کوانٹم فزکس کیا ہے؟

یہ کیا چیز ہے؟
Newtons_cradle_animation_book.gif

:) :)
 

فاتح

لائبریرین
پھر بھی نہیں سمجھ آیا فاتح بھائی، اسی لیے پوچھے۔
یہ لیجیے برادر۔۔۔ یہاں سے تفصیل پڑھ لیجیے
http://en.wikipedia.org/wiki/Newton's_cradle
Newton's cradle, named after Sir Isaac Newton, is a device that demonstrates conservation of momentum and energy via a series of swinging spheres. When one on the end is lifted and released, it strikes the stationary spheres; a force is transmitted through the stationary spheres and pushes the last one upward. The device is also known as Newton's balls or "Executive Ball Clicker".[1][2][3][4]
http://en.wikipedia.org/wiki/Newton's_cradle
 

فاتح

لائبریرین
اب فائدہ یا نقصان کون دیکھتا ہے بھیا :daydreaming:
کسی زمانے میں ایٹم کے متعلق یہ تسلیم کیا جاتا تھا کہ یہ مادے کا سب سے چھوٹا ذرہ ہے جسے مزید چھوٹے ٹکڑوں میں توڑنا ممکن نہیں لیکن ٹیکنالوجی کی ترقی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تجربات کے ذریعے علم میں ہونے والے اضافے نے یہ بتایا کہ ایٹم کچھ مزید چھوٹے ذروں (پارٹیکلز) سے مل کر بنا ہوتا ہے جن میں الیکٹرون، پروٹون اور نیوٹرون شامل ہیں۔ پروٹون اور نیوٹرون دونوں مل کر ایٹم کا مرکزہ یعنی نیوکلس بناتے جب کہ الیکٹرون اس نیوکلس کے گرد مدار میں گردش کرتا رہتا ہے۔
(فی الحال ہم کوارکس کی بات نہیں کریں گے جن سے مل کر نیوٹرون اور پروٹون بنتے ہیں۔)

یوں تو الیکٹران کی یہ گردش بھی اسی طرح کی ہے جیسے ہماری زمین اور دیگر سیارے سورج کے گرد کرتے ہیں لیکن اگر الیکٹرون کی نیوکلس کے گرد گردش کا مدار رفتہ رفتہ تبدیل ہوتا تو اس تبدیلی کے باعث کچھ ہی وقت میں الیکٹرون (جو پروٹون اور نیوٹرون سے 1800 گنا چھوٹا ہے) نیوکلس کے اتنا قریب آ جاتا کہ اس سے ٹکرا کر تباہ ہو جاتا اور یوں کائنات میں کوئی ایٹم اپنا وجود برقرار ہی نہ رکھ سکتا اور کچھ بھی موجود نہ ہوتا لیکن ایسا نہیں ہے۔ آج سے لگ بھگ ایک صدی قبل ایک سائنسدان بوہر اور بعد ازاں ہائیزن برگ نے لمبی تحقیق اور تجربات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انرجی کی کمی یا زیادتی کے مطابق الیکٹران کے متعین مدار ہیں جن پر وہ گردش کرتے ہیں اور جونہی حرارت کی کمی یا زیادتی واقع ہوتی ہے الیکٹران ایک مدار سے دوسرے مدار میں رفتہ رفتہ جانے کی بجائے بغیر وقت لیے منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ منتقلی اسی طرح ہے گویا زمین اپنے مدار سے اچانک بغیر کوئی وقت لیے مریخ یا زہرہ کے مدار میں پہنچ جائے۔

آئن سٹائن اور کلاسک فزکس کے مطابق کائنات کی کوئی شے بھی روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار پر سفر نہیں کر سکتی لیکن بوہر کے مطابق الیکٹران اپنے حجم سے لاکھوں گنا فاصلہ بغیر وقت کے طے کر لیتے ہیں یعنی الیکٹران اپنا مدار تبدیل کرتے ہوئے روشنی کی رفتار سے زیادہ پر سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ اس تھیوری کے متعلق آئن سٹائن اور بوہر کے مابین سائنسی ابحاث بھی ہوئیں۔

