہاں انہیں نامعلوم مسلح افراد کی گولیوں کا نشانہ بنا پڑا؟؟؟؟

( 12 مئی کراچی میں 50 افراد کا قتل ،، قاتل کا سب کو معلوم ،، ہائے یہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں‌ )
 
چھوٹی غلطیاں :shock:
اگر یہ چھوٹی غلطیاں ہیں‌تو عدالتی تحقیق کیوں‌ نہیں ہونے دیتے کیوں‌مقدمہ دائر کرنے والوں‌ کا اغوا اور تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں
1100201023-2.gif
 

ساجداقبال

محفلین
مہوش بہن! بات نکلے گی تو پھر دُور تلک جائیگی
آپ نے سوال کیا ہے کہ کیا صحافی مار کٹائی کیلیے آزاد ہیں، تو میری پیاری بہن، اس سوال کا جواب تو آپکی پیاری حکومت ہی دے سکتی ہے۔ اور اگر جواب ہاں میں ہو تو مجھے بھی بتائیے کہ چند وزراء خاص کر وصی ظفر میاں کی کُٹائی کا بڑا شوق ہے۔

صحافی کیا یہاں صدر سے لیکر چپڑاسی خود کا قانون سے مبرا سمجھتے ہیں۔

یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ صحافی نہیں تھے۔ مارپیٹ بالکل غلط بات ہے لیکن ذرا انکی حرکت بھی ملاحظہ فرمائیے کہ صحافیوں نے واک آؤٹ کیا تو سرکاری بندوں کا میڈیا انکلوژر میں بٹھا دیا۔ اب اس سے انکو اشتعال نہ آتا؟ ویسے بھی آپ کے پیارے جرنیل صاحب کی بدولت ہر پاکستانی شدت پسند بن چکا ہے۔ اپنا یہ حال ہے کہ پوری عمر میں لڑائی نہیں کی لیکن کل کنڈیکٹر کو کھری سنا دیں۔ :twisted: شکر ہے بچت ہوگئی اسنے کچھ کہا نہیں۔ :wink:
لوگوں کا تحفظ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ آئین میں کہیں کسی شخص کو بلاوجہ دوسروں پر برسنے کی اجازت نہیں۔ ویسے اپنے لوگوں پر بمباری کرنے کی آئین میں واضح اجازت ہے۔
میں اپوزیشن میں عمران خان کے علاوہ کسی کا حامی نہیں۔ میں چیف جسٹس کے ساتھ ہوں۔
 

مہوش علی

لائبریرین
ساجداقبال نے کہا:
مہوش بہن! بات نکلے گی تو پھر دُور تلک جائیگی
آپ نے سوال کیا ہے کہ کیا صحافی مار کٹائی کیلیے آزاد ہیں، تو میری پیاری بہن، اس سوال کا جواب تو آپکی پیاری حکومت ہی دے سکتی ہے۔ اور اگر جواب ہاں میں ہو تو مجھے بھی بتائیے کہ چند وزراء خاص کر وصی ظفر میاں کی کُٹائی کا بڑا شوق ہے۔

صحافی کیا یہاں صدر سے لیکر چپڑاسی خود کا قانون سے مبرا سمجھتے ہیں۔

یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ صحافی نہیں تھے۔ مارپیٹ بالکل غلط بات ہے لیکن ذرا انکی حرکت بھی ملاحظہ فرمائیے کہ صحافیوں نے واک آؤٹ کیا تو سرکاری بندوں کا میڈیا انکلوژر میں بٹھا دیا۔ اب اس سے انکو اشتعال نہ آتا؟ ویسے بھی آپ کے پیارے جرنیل صاحب کی بدولت ہر پاکستانی شدت پسند بن چکا ہے۔ اپنا یہ حال ہے کہ پوری عمر میں لڑائی نہیں کی لیکن کل کنڈیکٹر کو کھری سنا دیں۔ :twisted: شکر ہے بچت ہوگئی اسنے کچھ کہا نہیں۔ :wink:
لوگوں کا تحفظ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ آئین میں کہیں کسی شخص کو بلاوجہ دوسروں پر برسنے کی اجازت نہیں۔ ویسے اپنے لوگوں پر بمباری کرنے کی آئین میں واضح اجازت ہے۔
میں اپوزیشن میں عمران خان کے علاوہ کسی کا حامی نہیں۔ میں چیف جسٹس کے ساتھ ہوں۔


ساجد بھائی،
بات وہی آئی کہ وصی ظفر کی بات آئی تو سر آسمان پر اٹھا لیا گیا، اور جب میڈیا کی بات آئی تو انکی شدت پسندی کو مشرف صاحب کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ آپکا یہ آرگومنٹ کسی بھی عدالت میں منظور نہیں ہو سکتا اور اس پر یقین صرف وہی لوگ لائیں گے جنکی لاجک ہو گی "حب علی سے زیادہ بغضِ معاویہ"

