1. اردو محفل بیس لاکھ عمومی پیغامات کے سنگ میل کی جانب تیز گام ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    اعلان ختم کریں

کلام فیصل عظیم فیصل

فیصل عظیم فیصل نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 12, 2018

  1. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    خود گوئی


    کچھ باتیں میں خود ہی خود سے کر جاتا ہوں
    کوئی نہ جانے ان کو اس سے گھبراتا ہوں

    دور ہے منزل میں صحرا میں ننگے پاؤں
    بس پاگل چلنے کی جرات کر جاتا ہوں

    کاش کوئی ہمدرد زمانے میں مل جاتا
    ہمدردوں کا سوچتے ہی میں ڈر جاتا ہوں

    لوگ کہیں گے دہری سوچیں بے منزل ہیں
    اسی سبب یہ باتیں خود سے کرپاتا ہوں

    فیصل تیری سوچ پریشاں عمر تماشا
    سچی بات ہے لیکن کہتے شرماتا ہوں

    خود کو خود ہی جان بوجھ کر دھواں بنایا
    سچائی کی آگ میں خود ہی مر جاتا ہوں
     
  2. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    دائرے


    گھپ اندھیرا اور جنگل ، مَیں اکیلا ہی چلا
    نور کی مدھم کرن کی آس میں چلتا رہا

    لوگ کہتے تھے اندھیرے ختم ہوجائیں گے سو
    خوش امیدی کا دیا میرے لئے جلتا رہا

    آبلہ پا ہُوں ، نمی آنکھوں میں لے کر یاس کی
    دل جگر جلتے تھے دونوں ہاتھ میں ملتا رہا

    کب تلک کانٹوں پہ چلنا مجھ پہ فیصل فرض ہے
    لوگ منزل پا گئے میرا سفر چلتارہا

    دو پہر کی رات بیتی تب کوئی رہبر ملا
    پھر یہ جانا دائروں میں اب تلک چلتا رہا
     
  3. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed


    تذکرے


    تذکرے یار کے لوگوں سے نہیں ہم کرتے
    لٹ گئے تب بھی کسی گھات کاحصہ نہ بنے

    لوگ کہتے رہے "بے نام" جفا قاتل ہے
    پھر بھی خاموش رہے بات کا حصہ نہ بنے

    چشم نم ہے، بند کمرہ اور تکئے کی تری
    وہ ترے خواب مری رات کا حصہ نہ بنے

    یہ تومعلوم ہے صحرامیں ترا ساتھ سراب
    پھر بھی ہم تنگئ جذبات کا حصہ نہ بنے
     
  4. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    دوری


    دوری ہے اور تجھ سےطبیعت اداس ہے
    لگتا ہے یوں کہ اب تو میرے آس پاس ہے

    روح و بدن میں ایک عجب کشمکش رہی
    تو پاس ہے بھی اور نہیں ، دل اداس ہے

    بیتے ہیں چند دن یہ مرے تجھ سے دور جو
    بتلا کہاں یہ ماہ و برس مجھ کو راس ہے

    سنتے ہیں مئے پئییں گے تجھے بھول جائیں گے
    مجھ کو نہیں ہےمئے کی طلب تیری پیاس ہے

    دوری ہے قید و بند و اذیت دماغ کی
    تیرے سوا کوئی نہ مرا غم شناس ہے
     
  5. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    کہانی

    کہانی تو ہماری ہےذرا ان کی زبانی ہے
    کوئی جھگڑا نہیں شاید ہماری بد گمانی ہے

    یہ دونوں ہی نرالے ہیں کسی کو بیچ میں رکھ کر
    ذرا دب کر ذرا جھک کرکوئی راضی نہیں مانے

    کہ دونوں کے اصولوں پرنہیں ممکن گوارا ہو
    کسی کا بھی دخل دینا یا ثالث ہی بنا لینا

    اکیلی جاں ہمیشہ سے اکیلی تھی اکیلی ہے
    اسی رستے پہ شاید آج بھی اٹکن نکیلی ہے
     
  6. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    رنگ


    خوف مجبوری انا نفرت محبت کا خمار
    لب کی لرزن کے یہ کتنے رنگ ہم دیکھا کیے

    مال عزت شہرتوں کی بھوک میں بے تاب سے
    لوٹنے لٹنے کے کتنے ڈھنگ ہم دیکھا کیے

    طاقتیں بھی طاقتوں کے در پہ سجدہ ریز ہیں
    دولتوں کو دولتوں کے سنگ ہم دیکھا کیے

    موت کی لپکن فرارے عزت و ناموس بھی
    ہارتے کمزور حق کو جنگ ہم دیکھا کیے

    گو کہ اب تک خواب ہے کمزور طاقتور بنے
    پھر بھی ایسا خواب شوخ و شنگ ہم دیکھا کیے
     
