کوئٹہ کی سیر - (تصاویر)

الم

محفلین
میری پیدائش چونکہ کوئٹہ میں ہوئی تھی اور اپنا بچپن وہیں گزرا تو وہاں کی یادیں ہمیشہ ساتھ رہتی۔ اب چونکہ وہاں سے کتنے سال ہو گئے چھوڑے لیکن پھر بھی اسکی خوب صورتی اور صفائی یاد آتی۔۔اوپر سے آنکھیں اشکوں سے بھر جاتی جب بھی کوئٹہ کے موجودہ حالات دیکھتے کہ اتنے ہنستے بستے امن والے شہر کو ناجانے کس کی نظر لگ گئی۔۔۔خیر میں نے مختلف جگہوں سے کوئٹہ کی اور کچھ گردونواح کی تصاویر اکھٹی کی سوچا آپ کو سیر کرائی جائے۔ پہلے آپکو تھوڑا اس شہر کے بارے میں بتاتا بلکہ ویکیپیڈیا سے ہی نقل کرتا ہوں۔۔​

کوئٹہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا صدر مقام اور سب سے بڑا شہر ہے۔ کوئٹہ کا نام ایک پشتو لفظ سے نکلا ہے جس کے لغوی معنیٰ 'قلعہ' کے ہیں۔ کوئٹہ شہر سطح سمندر سے تقریباً 1700 میٹر سے 1900 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور اپنے بہترین معیار کے پھلوں کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ یہ بنیادی طور پر خشک پہاڑوں میں گھرا ہوا شہر ہے جہاں سردیوں میں شدید سردی اور برف باری ہوتی ہے۔​



ابتدائی تاریخ​

کوئٹہ شال کوٹ ایک پرانا شہر ہے جس کے نام کا لغوی معنیٰ 'قلعہ' کے ہیں۔ خیال ہے کہ یہ نام کسی قلعہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے پڑا کہ کوئٹہ چاروں طرف سے پہاڑوں سے گھرا ہوا شہر ہے جس سے وہ ایک قدرتی قلعہ ہے۔ اس کے اطراف میں جو پہاڑ ہیں ان کے نام چلتن، زرغون اور مہردار ہیں۔ سب پہاڑ بنیادی طور پر خشک ہیں۔ کوئٹہ قدیم شہر ہے جس کے وجود کا ثبوت چھٹی صدی عیسوی سے ملتا ہے۔ اس وقت یہ ایران کی ساسانی سلطنت کا حصہ تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب مسلمانوں نے ایران فتح کیا تو یہ اسلامی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ گیارہویں صدی عیسوی میں محمود غزنوی کی فتوحات میں کوئٹہ کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے بعد ایک خیال کے مطابق کانسی قبیلہ کے افراد نے تخت سلیمان سے آکر کوئٹی میں بڑی تعداد میں سکونت اختیار کی۔ 1543ء میں مغل شہنشاہ ہمایوں جب شیر شاہ سوری سے شکست کھا کر ایران کی طرف فرار ہو رہا تھا تو یہاں کچھ عرصہ قیام کیا تھا اور جاتے ہوئے اپنے بیٹے اکبر کو یہیں چھوڑ گیا جو دو سال تک یہیں رہا۔ 1556ء تک کوئٹہ مغل سلطنت کا حصہ رہا جس کے بعد ایرانی سلطنت کا حصہ بنا۔ 1595ء میں دوبارہ شہنشاہ اکبر نے کوئٹہ کا اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیا۔ 1730ء کے بعد یہ ریاست قلات میں شامل رہا۔ 1828ء میں ایک یورپی مسافر کے مطابق کوئٹہ کے اردگرد مٹی کی ایک بڑی دیوار تھی جس نے اسے ایک قلعہ کی شکل دے دی تھی اور اس میں تقریباً تین سو گھر آباد تھے۔ 1828ء اور اس کے بعد کوئٹہ کا جائزہ لینے کے لیے کئی انگریز مسافر کوئٹہ آئے جن کا مقصد انگریزوں کو معلومات مہیا کرنا تھا۔ 1839ء کی پہلی برطانوی و افغان جنگ کے دوران انگریزوں نے کوئٹہ پر قبضہ کر لیا۔ 1876ء میں اسے باقاعدہ برطانوی سلطنت میں شامل کر لیا گیا اور رابرٹ گروو سنڈیمن کو یہاں کا نمائندۂ سیاسی (پولیٹیکل ایجنٹ) مقرر کیا گیا۔ اس دوران ہزارہ قبائل کے افراد بڑی تعداد میں کوئٹہ میں آباد ہوئے۔ انگریزوں نے کوئٹہ کو ایک فوجی اڈہ میں تبدیل کر دیا چنانچہ اس دور میں کوئٹہ کی آبادی میں کافی اضافہ ہوا جو 1935ء کے مشہور زلزلہ تک جاری رہا۔
​
بیسویں صدی اور کوئٹہ کا زلزلہ​


