ڈاکٹر طاہر شمسی نے passive immunization کے ذریعے کورونا وائرس کا علاج تجویز کر دیا

الف نظامی نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 25, 2020

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    پاکستان ماہرنے passive immunization کے ذریعے کورونا کا علاج تجویز کر دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  2. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
  3. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    چین اور امریکا کے بعد اب پاکستانی حکومت نے بھی کورونا وائرس سے شدید طور پر متاثرہ افراد کے علاج کےلیے اس بیماری (کووِڈ 19) سے صحت یاب ہوجانے والے افراد کا بلڈ پلازما استعمال کرنے پر مشاورت شروع کردی ہے۔

    واضح رہے کہ اس بارے میں سب سے پہلی خبر ’’ایکسپریس نیوز‘‘ نے 16 فروری 2020 کے روز شائع کی تھی جس میں چین کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ وہاں کورونا وائرس سے شدید متاثرہ افراد کا علاج کرنے کےلیے صحت یاب ہوجانے والوں کا بلڈ پلازما (خوناب) لگانے پر بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔


    بعد ازاں امریکی ماہرین نے بھی ناول کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کےلیے یہی تجویز دی۔

    ’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ کے مطابق، اب حکومتِ پاکستان نے بھی اسی تکنیک پر ماہرین سے مشاورت شروع کردی ہے جبکہ باقاعدہ لائحہ عمل کا اعلان آئندہ 36 گھنٹوں میں متوقع ہے۔

    صوبائی وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی اس حوالے سے امراضِ خون کے مشہور پاکستانی ماہر اور ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈزیز اینڈ بون میرو ٹرانس پلانٹیشن‘‘ کے سربراہ، ڈاکٹر طاہر شمسی سے رابطوں کی تصدیق کی ہے۔

    انہوں نے ’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ کو بتایا کہ ڈاکٹر طاہر شمسی سے اس ضمن میں تمام تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔

    بتاتے چلیں کہ کسی بھی نئی وبا کی ویکسین دستیاب ہونے میں کم از کم 18 ماہ لگ جاتے ہیں جبکہ ہنگامی حالات کے پیشِ نظر اس وبا سے صحت یاب ہوجانے والوں کا بلڈ پلازما (خوناب) شدید متاثرین میں منتقل کیا جاتا ہے تاکہ اس بلڈ پلازما میں موجود متعلقہ اینٹی باڈیز، متاثرہ شخص میں وقتی طور پر اس نئی بیماری کے خلاف مدافعت (امیونیٹی) پیدا کرسکیں۔

    اس تکنیک کو ’’غیر عامل امنیت کاری‘‘ (Passive Immunization) کہا جاتا ہے۔

    اسی بارے میں یہ خبر بھی پڑھیے:
    ناول کورونا وائرس کا توڑ؛ صحت یاب ہوجانے والوں کا بلڈ پلازما

    کورونا وائرس کا کامیاب علاج: امریکی ماہرین بھی چین کے نقشِ قدم پر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  4. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    خبر کا یہ حصہ عنوان سے مطابقت نہیں رکھتا۔ :)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    تابش بھائیPassive immunization اسی کو کہتے ہیں
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    آپ سمجھے نہیں۔
    خبر میں لکھا ہے کہ سب سے پہلے چین میں یہ طریقۂ علاج اپنایا گیا۔ جبکہ عنوان میں پاکستان کا ذکر ہے۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  7. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,070
    موڈ:
    Asleep
    پاکستان میں تجویز کیا گیا ہے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  8. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جی بالکل یہ بات درست ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  9. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کورونا وائرس سے متاثرہ زیادہ تر افراد معمولی سے درمیانے درجے کی علامات کے ساتھ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم متاثرہ افراد کی ایک مخصوص تعداد ایسی ہے جن میں بیماری شدت اختیار کر جاتی ہے اور مریض ہلاک ہو جاتا ہے۔

    امریکہ میں مستند اداروں نے ڈاکٹروں کو کووِڈ۔19 کے ایسے شدید بیمار یا جان لیوا صورتحال کا سامنا کرنے والے افراد کے علاج کے لیے ایک ایسی تحقیقاتی نئی دوا تک رسائی کی اجازت دی ہے جو بنیادی طور پر کورونا ہی کے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے حاصل کردہ پلازمہ یا سیال ہے۔

    اسے خون کا روبصحت سیال یا کونویلیسینٹ پلازمہ کہا جاتا ہے۔ کورونا سے ہونے والی معتدی بیماری کووِڈ۔19 کی صورت میں معروف امریکی ادارے ایف ڈی اے نے اسے کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کا نام دیا ہے۔

