کربلا میں حسین

صفی حیدر

محفلین
حق پہ یوں ڈٹ گئے کربلا میں حسین
بن کے فاتح رہے کربلا میں حسین
زندہ اسلام کو کردیا دے کے خون
خود مگر پیاسے تھے کربلا میں حسین
عورتیں بچے بوڑھے سبھی اس میں تھے
کنبہ جو لے گئے کربلا میں حسین
تیر و شمشیر کے تھے مقابل بڑھے
ایک پل نہ رکے کربلا میں حسین
نقشِ پا جا بجا ان کے موجود ہیں
سب کے رہبر بنے کربلا میں حسین
سرنگوں کر دیا دشمنِ دین کو
سر اٹھا کر چلے کربلا میں حسین
جان دے دی صفی کٹ گیا سر مگر
حق پہ قائم رہے کربلا میں حسین
 
Top