چار اشعار برائے تنقید و اصلاح

مزمل حسین

محفلین
محترم اساتذۂ کرام:
محمد یعقوب آسی صاحب
الف عین صاحب
آپ سے تنقید و اصلاح کی درخواست ہے۔ نظرِ کرم فرمائیں۔

دبا کر خواہشِ لطفِ گنہ دل میں کئی راتیں
نمودِ پارسائی میں عبث برباد کیں میں نے

وہ سوتا دیکھ کر مجھ کو مرے ماتھے پہ بوسہ دے
اسے دیکھا جو بالیں پر تو آنکھیں میچ لیں میں نے

تھی ایسی تشنگی اُس شب، غٹاغٹ ایک ہی دم میں
ہوا جامِ طرب خالی، سو باچھیں صاف کیں میں نے

نئی طرزِ سخن دیکھی جو محفل میں تو مزملؔ
پرانے ڈھب کی سب غزلیں گلی میں پھینک دیں میں نے
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
مزمل کا درست تلفظ استعمال کرنے پر پہلے تو بہت مبارکباد!!!
پہلے شعر میں محض خواہشِ گنہ کافی ہے، خواہش لطف گنہ مجہول ہے۔
اسی طرح محض پارسائی کافی ہے، نمود کی ضرورت محض اوزان مکمل کرنے کی غرض سے لگتا ہے۔
دوسرے شعر میں ’یہ خواہش تھی‘ کی بھی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ محض ماتھے پر بوسے کی خواہش!!
باقی درست ہیں۔
 

مزمل حسین

محفلین
مزمل کا درست تلفظ استعمال کرنے پر پہلے تو بہت مبارکباد!!!
پہلے شعر میں محض خواہشِ گنہ کافی ہے، خواہش لطف گنہ مجہول ہے۔
اسی طرح محض پارسائی کافی ہے، نمود کی ضرورت محض اوزان مکمل کرنے کی غرض سے لگتا ہے۔
دوسرے شعر میں ’یہ خواہش تھی‘ کی بھی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ محض ماتھے پر بوسے کی خواہش!!
باقی درست ہیں۔
۔
استادِ محترم، آپ کی توجہ کے لئے ممنون و متشکر ہوں۔ اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے!

احتراماً عرض کرنا چاہوں گا کہ پہلے شعر میں نمود کا لفظ محض وزن کے لئے نہیں بلکہ ضرورتاً باندھا ہے۔
مراد یہ ہے کہ پارسائی واقعتاً نہیں، محض اچھا تاثر دینے کے لئے دکھاواتاً اختیار کی تھی جب کہ گنہ سے لطف کشید کرنے کی خواہش دل میں موجود تھی۔ اب اگر ''نمود'' کو نکال دوں تو مضون ہی بدل جائے۔ شاید صحیح ابلاغ نہیں ہو سکا۔

"دوسرے شعر میں ’یہ خواہش تھی‘ کی بھی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ محض ماتھے پر بوسے کی خواہش!!"​

"یہ خواہش تھی وہ مجھ کو نیند میں شفقت سے بوسہ دے
اسے دیکھا جو بالیں پر تو آنکھیں میچ لیں میں نے"
یہ کیسا رہے گا؟
اور "محض ماتھے پر بوسے کی خواہش" فقط ایک خواہش ہے۔

مزید یہ کہ ابھی ابھی مطلع ہوا ہے اس پر بھی نظر ڈال لیں۔

وہ ہڈیاں دیر تک پہلے کبابوں میں چکھیں میں نے
بالآخر بالیاں کانوں سے باہر کھینچ لیں میں نے

''ہڈیاں" اور "چکھیں'' کو میں نے بر وزن ''باہر" اور "نہیں'' (بالترتیب) قیاس کیا ہے جب کہ درست تلفظ کا مجھے علم نہیں اور ''ہڈیاں'' کا تلفظ کھٹک رہا ہے۔
اپنی رائے سے نوازیں۔
سر محمد یعقوب آسی صاحب! آپ سے بھی مہربانی کی درخواست ہے۔
 
محترم اساتذۂ کرام:
محمد یعقوب آسی صاحب
الف عین صاحب
آپ سے تنقید و اصلاح کی درخواست ہے۔ نظرِ کرم فرمائیں۔

دبا کر خواہشِ لطفِ گنہ دل میں کئی راتیں
نمودِ پارسائی میں عبث برباد کیں میں نے

وہ سوتا دیکھ کر مجھ کو مرے ماتھے پہ بوسہ دے
اسے دیکھا جو بالیں پر تو آنکھیں میچ لیں میں نے

تھی ایسی تشنگی اُس شب، غٹاغٹ ایک ہی دم میں
ہوا جامِ طرب خالی، سو باچھیں صاف کیں میں نے

نئی طرزِ سخن دیکھی جو محفل میں تو مزملؔ
پرانے ڈھب کی سب غزلیں گلی میں پھینک دیں میں نے

گناہ کی خواہش یا گناہ کا لطف، کوئی سی بات ہوتی تو قابلِ قبول ہوتی۔ گناہ کے لطف کی خواہش کیا ہوئی! شعر بن ہی نہیں پایا۔
بالیں پر ۔ اور۔ سرِ بالیں ۔۔ معانی میں فرق واقع ہو جاتا ہے۔ سودا کا شورِ قیامت والا شعر بہت مشہور ہے۔
غٹا غٹ اور ایک ہی دم؟ تکرار کیوں؟ باچھیں صاف کیں: مجھے یہ ادب سے فرو تر محسوس ہوا ہے۔
مزمل کی یہ بندش مکمل طور پر درست ہے، اگر آپ اس کو دیگر اشعار میں بھی برقرار رکھیں نہیں تو اسے محض اتفاق سمجھا جائے گا۔ نئی طرز سخن ضرور اپنائیے مگر شعر کو شعر کے مقام سے گرنے نہ دیجئے۔
 
وہ ہڈیاں دیر تک پہلے کبابوں میں چکھیں میں نے
بالآخر بالیاں کانوں سے باہر کھینچ لیں میں نے
گستاخی معاف، میرے نزدیک یہ سرے سے شعر ہے ہی نہیں۔

اسی مراسلے میں آپ نے ایک لفظ وضع کیا ہے "دکھاواتاً" ۔۔ اب اس پر کیا عرض کیا جائے!
 

