کالی کہکشاں ۔۔۔۔ ص 366-400

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

فرحت کیانی

لائبریرین
“ سنو۔۔۔۔اسے یقین دلا دینا کہ اگر داراب کی حکمتِ عملی کو دخل نہ ہوتا تو وہ اپنے باپ کو زندہ نہ دیکھ سکتی اور بات صرف دو انگلیوں ہی پر نہ ٹل جاتی۔!“
“ میں اچھی طرح سمجھ گیا ہوں داراب خان۔۔۔۔!“
“ اب چپ چاپ میرے ساتھ چلے آؤ۔۔۔۔ ایک گھنٹے بعد میں تمہیں پھر یہیں پہنچا جاؤں گا۔!“ داراب نے کہا۔
قریباً دس منٹ تک چلتے رہنے کے بعد داراب ایک کمرے میں داخل ہوا تھا۔
“ٹارچ لائے ہو۔۔۔۔!“ اس نے پوچھا۔
“ہاں موجود ہے۔۔۔۔!“
“ اچھی بات ہے۔۔۔۔ نیچے تاریکی ہی تاریکی ہے۔۔۔۔! میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔۔۔۔ تہہ خانے کی سیڑھیوں کے اختتام پر ایک دروازہ ملے گا۔! وہ صرف سیڑھیوں ہی کی طرف سے کھولا جا سکتا ہے۔ اندر سے نہیں۔۔۔۔!“ تمہارے داخل ہو جانے پر خودبخود بند ہوجائے گا اور پھر میں ٹھیک ایک گھنٹے کے بعد نیچے آ کر دروازہ کھولوں گا۔ تم دروازے کے قریب ہی موجود رہنا۔!“
“ میں نے پوری طرح ذہن نشین کر لیا ہے۔۔۔۔!“ عمران بولا۔
داراب نے ایک گوشے سے قالین الٹ دیا۔۔۔۔ اُسی جگہ تہہ خانے میں داخل ہونے کا راستہ تھا۔! عمران حسبِ ہدایت نیچے اُترا۔۔۔۔ اور سیڑھیوں کے اختتام پر بند دروازے کو کھولنے کے لئے ہینڈل گھمایا دروازہ بے آواز کھلا تھا اور اُس کے گزرتے ہی پھر بند ہو گیا تھا۔!
گہری تاریکی تھی چاروں طرف۔۔۔۔ اُس نے ٹارچ روشن کی اور اطراف میں روشنی ڈالنے لگا۔! پھر روشنی کا دائرہ زینو پر ٹھہرا تھا جو گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی شائد بےخبر سو رہی تھی۔
قریب پہنچ کر عمران نے اُسے آوازیں دیں اور وہ اچھل پڑی۔
“ کک۔۔۔۔ کون ہے۔۔۔۔!“
“عمران۔۔۔۔!“
“ اوہ۔۔۔۔!“ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور بےساختہ پوچھا۔ “عمران۔۔۔۔! تت۔۔۔۔تم کہاں تھے۔!“
“ قید میں۔۔۔۔ لیکن اب میں آزاد ہوں! بیٹھ جاؤ اور جو کچھ کہوں اُسے سکون سے سنو۔!“
“ انہوں نے بابا کی دو انگلیاں کاٹ دی ہیں۔!“ وہ بلبلا اٹھی۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
“ مجھے علم ہے لیکن خود کو قابو میں رکھو۔۔۔۔ دو انگلیاں جان سے زیادہ عزیز نہیں ہونی چاہئیں۔!“
وہ بیٹھ گئی تھی اور عمران آہستہ آہستہ وہ سب کچھ سنانے لگا تھا جو اُس پر گزری تھی۔۔۔۔ اپنی اس حکمتِ عملی کا بھی ذکر کیا جس کی بناء پر تہہ خانے تک رسائی ممکن ہوئی تھی۔
“ بابا کی خاطر سب کچھ گوارا کر لوں گی ورنہ تمہارے اس جھوٹ کو کبھی معاف نہ کرتی۔!“
“ جہاں چالاکی سے کام نکل سکے وہاں دلیری کا مظاہرہ کرنا میری دانست میں بدترین حماقت ہوگی۔!“
“ میں سمجھتی ہوں۔۔۔۔!“
“ تمہارا تحفظ میری ذمہ داری ہے۔۔۔۔!“ اس میں فرق نہیں پڑے گا۔!“
“ مجھے یقین ہے عمران۔۔۔۔ تم دیوانگی کی حد تک اپنے وعدے کا پاس کرنے والوں میں سے ہو۔ اگر زندہ رہی تو تمہیں کبھی نہ بھلا سکوں گی۔!“
“ اور اب مجھے اپنے بابا کے پاس لے چلو۔۔۔۔ وقت بہت کم ہے۔!“
“ بڑی دشواری سے انہوں نے مجھے اپنے قریب آنے دیا تھا۔ لیکن وہ مجھ تک نہیں آ سکتے۔۔۔۔ چلو تم خود دیکھ لو کہ وہ کیسی اذیت میں مبتلا ہیں۔ اُن کی جگہ میں ہوتی تو میرا دم گھٹ جاتا۔ ایک دن سے زیادہ زندہ نہ رہ سکتی۔!“
“ اب تو تمہیں معلوم ہی ہو گیا ہوگا کہ ان سے کون سا جرم سرزد ہوا ہے۔!“
“ نہیں۔۔۔۔ بس یہی کہتے ہیں کہ مجھ سے کوئی ایسا فعل سرزد نہیں ہوا جس پر مجھے ضمیر کی ملامت کا سامنا کرنا پڑے۔!“