میڈیا کو قومی اسمبلی میں نہ نعرے بازی شروع کرنے کی اجازت تھی اور نہ واک آؤٹ کر کے احتجاج کرنے کی۔ یہ اُنکی غلطی ہے کہ انہوں نے غلط پلیٹ فارم چنا اور اسی کا "آخر" یہ ہوا کہ زبردستی کرتے ہوئے ہاتھا پائی پر اتر آئے۔

اب میڈیا اپنی غلطی پر معافی مانگے یا نہ مانگے، مگر میں انکے غلط رویے پر اپنا احتجاج ضرور درج کرؤاں گی۔
 
کيا ميڈيا کو مار کٹائي کي کھلي اجازت

مہوش علی نے کہا:
1) قومي اسمبلي ميں صحافي کارنر سے آئين کے خلاف ورزي کرتے ہوئے ميڈيا نے نعرے بازي شروع کر دي، جس ميں اپوزيشن بھي ان سے مل کر نعرے لگانے لگي

کيا صحافي اپنے آپ کو ہر قانون سے مبراء سمجھتے ہيں؟


2) پھر انہي قوم کے درخشاں صحافيوں نے دوسرے صحافيوں پر حملہ کر کے مار پيٹ شروع کر دي



ميڈيا نے اسکے جواب ميں يہ دليل دي ہے کہ اُن لوگوں کو اس ليے مارا پيٹا گيا کيونکہ وہ جعلي لوگ تھے

تو کيا ميڈيا کو يہ حق حاصل ہے کہ پھر بھي يہ بہانہ بنا کر دوسرے لوگوں پر حملہ آور ہو سکے؟

حکومت کا کہنا يہ ہے کہ يہ لوگ بھي صحافي ہيں اور کسي نئے قوم کو يہ کارڈ جاري نہيں کيے گئے، اور دوسرا يہ کہ اگر يہ جعلي لوگ بھي تھے تو اسکي شکايت ميڈيا والوں کو سپيکر اسمبلي سے کرني چاہيے تھي يا پھر خود قانون ہاتھ ميں ليکر مارنا شروع کر دينا چاہيے تھا؟


اگر ايسي ہي کوئي غلطي حکومت سے ہو جاتي تو يہ ميڈيا والے آسمان سر پر کھڑا کر ليتے، مگر جب اپنے گريبان ميں جھانکنے کي باري آئي تو دم سادھ لي

تو اپوزيشن کي طرف سے ميڈيا پر کوئي تنقيد نہيں اور نہ ہي يہاں کسي ممبر کي کي طرف سے ميڈيا کي اس غير قانونيت پر کوئي تبصرہ (يعني يہاں بھي ابھي تک سب دم سادھے بيٹھے ہيں)


ميرے نزديک مسئلہ يہ ہے کہ چھوٹي موٹي غلطياں ہر کوئي کرتا ہے، مگر مجھے يہ بہت ناانصافي لگتي ہے کہ ايک کي غلطي پر آسمان سر پر ڈھا ديا جائے اور دوسرے کے ليے دل ايسا وسيع ہو کہ اُسے سات خون بھي معاف ہوں (جيسا ميڈيا والوں نے ايم کيو ايم کے سات کارکنوں کا خون معاف کر رکھا ہے اور اس پر دوسري مسلح تنظيموں پر کوئي تبصرہ نہيں ہے)

جنگ کی خبر:
گی۔قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن ارکان راجہ پرویز اشرف ،لیاقت بلوچ اور پرویز ملک نے اسپیکر قومی اسمبلی سے استدعا کی کہ معمول کی کارروائی معطل کر کے پیمراکے ترمیمی آرڈیننس، نجی ٹی وی چینلز کی نشریات کی بندش اور ملک بھر سے سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کے معاملے پر بحث کرائی جائے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اپوزیشن تحریری درخواست دے تو معاملے پر غور کیا جائے گا۔قواعد کے خلاف بحث کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اس پر اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج شروع کر دیا۔اس دوران صحافیوں نے میڈیا پر پابندیوں کے خلاف پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم صحافیوں کو منانے کے لیے گیلری میں آئے اور مذاکرات شروع ہوئے تو بعض غیر صحافی افراد کی پارلیمنٹ گیلری میں موجودگی پر صحافی برہم ہو گئے۔ان کو گیلری سے جانے کے لیے کہا گیا تاہم ان کے انکار پر ہاتھا پائی شروع ہو گئ اور صحافیوں نے پریس گیلری کے اندر شدید نعرے بازی کی ۔اپوزیشن ارکان نے صحافیوں کی نعرے بازی کا جواب دیا جس پر اسپیکر نے اجلاس آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کر دیا۔اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اسپیکر نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا واقعہ پارلے منٹ میں نہیں ہوا۔اگر آج ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو ایوان کا تقدس مجروح ہو جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ شدید پریشر میں ہیں۔ارکان مشورہ دیں کہ صحافیوں کے خلاف کیا کارروائی کی جائے۔حکومتی ارکان وصی ظفر، فاروق امجد میر اور شیرافگن نیازی نے صحافیوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا جب کہ اپوزیشن ارکان اعتزاز احسن، لیاقت بلوچ اور چوہدری نثارعلی خان نے کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ جعلی صحافیوں کو پاسوں کے اجرا کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔

پاک ٹریبون کی خبر
Clarifying their stance, journalists on Wednesday said that upheaval in Press Gallery of National Assembly was due to non-professional and fake journalists who had forcibly entered the gallery amid negotiation between journalists and parliamentarians.