  7. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    روشنی


    موت مظلوم کا مقدر ہے
    چشم ظالم تو نم نہیں ہوتی

    دست بستہ ہزار سالوں کی
    قید دینی کرم نہیں ہوتی

    کور چشموں کو آنکھ دینے سے
    روشنی ایک دم نہیں ہوتی
     
  8. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    لڑکیاں

    ٹوٹ کر چاہتی ہیں بابا کو
    اس لیے روٹھ روٹھ جاتی ہیں

    ماں کی آنکھوں کا نور ہوتی ہیں
    اس لیے گھر میں جگمگاتی ہیں

    بھائیوں کا غرور ہوتی ہیں
    ان کو اس واسطے ستاتی ہیں

    اپنی خواہش ہے آخری انکی
    اس لیے سب سے یہ چھپاتی ہیں

    لڑکیاں نازک مزاج ہوتی ہیں
    اس لیئے ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہیں
     
  9. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    زندگی

    تو ساتھ ہے میرے صنم
    تمہارا ساتھ زندگی
    جو کٹ رہی تھی بن تیرے
    بڑی اداس زندگی
    اداسیاں مری بھی تھیں
    اداسیاں تری بھی تھیں
    یہ دور ہو چکی ہیں سب
    آ میرے پاس زندگی
    مجھے امید تک نہ تھی
    سمندروں میں یاس کے
    تمھارے ہاتھ سے مٹے
    مری یہ پیاس زندگی
    تجھی کو دیکھ کر مجھے
    لگی ہے آس زندگی
    امید نو تمہی تو ہو
    نوید خاص زندگی

     
  10. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    انکار

    وہی لمحے وہی رونق وہی زندہ دلی میری
    بھری محفل میں تو اب بھی میرے دل میں سمایا ہے

    وہی خوشیاں وہی جذبے وہی سوچیں ہیں تمہاری
    صنم میں نے تمہیں اب ہی بھری محفل میں پایا ہے

    تمھارے عشق کی ہم کو وہی ہے جان جاں حسرت
    یہ مجھ میں نوجوانوں کا سا دم خم لوٹ آیا ہے

    وہی دل ہے وہی دن ہیں وہی انسان وہی رشتے
    تیرے اقرار کی خاطر یہ سب میں نے منگایا ہے

    وہی گھڑیاں وہی تارے وہی تیور ہیں تمھارے
    تیرے انکار کو سن کر کہ فیصل مسکرایا ہے

    وہی میں ہوں ، وہی تو ہے ، وہی شب ہے وہی محفل
    مگر اس آج کی محفل میں تو نے سب گنوایا ہے
     
  11. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    نسل کا سوال

    ١٩٩٥

    پرانی نسلو ، جو نسل نو ہے اسے سمجھنا محال ہوگا
    الجھ گئے ہیں خیال اس کے انہیں سلجھنا محال ہوگا
    تم ان کی آنکھوں میں خواب بھر دو جو خواب کل کا عظیم تر ہو
    تو دیکھنا دم بدم سے ان کے طلوع روشن جمال ہوگا

    فضائیں بارود سونگھتی ہیں ہوا میں آنسو بکھر رہے ہیں
    دکھاؤ ہم کو وہ اپنا تحفہ نظر میں انکی سوال ہوگا
    جو تم نے کچھ بھی کیا نہ اب بھی تو دوکھنا دم بدم دھماکے
    لہو کی رنگت لبوں پہ ہو گی دلوں کے اندر جلال ہوگا

    ہماری عمروں کی جو کمائی ہے اس کی کوئی قدر نہیں ہے
    ہمیں نہ رستہ دکھاؤ گے تو تمہارا جینا محال ہوگا
    ہماری سوچیں بکھر گئی ہیں اسی سیاست کی آندھیوں میں
    یہ بکھری سوچیں ہیں جسکی ساتھی وہ شخص زندہ سوال ہوگا