“ اچھا۔۔۔۔اچھا۔۔۔۔ چلو اب دیر نہ کرو۔۔۔۔ اور تم مجھے اُن تک پہنچا کر واپس آ جاؤ گی۔۔۔۔ کیا یہاں اندھیرا ہی رہتا ہے۔!“
“ دن میں کہیں سے تھوڑی سی روشنی آ جاتی ہے۔۔۔۔ رات اندھیرے ہی میں بسر ہوتی ہے۔۔۔۔!“ زینو نے کہا اور پھر اُسے اُس جگہ لے گئی تھی جہاں اُس کا باپ تھا۔!
عمران نے ٹارچ روشن کی تھی اور پھر اُس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ دو فٹ چوڑی اور چار فٹ لمبی کوٹھڑی تھی جہاں وہ گھٹڑی سا بنا ہوا پڑا تھا۔ اُسی میں ایک کنارے غلاظت کا ڈھیر بھی نظر آیا۔ بدبو سے دماغ پھٹا جا رہا تھا۔ شائد کئی دنوں سے وہ سلاخوں دار دروازہ نہیں کھولا گیا تھا۔۔۔۔زینو نے آہستہ آہستہ اُسے آوازیں دیں تھیں۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
“ تو پھر آ گئی۔۔۔۔!“ جابر خان کراہتا ہوا اٹھ بیٹھا۔!
“ وہ تم سے ملنے آیا ہے جس نے میری مدد کی تھی۔!“
“ کہاں ہے۔۔۔۔! میں اُس کا چہرہ کیسے دیکھوں۔!“
عمران نے ٹارچ روشن کی تھی اور جابر خان اُسے غور سے دیکھتا رہا پھر بولا۔ “ بے شک یہ خان قزاتوغا کا نمک خوار نہیں معلوم ہوتا۔!“
“ اب تم واپس جاؤ۔۔۔۔!“ عمران نے زینو سے کہا۔ “ میں تمہارے بابا سے کچھ ضروری باتیں کروں گا۔!“
“ کتنا تو اندھیرا ہے۔۔۔۔ میں کیسے واپس جاؤں گی۔!“
“ یہ ٹارچ لیتی جاؤ۔۔۔۔ میں نے راستہ سمجھ لیا ہے۔ تم تک اندھیرے ہی میں پہنچ جاؤں گا۔!“
وہ اُس سے ٹارچ لے کر چلی گئی تھی اور عمران آہستہ سے بولا تھا۔ “ جابر خان۔۔۔۔! میں سرکاری جاسوس ہوں۔۔۔۔! خان قزاتوغا کے بارے میں چھان بین کرنے آیا تھا۔ اتفاق سے تمہاری بیٹی سے ملاقات ہو گئی۔ بہرحال کل رات تک میں بھی قیدی تھا آج صبح سے آزاد ہوں۔!“
ایک بار پھر اُسے پوری کہانی دہرانی پڑی تھی۔۔۔۔! اندھیرے میں وہ جابر خان کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ سکا تھا۔! لیکن اُسے یقین تھا کہ وہ اب تک دوسروں سے جو کچھ چھپاتا رہا تھا اُس پر ضرور ظاہر کر دے گا۔
پوری داستان سن لینے کے بعد جابر نے کہا۔ “ مجھے یقین ہے تمہارے بیان سے صداقت کی بو آتی ہے۔۔۔۔! خدا کا شکر ہے کہ مجھے ایک ایسا آدمی مل گیا ہے جسے میں سب کچھ بتا سکوں گا۔۔۔۔ خان قزاتوغا۔۔۔۔ ملک و قوم کا غدار ہے۔۔۔۔ وہ مجھ سے جس چیز کا مطالبہ کر رہا ہے۔۔۔۔ اس وقت بھی میرے پاس موجود ہے۔۔۔۔ میں اُس کا مال لے کرسرحد پار جاتا ہوں۔!“
“اسمگلنگ۔۔۔۔!“
“ کسی حد تک۔۔۔۔ ورنہ کیمیائی کھاد برآمد کرنے کا اجازت نامہ خان کے پاس ہے۔۔۔۔ اور میں اس طرف اسمگلنگ کو اس لئے جائز سمجھتا ہوں کہ بعض علاقوں میں اعلانیہ اسمگلنگ کا مال آتا ہے اور فروخت ہوتا ہے۔ حکومت اُس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتی۔۔۔۔ لیکن میں اسے برداشت نہیں کر سکتا کہ ملک کے راز غیروں تک پہنچائے جائیں۔ پچھلی بار جب میں مال لے کر جا رہا تھا تو ایک ٹرک سے کچھ پیٹیاں گر کر ٹوٹ گئی تھیں۔ مال بکھر گیا تھا جسے سمیٹتے وقت ایک مہر بند لفافہ ہاتھ لگا میرا ماتھا ٹھنکا تھا اور میں نے وہ لفافہ پھر پیٹی میں نہیں رکھا تھا۔! بہرحال اُس لفافے کو کھولنے کے بعد خان کی غداری مجھ پر عیاں ہو گئی تھی۔۔۔۔ اُس نے بعض فوجی ٹھکانوں کے کچھ نقشے کسی کو بھیجے تھے۔۔۔۔ اور اُس کے ہاتھ کی ایک تحریر بھی اُن کے ساتھ تھی۔ جسے وہ لفافہ بھیجا گیا تھا اُس تک پہنچنے کا سوال ہی نہ پیدا ہو سکا۔۔۔۔! شائد اُس نے کسی طرح خان سے رابطہ قائم کر کے عدم وصولی کی اطلاع دی ہوگی۔۔۔۔ اُس کے بعد ہی سے یہ قصہ شروع ہوا تھا۔!“
 