�When they were asked to leave the gallery, they used derogatory language against the real journalists,� the clarification was given when a delegation of journalists called on Speaker Chaudhry Amir Hussain.

صحافیوں نے مسلسل زیادتی پر احتجاج کیا تھا اور واک آؤٹ‌کر گئے جس پر حکومت کی طرف سے جعلی وکیل بٹھا کر نعرے بازی کی گئی کہ جو حکومت نے کیا وہ ٹھیک ہے۔ اس پر صحافیوں نے آکر ان جعلی صحافیوں سے ان کی شناخت طلب کی اور ان سے کہا کہ وہ ان کے احتجاج کو سبوتاژ نہ کریں جس پر ان جعلی صحافیوں نے غیر اخلاقی زبان استعمال کی اور بات بڑھتے ہوئے ہاتھا پائی تک پہنچی ۔ اب اسے ایسے پیش کیا گیا ہے جیسے صحافیوں نے نہتے معصوم ٬اصلی ٬ صحافیوں پر دھاوا بول کر حق کی آواز دبا دی ہو۔
حکومت کو جعلی وکیل اور جعلی صحافیوں کے بعد اب جانے اور کون کون سے شعبوں سے جعلی لوگوں کی ضرورت پڑے گی، انتظامیہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ جعلی لوگوں کو اسمبلی میں نہ پہنچنے دے الٹا وہ انہیں وہاں پہنچا کر اپنے مقاصد پورا کرنا چاہتی تھی۔ اپوزیشن نے حکومت کو مشورہ دیا کہ باقاعدہ کارڈ‌جاری کیے جائیں اور پارلیمانی کمیٹی بنا کر تحقیق کریں مگر حکومت کمیٹی نہ بنائے گی کہ پھر اس میں کچھ ٬پردہ نشینوں٬ کے نام آئیں گے۔

اس پر تنقید ہوئی اور صحافیوں کی اگلے دن کی کاروائی اور وضاحت بھی آئی اور حکومت نے صحافیوں کا موقف مانا بھی۔ ایم کیو ایم کے سات کارکنان کی قلعی کافی دیر پہلے کھل چکی ہے اور ان کا صرف ایک ہی کارکن جاں بحق ہوا تھا جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار نے جھوٹ کی انتہا کرتے ہوئے بار بار ۱۰ سے زائد کارکنوں کی ہلاکت کا رونا رویا تھا۔ یہ بھی بات بھی میڈیا پر ہی ہوئی اور ایم کیو ایم کے اکابرین کے جھوٹ کا پردہ چاک ہوا ، حیرت ہے کہ اب بھی ایم کیو ایم کے جھوٹ کی پٹی نہیں کھلی۔

وصی ظفر نے پہلے صحافیوں کو غنڈہ اور پھر پاگل کہا مگر وہ وزیر قانون ہیں ان پر قانون کہاں چل سکتا ہے۔ سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر منفی شہرت کے حامل وزیر کو ابھی تک تبدیل نہیں کیا گیا جو کہ حکومت کے لیے چلتی پھرتی بدنامی ہے۔ اس کی جگہ کسی بہتر آدمی (حکومت میں ہی وصی ظفر سے بہت سمجھدار لوگ ہیں اور قانون سے متعلق بھی ، ایک بڑا نام ایس ایم ظفر کا ہے ) کو لے آئے تو اتنی سبکی نہ ہو۔
 

ساجداقبال

محفلین
مہوش سسٹر،
آپکی بات مان لیتے ہیں، صحافیوں نے غلط کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپکی چہیتی حکومت اب اسکے خلاف کیا قدم لیتی ہے۔ شوکت عزیز نے صحافیوں کیخلاف درج کیا ہوا کیس(پیمرا احتجاج والے کیس میں) واپس لینے کاحکم دیا تھا۔ سیدھا مطلب یہ کہ انہیں قانون سے زیادہ اس پریشر کا لحاظ ہے جو میڈیا ان پر ڈالتا۔ اسی معاملے کو لے لیں، کیا ابھی تک کوئی ایکشن لیا گیا؟ یہ حال ہے آپکے جنرل صاحب کے دور میں قانون کا ۔ پولیس کو جلسوں ریلیوں کیلیے گاڑیاں پکڑنے کو تو کہا جاتا ہے لیکن قانون نافذ کرنے کیلیے نہیں۔
ایک سوال یہ کہ کیا آپ نے وصی ظفر کی Heroics پر کبھی احتجاج کیا ہے۔ مذکورہ واقعے کے دوسرے دن انہوں نے جو کچھ کیا، کیا آپ اس پر احتجاج کرنا پسند کرینگی؟ انہوں نے تو کبھی غلطی مانگنے کی زحمت نہیں کی۔
 

پاکستانی

محفلین
ایک مثل مشہور ہے کہ
جب کوئی بات نہیں بن سکتی تو کم ظرف پتھر اٹھا لیا کرتے ہیں​