    ایف ڈے اے یعنی دی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے رواں ماہ کی 24 تاریخ کو ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں ڈاکٹروں کو کورونا کے شدید علیل یا زندگی اور موت کی جنگ لڑنے والے مریضوں کے لیے کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کے استعمال کی اجازت دی۔ تاہم ہر انفرادی مریض میں استعمال سے قبل پیشگی اجازت لینا ضروری قرار دیا ہے۔

    ایف ڈی اے کے مطابق یہ ایک تحقیقاتی طریقہ علاج ہے اور اس تک رسائی کی مشروط اجازت امریکہ میں تیزی سے بڑھتے کورونا وائرس اور اس سے پیدا ہونے والی ہنگامی طبی صورتحال کے پیشِ نظر دی گئی ہے۔

    پاکستان میں بھی طبی ماہرین اس طریقہ علاج کے استعمال کی تجویز حکومت کو دے چکے ہیں۔ ان میں کراچی میں واقع نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیذیذز کے ڈین اور امراض خون کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی بھی شامل ہیں جو حال ہی میں اس تجویز کو سامنے لائے تھے۔
    ان کا استدلال ہے کہ چین میں ڈاکٹروں نے کورونا کے مریضوں پر اس طریقہ کار کا استعمال کیا ہے اور اس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں جنھیں انھوں نے دنیا بھر کے ڈاکٹروں کے لیے شائع بھی کیا ہے۔
    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایا کہ 'اس طریقہ علاج اور اس کے استعمال کے حوالے سے ایک نمونہ حکومت کے پاس جمع کروایا جا چکا ہے، انھوں نے دیکھ لیا ہے اور انھوں نے یہ کہا ہے کہ وہ یہ کریں گے۔'
    ان کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب، بلوچستان اور وفاقی حکومتوں کو یہ نمونے موصول ہو چکے ہیں۔
    تاہم پاکستان سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر عطاالرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'اس قسم کے طریقہ علاج میں صلاحیت اور امکانات بہت ہیں تاہم اس کو اس وقت استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہو گا جب تک یہ کلینیکل ٹرائل سے نہیں گزر جاتا۔'
    ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی پُر اعتماد ہیں کہ اس طریقہ کار کو فوری استعمال کیا جا سکتا ہے اور اگر حکومتی رضامندی ہو تو وہ اس کا فوری بندوبست کر سکتے ہیں۔


    کونویلیسینٹ پلازمہ کیا ہے؟
    ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایا کہ جب بھی کوئی جراثیم پہلی دفعہ انسانی جسم ہر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کا قوت مدافعت کا نظام حرکت میں آتا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اینٹی باڈی بنتی ہے جسے امیونو گلابلن یا آئی جی ایم کہا جاتا ہے۔
    اینٹی باڈی خون کے اندر بننے والا ایسا مواد یا پروٹین ہے جو جراثیم کو تلف کرتا ہے۔ یہ امیونوگلوبلن کچھ ہفتتے تک جسم میں رہتی ہے اور اس کے بعد بکھر جاتی ہے۔ دوسری مرتبہ جسم کو اسی جراثیم کے حملے کا سامنا ہوتا ہے تو اس مرتبہ زیادہ تیزی سے اس میں ایک اینٹی باڈی بنتی ہے جسے آئی جی جی کہا جاتا ہے۔

    کووِڈ۔19 میں اس کا استعمال کیسے ہو گا؟
    ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا تھا کہ 'کورونا وائرس کی بات کریں تو اس میں 85 فیصد سے زیادہ مریض معمولی نزلہ زکام کے بعد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اینٹی باڈی آئی جی ایم وائرس کا مقابلہ کر کے اسے ختم کر دیتی ہے کیونکہ وہ اس جراثیم کو پہچان چکی ہوتی ہے اور وہ جلدی اثر کرتی ہے۔'

    کونویلیسینٹ پلازمہ اسی اینٹی باڈی پر مشتمل ہوتا ہے۔

    کووِڈ۔19 کے صحت یاب ہونے والے ایسے ہی مریض کے خون سے اسے نکال کر ایسے مریض کے خون میں داخل کیا جاتا ہے جو شدید علیل ہو، اسے نمونیا ہو یا پھر اسے متعدد اندرونی اعضا کے فیل ہو جانے کا خدشہ ہو۔

    'یہ اینٹی باڈی اس کے جسم میں جا کر ایسے ہی جراثیم کو ختم کرتی ہے جیسے اس نے صحت یاب ہو جانے والے مریض کے جسم میں کیا تھا۔' کورونا وائرس کی مطابقت سے ایف ڈی اے اس کو کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کا نام دیتا ہے۔

