ڈھکے ہوئے جسم کی کپڑوں کے بغیر تصاویرحاصل کرنے والی مشین کا امریکہ میں استعمال

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

يہ درست ہے کہ ٹی –ايس – اے نے پورے ملک ميں زير بحث "ايکس رے" مشينيں نصب کی ہيں۔ ليکن اس ضمن ميں کوئ رائے قائم کرنے سے پہلے کچھ حقائق واضح کرنا ضروری ہيں۔ سب سے پہلی بات تو يہ کہ اس ٹيکنالوجی کو استعمال کرنے يا نا کرنے کا اختيار مسافر کی اپنی صوابديد پر ہے۔ اس کا استعمال بالکل محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ يہ مشينيں ہر ائرپورٹ پر موجود نہيں ہيں۔ اب تک امريکہ کے 19 ائرپورٹس پر يہ مشينيں نصب کی گئ ہيں اور ان 19 ميں سے بھی صرف 6 ائرپورٹس پر سکينينگ کی اولين چوائس يہ مشينيں ہيں۔ ان 6 ائرپورٹس پر 98 سے 99 فيصد لوگ ان مشينوں کے استعمال کو ترجيح ديتے ہیں جس سے عوام ميں اس ٹيکنالوجی کی قبوليت کا اندازہ لگايا جا سکتا ہے۔

http://www.tsa.gov/approach/tech/body_imaging.shtm

يہ حقيقت ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حادثے کے بعد ائرپورٹس اور ديگر چيک پوسٹس پر بہت سے لوگوں کو تفتيش کے اضافی مگر ضروری مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ليکن ميں آپ کو يہ بات پورے وثوق سے بتا سکتا ہوں کہ اس ٹيکنالوجی کا تعلق امريکہ کے "دہشت گردی کے فوبيا" سے نہيں بلکہ اس کا اصل مقصد مسافروں کی سہولت ميں اضافہ کرنا ہے۔

جن دوستوں کی رائے میں ان مشينوں کی مدد سے مسافروں کو برہنہ ديکھا جا سکتا ہے، وہ اس ويب لنک پر اس دعوے کی حقیقت خود ديکھ سکتے ہيں۔

http://www.tulsaworld.com/business/article.aspx?articleID=20080807_45_E1_hHight585364

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 
Top