فرحت کیانی

لائبریرین
“ تو وہ نقشے اس وقت بھی تمہارے پاس موجود ہیں۔!“
“ ہاں۔۔۔۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ اپنی دو انگلیاں کٹوانے کے بعد بھی ثابت قدم رہا۔!“
“میں تمہاری عظمت کو سلام کرتا ہوں جابر خان۔۔۔۔!“
“ نہیں میرے بچے۔۔۔۔! اس میں عظمت کی کوئی بات نہیں۔۔۔۔! خدا کی طرف سے جس فرض کی ادائیگی مجھ پر واجب و لازم کی گئی تھی اُس سے عہدہ برآہ ہونے کی کوشش کی تھی میں نے۔۔۔۔ اور اب میں اس سے سبکدوش ہوتا ہوں۔۔۔۔ اپنا ہاتھ ادھر سلاخوں پر رکھ دو۔۔۔۔!“
پھر جابر خان کے حلق سے کچھ ایسی آوازیں نکلی تھیں جیسے اوبکائیاں لے رہا ہو۔۔۔۔ ٹٹول کر عمران کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا اور اُس میں کسی دھات کی پتلی سی سلائی تھماتا ہوا بولا تھا۔ “ اس پلان میں وہ سب کچھ موجود ہے جسے اس غدار کے خلاف استعمال کیا جا سکے گا۔!“
“ بہت گہرے معلوم ہوتے ہو جابر خان۔۔۔۔!“ عمران بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔
“ میں نے یہ فن ایک چینی سے سیکھا تھا۔ ہفتوں اس نلکی کو نگلے رہ سکتا ہوں۔۔۔۔! سانس کی نالی میں جگہ بنائی ہے۔۔۔۔ پلان رکھنے کی۔!“
“بس اب تم مطمئن رہو۔۔۔۔میں سب کچھ ٹھیک کر لوں گا۔۔۔۔۔!“ عمران نے کہا۔ “ ہاں یہ بتاؤ کہ تم پر تشدد کرنے والے کن اوقات میں یہاں آتے ہیں۔!“
“ آج تو کوئی سرے سے آیا ہی نہیں۔۔۔۔! ایک ہفتے کے لئے پانی اور خشک روٹیاں یہاں رکھ دی جاتی ہیں اور کئی کئی دن بعد اس کوٹھی سے غلاظت نکالی جاتی ہے۔۔۔۔! مجھے حیرت ہے کہ اب تک زندہ کیسے ہوں۔!“
 

