چونیاں میں چار بچوں سے زیادتی و قتل کا ملزم گرفتار

جاسم محمد

محفلین
چونیاں میں چار بچوں سے زیادتی و قتل کا ملزم گرفتار
ویب ڈیسک 4 گھنٹے پہلے
1827253-chunianmulzim-1569947269-604-640x480.jpg

ملزم نے اعتراف جرم کرلیا (فوٹو: پنجاب حکومت)

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب حکومت نے چونیاں میں چار بچوں کو زیادتی کرکے قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا جس نے اعتراف جرم کرلیا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سی ایم ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے چونیاں میں بچوں سے زیادتی کا مرکزی ملزم گرفتار کرلیا ہے، ملزم کا ڈی این اے بچوں کے ڈی این اے سے میچ کرگیا۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق گرفتار ملزم کے حوالے سے آئی جی پنجاب نے انہیں بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے ایک بچے کی لاش اور تین بچوں کی ہڈیوں سے ڈی این اے سیمپل لے کر 1543 مشکوک افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کئے گئے جب کہ1649 مشکوک افراد کی جیوفینسنگ کی گئی، جس کے بعد ایک سیمپل ملزم سے میچ کرگیا جس بنا پر اسے گرفتار کیا گیا اور اب 200 فیصد تصدیق ہو چکی ہے کہ زیادتی کے بعد چار بچوں کو قتل کرنے کے واقعہ میں ایک ہی ملزم ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ ملزم کا نام صہیب شہزاد ولد محمد اسلم ہے اور اس کی عمر تقریباً 27 سال ہے، ملزم چونیاں کے علاقے راناؤن کا رہائشی ہے، اور اس نے گرفتاری کے بعد اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔

بیان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم اور پولیس و متعلقہ اداروں کی شبانہ روز محنت سے چونیاں میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کے ملزم کا سراغ ملا، ملزم کی گرفتاری میں پولیس، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی، اسپیشل برانچ، پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلی آفس، کابینہ کمیٹی امن و امان اور دیگر اداروں نے بہت محنت کی، سوگوار خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا، انہیں مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ چونیاں اور قصور کو سیف سٹی میں شامل کیا جارہا ہے، قصور میں بچوں کی حفاظت کے لیے چائلڈ پروٹیکشن سینٹر قائم کیا جائے گا اورچونیاں میں اسپیشل برانچ کی نفری میں اضافہ کیا جا رہا ہے جب کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر قانون سازی کی جائے گی-
 

جاسم محمد

محفلین
چونیاں میں بچوں سے جنسی زیادتی اور قتل کا ملزم گرفتار، اسی محلے کا رہائشی نکلا
  • 2 گھنٹے پہلے
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ قصور کے علاقے چونیاں میں چار بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد انھیں قتل کرنے والے مبینہ ملزم کو ڈی این اے کی شناخت کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کے چونیاں کے واقعات میں ملوث شخص کا تعلق اسی علاقے سے ہے اور ملزم کی شناخت ڈی این اے میچ ہونے کے بعد منگل کی صبح ہوئی۔

انھوں نے بتایا کہ ’اب 200 فیصد تصدیق ہو چکی ہے کہ زیادتی کے بعد چار بچوں کو قتل کرنے کے واقعہ میں ایک ہی ملزم ہے، ایک بچے کی لاش اور تین بچوں کی ہڈیوں سے ڈی این اے کے ذریعے ملزم کو شناخت کیا گیا ہے۔‘

ملزم کی عمر 27 برس بتائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ اس کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلے گا۔

وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ قصور میں چائلڈ پروٹیکشن سنٹر بنایا جائے گا۔