اس وقت بھی دونوں طرف والوں کی یہی حالت ہے اور اس میں بیچارے وصی ظفر کا کیا قصور وہ تو ہیں ہی معصوم :lol:
 
مہوش علی نے کہا:
ساجداقبال نے کہا:
مہوش بہن! بات نکلے گی تو پھر دُور تلک جائیگی
آپ نے سوال کیا ہے کہ کیا صحافی مار کٹائی کیلیے آزاد ہیں، تو میری پیاری بہن، اس سوال کا جواب تو آپکی پیاری حکومت ہی دے سکتی ہے۔ اور اگر جواب ہاں میں ہو تو مجھے بھی بتائیے کہ چند وزراء خاص کر وصی ظفر میاں کی کُٹائی کا بڑا شوق ہے۔

صحافی کیا یہاں صدر سے لیکر چپڑاسی خود کا قانون سے مبرا سمجھتے ہیں۔

یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ صحافی نہیں تھے۔ مارپیٹ بالکل غلط بات ہے لیکن ذرا انکی حرکت بھی ملاحظہ فرمائیے کہ صحافیوں نے واک آؤٹ کیا تو سرکاری بندوں کا میڈیا انکلوژر میں بٹھا دیا۔ اب اس سے انکو اشتعال نہ آتا؟ ویسے بھی آپ کے پیارے جرنیل صاحب کی بدولت ہر پاکستانی شدت پسند بن چکا ہے۔ اپنا یہ حال ہے کہ پوری عمر میں لڑائی نہیں کی لیکن کل کنڈیکٹر کو کھری سنا دیں۔ :twisted: شکر ہے بچت ہوگئی اسنے کچھ کہا نہیں۔ :wink:
لوگوں کا تحفظ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ آئین میں کہیں کسی شخص کو بلاوجہ دوسروں پر برسنے کی اجازت نہیں۔ ویسے اپنے لوگوں پر بمباری کرنے کی آئین میں واضح اجازت ہے۔
میں اپوزیشن میں عمران خان کے علاوہ کسی کا حامی نہیں۔ میں چیف جسٹس کے ساتھ ہوں۔


ساجد بھائی،
بات وہی آئی کہ وصی ظفر کی بات آئی تو سر آسمان پر اٹھا لیا گیا، اور جب میڈیا کی بات آئی تو انکی شدت پسندی کو مشرف صاحب کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ آپکا یہ آرگومنٹ کسی بھی عدالت میں منظور نہیں ہو سکتا اور اس پر یقین صرف وہی لوگ لائیں گے جنکی لاجک ہو گی "حب علی سے زیادہ بغضِ معاویہ"

میڈیا کو قومی اسمبلی میں نہ نعرے بازی شروع کرنے کی اجازت تھی اور نہ واک آؤٹ کر کے احتجاج کرنے کی۔ یہ اُنکی غلطی ہے کہ انہوں نے غلط پلیٹ فارم چنا اور اسی کا "آخر" یہ ہوا کہ زبردستی کرتے ہوئے ہاتھا پائی پر اتر آئے۔

اب میڈیا اپنی غلطی پر معافی مانگے یا نہ مانگے، مگر میں انکے غلط رویے پر اپنا احتجاج ضرور درج کرؤاں گی۔

مہوش،

وصی ظفر ایک بدنما داغ ہے نہ صرف حکومت بلکہ سیاست کے لیے بھی ، بہت سے سیاست دان من مانیاں اور ظلم و ستم کرتے ہیں مگر سرعام اس طرح کی غیر اخلاقی اور بدتہذیبی اختیار نہیں کرتے ۔ آپ کیا چاہتی ہیں کہ وصی ظفر کی ان حرکات کو خاموشی سے سہہ لیا جائے جو کہ سہی جاتی بھی رہیں مگر اب تو اس شخص نے حد کر دی ہے ۔ آپ کے لیے شاید یہ ایک معمولی بات ہو مگر پوری دنیا میں اس شخص کی زبان نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا رکھا ہے اور مسلسل بدزبانی اور دریدہ دہنی جاری ہے اگر پرزور مذمت نہ کی گئی تو باقی لوگوں کا بھی حوصلہ بڑھے گا اور کل کو وہ بھی یہ زبان استعمال کرنے لگیں گے اور وصی ظفر کی مثال دیا کریں گے۔
میڈیا کی شدت پسندی کا سیاق و سباق اوپر بیان کیا جا چکا ہے اور اس کا وصی ظفر کے معاملے سے تقابل نہیں بنتا۔ میری گزارش ہے کہ "حب علی سے زیادہ بغضِ معاویہ" اس محاورے کو نہ استعمال کریں کہ یہ ایک تاریخی جھگڑے کی طرف مخصوص انداز میں اشارہ کرتا ہے اور اسے مسلمانوں میں ہی انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا جو لوگ اس کا پس منظر نہیں جانتے وہ اس سے منتشر ہو سکتے ہیں اور جو جانتے ہیں وہ بھی سیاسی بحث میں اس کے استعمال سے بے چینی محسوس کریں گے۔