فرحت کیانی

لائبریرین
عمران نے اسے مزید تسلیاں دی تھیں اور ریڈیم ڈائیل والی گھڑی پر نظر ڈالی تھی۔ ایک گھنٹہ پورا ہونے میں صرف دس منٹ باقی تھے۔۔۔۔! وہ ٹٹولتا ہوا اُس سمت چل پڑا تھا جہاں زینو تھی۔!
“ ٹارچ روشن کرو زینو۔۔۔۔!“ کچھ دور چلنے کے بعد اُس نے آواز دی تھی ٹارچ روشن ہوئی تھی اور عمران اُس کے پاس پہنچ گیا تھا۔
“ کیا باتیں ہوئیں۔۔۔۔!“ زینو نے مضطربانہ انداز میں سوال کیا۔
“ کچھ بھی نہیں۔ وہ بدستور یہی کہہ رہے ہیں کہ کسی لفافے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔!“
“ تو پھر اب کیا ہوگا۔!“
“ فکر نہ کرو۔۔۔۔ خدا نے چاہا تو تو بہتر ہی ہوگا۔!“
ٹھیک ایک گھنٹے بعد عمران دروازے کے قریب پہنچ گیا تھا اور داراب نے اُس کے لئے دروازہ کھولا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ پھر مہمان خانے میں تھے۔۔۔۔ راستے میں داراب خاموش ہی رہا تھا۔ لیکن کمرے میں پہنچتے ہی مضطربانہ انداز میں پوچھا۔ “کیا رہا۔!“
“ بڑی مشکل سے اُسے یقین دلانے میں کامیاب ہوا ہوں کہ اس معاملے سے تمہارا کوئی تعلق نہیں اور اُسے گرفتار کرنے والوں میں بھی تم نہیں تھے۔!“
داراب نے طویل سانس لی تھی۔ عمران کہتا رہا۔ “ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ داراب خان بس موقعے کی تلاش میں ہیں۔۔۔۔ وہ تم دونوں کو فرار ہونے میں مدد دیں گے۔!“
“ واہ ! ۔۔۔۔ تم تو بہت کمال کے آدمی ہو۔۔۔۔ تو گویا اب میں مطمئن ہو جاؤں کہ سامنا ہونے پر وہ مجھے کینہ توز نظروں سے نہیں دیکھے گی۔!“
“ بالکل ایسا ہی ہوگا۔!“
“ بس تو پھر اب تم مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔۔۔۔!“
“ کیا مطلب۔۔۔۔!“ عمران چونک پڑا۔
“ میں اپنے خلاف کوئی ثبوت چھوڑنے کا قائل نہیں ہوں۔۔۔۔!“ داراب نے بےحد سرد لہجے میں کہا۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
“ یہ تو سراسر زیادتی ہے۔!“
“ فائر نہیں کروں گا کیونکہ تم شعبدہ باز ہو۔۔۔۔ اور پھر اس سے شور بھی ہوگا۔۔۔۔ خاموشی سے یہ کام کرنا چاہتا ہوں گلا گھونٹ کر ماروں گا۔!“
“کیوں مذاق کر رہے ہو۔۔۔۔!“ عمران احمقانہ انداز میں میں ہنس پڑا۔!
“ دانت بند کرو۔۔۔۔ میں نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد تمہارے چہرے پر کرب کے آثار پائے جائیں۔!“
“ تب پھر مجھے ہنسنے دو۔۔۔۔ مرنے کے بعد شادی مرگ کا شاہکار نظر آؤں گا۔۔۔۔ لوگ کہیں گے کہ فرطِ مسرت سے مر گیا۔۔۔۔ شائد اسے امپورٹ لائیسنس مل گیا تھا۔!“
داراب نے اُس پر چھلانگ لگائی تھی اور دیوار سے جا ٹکرایا تھا۔ پھر پلٹا تو اپنا ریوالور عمران کے ہاتھ میں دیکھا۔!
“ اس کرتب کے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔۔ داراب خان ٹائیمنگ کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ میں اس وقت نہ صرف تمہاری گرفت سے بچا ہوں بلکہ ساتھ ہی تمہارے ہولسٹر سے ریوالور بھی نکال لیا ہے۔!“
داراب خان دم بخود کھڑا رہ گیا۔۔۔۔ عمران مسکرا کر بولا۔ “ میں نے سنا ہے کہ تم ایک گھونسے سے کھوپڑی توڑ دیتے ہو۔ تمہیں اس کا بھی موقع دوں گا۔ آؤ۔۔۔۔!“
“ میں تو مذاق کر رہا تھا۔!“ داراب کھسیانی ہنسی کے ساتھ بولا۔
“ اگر یہ بات ہے تو میرا دل بھی صاف ہو گیا۔۔۔۔ یہ لو۔۔۔۔ اپنا ریوالور سنبھالو۔۔۔۔!“ عمران نے ریوالور کی نال پکڑ کر اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تھا لیکن جیسے ہی وہ ریوالور لینے کے لئے جھکا ریوالور کا دستہ پوری قوت سے اُس کی کنپٹی پر رسید کر دیا گیا۔ وہ لڑکھڑایا تھا لیکن پھر عمران نے اُسے سنبھلنے کا موقع نہیں دیا تھا۔ پےدرپے دو ضربیں اور لگائی تھیں۔
داراب کسی تناور درخت کی طرح ڈھیر ہوگیا۔۔۔۔! عمران کی اسکیم کچھ اور تھی لیکن داراب کے اس طرح پلٹا کھانے سے کھیل ہی بگڑ گیا۔
اب جو کچھ بھی کرنا تھا۔ اُس میں دیر لگانے سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی تھیں۔!
بہت جلدی میں اُس نے جوزف کو بیدار کیا تھا۔ گہری نیند سویا تھا اس لئے فوری طور پر معاملہ اُس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔! بدقت سچویشن اُس کی کھوپڑی میں اُتاری گئی اور پھر وہ کسی شکاری کتے کی طرح چوکنا نظر آنے لگا تھا۔!
 