ایس پی انویسٹی گیشن قدوس بیگ کے مطابق ملزم سہیل شہزاد رانا ٹاؤن چونیاں کا رہائشی ہے اور لاہور میں تندور پر کام کرتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ یہ اسی محلے کا رہائشی ہے جہاں یہ بچے رہتے تھے۔ اور یہ اکثر اوقات بچوں کو چیز لے کر دیتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ یہ بچوں کو کھانے پینے کا لالچ دے کر اپنے ساتھ لے جاتا تھا اور پھر ان کے ساتھ زیادتی کرتا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سہیل شہزاد اس سے قبل بھی ایک پانچ سالہ بچے کے ریپ کے جرم میں ڈیڑھ سال تک سزا کاٹ چکا ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس کا کہنا ہے ’ملزم نے جون 2019 میں بارہ سالہ علی عمران سے زیادتی کی اور اس کا گلا گھونٹ کر قتل کیا۔ اگست میں ملزم نے دو مزید بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا۔ انھوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ملزم سہیل شہزاد گرفتار ہوا اور اسے پانچ سال کی سزا ہوئی تھی اور ڈیڑھ سال کی سزا کاٹ کر ملزم جیل سے باہر آگیا۔

خیال رہے کہ پنجاب حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی تھی جس کی سربراہی قصور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر زاہد مروت کر رہے ہیں اور اس میں انٹیلیجنس بیورو اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے افسران بھی شامل ہیں۔

پنجاب کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آپریشنز انعام غنی کے مطابق پولیس کو ایک بچے فیضان کی مکمل لاش ملی تھی جبکہ دو کھوپڑیاں اور انسانی ڈھانچے کے چند باقیات ملے تھے۔ یہ باقیات ایک دوسرے سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھے۔

فیضان کی لاش ایک کھڈے کے اندر الٹی پڑی تھی۔ بظاہر انھیں وہاں لا کر پھینکا گیا تھا، دفن کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔
 

جاسم محمد

محفلین
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سہیل شہزاد اس سے قبل بھی ایک پانچ سالہ بچے کے ریپ کے جرم میں ڈیڑھ سال تک سزا کاٹ چکا ہے۔
عجیب و غریب ملک ہے۔ 1999 میں 100 بچوں سے جنسی زیادتی کے بعد ان کو قتل کرنے والا بھیڑیا جاوید اقبال بھی ماضی میں ایک بچے کے ساتھ زیادتی کے بعد جیل کی ہوا کھا چکا تھا۔ ناروے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی سزا قتل کی سزا سے زیادہ یعنی کم از کم 21 سال ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
سانحہ چونیاں: رکشے کے ٹائر کے نشان سے ملزم کی گرفتاری کی کہانی
205783_3780505_updates.JPG

ملزم کے شناختی کارڈ کی تصاویر
سانحہ چونیاں کے ملزم سہیل شہزاد کو پولیس نے تحقیقات کے دوران انتہائی مہارت سے گرفتار کیا۔

چونیاں میں چار بچوں کا زیادتی کے بعد قتل پولیس کے لیے معمہ بن چکا تھا جس کے بعد بالآخر سخت محنت کے بعد ملزم کو ٹریس کر لیا گیا۔

تفتیشی افسران کے مطابق مقتول بچوں کی باقیات والی جگہ سے رکشے کے ٹائروں کے نشانات ملے تھے جس پر چونیاں میں 248 رکشہ ڈرائیوروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، انہی میں ملزم سہیل شہزاد بھی تھا جو کچھ عرصہ قبل کرائے پر رکشا لے کر چلاتا رہا تھا۔

سفاک ملزم سہیل شہزاد کو 29 ستمبر کو ڈی این اے کے لیے تھانے بلایا گیا جس پر ملزم نے لاہور فرار ہونے کی کوشش کی اور ایک مسافر وین میں سوار ہو گیا، پولیس اہلکاروں نے اسے ڈھونڈ نکالا اور وین سے اتار کر تھانے لے آئے۔

ڈی این اے سیمپل لینے بعد ملزم کو شخصی ضمانت پر چھوڑ دیا گیا اور 2 دن بعد ڈی این اے مثبت آنے پر ملزم سہیل شہزاد کو گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف 8 سال پہلے بھی چونیاں میں ہی بچے سے زیادتی کا مقدمہ درج ہوا تھا جس پر اسے سزا بھی ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ قصور کی تحصیل چونیاں میں ڈھائی ماہ کے دوران 4 بچوں کو اغواء کیا گیا جن میں فیضان، علی حسنین، سلمان اور 12 سالہ عمران شامل ہیں، ان کی لاشیں جھاڑیوں سے ملی تھیں جب کہ بچوں سے زیادتی کی بھی تصدیق ہوئی تھی۔