اب چونکہ ہمیں یہ علم ہو گیا تھا کہ ایٹم کے اندر موجود پارٹیکلز کی حرکت کلاسک میکینکس یا کلاسک فزکس کے قوانین سے ہٹ کر ہے لہٰذا ایٹم اور اس سے چھوٹی اشیا کی فزکس اور اس کے قوانین کے مطالعے کو "کوانٹم میکینکس" کا نام دیا گیا۔ لفظ "کوانٹم" اس لیے چنا گیا کہ "کوانٹم" (جمع: کوانٹا) کسی شے کی وہ کم سے کم مقدار ہے جسے ناپا جا سکے۔

سن 1800 اوائل میں تھامس ینگ نے ایک تجربہ کیا تھا جسے ڈبل سلٹ ایکسپیریمنٹ (دو درز تجربے) یا ینگ ایکسپیریمنٹ (ینگ کا تجربہ) کا نام دیا جاتا ہے جس کے نتائج کلاسک فزکس کے قوانین سے متصادم تھے اور اس تجربے کو بھی کوانٹم میکینکس کا آغاز مانا جاتا ہے۔
یوں تو روشنی خط مستقیم میں سفر کرتی ہے لیکن اس تجربے کے دوران ینگ نے جب روشنی کی باریک بیمز کو ایک پلیٹ پر بنائی گئی دو بے حد باریک درزوں (شگافوں) سے گزارا تو پلیٹ کے دوسری جانب بجائے دو لائنیں بننے کے روشنی کے کچھ پیٹرنز بن گئے۔ بعد ازاں یہی تجربہ فوٹونز کے علاوہ الیکٹرانز، ایٹمز حتیٰ کہ کچھ مالیکیولز پر بھی دہرایا گیا تو نتائج وہی نکلے کہ دو درزوں سے نکل دو مقامات پر پڑنے کی بجائے پیٹرنز بن رہے تھے جو پارٹیکلز کے کلاسک رویے کی بجائے لہروں (ویوز) کا رویہ تھا۔
ذیل کی تصاویر اس تجربے کی وضاحت کرتی ہیں:
figure10.gif


Doubleslit3Dspectrum.gif


چلیے، یہاں تک تو عقل کسی طور تسلیم کر بھی لیتی ہے لیکن اس کے بعد جو بات بے انتہا حیران کن ہے وہ یہ ہے کہ جب ان درزوں سے قبل یہ جاننے کے لیے ڈیٹیکٹر نصب کیے گئے کہ پارٹیکلز کس درز سے جا تے ہیں اور کہاں مڑتے ہیں تو بجائے ویو پیٹرن کے پارٹیکل کا رویہ خط مستقیم میں سفر کرنے کا ہو گیا یعنی پارٹیکل یہ محسوس کر رہے تھے کہ ہمیں دیکھا جا رہا ہے اور اس دیکھے جانے کے احساس کے بعد انہوں نے اپنا لہروں والا رویہ ترک کر دیا اور جونہی ڈیٹیکٹر ہٹایا گیا انہوں نے دوبارہ لہروں کا رویہ اختیار کر لیا:
Two-Slit_Experiment_Particles_watched.gif


کلاسک فزکس کے قوانین ان تجربات کے محیر لعقول نتائج سے متصادم تھے اور کلاسک فزکس ان عوامل کی وضاحت کرنے سے قاصر تھی لیکن کوانٹم میکینکس میں اس عمل کو جاننے کے لیے تجربات کیے جاتے ہیں، تھیوریز، مساوات اور قوانین بنائے جاتے ہیں۔
 