فرحت کیانی

لائبریرین
“ اب داراب کو اٹھا کر تہہ خانے تک لے چلنا ہے۔۔۔۔!“ عمران نے اُس سے کہا۔ “توقع نہیں ہے کہ وہ جلد ہوش میں آ سکے۔!“
جوزف نے بڑی پھرتی دکھائی تھی۔۔۔۔عمران نے اُسے تو تہہ خانے کے دروازے پر چھوڑا تھا اور بیہوش داراب کو گھسیٹتا ہوا تہہ خانے میں لے گیا تھا۔ دروازہ خودبخود بند ہو گیا۔
زینو دوڑ کر اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔۔ اور عمران بولا تھا۔ “پوری اسکیم چوپٹ ہو گئی۔۔۔۔اب حالات غیریقینی ہیں۔!“
داراب والا واقعہ سن کر زینو نے کہا۔ “ تم یہ سب کچھ اتنی آسانی سے کر لیتے ہو جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔۔۔۔! اگر داراب کے ہاتھ تمہاری گردن تک پہنچ جاتے تو شائد سچ مچ۔۔۔۔!“
“میں سمجھتا ہوں۔۔۔۔!“ عمران اس کی بات کاٹ کر بولا۔ “ اب تمہارے بابا کو اُس کوٹھری سے نکال کر داراب کو اُس میں قید کرنا ہے۔!“
“قفل کیسے کھولو گے۔۔۔۔!“
“میرا خیال ہے کہ چابیاں داراب ہی کے قبضے میں ہوں گی۔۔۔۔ ابھی تلاشی لیتا ہوں۔!“
کنجیوں کا ایک گچھا اُس کے پاس سے برآمد ہوا تھا اور پھر ایک کنجی کوٹھری کے قفل میں لگ گئی تھی۔ جابر خان کو نکال کر بیہوش داراب خان کو بند کر دیا گیا۔!
شدتِ جذبات سے زینو کا گلا رندھ گیا تھا۔ آواز نہیں نکل رہی تھی۔ عمران کا بازو اُس نے بڑی مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ عمران نے زینے کا دروازہ تھپتھپایا۔۔۔ جوزف نے دوسری طرف سے ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا تھا۔
پہلے عمران انہیں اُسی کمرے میں لے گیا تھا جہاں مقیم تھا۔ پھر سر جوڑ کر سوچا جانے لگا تھا کہ اب کیا کرنا چاہئیے۔!
پھاٹک پر پہرہ تھا ویسے جابر خان نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تہہ خانے سے نکل جانے کے بعد فرار آسان ہو جائے گا کیونکہ وہ ایک ایسے راستے سے بھی واقف تھا کہ کسی سے مڈ بھیڑ نہ ہوتی اور وہ صاف نکلے چلے جاتے لیکن عمران اپنی گاڑی چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا۔!
اُس نے جوزف سے ٹرانس میٹر لیا تھا اور اُن دونوں کے ساتھ وہ راستہ دیکھنے چل پڑا جس سے انہیں فرار ہونا تھا۔!
 