اس واقعے کے بعد چونیاں شہر میں عوام کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور تھانے پر حملہ کیا گیا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بچوں کے اغواء، زیادتی اور پھر قتل کے واقعے کی تحقیقات کیلئے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) کی سربراہی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی ) تشکیل دی تھی۔
 

جاسم محمد

محفلین
سانحہ چونیاں: بچوں کو زیادتی کا نشانہ کیوں بنایا؟ ملزم کے سنسنی خیز انکشافات
205864_2969943_updates.JPG

ویڈیو اسکرین گریب

چونیاں: چار بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مرکزی ملزم نے انکشاف کیا ہےکہ وہ خود نوعمری میں زیادتی کا شکار ہوتا رہا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ تندور پر روٹیاں لگانے والا اس کا استاد اسلم اسے 12 سال زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، اسلم ایک کینٹین میں تندور پر کام کرتا تھا۔

ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ اسے بچپن میں کئی لوگوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا، وہ زیادتی کرنے والے کئی افراد کے اب نام بھی نہیں جانتا۔

پولیس کے مطابق ملزم سہیل کے بیان کی روشنی میں ملزم اسلم کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے۔

ڈی آئی جی کی پریس کانفرنس

چونیاں میں چار بچوں کے قتل کے مرکزی ملزم کی گرفتاری پر ڈی آئی جی سہیل حبیب نے قتل ہونے والے بچوں عمران، علی حسنین، سلمان اورفیضان کے والدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ رانا ٹاون چونیاں کے رہائشی 27 سالہ سہیل شہزاد کا DNA چاروں بچوں سے میچ کیا ہے، ملزم نے سب سے پہلے 3 جون کو 12 سالہ عمران کو اغوا کے بعد زیادتی کرکے قتل کیا، ملزم سہیل شہزاد نے علی حسنین، سلمان اور فیضان کو بھی زیادتی کے بعد قتل کیا۔

ڈی آئی جی پولیس کےمطابق ملزم سہیل شہزاد سمیت چار بھائی اور تین بہنیں ہیں جب کہ والدین بھی حیات ہیں، ملزم نجی اسکول میں سیکیورٹی گارڈ بھی رہا اور رکشہ ڈرائیور بھی، ملزم وقوعہ کے بعد لاہور میں ایک تندور پرروٹیاں لگاتا رہا، ملزم کو 29 ستمبر کو گرفتار کیا گیا جو ڈی این اے کے ڈر سے لاہور فرار ہو رہا تھا۔

ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ ملزم کے خلاف 2011 میں بھی زیادتی کا مقدمہ درج تھا، اور ملزم غیر شادی شدہ ہے۔

یاد رہے کہ قصور کی تحصیل چونیاں میں ڈھائی ماہ کے دوران 4 بچوں کو اغواء کیا گیا جن میں فیضان، علی حسنین، سلمان اور 12 سالہ عمران شامل ہیں، ان کی لاشیں جھاڑیوں سے ملی تھیں جب کہ بچوں سے زیادتی کی بھی تصدیق ہوئی تھی۔

اس واقعے کے بعد چونیاں شہر میں عوام کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور تھانے پر حملہ کیا گیا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بچوں کے اغواء، زیادتی اور پھر قتل کے واقعے کی تحقیقات کیلئے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) کی سربراہی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی ) تشکیل دی تھی۔
 

جاسم محمد

محفلین
چونیاں: بچوں سے جنسی رغبت رکھنے اور انھیں اپنی ہوس کا نشانہ بنانے والوں کو کیسے پہچانا جائے؟
04/10/2019 بی بی سی
ترہب اصغر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

109096856_5588346c-d560-4f22-ae63-65c67e9e988f.jpg

BBC
’پیڈو فائل‘ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو بچوں سے جنسی رغبت رکھتا ہو۔
پاکستان کے ضلع قصور میں گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران پیڈو فائلز کے دو بڑے واقعات سامنے آئے جن میں زینب قتل کیس اور چونیاں میں چار بچوں کا اغوا اور قتل کا کیس شامل ہے۔

اگر قصور کے ان دونوں واقعات میں ملوث قاتلوں کی عادات و اطوار کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ عمران علی (زینب کا قاتل) اور سہیل شہزادہ (چونیاں واقعے کا ملزم) کی شخصیات میں بہت سی مماثلتیں ہیں۔