1876 ء میں کوئٹہ شال کوٹ کو باقاعدہ برطانوی سلطنت میں شامل کر لیا گیا۔ اس دوران ہزارہ قبائل کے افراد بڑی تعداد میں کوئٹہ میں آباد ہوئے۔ انگریزوں نے کوئٹہ کو ایک فوجی اڈہ میں تبدیل کر دیا چنانچہ اس دور میں کوئٹہ کی آبادی میں کافی اضافہ ہوا جو 1935ء کے مشہور زلزلہ تک جاری رہا۔ 31 مئی 1935ء کو کوئٹہ میں ایک بڑا زلزلہ آیا جس نے پورے شہر کو آناً فاناً مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کردیا اور ایک اندازہ کے مطابق 40،000 افراد چند دقیقوں میں ہلاک ہو گئے۔ اس قیامت خیز زلزلہ نے کوئٹہ کو بالکل تباہ کر دیا اور شہر میں کوئی عمارت نہ چھوڑی۔ یہ زلزلہ رچرڈ کے معیار کے مطابق 7.1 کی شدت کا تھا۔ اس کا شمار جنوبی ایشیاء کی تاریخ کے چار بڑے ترین زلزلوں میں کیا جاتا ہے جس کے بغیر کوئٹہ کی تاریخ نامکمل ہے۔ اس زلزلہ کے بعد کوئٹہ کی تعمیرِ نو ہوئی مگر تمام عمارات یک منزلہ تھیں۔ اس کے علاوہ برطانوی لوگوں نے چونکہ اپنے فوجی اڈے افغانستان کی سرحد کے ساتھ بنا لیے تھے اس لیے انہوں نے کوئٹہ کی تعمیرِ نو میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ لیکن کوئٹہ چونکہ افغانستان اور ایران کے تجارتی راستے پر تھا اس لیے آہستہ آہستہ اس نے اپنی حیثیت دوبارہ مستحکم کر لی۔ اس کی تجارت افغانستان کے ساتھ چمن کے راستے اور ایران کے ساتھ نوشکی، دالبندین اور تفتان کے راستے دوبارہ شروع ہو گئی۔​
​
​
آزادی کے بعد​
​
1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد کوئٹہ بلوچ علاقے کا صدر مقام تھا۔ بعد میں جب بلوچستان کو صوبہ بنایا گیا تو اس کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ یہ اپنی پھلوں کی تجارت اور کرومائیٹ کی کانوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ سطح سمندر سے 5000 فٹ کی بلندی پر ہونے کی وجہ سے پرفضا مقام ہے اور سیاحت نے بڑی ترقی کی ہے۔ خصوصاً زیارت، جو کوئٹہ سے قریب ہے، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح کا پسندیدہ مقام تھا۔ صوبائی دارالحکومت ہونے کی وجہ سے بہت سے دفاتر قائم ہوئے ہیں اور صوبائی اسمبلی بھی متحرک رہتی ہے۔ 1979ء کے افغان مسئلہ کے بعد ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین کی آمد نے شہر کی شکل بدل دی اور جرائم کو فروغ دیا۔ آبادی میں اس اضافہ کی وجہ سے کوئٹہ بہت پھیل گیا ہے اور شہر کے اردگرد کافی نئی آبادیوں نے جنم لیا ہے۔ یہ پاکستان کا نواں بڑا شہر ہے جس کی ابادی چھ لاکھ کے قریب ہو چکی ہے (اس میں افغان مہاجرین شامل نہیں)۔ کوئٹہ کو پاکستان کے دیگر علاقوں سے ملانے کے لیے 1600 کلومیٹر طویل ریلوے لائن موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے شہر زاھدان سے ایک ریلوے لائن ملاتی ہے۔ کراچی اور کوئٹہ کے درمیان ایک سڑک براستہ سبی، جیکب آباد و سکھر پہلے موجود تھی۔ ایک نئی سڑک کوئٹہ کو براستہ مستونگ، قلات، خضداراور لسبیلہ ملاتی ہے۔ بہاولپور اور ملتان کے لیے بھی براستہ سڑک اچھے راستے موجود ہیں۔ کوئٹہ کی اہمیت پاکستان میں گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر کے بعد بڑھ گئی ہے اور استعماری طاقتوں نے اسے اپنی سازشوں کا گڑھ بنا لیا ہے۔​
​
موسم​
​
یہاں گرمیوں میں شدید گرمی (46 ڈگری سینٹی گریڈ تک) اور سردیوں میں میں شدید سردی (-25 ڈگری سینٹی گریڈ تک) پڑتی پے۔​
​
​
 