فرحت کیانی

لائبریرین
وہ ایک چور دروازے سے نکلے تھے اور ویرانے میں پہنچ گئے تھے۔ دور تک اونچی نیچی چٹانیں بکھری ہوئی تھیں۔۔۔۔ اور اتھاہ سناٹا چاندنی سے سرگوشیاں کرتا معلوم ہو رہا تھا۔
“ یہاں ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں ہم کئی دنوں تک چھپے رہ سکتے ہیں۔!“ جابر خان نے کہا۔
“ بس تو پھر ٹھیک ہے تم جگہ کی نشاندہی کر کے چھپ جاؤ۔۔۔۔ میں واپس چلا جاؤں گا۔۔۔۔ اور کل صبح باضابطہ کاروائی شروع ہونے پر میں تم لوگوں کو وہاں سے نکال لے جاؤں گا۔!“ عمران نے کہا۔ پھر اُس نے ٹرانس میٹر پر سرحدی چوکی سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش شروع کر دی تھی۔
تھوڑی دیر بعد کسی کی آواز سنائی دی تھی اور عمران نے انچارج سے گفتگو کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ساتھ ہی انٹرسروسز انٹیلی جینس کا حوالہ بھی دیا تھا۔۔۔۔ انچارج سے رابطہ ہونے میں بھی کچھ وقت صرف ہوا تھا اور پھر عمران نے اُسے مختصراً بتایا تھا کہ اُس کال کا مقصد کیا ہے۔ ساتھ ہی اُسے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا تھا۔ انچارج نے کہا تھا کہ وہ صبح ہونے سے پہلے ہی کہکشاں پہنچ سکتا ہے کیونکہ سرحدی چوکی کا فاصلہ وہاں سے صرف تیرہ میل ہے اور راستہ بھی پرپیچ نہیں ہے۔۔۔۔ عمران نے ایک بار پھر بتایا تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے۔۔۔۔ ٹرانس میٹر کا سوئچ آف کر کے اُس نے جابر خان سے کہا “ تمہیں زیادہ انتطار نہیں کرنا پڑے گا۔!“
“میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم کوئی سرکاری جاسوس نکلو گے۔!“ زینو نے کہا۔
“ کتا کاٹ کھائے تو آدمی بادشاہ تک بن سکتا ہے۔۔۔۔ سرکاری جاسوس کیا چیز ہے۔!“
“بہرحال تم نے چوکی کے انچارج کو جو تجویز بتائی ہے اُس سے اچانک خان قزاتوغا کا ہارٹ فیلیر بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔!“
“ اُس کتے کو دعائیں دو جس نے کاٹ کر یہاں بھجوایا تھا۔۔۔۔!“
پھر اُس نے انہیں وہیں چھوڑا تھا اور خود واپس آ گیا تھا۔۔۔۔ جوزف کو اس کے کمرے میں بھیج کر سو جانے کی کوشش کرنے لگا تھا۔ سو بھی گیا تھا لیکن جاگا تھا دروازہ پیٹے جانے کی آواز پر۔۔۔۔ بالکل اسی طرح دروازہ پیٹا جا رہا تھا کہ اگر اندر سے نہ کھولا گیا تو توڑ دیا جائے گا۔!
عمران نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔۔۔۔ صبح ہو رہی تھی سامنے دو مسلح فوجی کھڑے نظر آئے اور ُن کے ساتھ خان کا بھی ایک سپاہی تھا۔ جوزف کو بھی جگایا گیا اور وہ دونوں اس طرح دیوانِ خاص کی طرف ہانکے جانے لگے جیسے اُن سے کوئی بڑا جرم سرزد ہوگیا ہو۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
خان اپنی زرنگار کرسی پر بیٹھا ہوا نطر آیا۔ قریب ہی ایک کیپٹن بھی موجود تھا۔۔۔۔ چھ مسلح فوجی ایک طرف کھڑے ہوئے تھے۔
“ یہی ہے وہ شعبدہ باز جس کی آپ کو تلاش ہے۔۔۔۔!“ خان نے کیپٹن سے کہا۔ “ اس کی گاڑی بھی موجود ہے جس پر پہلے فوج کا نشان تھا اور اب فلم اسٹوڈیو کا مونوگرام نظر آ رہا ہے۔۔۔۔!“ پھر عمران سے بولا۔ “ اب بتاو مردود تم کیوں آئے تھے یہاں۔!“
“ جابر خان کی رہائی کے لئے۔!“ عمران نے سرد لہجے میں کہا۔ “ اور اُس سے وہ لفافہ حاصل کرنے کے لئے جس کے حصول کے لئے تم نے اُس بیچارے کی دو انگلیاں کٹوا دی ہیں۔!“
“ یہ کیا بکواس ہے۔۔۔۔!“ خان غرایا۔
“ وہ لفافہ میں نے حاصل کر لیا ہے خان۔۔۔۔! نقشوں کے ساتھ ہی اُن سے متعلق تمہارے ہی ہاتھ کی ایک تحریر بھی ہے۔!“
“ کک۔۔۔۔کیا مطلب۔۔۔۔!“
“ اُس تحریر کی موجودگی میں تم کسی طرح بھی نہیں بچ سکتے۔۔۔۔! اور یہ بھی بتا دوں کہ جابر خان اور اُس کی بیٹی رہائی پا چکے ہیں ورنہ یہ کاغذات کیونکر میرے ہاتھ لگتے۔!“
“ یہ بکواس کر رہا ہے۔۔۔۔!“ خان نے کیپٹن کی طرف دیکھ کر کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا۔
“ یہ بالکل درست کہہ رہے ہیں خان۔۔۔۔ میں ان کے بارے میں ہیڈ کوارٹر سے تصدیق کرنے کے بعد ہی یہاں آیا ہوں اور ان کے کسی کام میں مداخلت کرنے کا اختیار مجھے نہیں ہے۔!“
“ اوہ۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔!“ خان مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔
“ اب جابر خان کی جگہ تمہارے اذیت خانے میں داراب قید ہے۔!“ عمران نے کہا اور کیپٹن سے کہا۔ “ خان کو حراست میں لے کر فوری طور پر قزاتوغا سے ہٹا دیا جائے۔!“
“ بہت بہتر جناب۔۔۔۔!“
“ یہ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔!“ خان اٹھتا ہوا بولا۔ کیپٹن نے فوجیوں کو اشارہ کیا تھا اور وہ نصف دائرے کی شکل میں آگے بڑھ آئے تھے۔!
 