ان دونوں افراد کی شخصیات میں کیا قدریں مشترک ہیں، ذیل میں ان کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اپنی عمر کے افراد کے بجائے بچوں کو ترجیح
عمران علی اور سہیل شہزادہ نے اپنی جنسی ہوس کی تسکین کے لیے ایک ہی (مخصوص) عمر کے بچوں اور بچیوں کا انتخاب کیا، یعنی پانچ سے 11 برس کی درمیانی عمر کے بچے۔

دونوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بچوں کو قتل کیا۔

ماہرِ نفسیات ڈاکٹر فرح ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پیڈو فائلز میں یہ عادت پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے ہم عمر افراد سے دوستی کے بجائے بچوں سے دوستی کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بچوں کو اپنے اچھے سلوک سے اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے افراد جنسی طور پر غیر فعال ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ آسان ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں۔

لاوارث بچوں کو نشانہ بنانا
ڈاکٹر فرح ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تحقیق کے بعد ہمیں یہ پتا چلا ہے کہ ایسی جگہ جہاں مزار ہو گا وہاں ایسے لوگ زیادہ پائے جاتے ہیں کیونکہ مزار گھر سے بھاگنے والے اور لاوارث بچوں کی پناہ گاہ ہوتی ہے۔‘

سہیل کے محلے داروں کے مطابق سہیل چونیاں میں واقع ایک مزار پر زیادہ تر وقت گزارتا تھا اور منشیات کا استعمال کرتا تھا۔

قتل کی وجہ خوف
سہیل اور عمران نے بچوں کو زیادتی کے بعد اس ڈر سے قتل کیا کہیں بچے ان کی اس زیادتی کے بارے میں شکایت نہ کر دیں۔

اس خضلت سے متعلق ڈاکٹر فرح نے بتایا کہ پکڑے جانے کے ڈر سے وہ زیادتی کے بعد قتل کر دیتے ہیں۔ جبکہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے اور پیڈو فائلز عموماً بچوں کی تکلیف سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اکیلے رہنا
ہم نے سہیل شہزادہ کے محلے داروں اور اہل علاقہ سے دریافت کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ کسی سے ملتا جلتا نہیں تھا جبکہ زینب کے قاتل عمران علی کے عزیزوں کے مطابق وہ بھی زیادہ ملنا جلنا پسند نہیں کرتا تھا۔

’بذات خود زیادتی کا شکار‘
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بتایا سہیل شہزادہ ایک سیریل کِلر ہے جبکہ زینب کے قاتل عمران علی کے حوالے سے سابق وزیر اعلی شہبار شریف نے بھی یہی بیان دیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق سہیل شہزادہ نے تمام قتل اکیلے ہی کیے جبکہ عمران علی نے بھی تمام بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کی وارداتیں اکیلے ہی کیں تھیں۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر فرح ملک کے مطابق ’پیڈو فائلز اکیلے یہ کام اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ان کو اس کام میں دلچسپی ہوتی ہے اور زیادہ تر یہ وہی شخص کرتا ہے جس کے اپنے ساتھ زیادتی ہوئی ہو۔ اسے ہم ایک سیکھا ہوا عمل کہتے ہیں۔‘

دوسری جانب آر پی او سہیل تاجک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سہیل شہزادہ کو 12 سال کی عمر میں زیادتی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔‘

109097172_2e4647e8-1bd2-4955-9301-05cfe3d0c03a.jpg

Reuters
بچوں کو چھیڑنا
سہیل شہزادہ کے محلے دار اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان کی 11 سالہ بیٹی نے شکایت کی تھی کہ ایک کالے کپڑوں والا شخص مجھے چھیڑتا ہے اور میرا پیچھا کرتا ہے۔ معلوم کرنے پر میری بچی نے سہیل کی نشاندہی کی جس پر میں نے اور میرے محلے داروں نے یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا کہ یہ محلے دار ہے اور ایسا نہیں کر سکتا۔‘