سید ذیشان

محفلین
آئن سٹائن اور کلاسک فزکس کے مطابق کائنات کی کوئی شے بھی روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار پر سفر نہیں کر سکتی لیکن بوہر کے مطابق الیکٹران اپنے حجم سے لاکھوں گنا فاصلہ بغیر وقت کے طے کر لیتے ہیں یعنی الیکٹران اپنا مدار تبدیل کرتے ہوئے روشنی کی رفتار سے زیادہ پر سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ اس تھیوری کے متعلق آئن سٹائن اور بوہر کے مابین سائنسی ابحاث بھی ہوئیں۔

پہلی بار ایسی بات سنی ہے۔ اس جملے کا کیا ثبوت ہے؟

آئنسٹائین اور بوہر کی ابحاث تو کوانٹم تھیوری کی فارمولیشن اور اس کے فلسفے پر ہوتی تھیں۔ آئنسٹائن کوانٹم تھیوری کی probabilistic formulation کا قائل نہیں تھا، آئنسٹائن نے یہ بھی کہا تھا کہ God doesn't play dice
آئنسٹائن determinism کے حق میں تھا۔
 

ساقی۔

محفلین
یہ سائنس ہے ہی اتنی مشکل اور پیچیدہ کہ اسے آسان الفاظ میں انگریزی میں بھی نہیں سمجھایا جا سکتا۔

لیجیے یہ کا م فاتح صاحب نے کر دکھایا۔
اب تو پانچویں کا بچہ بھی شاید سمجھ جائے۔ بہت شکریہ فاتح صاحب۔

کسی زمانے میں ایٹم کے متعلق یہ تسلیم کیا جاتا تھا کہ یہ مادے کا سب سے چھوٹا ذرہ ہے جسے مزید چھوٹے ٹکڑوں میں توڑنا ممکن نہیں لیکن ٹیکنالوجی کی ترقی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تجربات کے ذریعے علم میں ہونے والے اضافے نے یہ بتایا کہ ایٹم کچھ مزید چھوٹے ذروں (پارٹیکلز) سے مل کر بنا ہوتا ہے جن میں الیکٹرون، پروٹون اور نیوٹرون شامل ہیں۔ پروٹون اور نیوٹرون دونوں مل کر ایٹم کا مرکزہ یعنی نیوکلس بناتے جب کہ الیکٹرون اس نیوکلس کے گرد مدار میں گردش کرتا رہتا ہے۔
(فی الحال ہم کوارکس کی بات نہیں کریں گے جن سے مل کر نیوٹرون اور پروٹون بنتے ہیں۔)

یوں تو الیکٹران کی یہ گردش بھی اسی طرح کی ہے جیسے ہماری زمین اور دیگر سیارے سورج کے گرد کرتے ہیں لیکن اگر الیکٹرون کی نیوکلس کے گرد گردش کا مدار رفتہ رفتہ تبدیل ہوتا تو اس تبدیلی کے باعث کچھ ہی وقت میں الیکٹرون (جو پروٹون اور نیوٹرون سے 1800 گنا چھوٹا ہے) نیوکلس کے اتنا قریب آ جاتا کہ اس سے ٹکرا کر تباہ ہو جاتا اور یوں کائنات میں کوئی ایٹم اپنا وجود برقرار ہی نہ رکھ سکتا اور کچھ بھی موجود نہ ہوتا لیکن ایسا نہیں ہے۔ آج سے لگ بھگ ایک صدی قبل ایک سائنسدان بوہر اور بعد ازاں ہائیزن برگ نے لمبی تحقیق اور تجربات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انرجی کی کمی یا زیادتی کے مطابق الیکٹران کے متعین مدار ہیں جن پر وہ گردش کرتے ہیں اور جونہی حرارت کی کمی یا زیادتی واقع ہوتی ہے الیکٹران ایک مدار سے دوسرے مدار میں رفتہ رفتہ جانے کی بجائے بغیر وقت لیے منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ منتقلی اسی طرح ہے گویا زمین اپنے مدار سے اچانک بغیر کوئی وقت لیے مریخ یا زہرہ کے مدار میں پہنچ جائے۔