    کیا یہ نئی دریافت ہے؟
    ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق یہ طریقہ کار نیا نہیں ہے بلکہ اس وقت سے مختلف قسم کے ایسے وبائی امراض کے علاج کے لیے استعمال ہو رہا ہے جب ویکسین وغیرہ نہیں بنی تھی۔

    کورونا وائرس بھی انسان کے علم میں نہیں تھا اس لیے اس کی کوئی ویکسین تاحال تیار نہیں ہوئی اور ہونے میں وقت لگے گا۔

    ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق ایسی صورتحال میں کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کی مدد سے انتہائی علیل مریضوں کا علاج ہی موزوں طریقہ ہے۔ ایسے مریضوں کے تعداد بھی لگ بھگ دس فیصد کی قریب ہو گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے پلازمہ کو الگ کرنے کا عمل مقامی طور پر پاکستان میں کیا جا سکتا ہے۔ 'ایک دو مریضوں میں تو ہم فوراً کر سکتے ہیں تاہم زیادہ مقدار درکار ہو تو دو ہفتے کی اندر اس کے نتظامات مکمل کیے جا سکتے ہیں۔'

    ایف ڈی اے اس کو تحقیقاتی کیوں قرار دیتا ہے؟
    ایف ڈی اے کے حالیہ اعلامیے کے مطابق ایسا کونویلیسینٹ پلازمہ جو کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز رکھتا ہو کووِڈ۔19 جیسی متعدی مرض کے خلاف موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی سانس کے متعدی امراض پر کونویلیسینٹ پلازمہ کی استعمال پر تحقیق کی گئی ہے، جن میں سنہ 2009-2010 میں ایچ1این1، سنہ 2003 میں سارس اور سنہ 2012 میں مرس کی وبائیں شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ گو کہ نتائج حوصلہ افزا تھے مگر تحقیق کی گئی ہر ایک مرض پر کونویلیسینٹ پلازمہ کی استعمال کی افادیت ظاہر نہیں ہوئی۔

    'اس لیے یہ ضروری ہے کہ معمول کے طور پر کووِڈ۔19 کے مریضوں کو کونویلیسینٹ پلازمہ لگانے سے پہلے کلینیکل ٹرائلز کے ذریعے اس بات کا تعین کر لیا جائے کہ یہ محفوظ اور موثر ہے۔'

    پاکستان سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر عطا الرحمان بھی اسی تجویز کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ڈاکٹر طاہر شمسی کو چاہیے کہ وہ پہلے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کنٹرولڈ ماحول کے اندر اس کے کلینیکل ٹرائلز کر لیں۔'

    ایف ڈی اے نے پلازمہ کے استعمال کی اجازت کیسے دی؟
    تاہم ایف ڈی اے نے امریکہ میں کووِڈ۔19 کے وبا کے تناظر میں پیدا ہونے والی ایمرجنسی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں کو کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ تک رسائی دے دی ہے جبکہ کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ کلینیکل ٹرائلز مریضوں کے لیے کونویلیسینٹ پلازمہ تک رسائی کا ایک ذریعہ ہو سکتے ہیں تاہم ہو سکتا ہے کہ بوقت ضرورت یہ تمام مریضوں کے لیے میسر نہ ہو۔

    ان حالات میں ایف ڈی اے مریضوں کو کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ تک رسائی کی سہولت دے رہا ہے جو کہ اس عمل کے ذریعے کیا جائے گا جس میں ایک انفرادی مریض کو لائسنس یافتہ فزیشن ایف ڈی اے کی منظوری کے ساتھ یہ پلازمہ دے گا۔

    امریکہ میں اس کا استعمال کن چیزوں سے مشروط ہے؟
    اس کے استعمال کے لیے ایف ڈی اے نے جو شرائط رکھی ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ مکمل طور پر مصدقہ طریقے سے صحت یاب ہونے والے اس مریض سے حاصل کیا جائے گا جو خون عطیہ کرنے کا اہل ہو گا۔

    یہ انہی مریضوں کو لگایا جائے گا جن میں کووِڈ۔19 کی علامات انتہائی شدید ہوں یا ان کی زندگی کو فوری خطرہ لاحق ہو۔ پلازمہ کے استعمال سے پہلے مریض کی رضامندی لینا ضروری ہو گا۔

    ہر انفرادی مریض میں کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کے استعمال سے قبل ڈاکٹر کے لیے عام حالات میں ای میل جبکہ ایمرجنسی کی صورت میں زبانی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔

    ایف ڈی اے کے اعلامیے کے مطابق وہ ملک میں صحت کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ایسا طریقہ کار وضح کر رہا ہے جس کے ذریعے ایک سے زیادہ محقق (ڈاکٹر) کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کے حصول اور استعمال کے لیے باہم رابطہ کر سکیں گے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. بندہ پرور

    بندہ پرور محفلین

    مراسلے:
    285
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اس کو تجربے میں لانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس قدر کریٹیکل ایمرجنسی
    میں محض احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے کام نہیں چلے گا اور علاج کی کوئی راہ تلاشنا اشد ضروری
    ہے ۔بے بسی سے اس مرض کو پھیلتے دیکھنا اور کسی معجزے کا انتظار سراسر غیر دانشمندانہ
    ہوگا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  11. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    9,982
    بہتر ہو گا کہ صحت یاب ہونے والے کورونا کے ہر ایسے مریض کا رابطہ نمبر اور دیگر تفصیلات مرکزی ڈیٹابیس میں محفوظ رکھی جائیں اور اگر ان صاحب یا صاحبہ کی پیشگی منظوری لے لی جائے تو بہت بہتر ہو گا، اگر یہ پلازمہ ایک بار سے زائد درکار ہو، اگر واقعی ایسا معاملہ بنتا ہے اور ہمیں بات ٹھیک طرح سے سمجھ آئی ہے۔
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    صحت یاب ہونے والے مریضوں سے پلازما حاصل کر کے ایک پلازما بینک بنایا جاناچاہیے جہاں سے مریضوں کے علاج کی غرض سے پلازما کا حصول آسان ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
  13. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    نیویارک بلڈ سنٹر نے مریضوں کے علاج کے لیے پلازما جمع کرناشروع کر دیا۔
    The New York Blood Center could start collecting blood plasma donations from recovered COVID-19 patients as early as Thursday, according to Dr. Bruce Sachais, chief medical officer at the center.

    The blood center will be the first in the U.S. to collect the plasma, which will be used in an experimental treatment called “convalescent plasma,” it announced Wednesday. The treatment would transfer the antibodies to critically ill patients currently receiving care in New York City hospitals.​

    “The idea of convalescent plasma is that people who have had a disease have made antibodies, which are molecules we use to protect ourselves from viruses,” Dr. Sachais told MarketWatch. “That [plasma] could be collected and given to a person who’s actively sick now…[and] that may help their body begin to fight the infection until their own body makes enough antibodies to clear the infection.”
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  14. بندہ پرور

    بندہ پرور محفلین

    مراسلے:
    285
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    شکر ہے امید کی کرن نظر آئی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  15. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
  16. زاہد لطیف

    زاہد لطیف محفلین

    مراسلے:
    320
    کہا اس کے لیے چائنہ سے مدد نہیں لی جا سکتی؟ ان کے پاس سہولیات بھی ہونگی اور صحت یاب ہونے والے افراد کی نفری بھی بہت زیادہ ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,896
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    یہ طریقہ کار امید کی ایک موہوم سی کرن ہے۔ موہوم سی اس لیے کہ یہ علاج سب کے لیے نہیں ہے بلکہ شدید بیمار لوگوں کے لیے ہے جن کا مرض شاید آخری اسٹیج پر ہوتا ہے۔ دوم، یہ طریقہ کار سب مریضوں پر اثر نہیں کرے گا، جیسا کہ لکھا ہے کہ کچھ پر اثر کرتا ہے اور کچھ پر نہیں۔ سوم، اس اینٹی باڈی کی اپنی بھی ایک مدت ہے جو کہ شاید کچھ ہفتے ہے اس لیے اس کا ایک وافر ذخیرہ بھی جمع نہیں ہو سکتا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر صحت مند مریض سے یہ پلازما حاصل ہو جائے، ان کے دیگر مسئلے مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔

    لیکن بہرحال اس سے کچھ قیمتی جانیں بچانے میں ضرور مدد ملے گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • متفق متفق × 2
  18. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,400
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    حتمی کامیابی ویکسین کی تیاری اور اس کی آسان اور وافر دستیابی سے مشروط ہے۔
     
    • متفق متفق × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  19. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اس کا کوئی ریفرینس ملے گا؟
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  20. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    میرا خیال ہے کہ کورونا سے متاثرہ ہر سطح کے مریض کو یہ پلازما دیا جا سکتا ہے کیوں کہ پلازما میں موجود اینٹی باڈیز کا مقصد کورونا وائرس کو ختم کرنا ہے، البتہ شدید بیماروں کو ترجیحی بنیادوں پر ضرور دینا چاہیے۔
    فاخر رضا
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3

اس صفحے کی تشہیر