عمران علی کے کیس میں بھی ایسے ہی واقعے کا ذکر اس کے اہل علاقہ نے بھی کیا تھا۔ انھوں نے بتایا تھا کہ یہ شخص کم عمر بچیوں کو چھیڑتا تھا جس پر محلےداروں سے مار بھی کھا چکا تھا۔

تاہم ماہرِ نفسیات کے مطابق پیڈو فائلز اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتے اس لیے اکثر اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ’بچوں کو چھیڑیں۔ ان کے ساتھ کھیلیں اور دوستی کریں۔‘

سہیل شہزادہ نے سنہ 2011 میں اعظم نامی پانچ سالہ بچے کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

109096854_1296a726-5287-4037-803f-658fe99c0572.jpg

BBC
پولیس کا اس ملزم کو تلاش کرنا کافی مشکل تھا اور تفتیش کے دوران کئی پولیس اہلکاروں کو بھیس بدل کر علاقے کی گلیوں میں گھومنا پڑا
اعظم کے والد سعید اختر کے مطابق ’انھوں نے سہیل شہزادہ کو اپنے بیٹے کے ساتھ زیادتی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔‘

یاد رہے کہ یہ وہی کیس ہے جس میں سہیل ڈیڑھ سال کی قید بھی کاٹ چکا ہے۔

اپنے قریب کے بچوں کو نشانہ بنانا اور لالچ دینا
سہیل شہزادہ اور علی عمران نے تمام وارداتیں اپنے علاقے سے پانچ کلومیڑ کے فاصلے کے اندر اندر کیں، جبکہ یہ دونوں بچوں کو کسی نا کسی چیز کا لالچ دے اپنے ساتھ لے گئے۔

آر پی او شیخوپورہ سہیل تاجک نے بتایا کہ ’سہیل شہزادہ بچوں کو اپنے ساتھ یہ کہ کر رکشے پر لے جاتا تھا کہ میں تمہیں کوئی چیز لے کر دوں گا یا پھر میرے ساتھ لکڑیاں اٹھوا کر رکشے پر رکھوانے پر تمھیں 50 یا 100 روپے دوں گا جس کی وجہ سے بچے اس کے ساتھ چل پڑتے۔‘

ایسا ہی بیان پولیس حکام کی جانب سے زینب کے قاتل کے متعلق بھی آیا تھا کہ عمران علی بچیوں کو کھانے پینے کا لالچ یا پھر والدین کے پاس لے کر جانے کا کہہ کر بچیوں کو اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔

تاہم ماہر نفسیات ڈاکٹر فرح ملک کے مطابق ’پیڈو فائلز زیادہ تر اپنے اردگرد موجود بچوں کو ہی اپنا نشانہ بناتے ہیں چاہے وہ ان کے چھوٹے بہن بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔‘

ضدی شخصیت
آر پی او سہیل تاجک نے بتایا کہ ’جب ہم نے سہیل شہزادہ کو گرفتار کیا تو اس نے جرم سے انکار کر دیا اور اس کے چہرے پر کسی قسم کی کوئی ندامت نہیں تھی جبکہ ثبوت سامنے رکھنے پر اس نے اعتراف جرم کر لیا۔‘

زینب کے قاتل عمران علی نے بھی پکڑے جانے پر جرم سے انکار کیا تھا تاہم ثبوت دیکھنے بعد اس نے بھی اعتراف جرم کر لیا تھا۔

109097176_mediaitem109097175.jpg

Getty Images
ماہر نفسیات ڈاکٹر فرح ملک کے مطابق ’عموماً ایسے افراد عادت کے ضدی ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جو عمل کر رہے ہیں وہ غلط نہیں ہے۔ اس لیے ایسا شخص کبھی بھی آسانی سے اپنا جرم قبول نہیں کرتا ہے کیونکہ وہ اس کو جرم یا غلط تصور ہی نہیں کرتا۔‘

چونیاں اور قصور کیس کی تفتیش میں مماثلت
ان دونوں کیسیز کے سلسلے میں ہونے والی تفتیش اور ملزمان تک پہنچنے کے عمل میں بھی کافی مماثلتیں ہیں۔

عمران علی اور سہیل شہزادہ کو گرفتار کرنے میں 14 دنوں کا وقت لگا۔

چودہ دن تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد چونیاں واقعے کے ملزم سہیل شہزادہ کو ضلع قصور کی تحصیل چونیاں سے ہی گرفتار کیا گیا۔ جبکہ عمران علی کو بھی قصور میں اس کے گھر سے ہی گرفتار کیا گیا تھا۔