الم

محفلین
تو حاضر ہے ہمارے پیارے سے وطن کی ایک چھوٹی سی پیاری سی سر زمیں کا تصویری احوال۔۔۔​
​
چلیں پھر نکلتے ہیں کوئٹہ کی طرف۔۔۔ پون پون!!​
​
ٹرین سے شروع کرتے سفر۔۔۔​
​
یہ ایک سرنگ ہے کوئٹہ سے تھوڑا پہلے جاتے ہوئے جگہ کچھ یاد نہیں۔۔۔۔​
​
ٹرین کے زریعے کوئٹہ کی طرف رواں دواں جعفر ایکسپریس میں۔۔۔​
​
پون پون!!​
​
Quetta_27.jpg
​
​
​
لو جی ایک اور اینگل سے دکھاتے آپکو لگتا کراس آگیا جو بے وجہ رکی ہوئی ٹرین۔۔۔​
​
اے بھائی ٹرین روکے رکھیو میں ذرا ایک منظر محفوظ کر لوں۔۔۔​
​
جی یہ ہے وہ منظر۔۔​
​
​
Quetta_25.jpg
​
​
​
پون پون۔۔۔۔۔۔​
بس جی آنے لگا کوئٹہ۔۔۔۔​
لو آگیا۔۔۔چلو چلو اتریں۔۔​
​
تو جی یہ ہے پلیٹ فارم۔۔​
​
image.jpg
​
 

الم

محفلین
پہلے تو خوش آمدید، پخیر راغلے​
​
کوئٹہ کی نیشنل ہائی وے 25​
​
Quetta_44.jpg
​
​
آگے چلیں۔۔۔پون پون!!​
​
کوئٹہ کا ریلوے سٹیشن کا داخلی دروازہ​
کہتے کہ یہ فرنگی زمانے کا ہے 1935 کے زلزلے کے بعد اسکو اور تعمیر کیا یہ نا صرف پاکستان کے شہروں سے منسلک بلکہ یہ ہمارے ہمسایہ ملک ایران کے شہرزاهدان سے بھی منسلک ہے۔​
​
Quetta_16.jpg
​
اب آپ نے قدم رکھ ہی لیا کوئٹہ میں تو آگے چلتے تھوڑا ۔۔۔​
​
​
​
رکیں ذرا پیچھے چلتے ارے نہیں اصل میں پیچھے نہیں تاریخ میں کوئٹہ کا سٹیشن 1920 میں 1935 کے زلزلے سے پہلے​
​
​
Quetta_10.jpg
 

الم

محفلین
چلیں اب چلتے۔۔​
​
یہ تھوڑی سردیوں کی ہے ذرا مفلر وغیرہ پہن لیں۔۔۔​
​
یہ ہے اسمبلی روڈ اس کے بائیں طرف جو تھوڑا حصہ آیا بلڈنگ کا (داخل ہوتی گاڑی سے پہلے) وہ کوئٹہ کو مشہور زمانہ سکول فار گرلز ہے کانونٹ اور دائیں طرف جو ہے وہ کوئٹہ کا مشہور بوائز سکول گرائمر سکول۔​
​
Quetta_13.jpg
​
​
آئیں تھوڑا اور آگے چلتے۔۔۔​
ارے یہ تو اسمبلی آگئی۔ جی! تو یہ ہے بلوچستان نیشنل اسمبلی کی بلڈنگ​
Quetta_19.jpg
​
​
​
​
چلیں تھوڑا اور آگے چلیں۔۔ یہ ہے اسمبلی روڈ تھوڑا آگے جا کے نیشنل اسمبلی سے​
​
Quetta_38.jpg
​
​
​
​
​
​
تھوڑا آگے جائیں تو پی ٹی وی کوئٹہ سنٹر آتا (فرنٹئیر کور کے میں ہیڈ کواٹر کے سامنے)۔ یہ ہے پی ٹی وی کوئٹہ سنٹر کا داخلی دروازہ​
​
​
Quetta_39.jpg
​
​
​
​
​
رکئیے ایک بار پھر تاریخ میں موجود ایک تصویر دیکھیں دیکھیں۔۔​
تو جناب آپ کو بتاتا چلوں کہ کوئٹہ کو 1935 کے زلزلے سے پہلے فرنگیوں نے ایشئین پیرس کا خطاب دیا تھا۔ اسی کی نسبت سے کوئٹہ کا 1920 کا ٹاؤن ہال کا ایک منظر ہے مندرجہ زیل میں۔۔​
​
image.jpg
 