    نہیں خیالوں کی زندگی میں حقیقتوں کا کریہہ منظر
    شکم میں گر بھوک ناچتی ہو کہاں پہ تیرا کمال ہوگا
    بتاؤ ہم کو پرانی نسلو ہمارا جرم عظیم کیا ہے
    ہمارا رستہ دکھاؤ سیدھا وگرنہ پھر نہ سنبھال ہوگا
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 12, 2018
  12. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    خیالات بے مہار

     
  13. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    دسمبر




    دسمبر کیوں نہیں دکھتا
    کسی کی آنکھ میں دیکھو
    زمانے بھر کی خنکی ہے
    کہیں بے روک بارش ہے
    اگر نظروں میں طاقت ہے
    دسمبر دکھ ہی جائے گا
    محبت کی جو چاہت ہے
    دسمبر دکھ ہی جائے گا
    مجھے تو سال بھر ہر جا
    دسمبر سا ہی دکھتا ہے
     
  14. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    وعدے


    رات کے پہلے پہر
    سردیوں کے کہرے میں
    سنسان راہوں پر
    کوشش کروں اس کو
    شاید میں مل پاؤں
    کچھ ساتھ چل پاؤں
    یہ سوچ کر نکلا
    لیکن کہیں پر
    میری جبیں پر
    وہ خط نہیں تھاکہ جس کی منزل وہ ہمسفر تھا
    میں رات بھر ہونہی چلتا رہا اور جلتا رہا
    مجھے ملا وہ سحر سے پہلے
    تھوڑا سا رستہ باقی ہے میرے ساتھی بن جاؤ نا
    وہ ہنس پڑا تھاکہ میرا کہنا بہت بڑا تھا
    جواب اس نے مجھے دیا تھا
    جو اگلی شب کو ملیں گے ہم تو
    سفر اکٹھے کیا کریں گے
    پھر اسکے وعدے پہ کتنی شامیں
    گزر گئی تھیں
    مگر مجھے وہ نہیں ملا تھا نہیں ملا تھا
    کہیں بھی ہمدم نہیں ملا تھا
     
  15. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ویران


    دفتر بیٹھا سوچ رہا ہوں
    میں نے تم بن چائے پی لی
    ٹھنڈی شربت چائے بالکل
    تیری یادوں جیسی ہے
    کاغذ سارے بکھر گئے ہیں
    ٹیبل بے ترتیب ہوئی ہے
    پھر بھی ایسا لگتا مجھ کو
    پاس کہیں تم بیٹھی ہو
    سوچ ذرا سی بکھر گئی ہے
    تم سے دور ہوئے تو جانا
    سچ میں تم بن دنیا خالی
    آنکھ نمی سے شاید بچ لے
    لیکن دل ویران ہوا ہے
    سچ میں دل ویران ہوا ہے
     
  16. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بیگم

    دفتر سے میں نکل رہا ہوں
    کدھر چلا ہوں کس کی خاطر
    بھرا ہوا یہ شہر تمہارا
    تم بن سونا سونا ہے
    گاڑی میں بیٹھوں تو تم ہو
    باہر نکلوں تو بھی تم ہو
    سونا مشکل ہو جاتا ہے
    چلنا مشکل ہوجاتا ہے
    تم بن دفتر بوجھل بوجھل
    تم بن گھر بھی کیسا گھر ہے
    بیگم سچی بات کہوں میں
    تم بن فیصل آدھا ہے
     
  17. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    احساس

    مجھ کو یہ احساس ہوا ہے
    میری سوچ کے ہر پرتو پر
    تیری چھاپ ہے کتنی گہری
    گھر آنگن سنسان ہوا ہے
    دل میرا شمشان ہوا ہے
    جب تم میرے پاس نہیں ہو
    مجھ کو یہ احساس ہوا ہے
    تم بن گھڑیاں کیسے بیتیں
    تم بن کھانا پینا مشکل
    تم بن دنیا ہے پردیس
    تم بن میرا دل انجان
    آؤ کاٹیں مل جل کرہم
    ان پردیسی لمحوں کو
    آج مجھے احساس ہوا ہے
    تم بن میری دنیا سونی
    تم بن میں کاغذ کا ٹکڑا
    تیز ہوا میں اڑتا اڑتا
    دور کہیں جا گرتا ہوں
    اور یہی کہ پاتا ہوں
    تم بن میری دنیا سونی
    جب تم میرے پاس نہیں ہو
     