سہیل شہزادہ اور عمران علی کی نشاندہی ڈی این اے کے ذریعے ممکن ہو پائی تھی یعنی دونوں افراد کو فرانزک شواہد کی بنیاد پر پکڑا گیا۔

سہیل شہزادہ چونیاں کے رانا ٹاؤن کے رہائشی تھے اور محمد عمران (جس بچے کو زیادتی کے بعد قتل کیا) کے محلے دار تھے۔ جبکہ عمران علی کے ہاتھوں زیادتی اور قتل ہونے والی زینب بھی ایک ہی محلے میں رہائش پذیر تھے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق سہیل شہزادہ اور عمران علی دونوں کا پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ موجود تھا۔

سہیل شہزادہ ایک پانچ سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کر چکا تھا جبکہ عمران علی بھی چھوٹی موٹی چوریوں میں ملوث رہا تھا۔

109097430_mediaitem109097429.jpg

Getty Images
پولیس ریکارڈ کے مطابق سہیل شہزادہ اور عمران علی دونوں کا پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ موجود تھا
پولیس کے مطابق سہیل شہزادہ چونیاں واقعات کے بعد لاہور فرار ہو گیا تھا جبکہ پولیس نے اسے لاہور سے چونیاں بلوایا تھا۔ جبکہ دوسری جانب عمران علی کو جب پہلی مرتبہ تفتیش کے لیے بلوایا گیا تو اس نے دل میں تکلیف کا بہانہ بنا کر ڈی این اے ٹیسٹ نہ کروانے میں کامیاب ہوا تھا۔

تاہم ماہرنفسیات ڈاکٹر فراح ملک کے مطابق ’ایسے افراد جرم کر کے تفتیش سے فرار اس لیے حاصل کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ غلط فعل نہیں ہے۔‘

چونیاں واقعے کا ملزم سہیل شہزادہ کون تھا؟
چونیاں کا رہائشی 27 سالہ سہیل شہزادہ اپنے والدین کے ہمراہ رانا ٹاؤن کے علاقے میں رہتا تھا۔

سہیل شہزادہ کے پڑوسی امجد اور فاطمہ بی بی کے مطابق انھوں نے اس شخص کو اس گھر میں زیادہ آتے جاتے نہیں دیکھا جبکہ سہیل شہزادہ کے محلے دار اشرف نے بتایا کہ ’چند ماہ پہلے سہیل اور اس کے گھر والوں میں جھگڑا ہوا تو ہم نے ان کو چھڑوایا تھا۔ اس وقت ہم نے اسے (سہیل) دیکھا تھا۔‘

آر پی او سہیل تاجک کے مطابق سہیل شہزادہ کے کل نو بہن بھائی ہیں جن میں چھ بھائی اور تین تین بہنیں ہیں۔

سہیل شہزادہ تمام بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے۔

سہیل شہزادہ اور اس کا چھوٹا بھائی رکشہ چلاتے تھے۔ رانا ٹاؤن کے دوکانداروں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ سہیل ان کے پاس مزدوری کے غرض سے آتا تھا۔

تاہم اس واقعے کے بعد پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سہیل شہزادہ کے تمام گھر والوں کو چونیاں سے کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے جبکہ سہیل شہزادہ اب 15روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں ہیں۔

109096856_5588346c-d560-4f22-ae63-65c67e9e988f-1.jpg
 

سلیم ستار

محفلین
عجیب و غریب ملک ہے۔ 1999 میں 100 بچوں سے جنسی زیادتی کے بعد ان کو قتل کرنے والا بھیڑیا جاوید اقبال بھی ماضی میں ایک بچے کے ساتھ زیادتی کے بعد جیل کی ہوا کھا چکا تھا۔ ناروے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی سزا قتل کی سزا سے زیادہ یعنی کم از کم 21 سال ہے۔

وللہ میں بھی بلکل یہی سوچ رہا تھا کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ جس منصف نے ایسی مضحکہ خیز سزا دی، کیا وہ اس جرم میں شامل نہیں؟
 
Top