کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں؟

زیرک

محفلین
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں؟
کسی کو یاد ہے؟ ایک مہاتما نے کیا کہا تھا "آپ سب نے ہفتے میں ایک دن صرف آدھا گھنٹہ کھڑے ہونا ہے تاکہ کشمیریوں کو پتا چلے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اگر ہم نہ کھڑے ہوئے تو وہ سمجھیں گے کہ ہم بیٹھے ہوئے ہیں"۔ رفتہ رفتہ یہ آدھا گھنٹہ کم ہوتے ہوتے مکمل خموشی کا رنگ اختیار کر گیا گویا آدھا گھنٹی کھڑا ہونے کا دعویٰ کرنے والے مودی کے آگے مکمل لیٹ گئے۔ 4 ماہ سے کشمیریوں کے لیے خموشئ مجرمانہ اختیار کرنے والے جو اس خموشی کو جہاد سمجھتے ہیں، سے اتنا ہی کہنا ہے خدارا کچھ مت کرو بس یہ منافقت بند کر دو۔ ماوراء آئین قوتوں کی لیڈر نرسری کے تازہ نمونے کو کیا کہنا جس سینا نے 70 سال تک کشمیر کا چورن بیچا اب چونکہ ان کا اپنا کاروبار چل نکلا ہے اس لیے اس نے اب چورن بیچنے جیسا معمولی کام کرنےسے توبہ کر لی ہے۔ جس قاری کو ان کے کاروبار کی اصطلاح کی سمجھ نہیں آئی وہ بحریہ، ڈیفنس، فوجی، عسکری نام کے پھولتے پھلتے کاروبار کے پیچھے چھپے چہروں کو ذرا کھنگالے،آپ کو اصل مالکان کا پتا چل جائے گا۔ مستقبل کا مؤرخ لکھے گا کہ ایک ادارہ جسے ملک کے دفاع کی ذمہ داری دی گئی تھی اس نے یہ ذمہ داری یوں نبھائی کہ جونا گڑھ گیا، آدھا کشمیر گیا، آدھا پاکستان گیا، سیاچن گیا، کارگل میں رہا سہا مان گنوایا، کیا یہ ہوتی ہے ذمہ داری؟ مجھے چھوٹے فوجی طبقے پر کوئی اعتراض نہیں، یہ غریب کے بچے تو جنرل مافیا کی کاغذی جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اصل جنگ کا ایندھن بنتے ہیں اور شہید ہو جاتے ہیں۔ 60 کی دھائی میں ایوب خان نے صنعتی انقلاب کے نام پر اپنے بچوں کے نام پر اپنا کاروبار شروع کیا، فائدہ دیکھا تو پھر ملک کے کونے کونے میں پہلے تو فوجی، عسکری نام سے محدود پیمانے کا کاروبار کھڑا کیا، منافع دیکھا تو پھر ہل من مزید کے طور پر بحریہ، ڈیفنس کے نام سے میگا پراجیکٹس شروع کروا دئیے، جس کے لیے ملک کی بہترین زمین اونے پونے خریدی گئی۔ آپ سوچ رہیں گے کہ میں ان کے کاروبار پر کیوں معترض ہوں تو وہ اس لیے ہے کہ ان کا ایک فرض ہے، ایک ڈیوٹی ہے پہلے وہ پوری کریں، ملک کا دفاع سب سے اہم ہے قوم آپ کو اسی کی تنخواہ دیتی ہے، یہ کام کیجئے، ملازمت ختم ہوتی ہے تو جو چاہے مرضی کیجئے، مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن جب ملک کے صدر و وزیراعظم کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی مدت کے دوران کوئی ملازمت، کوئی کاروبار نہیں کر سکتا تو آپ تو ایک ملازم ہو آپ کو یہ اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے؟ اس تمہید کا یہ مقصد تھا کہ یہ بتایا جائے کہ جب سرحد کے محافظ کے ہاتھ میں بندوق کی بجائے بٹوہ آ جائے گا تو وہ وطن یا عوام کی جان کی بجائے اپنا مال بجائے گا اور کشمیر کی صورتِ حال دیکھیں تو یہی نظر آ رہا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں کے سبھی کھلاڑی اپنے دام بچانے کی فکر میں ہیں، انہیں وطن یا وطن میں رہنے والوں کی جان و مال کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ہم بدقسمت ہیں کہ تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم کو پتہ لگ چکا ہو کہ ملک کی تباہی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ سوال یہ نہیں کہ مجرم کون ہے اور بلکہ سوال یہ ہے کہ اس کا محاصبہ کون کرے گا؟ سب سے اہم یہ ہے کہ ہم کس سے منصفی چاہیں؟ ان سے سوال کرو تو یہ بندوق تان لیتے ہیں، جواباً کیا ہم بھی ان پر بندوق تان لیں؟ نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے فرضِ منصبی دفاعِ وطن کو ہی نبھا لیں تو کافی ہو گا، صدیوں پرانے دشمن کو جس نے آج تک ہمارے وجود کو ماننے سے انکار کر رکھا ہے اور جس نے ہمیں دو لخت کیا اور اب مزید کئی لخت کرنے کے چکر میں ہے، اور سرحدوں پر ہتھیار تانے کھڑا ہے۔ اگر ہماری افواج دشمن کو شکست دیں گی تو مجھے خوشی ہو گی، جس دن وہ اپنی قوم کو فتح کرنے کی بجائے دشمن کا علاقہ فتح کریں گے میں پہلی صف میں کھڑا ہو کر ان کو سلوٹ کروں گا، مجھے اعتراض ان کے ان کاموں پر ہے جن کا ان کو اختیار نہیں۔
 

یاقوت

محفلین
کشمیر کے ساتھ آخری مخلص لیڈر کو ہم نے 1948ء میں دفنا دیا تھا اور کشمیر کا کاز بھی ساتھ باقی تو سب سیاسی رومانس تھا۔۔۔۔۔۔۔
 
Top