میڈیا پر آپ کا احتجاج آپ کا حق ہے اور جس کسی نے بھی ہاتھا پائی کی اور غیر اخلاقی گفتگو کی وہ قابل مذمت ہے۔ واک آؤٹ کرنا ان کا حق تھا یہ حق کس بنیاد پر آپ ان سے چھین رہی ہیں اور زبردستی ہاتھا پائی نہیں اس کے محرکات پر بارہا بات ہوچکی ہے۔
 

qaral

محفلین
میڈیا ایک قیمت ہے جو ایک انسان کو اپنے طاقت ور یا مشہور ہونے کی اداکرنی پڑتی ہے بعض اوقات بہت ظالم ہوتا ہے مگر اس کے مخالفت میں جانا کبھی بھی آپ کے حق میں بہتر ثا بت نہیں ہوتا میرا خیال ہے اب باقی دنیا کیطرح پاکستانیوں کو بھی یہ بات سمجھ لینا چاہیئے اور دنیا میں سب سے زیادہ غلط استعمال اسی
طاقت کا ہوتا ہے
 

ابوشامل

محفلین
مہوش آپ پاکستانی صحافیوں‌ کو سمجھتی کیا ہیں؟ کیا وہ جاہل، اجڈ، چمار اور ابے تبے سے گفتگو کرنے والے لوگ ہیں؟ یا وہ ایسی طبیعت کے ہوں گے کہ کسی کے گھورنے پر ہی اس کی مار لگائیں گے؟ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص جب اس طرح کی حرکت کرتا ہے تو اس کے اسباب کو آپ بالکل نہیں دیکھتیں اور جب ایم کیو ایم کے غنڈے انسانی جانوں‌ سے کھیلتے ہیں تو آپ کہتی ہیں کہ ایم کیو ایم کے قیام کے اسباب دیکھے جائیں، مہاجر نقل کرنے پر کیوں‌ اتر آئے اس کے اسباب دیکھے جائیں۔ آخر ایسا نقطۂ نظر کیوں؟ آپ مطالعہ (چاہے انٹرنیٹ کا ہی سہی) کرنے والی شخصیت ہیں‌ اور آپ سے ایسی دو رنگی کی امید نہیں کی جاسکتی۔
بخدا اپنے رویے پر نظر ثانی کیجیے، آپ الطاف حسین، پرویز مشرف اور وصی ظفر جیسی شخصیات کے بارے میں مثبت رائے رکھتی ہیں :shock: ، جو کم از کم میرے لیے تو انتہائی افسوسناک ہے۔ اس کی وجہ الطاف حسین کا انداز گفتگو اور وصی ظفر کی کھلی زبان ہے۔ وصی ظفر کی وائس آف امریکہ پر گفتگو شاید آپ نے سنی ہو جس میں‌ انہوں نے انگریزی پر بہت بڑا احسان کیا اور گوروں کی اس زبان کو نئے مطالب سے آشنا کرایا۔ اگر آپ کہیں تو وہ جملہ لکھ دوں جو انہوں‌ نے پاکستان کے ایک سینئر صحافی کے بارے میں‌ وائس آف امریکہ پر کہا تھا؟
لکھوں وہ سب کچھ؟؟ لیجیے آپ کے چہیتے وصی ظفر نے لائیو گفتگو میں‌ دی نیوز‌کے صحافی انصار عباسی کو مندرجہ ذیل جملے کہے:

"Big arm in you...big arm in your family....you say big arm in law minister...law minister will insert big arm in family of that man who say big arm in law minister".

ان جملوں‌ سے وصی ظفر کی ذہنی سطح اور ان کی انگریزی کا اندازہ لگالیں کہ دی نیوز میں چھپنے والے مضمون "Law minister facing long arm of the law?" میں وہ لانگ آرم کو بگ آرم سمجھ بیٹھے اور بعد ازاں عذر گناہ بد تر از گناہ کے طور پر اس کی تاویلیں‌ بھی پیش کیں۔

اور مہوش یہ کیا کہہ دیا آپ نے کہ صحافیوں‌ کو اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کرنے کی اجازت نہیں؟ یہ قانون آپ کو کس نے بتایا یا آپ نے اپنی طرف سے گڑھ لیا۔ صحافی ٹاؤن کونسل سے لے کر سینیٹ و قومی اسمبلی کے ہر اجلاس کا واک آؤٹ کر سکتے ہیں اور یہ ان کا قانونی حق ہے۔ کیا آپ مجھے بتائیں گی کہ آپ نے کہاں پڑھا ہے کہ میڈیا کو احتجاج کا قانونی حق حاصل نہیں؟ اگر یہ قانونی حق نہ ہوتا تو واک آؤٹ کے بعد وزیر اطلاعات واک آؤٹ ختم کرنے کے لیے صحافیوں‌کے پیچھے نہ دوڑتے پھرتے۔

اور خدا کے لیے آئندہ امیر المومنین، شیر مادر اور بغض علی حب معاویہ کے الفاظ‌ استعمال نہ کیا کریں، اس کی وجہ میں ‌اور دیگر افراد بیان کر چکے ہیں۔
 
