کام مشکل ہے مگر کر دیجئے (فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)

نوید ناظم

محفلین
کام مشکل ہے مگر کر دیجئے
دشت زادوں کو ذرا گھر دیجئے

لطف سجدوں کو ملے گا دیکھنا
اس جبیں کو بس کوئی در دیجئے

بے وفا کوئی کہے کیوں آپ کو
اب یہ تہمت مجھ پہ ہی دھر دیجئے

آنکھ اشکوں سے تو بھر دی ہے مِری
زخمِ دل کو بھی کبھی بھر دیجئے

صرف دل سے کام چلتا ہی نہیں
عشق ہے نا آپ کو؟ سر دیجئے!
 
Top