الم

محفلین
آگے چلتے اہو یہ کیا بچوں نے تو گولہ باری شروع کی ہوئی یہ تصویر کوئٹہ کے ایک پارک میں 2005 کی برف باری میں کھینچی گئی تھی۔۔۔​
​
Quetta_4.jpg
​
​
​
​
ایک اور دلکش منظر ریلوے کالونی میں لیا گیا برفباری کا​
​
Quetta_11.jpg
​
​
​
​
آئیں چلتے تھوڑا اور آگےذرا کوئٹہ کی مشہور اور بزنس کلاس کا ایریا ایم اے جناح روڈ کا منظر ۔۔۔​
​
Quetta_21.jpg
​
​
​
​
​
ایک دفعہ پھر آپکو کوئٹہ کے 1935 کے زلزلے کا منظر دکھاتا جو کے بروس سٹریٹ موجودہ ایم اے جناح روڈ کی تباہ کاری کا بتاتا​
​
Quetta_after1935.jpg
​
​
​
​
بھوک تو نہیں لگی؟ وہ دیکھ رہے (اوپر نئے جناح روڈ کی تصویر میں) جو پیپسی کا نشان نظر آرہا بائیں طرف وہ بڑا کلاسیکل فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ہے بیگ سنیک بار اسکی ایک خصوصیت جو آپ نے کہیں بھی شاید نا دیکھی ہو وہ نچلی تصویر میں دیکھیں اسکی بالائی منزل پہ ۔۔۔ لو اب تصویر بھی تو دیکھیں نا۔۔۔​
​
​
image.jpg
 

الم

محفلین
​
چلیں ذرا اوپر چڑھتے بلڈنگ کے کسی۔۔۔​
جی یہ ہے ایم اے جناح روڈ کی ایک بلڈنگ کی چھت سے منظر کوئٹہ کے پہاڑی سلسلے کا​
​
Quetta_17.jpg
​
​
​
​
چلیں اتریں نیچے ابھی آپ کو کوئٹہ کا مشہور چوک میزان چوک دکھاتے جو کہ یہ ہے اس کے سیدھے جائیں تو بلوچستان کا انتہائی مشہور بازار لیاقت بازار ہے۔​
​
Quetta_35.jpg
​
​
​
اچھا ذرا میزان چوک پہ کھڑے ہو کے وہاں سے دائیں طرف کا منظر دیکھتے روڈ کا جو جا رہی۔۔۔​
​
​
Quetta_43.jpg
​
​
​
یہ رہا کوئٹہ کے لیاقت بازار کا منظر صبح صبح ہے اس لئیے دکانیں بند۔۔۔ یہاں دسمبر کے دنوں میں پنجاب،سندھ،خیبر پختونخواہ سے آئے لوگوں سے یہ بھر جاتا تھا جہاں پہ دنیا جہاں کی چیزیں معیاری دام میں مل جاتی تھیں۔۔وہیں کے ایک تحمینے کے مطابق زیادہ لوگ پنجاب سے خاص طور پہ شاپنگ کے لئیے آتے تھے ۔۔​
​
​
Quetta_Liyaqat.jpg
 

الم

محفلین
چلیں ذرا ہوٹل چلتے کوئٹہ میں پرنس کریم آغا خان کے مشہورہوٹل جسکی شاخیں پاکستاں میں متعدد جگہ پہ ہیں سرینا ہوٹل دکھاتے۔۔۔​
​
Quetta_12.jpg
​
​
​
ایک اور اندر سے منظر سرینا ہوٹل کا برف میں ڈھکے درخت۔۔​
​
saree.jpg
​
​
​
ایک اور طرف سے ہوٹل پہ نظر​
​
​
Quetta_37.jpg
​
​
​
​
لو آپ تو اسکی چھت پہ بھی چڑھ گئے۔۔۔​
​
Quetta_9.jpg
 

