قتیل شفائی چاندی جیسا رنگ ھے تیرا سونے جیسے بال -قتیل شفائی

چاندی جیسا رنگ ھے تیرا سونے جیسے بال
ایک تو ھی دھنوان ھے گوری باقی سب کنگال

ھر آنگن میں سجے نہ تیرے اجلے روپ کی دھوپ
چھیل چھبیلی رانی تھوڑا گھونگھٹ اور نکال

بھر بھر نظریں دیکھیں تجھ کو آتے جاتے لوگ
دیکھ تجھے بدنام نہ کر دے یہ ھرنی جیسی چال

بیچ میں رنگ محل ھے تیرا کھائی چاروں اور
ھم سے ملنے کی اب گوری تو ھی راہ نکال

یہ دنیا ھے خود غرضوں کی لیکن یار قتیل
تو نے ھمارا ساتھ دیا تو جئے ہزاروں سال

قتیل شفائی
 
پنکج اداس نے اس غزل کو تھوڑی تضمین کے ساتھ گایا ہے:

یہاں سنیں
شاعری:

چاندی جیسا رنگ ہے تیرا، سونے جیسے بال
ایک تُو ہی دھنوان ہے گوری، باقی سب کنگال

جس رستے سے تُو گزرے، وہ پھولوں سے بھر جائے
تیرے پیر کی کومل آہٹ سوتے بھاگ جگائے
جو پتھر چھولے گوری تُو، وہ ہیرا بن جائے
تُو جس کو مل جائے وہ ہوجائے مالا مال

ایک تُو ہی دھنوان ہے گوری، باقی سب کنگال
چاندی جیسا رنگ ہے تیرا، سونے جیسے بال
ایک تُو ہی دھنوان ہے گوری، باقی سب کنگال


جو بے رنگ ہو اُس پر کیا کیا رنگ جماتے لوگ
تُو نادان، نہ جانے کیسے رنگ چراتے لوگ
نظریں بھر بھر دیکھیں تجھ کو آتے جاتے لوگ
چھیل چھبیلی رانی تھوڑا گھونگھٹ اور نکال

ایک تُو ہی دھنوان ہے گوری، باقی سب کنگال
چاندی جیسا رنگ ہے تیرا، سونے جیسے بال
ایک تُو ہی دھنوان ہے گوری، باقی سب کنگال


گھنک، گھٹا، کلیاں اور تارے، سب ہیں تیرا روپ
نظمیں ہوں یا گیت ہوں میرے، سب میں تیرا روپ
یونہی چمکتی رہے ہمیشہ تیرے حسن کی دھوپ
تجھے نظر نہ لگے کسی کی جیو ہزاروں سال

ایک تُو ہی دھنوان ہے گوری، باقی سب کنگال
چاندی جیسا رنگ ہے تیرا، سونے جیسے بال
ایک تُو ہی دھنوان ہے گوری، باقی سب کنگال
 
Top