ابوشامل نے کہا:
ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص جب اس طرح کی حرکت کرتا ہے تو اس کے اسباب کو آپ بالکل نہیں دیکھتیں اور جب ایم کیو ایم کے غنڈے انسانی جانوں‌ سے کھیلتے ہیں تو آپ کہتی ہیں کہ ایم کیو ایم کے قیام کے اسباب دیکھے جائیں، مہاجر نقل کرنے پر کیوں‌ اتر آئے اس کے اسباب دیکھے جائیں۔ آخر ایسا نقطۂ نظر کیوں؟ آپ مطالعہ (چاہے انٹرنیٹ کا ہی سہی) کرنے والی شخصیت ہیں‌ اور آپ سے ایسی دو رنگی کی امید نہیں کی جاسکتی۔
غور طلب! :arrow:


:!:
 

ابوشامل

محفلین
چلیں آزادئ اظہار کے حوالے سے یہ بھی دیکھ لیں!!!‌ خود کو قائد اعظم کا وارث کہنا تو آسان ہے لیکن ان جیسا بن کر دکھانا شاید بہت مشکل،

08-06-07.gif
 

ابوشامل

محفلین
جمعہ 8 جون کو روزنامہ ایکسپریس کراچی میں چھپنے والی درج ذیل خبر بھی دیکھ لیں:

1100200495-1.gif



دوسری جانب صحافیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی دیکھ لیں:


1100200499-1.gif
 

مہوش علی

لائبریرین
ابوشامل نے کہا:
مہوش آپ پاکستانی صحافیوں‌ کو سمجھتی کیا ہیں؟ کیا وہ جاہل، اجڈ، چمار اور ابے تبے سے گفتگو کرنے والے لوگ ہیں؟ یا وہ ایسی طبیعت کے ہوں گے کہ کسی کے گھورنے پر ہی اس کی مار لگائیں گے؟ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص جب اس طرح کی حرکت کرتا ہے تو اس کے اسباب کو آپ بالکل نہیں دیکھتیں اور جب ایم کیو ایم کے غنڈے انسانی جانوں‌ سے کھیلتے ہیں تو آپ کہتی ہیں کہ ایم کیو ایم کے قیام کے اسباب دیکھے جائیں، مہاجر نقل کرنے پر کیوں‌ اتر آئے اس کے اسباب دیکھے جائیں۔ آخر ایسا نقطۂ نظر کیوں؟ آپ مطالعہ (چاہے انٹرنیٹ کا ہی سہی) کرنے والی شخصیت ہیں‌ اور آپ سے ایسی دو رنگی کی امید نہیں کی جاسکتی۔
بخدا اپنے رویے پر نظر ثانی کیجیے، آپ الطاف حسین، پرویز مشرف اور وصی ظفر جیسی شخصیات کے بارے میں مثبت رائے رکھتی ہیں :shock: ، جو کم از کم میرے لیے تو انتہائی افسوسناک ہے۔ اس کی وجہ الطاف حسین کا انداز گفتگو اور وصی ظفر کی کھلی زبان ہے۔ وصی ظفر کی وائس آف امریکہ پر گفتگو شاید آپ نے سنی ہو جس میں‌ انہوں نے انگریزی پر بہت بڑا احسان کیا اور گوروں کی اس زبان کو نئے مطالب سے آشنا کرایا۔ اگر آپ کہیں تو وہ جملہ لکھ دوں جو انہوں‌ نے پاکستان کے ایک سینئر صحافی کے بارے میں‌ وائس آف امریکہ پر کہا تھا؟
لکھوں وہ سب کچھ؟؟ لیجیے آپ کے چہیتے وصی ظفر نے لائیو گفتگو میں‌ دی نیوز‌کے صحافی انصار عباسی کو مندرجہ ذیل جملے کہے:

"Big arm in you...big arm in your family....you say big arm in law minister...law minister will insert big arm in family of that man who say big arm in law minister".

ان جملوں‌ سے وصی ظفر کی ذہنی سطح اور ان کی انگریزی کا اندازہ لگالیں کہ دی نیوز میں چھپنے والے مضمون "Law minister facing long arm of the law?" میں وہ لانگ آرم کو بگ آرم سمجھ بیٹھے اور بعد ازاں عذر گناہ بد تر از گناہ کے طور پر اس کی تاویلیں‌ بھی پیش کیں۔

اور مہوش یہ کیا کہہ دیا آپ نے کہ صحافیوں‌ کو اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کرنے کی اجازت نہیں؟ یہ قانون آپ کو کس نے بتایا یا آپ نے اپنی طرف سے گڑھ لیا۔ صحافی ٹاؤن کونسل سے لے کر سینیٹ و قومی اسمبلی کے ہر اجلاس کا واک آؤٹ کر سکتے ہیں اور یہ ان کا قانونی حق ہے۔ کیا آپ مجھے بتائیں گی کہ آپ نے کہاں پڑھا ہے کہ میڈیا کو احتجاج کا قانونی حق حاصل نہیں؟ اگر یہ قانونی حق نہ ہوتا تو واک آؤٹ کے بعد وزیر اطلاعات واک آؤٹ ختم کرنے کے لیے صحافیوں‌کے پیچھے نہ دوڑتے پھرتے۔