فرحت کیانی

لائبریرین
“ عزت سے چلے چلئے۔۔۔۔!“ کیپٹن نے خان سے کہا۔ “ فی الحال اسی میں آپ کی بہتری ہے۔!“
“ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔!“ خان حلق پھاڑ کر دہاڑا۔
“ دو فوجیوں کو میرے ساتھ کیجئے۔!“ عمران نے کیپٹن سے کہا۔ “ میں اُن دونوں مظلوموں کو خان کی خدمت میں پیش کئے دیتا ہوں۔!“
“ جیسی آپ کی مرضی۔۔۔۔!“ کیپٹن بولا۔
عمران دو سپاہیوں کے ساتھ اُس ویرانے میں آیا تھا جہاں وہ دونوں چھپے ہوئے تھے۔!
“ خدا کا شکر ہے۔۔۔۔!“ زینو کانپتی ہوئی سی آواز میں بولی۔ “ تم بالآخر کامیاب ہو گئے۔!“
جابر خان کی حالت غیر ہو رہی تھی۔۔۔۔ اُس کے دونوں ہاتھ متورم تھے۔۔۔۔!“ فوجی اُسے سہارا دے کر لے چلے۔!
“ کیا تم کوئی بہت بڑے افسر ہو۔۔۔۔!“ زینو نے عمران سے پوچھا۔
“ بس ایسا ہی افسر ہوں کہ کتے کاٹ لیا کرتے ہیں۔!“
“ پھر کبھی آؤ گے ہماری طرف۔۔۔۔!“ زینو کے لہجے میں حسرت تھی۔!
“ دعا کرتی رہنا کہ پھر کتا کاٹ لے۔!“
“بار بار کتے کی بات کر کے مجھے غصہ نہ دلاؤ۔۔۔۔!“ وہ جھنجھلا کر بولی۔
تھوڑی دیر بعد وہ دیوانِ خاص میں پہنچے تھے لیکن خان انہیں دیکھ نہ سکا کیوں کہ اب وہ اپنی کرسی پر بیہوش پڑا تھا اور اُس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔!
“ یہ کیا ہوا۔۔۔۔!“ عمران نے کیپٹن سے پوچھا۔
“ بیٹھے بیٹھے تشنجی کیفیت طاری ہوئی تھی۔۔۔۔ اور پھر بیہوش ہو گئے۔!“
“ غضب ناکی اور احساسِ بےبسی مل کر کس حال کو پہنچا دیتے ہیں۔!“ عمران سر ہلا کر بولا۔ پھر زینو اور جابر خان کی طرف دیکھ کر کہا۔
“ ان دونوں کو ہیڈ کوارٹر پہنچانا ہو گا اس کیس کے شاہد ہیں۔!“
کیپٹن نے خان قزاتوغا کی طرف دیکھا تھا۔
“ جتنی خاموشی سے ممکن ہو اسے بھی لے جاؤ۔۔۔۔! عمارت سے کوئی فرد باہر نہ نکلنے پائے ورنہ دشواری میں پڑ جاؤ گے۔!“
 