آئن سٹائن اور کلاسک فزکس کے مطابق کائنات کی کوئی شے بھی روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار پر سفر نہیں کر سکتی لیکن بوہر کے مطابق الیکٹران اپنے حجم سے لاکھوں گنا فاصلہ بغیر وقت کے طے کر لیتے ہیں یعنی الیکٹران اپنا مدار تبدیل کرتے ہوئے روشنی کی رفتار سے زیادہ پر سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ اس تھیوری کے متعلق آئن سٹائن اور بوہر کے مابین سائنسی ابحاث بھی ہوئیں۔

اب چونکہ ہمیں یہ علم ہو گیا تھا کہ ایٹم کے اندر موجود پارٹیکلز کی حرکت کلاسک میکینکس یا کلاسک فزکس کے قوانین سے ہٹ کر ہے لہٰذا ایٹم اور اس سے چھوٹی اشیا کی فزکس اور اس کے قوانین کے مطالعے کو "کوانٹم میکینکس" کا نام دیا گیا۔ لفظ "کوانٹم" اس لیے چنا گیا کہ "کوانٹم" (جمع: کوانٹا) کسی شے کی وہ کم سے کم مقدار ہے جسے ناپا جا سکے۔

سن 1800 اوائل میں تھامس ینگ نے ایک تجربہ کیا تھا جسے ڈبل سلٹ ایکسپیریمنٹ (دو درز تجربے) یا ینگ ایکسپیریمنٹ (ینگ کا تجربہ) کا نام دیا جاتا ہے جس کے نتائج کلاسک فزکس کے قوانین سے متصادم تھے اور اس تجربے کو بھی کوانٹم میکینکس کا آغاز مانا جاتا ہے۔
یوں تو روشنی خط مستقیم میں سفر کرتی ہے لیکن اس تجربے کے دوران ینگ نے جب روشنی کی باریک بیمز کو ایک پلیٹ پر بنائی گئی دو بے حد باریک درزوں (شگافوں) سے گزارا تو پلیٹ کے دوسری جانب بجائے دو لائنیں بننے کے روشنی کے کچھ پیٹرنز بن گئے۔ بعد ازاں یہی تجربہ فوٹونز کے علاوہ الیکٹرانز، ایٹمز حتیٰ کہ کچھ مالیکیولز پر بھی دہرایا گیا تو نتائج وہی نکلے کہ دو درزوں سے نکل دو مقامات پر پڑنے کی بجائے پیٹرنز بن رہے تھے جو پارٹیکلز کے کلاسک رویے کی بجائے لہروں (ویوز) کا رویہ تھا۔
ذیل کی تصاویر اس تجربے کی وضاحت کرتی ہیں:
figure10.gif


Doubleslit3Dspectrum.gif


چلیے، یہاں تک تو عقل کسی طور تسلیم کر بھی لیتی ہے لیکن اس کے بعد جو بات بے انتہا حیران کن ہے وہ یہ ہے کہ جب ان درزوں سے قبل یہ جاننے کے لیے ڈیٹیکٹر نصب کیے گئے کہ پارٹیکلز کس درز سے جا تے ہیں اور کہاں مڑتے ہیں تو بجائے ویو پیٹرن کے پارٹیکل کا رویہ خط مستقیم میں سفر کرنے کا ہو گیا یعنی پارٹیکل یہ محسوس کر رہے تھے کہ ہمیں دیکھا جا رہا ہے اور اس دیکھے جانے کے احساس کے بعد انہوں نے اپنا لہروں والا رویہ ترک کر دیا اور جونہی ڈیٹیکٹر ہٹایا گیا انہوں نے دوبارہ لہروں کا رویہ اختیار کر لیا:
Two-Slit_Experiment_Particles_watched.gif


کلاسک فزکس کے قوانین ان تجربات کے محیر لعقول نتائج سے متصادم تھے اور کلاسک فزکس ان عوامل کی وضاحت کرنے سے قاصر تھی لیکن کوانٹم میکینکس میں اس عمل کو جاننے کے لیے تجربات کیے جاتے ہیں، تھیوریز، مساوات اور قوانین بنائے جاتے ہیں۔
 
Top