الم

محفلین
​
اتریں اور بھی بہت کچھ دکھانا آپکو۔۔۔جی تو یہ دیکھیں کوئٹہ کینٹ کا ایک مشہور ہوٹل لورڈز۔۔۔بہت مزے کا سوپ مل جاتا تھا اور بلڈنگ بہت پیاری اور پرانی فرنگی دور کی طرز پہ تھی۔۔۔​
​
Quetta_15.jpg
​
​
یہ کیا آگیا مزے دار جناب تو یہ ہے بلوچی سجی جو کہ کوئٹہ کی فوڈ سٹریٹ سے ہے جو کہ موتی رام روڈ پہ واقع ہے۔​
ویسے اصلی سجی تو بکرے کی رانوں کی ہوتی لیکن چلیں اسکو بھی سجی کہ لیتے۔۔​
​
Quetta_22.jpg
​
​
​
چلیں آپکو کوئٹہ کے مشہورِ زمانہ پارک عسکری پارک لئیے چلتے اوہو یہاں تو خزاں ہے۔۔۔​
​
Quetta_7.jpg
​
​
​
ایک عسکری پارک کا بینچ اکیلا۔۔چلیں بیٹھ جائیں اس پہ۔۔۔​
​
Quetta_8.jpg
​
 

الم

محفلین
چلیں اٹھیں نکلیں یہاں سے قریب میں ائیرپورٹ ہے وہاں بعد میں آتے پہلے واپس شہر چلتے تو ملاحظہ فرمائیں ائرپورٹ روڈ بائیں طرف عسکری پارک ہی ہے ۔۔۔​
​
Quetta_40.jpg
​
​
​
پھر وہی ائیرپورٹ روڈ۔۔۔۔​
​
Quetta_6.jpg
​
​
​
ارے یہ دیکھیں دائیں طرف کوئٹہ کا گورا قبرستان یہاں بڑی پرانی فرنگیوں کی قبریں بھی ہیں جو پاکستان بننے سے پہلے کی ہیں اور یہ ایلیٹ کلاس کا قبرستان سمجھا جاتا تھا گوروں کا اب کا پتہ نہیں۔۔۔​
​
Quetta_5.jpg
​
​
​
ایک اور منظر گورا قبرستان کا۔۔​
Quetta_41.jpg
​
 

الم

محفلین
چلیں آگے۔۔۔لو جی بارش شروع اسی لئیے تو۔۔۔ یہ دیکھیں بیچارے گدھے میاں کتنے سمجھ دار سمجھا رہے کہ پرہیز علاج سے بہتر۔۔​
​
Quetta_32.jpg
​
​
​
اوہ پراپٹی ڈیلر بھی ہے میکانگی روڈ پہ کوئٹہ کے دیکھیں آگ سینک رہے ۔۔۔​
​
Quetta_33.jpg
​
 

الم

محفلین
واہ اب یہ دیکھیں بلوچستان کا سب سے بہترین کالج تعمیرِ نو کالج (کوئٹہ کا جی سی کالج سمجھ لیں) اور مابدولت کا بھی۔ اس سے لگاؤ کچھ اس لئے بھی زیادہ تھا کیوں کے مابدولت کے دادا جی اس کے ٹھیکیدار یا کنٹریکٹر تھے لہذا یہ اس لحاز سے بھی میری یادوں کا ساتھی۔۔۔سچ پوچھیں تو بہت ہی پیارا اور بڑا کالج ہے۔۔۔​
​
Quetta_31.jpg
​
​
​
​
چلیں تھوڑا آگے چلتے اوہ یہ روڈ تو دکھا دیں یہ رہا گلستان روڈ تھوڑا سا آگے جا کے کالج سے۔۔​
​
Quetta_42.jpg
​
​
​
​
اور یہ تھوڑا آگے جائیں تو اسٹیٹ بینک کی کوئٹہ برانچ​
​
Quetta_34.jpg
​
​
​
​
اسکے اگے حبیب بینک کی مین برانچ​
​
Quetta_36.jpg
​
​
​
اب یہاں سے تھوڑا آگے چوک آتا جہاں سے بائیں ہوں تو چائنہ چوک جہاں سے ایم اے جناح روڈ بھی شروع ہوتا آپ پیچھے حبیب بینک کی مین برانچ کی تصویر بھی دیکھ سکتے۔۔​
​
800px_Jinnah_Road_Quetta.jpg
​
 