  18. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فوجی


    ہم پھر ملنے والے ہیں
    لیکن اب کے وصل کا موسم تھوڑا ہوگا
    اپنے گلشن کے اکلوتے پھول کو رکھنا
    احتیاط سے اسے بتانا
    تیرے پاپا دیس کی خاطر چلے گئے ہیں
    دور یہاں سے بہت زیادہ
    آج ہمیں ایسا لگتا ہے پاس نہیں ہیں
    لیکن ایسی بات نہیں ہے
    آپ کے پاپا یہیں کہیں ہیں
    پاک وطن کو لہو کی حاجت ہوا کیئے تھی
    اسی لیئے تمہارے پاپا نکل گئے تھے
    کچھ دہشت کے چیلوں سے یہ ملک بچانے
    ملک ہمارا جس کی خاطر
    اللہ نے ہردور میں بیٹے عطا کیئے ہیں
    پاک وطن کی خاک پہ واری
    روح ہماری جان ہماری
    اللہ رکھنا اس کو آمن
    کیونکہ اس سے اس دنیا میں
    زندہ ہے پہچان ہماری
    روح ہے پاکستان ہماری
     
  19. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سال نو


    نئے سال کے پہلے دن
    صبح سویرے جب تم جاگو
    اٹھنا تیرا خوش خوش سا ہو
    رنگ دھنک کا تم پر چھائے
    گئے سال کی ہر ان چاہی
    آنے والا سال بچائے
    تیری سوچ میں جو خواہش ہے
    اللہ اگلے سال ملائے
    ان سے جن سے تیرا جھگڑا
    اللہ ان سے صلح کرائے
    یہ جان لینا تمہاری خاطر
    کوئی ہے اپنے ہاتھ اٹھائے
    خدائے سبحان تم کو اپنی امان دے دے
    وہ ہر خوشی جو تمہارا حق ہے تمہیں ملائے
    عمر کا جتنا سفر ہے باقی ترے سفر میں
    ہرایک پل رب ہو تجھ سے راضی
    ہر ایک پل تیری زندگی کا نجات پائے
    سبھی دکھوں سے سبھی غمو ں سے
    اندھیری راتوں کے رت جگوں سے
    میری خدا سے یہی ہے التجا خدایا
    سبھی کو اپنی پناہ دینا سبھی دکھوں سے
    سبھی اندھیروں سے ظلمتوں سے
    میرے خدایا سبھی کو اپنی پناہ دینا
    غرور و نفرت ،ضلالتوں سے
    میرے خدایا سبھی کو دینا تیرے ہدایا ہدایتوں کے
    تمہیں بھی اتنا کہوں کہ سمجھو
    خدا سے مانگو اور اسکے درپر سوال کرنا
    اسی کی خاطر کرو محبت اسی کی خاطر قتال کرنا
    مگر کبھی بھی حدود رب کو نہ کم سمجھ کر پامال کرنا
    خدا سے ڈرنا اسی سے اپنے سوال کرنا
    حبیب رب سے کرو محبت سبھی سے بڑھ کے
    مگر خدا سے بڑھے محبت کبھی نہ ایسی مجال کرنا
    اسی طرح سے شروع اپنا یہ سال کرنا
    یہ سال کرنا
     
  20. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مجھے تم یاد مت کرنا


    کبھی میں یاد آؤں تو
    مجھے تم یاد مت کرنا
    میری ہر سخت گوئی کو
    میری ہر بے وفائی کو
    نگاہوں میں بسا لینا
    میری جو اچھی باتیں تھیں
    انہیں تم بس بھلا دینا
    مجھے ہرگز کسی اچھی کسی اپنائیت والی
    تمہاری یاد میں رہنے کا حق ہو
    میں نہ چاہوں گا
    مگر تم یاد کر مجھ کو
    غزالی نم سی آنکھوں سے
    زمیں کو دیکھ کر اپنے
    حسین و خوبرو پاؤں
    کے انگوچھے سے کچھ کھرچو
    کبھی ایسا نہ چاہوں گا
    اسی خاطر تمہیں کہتا ہوں
    مجھے تم ہی بھلا دینا
    کبھی میں یاد آؤں تو
    مجھے تم یاد مت کرنا
     

اس صفحے کی تشہیر