فیض کوئی عاشق کسی محبوبہ سے! ۔ فیض

فرخ منظور

لائبریرین
کوئی عاشق کسی محبوبہ سے!​
​
گلشنِ یاد میں گر آج دمِ بادِ صبا​
پھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو، تو ہو جانے دو​
عمرِ رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا درد​
پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو، تو ہو جانے دو​
جیسے بیگانے سے اب ملتے ہو، ویسے ہی سہی​
آؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھو​
گر چہ مل بیٹھیں گے ہم تم، تو ملاقات کے بعد​
اپنا احساسِ زیاں اور زیادہ ہوگا​
ہم سخن ہوں گے جو ہم دونوں، تو ہر بات کے بیچ​
ان کہی بات کا موہوم سا پردہ ہوگا​
کوئی اقرار نہ میں یاد دلاؤں گا، نہ تم​
کوئ مضموں وفا کا ، نہ جفا کا ہوگا​
گرد ِایّام کی تحریر کو دھونے کے لیے ​
تم سے گویا ہوں دمِ دید جو میری پلکیں​
تم جو چاہو تو سنو، اور جو نہ چاہو، نہ سنو​
اور جو حرف کریں مجھ سے گریزاں آنکھیں​
تم جو چاہو تو کہو اور جو نہ چاہو نہ کہو​
​
لندن 1978ء​
​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top