الم

محفلین
​
شام ہو چلی لگتا کوئٹہ کی ایک پہاڑی سلسلے کے ساتھ ہزارہ قوم کی کالونی ہے جسے مری آباد کہتے اسکے پہاڑ سے ایک دل موہ لینے والا منظر۔۔۔۔۔​
​
Quetta_20.jpg
​
​
​
​
وہی جگہ مری آباد کی لیکن رات کا منظر۔۔۔​
Quetta_18.jpg
​
​
​
​
ایک اور جگہ سے سکون والا منظر سرد راتوں کا​
​
Quetta_26.jpg
​
​
​
کوہِ مردار کے قریب جو مری آباد میں ہی آتا تھا منظر​
​
Quetta_Night.jpg
​
 

الم

محفلین
سی ایم ہاؤس​
​
Quetta_23.jpg
​
​
​
چلیں تھوڑا باہر کوئٹہ کی طرف۔۔۔یہ ہے نیشنل ہائی وے 40 تفتان بارڈر کی طرف جو ایران جاتی​
​
Quetta_29.jpg
​
​
​
​
اُس طرف تو دیکھیں اونٹ​
​
Quetta_28.jpg
​
​
او ہو! کوئٹہ کا انٹر نیشنل ائیر پورٹ تو دیکھیں نا وہ تو دیکھا ہی نہیں​
Quetta_30.jpg
​
​
 

الم

محفلین
اب آپکو کوئٹہ سے آگے مضافات میں لے جاتے۔وہاں جاتے ہوئے تفریحی مقامات آتے جن میں ایک اڑک ہے اور مشہورِ زمانہ ہنہ جھیل جو ایک چھوٹے سے ڈیم سُرپل کے پانی سے بنی جو کوئٹہ سے تقریباً 14 کلومیٹر دور ہے جو برٹش کے دور میں 1894میں بنائی تھی جو ایک وقت میں گولڈن فش سے بھری ہوتی تھی اور دنیا کے گرد چکر لگانے والے پرندوں کی آماجگاہ تھی لیکن صد افسوس 2010 میں یہ سوکھ گئی تھی اب کا نہیں پتا۔۔۔ یہ ایک منظراس بند کا جو اس جھیل پہ بنایا گیا تھا۔۔​
​
800px_Abubakar_Ali.jpg
​
​
​
​
یہ ہے جھیل کا منظر گرم موسم میں اسکے درمیان میں ایک پوائنٹ بنایا تھا جہاں پیڈل مار مار کے یا چپو والی کشتیوں کے بل پہنچا جاتا تھا۔۔​
​
Quetta_2.jpg
​
​
​
​
سرد موسم کے مناظر​
​
Quetta_1.jpg
​
​
Quetta_3.jpg
​
Quetta.jpg
​
 

الم

محفلین
​
یہ منظر کوئٹہ کی برف باری کے دنوں میں بلوچستان جامعہ کی اندرونی طرف سے لیا گیا۔۔۔

Quetta_14.jpg
​
​
​
چلیں یہ تھا مختصر سا تعارف جگہیں تو بہت تھیں لیکن جتنی مل سکی آپ کے گوش کزار کی۔۔۔​
او ہو!! یہ ٹرک بھی نا پھس گیا برف میں چلیں میں چلا ذرا اسکو نکالنے میں لوگوں کی مدد کرنے​
​
Quetta_24.jpg
​
​
​
​
ولسلام،​
فہیم محمود میر​

ختم شُد۔​
 

الم

محفلین
یہ تھی چھوٹی سی کاوش آپکو کوئٹہ کی سیر کرانے کی معافی اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو۔۔۔اور اسکو شروع سے دیکھیں گے تو زیادہ مزہ آئے گا انشااللہ۔۔امید ہے دوسرے ساتھی بھی اپنے شہروں سے تعارف کروائیں گے۔میں لاہور کا بھی کروا سکتا تھا کیوں کے اسی میں ڈیرہ ڈالا ہوا لیکن میں نے کہا کے یہ زیادتی ہو گی میری لاہور والے بھائی سے :)۔۔۔امید ہے آپکو پسند آئے گی اگر کوئی املا کی غلطی بھی ہو گئی ہو تو معاف کر دیجئے گا :)۔۔۔!!

اللہ آپ سب کا نگہبان ہو!
(آمین)
 

الم

محفلین
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top