اور خدا کے لیے آئندہ امیر المومنین، شیر مادر اور بغض علی حب معاویہ کے الفاظ‌ استعمال نہ کیا کریں، اس کی وجہ میں ‌اور دیگر افراد بیان کر چکے ہیں۔

ابو شامل برادر،

ستم يہ ہے کہ جو رپورٹيں ہم اس معاملے ميں پڑھ رہے ہيں يا يہاں پيش کي جا رہي ہيں وہ سب بھي ميڈيا ہي کي جاري کي ہوئي ہيں

بات وہيں آ جاتي ہے کہ ميڈيا کارکنوں کو اسمبلي ميں نعرے بازي اور غل غپاڑہ کي اجازت تھي اور نہ احتجاجي مظاہروں کے ساتھ واک آؤٹ کرنے کي اور نہ وہاں بيٹھے ديگر لوگوں کو وہاں سے زبردستي اٹھانے کي، اور آپ اگر اب بھي اسے حکومتي غلطيوں کے پيچھے چھپانا چاہيں تو يہ آپکي مرضي

(نوٹ آپ لوگوں نے الزام لگايا ہے کہ جھگڑا اس ليے شروع ہوا کہ وہاں بيٹھے لوگوں نے گالياں ديني شروع کر ديں

اگر آپ لوگوں کا يہ الزام (جو صرف ميڈيا پھيلا رہا ہے) کو مان بھي ليا جائے تب بھي الزام ميڈيا پر ہي ہے کہ انہوں نے گالياں پہلي نہيں ديں بلکہ صرف اُس وقت ديں جب ميڈيا انہيں زبردستي وہاں سے نکالنا چاہ رہا تھا

اور آپ اسکو ايم کيو ايم سے منسلک کر رہے ہيں تو يہ بھي کوئي منصفانہ بات نہ ہوئي

بلکہ ايم کيو ايم کے مسئلے پر بھي ميں نے تو ہميشہ يہي کہا ہے کہ اُنکے غلط کاموں پر تنقيد کريں اور انکے کارکنوں کو اسلحہ کے ساتھ دکھائيں، مگر صرف يہ کہ اتنا انصاف کريں کے باقي تنظيموں کے کارکنوں کو بھي اسلحہ کے ساتھ دکھا ديں اور سہراب گوٹھ کے اور اندرون سندھ ميں موجود اسلحہ کو بھي دکھا ديں تاکہ انصاف کي بات پوري ہو سکے


اور آخري بات يہ ہے کہ "امير المومنين" کے سلسلے ميں تو ميں آپ کي بات مان ليتي ہوں، مگر "شير مادر" اور "بغضِ معاويہ" اردو زبان ميں بہت مستعمل ہيں اور مجھے اس ميں کوئي مضائکہ نظر نہيں آتا (اگر آپ کو يہ اردو زبان ميں مستعمل نظر نہ آئے ہوں تو ميں اس سلسلے ميں کچھ نہيں کر سکتي)
 
مہوش علی نے کہا:
ابوشامل نے کہا:
مہوش آپ پاکستانی صحافیوں‌ کو سمجھتی کیا ہیں؟ کیا وہ جاہل، اجڈ، چمار اور ابے تبے سے گفتگو کرنے والے لوگ ہیں؟ یا وہ ایسی طبیعت کے ہوں گے کہ کسی کے گھورنے پر ہی اس کی مار لگائیں گے؟ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص جب اس طرح کی حرکت کرتا ہے تو اس کے اسباب کو آپ بالکل نہیں دیکھتیں اور جب ایم کیو ایم کے غنڈے انسانی جانوں‌ سے کھیلتے ہیں تو آپ کہتی ہیں کہ ایم کیو ایم کے قیام کے اسباب دیکھے جائیں، مہاجر نقل کرنے پر کیوں‌ اتر آئے اس کے اسباب دیکھے جائیں۔ آخر ایسا نقطۂ نظر کیوں؟ آپ مطالعہ (چاہے انٹرنیٹ کا ہی سہی) کرنے والی شخصیت ہیں‌ اور آپ سے ایسی دو رنگی کی امید نہیں کی جاسکتی۔
بخدا اپنے رویے پر نظر ثانی کیجیے، آپ الطاف حسین، پرویز مشرف اور وصی ظفر جیسی شخصیات کے بارے میں مثبت رائے رکھتی ہیں :shock: ، جو کم از کم میرے لیے تو انتہائی افسوسناک ہے۔ اس کی وجہ الطاف حسین کا انداز گفتگو اور وصی ظفر کی کھلی زبان ہے۔ وصی ظفر کی وائس آف امریکہ پر گفتگو شاید آپ نے سنی ہو جس میں‌ انہوں نے انگریزی پر بہت بڑا احسان کیا اور گوروں کی اس زبان کو نئے مطالب سے آشنا کرایا۔ اگر آپ کہیں تو وہ جملہ لکھ دوں جو انہوں‌ نے پاکستان کے ایک سینئر صحافی کے بارے میں‌ وائس آف امریکہ پر کہا تھا؟
لکھوں وہ سب کچھ؟؟ لیجیے آپ کے چہیتے وصی ظفر نے لائیو گفتگو میں‌ دی نیوز‌کے صحافی انصار عباسی کو مندرجہ ذیل جملے کہے:

"Big arm in you...big arm in your family....you say big arm in law minister...law minister will insert big arm in family of that man who say big arm in law minister".