فرحت کیانی

لائبریرین
“ میں سمجھتا ہوں۔!“
“ان کے خلاف ثبوت میں بزاتِ خود انٹر سروسز کے ڈائریکٹر جنرل تک پہنچاؤں گا۔!“
“ بہت بہتر جناب۔!“
زینو حیرت سے آنکھیں پھاڑے عمران کو دیکھتی رہی تھی لیکن اب عمران اُس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔
پھر داراب کو تہہ خانے سے نکالا گیا۔۔۔۔ فوجیوں کو دیکھ کر وہ چونکا تھا۔
“ کھیل ختم ہو چکا ہے داراب۔۔۔۔ اب تم حکومت کے قیدی ہو۔!“
وہ کچھ نہ بولا۔ قہر آلود نظروں سے عمران کی طرف دیکھتا رہا تھا۔
“زینو کے بارے میں تمہیں جو اطلاع میں نے دی تھی۔۔۔۔!“ عمران اُس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا “محض حکمتِ عملی تھی۔۔۔۔ وہ تو تم سے اس حد تک متنفر ہے کہ موقع ملنے پر خود ہی تمہیں گولی کا نشانہ بنا دیتی۔!“
“ تم سب جہنم میں جاؤ۔۔۔۔!“ وہ حلق پھاڑ کر دہاڑا تھا۔
روانگی سے قبل زینو نے عمران سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور اُسے مہمان خانے میں پہنچا دیا گیا تھا۔
“ میں آپ کی شکرگزار ہوں جنابِ عالی۔۔۔۔!“ اُس نے رقت آمیز لہجے میں کہا۔
“ ارے واہ۔۔۔۔ یہ آپ اور جناب کیوں شروع کر دی۔!“
“ میں تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ آپ اتنے بڑے آفیسر ہیں، اپنے اختیارات سے خان قزاتوغا کی قسمت کا بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔!“
“ نہیں زینو دوست۔۔۔۔!“ عمران مسکرا کر بولا۔ “ میں ایک بہت بڑی مشین کا ایک معمولی سا پرزہ ہوں۔!“
“شکریہ۔۔۔۔! آپ نے مجھے دوست کہا ہے۔۔۔۔! اسے ہمیشہ یاد رکھئے گا اور میں تو شائد مرتے دم تک آپ کو نہ بھلا سکوں۔!“
عمران کچھ نہ بولا۔ وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھی تھی اور عمران کی پیشانی کو بوسہ دے کت یکلخت واپسی کے لئے مڑ گئی تھی۔
عمران ہونقوں کی طرح منہ پھاڑے بیٹھا رہا۔
زینو مڑ کر دیکھے بغیر باہر نکلی چلی گئی تھی۔۔۔۔ اُس کے بعد جوزف کمرے میں داخل ہوا تھا۔
“ کیا ہوا باس۔۔۔۔!“ وہ بوکھلا کر بولا۔
“ اوں۔۔۔۔!“ عمران چونک پڑا۔
“ مطلب۔۔۔۔ یہ کہ طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔۔؟“
“ ہاں۔۔۔۔ اس وقت میری پیشانی پر تقدس اور خلوص کے پھول کھل رہے ہیں۔۔۔۔ کاش ثریا نے بھی کبھی اس طرح میری پیشانی کو بوسہ دیا ہوتا۔!“
جوزف متحیرانہ انداز میں اُسے دیکھتا رہ گیا تھا۔!


۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top