ڈبوں کا دودھ پی کر بچے جو پل رہے ہیں - پاگل عادل آبادی

شمشاد خان نے 'مزاحیہ شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 19, 2020

  1. شمشاد خان

    شمشاد خان محفلین

    مراسلے:
    1,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ڈبوں کا دودھ پی کر بچے جو پل رہے ہیں
    وہ سب جوان ہو کر بڈھے نکل رہے ہیں

    تھالی کا بن کے بیگن نانا پھسل رہے ہیں
    نانی کی سہیلیوں پہ نیت بدل رہے ہیں

    ان ہپیوں کو شاید یہ بھی خبر نہیں ہے
    زلفوں کے گھونسلوں میں بلبل بھی پل رہے ہیں

    دادا گری میں بابا کچھ کم نہیں تھے لیکن
    بابا سے بڑھ کے چالو بیٹے نکل رہے ہیں
    (پاگل عادل آبادی)
     

اس صفحے کی تشہیر