ان جملوں‌ سے وصی ظفر کی ذہنی سطح اور ان کی انگریزی کا اندازہ لگالیں کہ دی نیوز میں چھپنے والے مضمون "Law minister facing long arm of the law?" میں وہ لانگ آرم کو بگ آرم سمجھ بیٹھے اور بعد ازاں عذر گناہ بد تر از گناہ کے طور پر اس کی تاویلیں‌ بھی پیش کیں۔

اور مہوش یہ کیا کہہ دیا آپ نے کہ صحافیوں‌ کو اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کرنے کی اجازت نہیں؟ یہ قانون آپ کو کس نے بتایا یا آپ نے اپنی طرف سے گڑھ لیا۔ صحافی ٹاؤن کونسل سے لے کر سینیٹ و قومی اسمبلی کے ہر اجلاس کا واک آؤٹ کر سکتے ہیں اور یہ ان کا قانونی حق ہے۔ کیا آپ مجھے بتائیں گی کہ آپ نے کہاں پڑھا ہے کہ میڈیا کو احتجاج کا قانونی حق حاصل نہیں؟ اگر یہ قانونی حق نہ ہوتا تو واک آؤٹ کے بعد وزیر اطلاعات واک آؤٹ ختم کرنے کے لیے صحافیوں‌کے پیچھے نہ دوڑتے پھرتے۔

اور خدا کے لیے آئندہ امیر المومنین، شیر مادر اور بغض علی حب معاویہ کے الفاظ‌ استعمال نہ کیا کریں، اس کی وجہ میں ‌اور دیگر افراد بیان کر چکے ہیں۔

ابو شامل برادر،

ستم يہ ہے کہ جو رپورٹيں ہم اس معاملے ميں پڑھ رہے ہيں يا يہاں پيش کي جا رہي ہيں وہ سب بھي ميڈيا ہي کي جاري کي ہوئي ہيں

بات وہيں آ جاتي ہے کہ ميڈيا کارکنوں کو اسمبلي ميں نعرے بازي اور غل غپاڑہ کي اجازت تھي اور نہ احتجاجي مظاہروں کے ساتھ واک آؤٹ کرنے کي اور نہ وہاں بيٹھے ديگر لوگوں کو وہاں سے زبردستي اٹھانے کي، اور آپ اگر اب بھي اسے حکومتي غلطيوں کے پيچھے چھپانا چاہيں تو يہ آپکي مرضي

(نوٹ آپ لوگوں نے الزام لگايا ہے کہ جھگڑا اس ليے شروع ہوا کہ وہاں بيٹھے لوگوں نے گالياں ديني شروع کر ديں

اگر آپ لوگوں کا يہ الزام (جو صرف ميڈيا پھيلا رہا ہے) کو مان بھي ليا جائے تب بھي الزام ميڈيا پر ہي ہے کہ انہوں نے گالياں پہلي نہيں ديں بلکہ صرف اُس وقت ديں جب ميڈيا انہيں زبردستي وہاں سے نکالنا چاہ رہا تھا

اور آپ اسکو ايم کيو ايم سے منسلک کر رہے ہيں تو يہ بھي کوئي منصفانہ بات نہ ہوئي

بلکہ ايم کيو ايم کے مسئلے پر بھي ميں نے تو ہميشہ يہي کہا ہے کہ اُنکے غلط کاموں پر تنقيد کريں اور انکے کارکنوں کو اسلحہ کے ساتھ دکھائيں، مگر صرف يہ کہ اتنا انصاف کريں کے باقي تنظيموں کے کارکنوں کو بھي اسلحہ کے ساتھ دکھا ديں اور سہراب گوٹھ کے اور اندرون سندھ ميں موجود اسلحہ کو بھي دکھا ديں تاکہ انصاف کي بات پوري ہو سکے


اور آخري بات يہ ہے کہ "امير المومنين" کے سلسلے ميں تو ميں آپ کي بات مان ليتي ہوں، مگر "شير مادر" اور "بغضِ معاويہ" اردو زبان ميں بہت مستعمل ہيں اور مجھے اس ميں کوئي مضائکہ نظر نہيں آتا (اگر آپ کو يہ اردو زبان ميں مستعمل نظر نہ آئے ہوں تو ميں اس سلسلے ميں کچھ نہيں کر سکتي)

میڈیا اگر نہ ہو تو کون رپورٹنگ کرے گا ، کیا یہ ذمہ داری فوج ادا کرے گی۔

اس الزام کی تردید کون کر رہا ہے یہ بھی بتا دیں۔

دوسرا ‘بغض معاویہ‘ مسلکی بحثوں میں ضرور مستعمل ہوگا مگر روزمرہ کی گفتگو میں نہیں۔
 
Top