مزمل حسین

محفلین
استادِ محترم محمد یعقوب آسی صاحب، میں آپ کا تہہِ دل سے شکر گذار ہوں کہ اضمحلالِ قویٰ کے با وجود آپ نے اپنا قیمتی وقت صرف کیا۔ اللہ پاک آپ کو صحت و تندرستی عطا فرمائے!

"گناہ کی خواہش یا گناہ کا لطف، کوئی سی بات ہوتی تو قابلِ قبول ہوتی۔ گناہ کے لطف کی خواہش کیا ہوئی! شعر بن ہی نہیں پایا۔"​
بہت بہتر سر!

"بالیں پر ۔ اور۔ سرِ بالیں ۔۔ معانی میں فرق واقع ہو جاتا ہے۔ سودا کا شورِ قیامت والا شعر بہت مشہور ہے۔​
غٹا غٹ اور ایک ہی دم؟ تکرار کیوں؟ باچھیں صاف کیں: مجھے یہ ادب سے فرو تر محسوس ہوا ہے۔"
آپ کا تبصرہ میرے لئے اس وجہ سے اہم ہے کہ آپ محض اوزان کی درستی پر اکتفا نہیں فرماتے۔ بالیں پر اور سرِ بالیں کا فرق میرے گمان میں تھا ہی نہیں۔ علاوہ ازیں، معنوی تکرار اور اور باچھیں صاف کرنا اس کا کچھ تو احساس تھا دل میں، آپ نے بات واضح کر دی۔

"مزمل کی یہ بندش مکمل طور پر درست ہے، اگر آپ اس کو دیگر اشعار میں بھی برقرار رکھیں نہیں تو اسے محض اتفاق سمجھا جائے گا۔"
سر اس کی مجھے سمجھ نہیں آئی۔

"نئی طرز سخن ضرور اپنائیے مگر شعر کو شعر کے مقام سے گرنے نہ دیجئے۔"

"گستاخی معاف، میرے نزدیک یہ سرے سے شعر ہے ہی نہیں۔"​

سر دست بستہ عرض ہے کہ ادب کے حوالے سے جاہلِ مطلق ہوں اور طفلِ مکتب ہونے کے ناطے میرے لئے آپ کی راہنمائی اور اردو محفل کا پلیٹ فارم کسی نعمت سے کم نہیں۔ میری بونگیوں پر آپ کی قیمتی آرا کا بہت بہت شکریہ!

"اسی مراسلے میں آپ نے ایک لفظ وضع کیا ہے "دکھاواتاً" ۔۔ اب اس پر کیا عرض کیا جائے!"
اسے میری جہالت ہی کہیے۔ راہنمائی کا متمنی ہوں۔​
 
صفتِ تنوین ۔۔۔۔۔۔۔ نسلاً بعد نسلٍ، اتفاقاً، اصولاً، مثلاً، فوراً، حقیقتاً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ عربی سے آمدہ اسماء و افعال کے ساتھ خاص ہے۔ دکھاوا عربی نہیں ہے۔ عربی میں دو چشمی ھ والے مرکب حروف بھ، پھ، تھ، ٹھ وغیرہ نہیں ہوتے۔
 
کسی وقت ایک زحمت فرمائیے گا؛ میرے بلاگ کا چکر لگائیے گا "مِری آنکھیں مجھے دے دو"۔
وہاں 114 کے قریب آرٹیکل رکھے ہیں، ممکن ہے آپ کے کام کی کوئی چیز مل جائے۔
 

الف عین

لائبریرین
نمود کا مطلب دکھاوا کب سے ہو گیا ؟
نیا شعر سمجھ میں بھی نہیں آیا۔ ہڈیاں میں ڈال پر تشدید ہونی چاہئے۔
 

مزمل حسین

محفلین
کسی وقت ایک زحمت فرمائیے گا؛ میرے بلاگ کا چکر لگائیے گا "مِری آنکھیں مجھے دے دو"۔
وہاں 114 کے قریب آرٹیکل رکھے ہیں، ممکن ہے آپ کے کام کی کوئی چیز مل جائے۔

آج ہی وزٹ کیاہے۔ مجھ جیسےاردو سے نا بلد شخص کے لئے یہ بلاگ تو واقعی بہت کار آمد ہے۔ "pin tab" کر لیا ہے۔ وقتاً فوقتاً استفادہ کرتا رہوں گا۔ آپ کے لئے ڈھیروں دعائیں۔
 

مزمل حسین

محفلین
نمود کا مطلب دکھاوا کب سے ہو گیا ؟

استادِ محترم، روز مرہ گفتگو میں "نمود و نمائش" کی ترکیب کے استعمال سے میں تو یہی سمجھا تھا اور فیروز اللغات میں بھی نمود کا ایک معنی "نمائش" پڑھا تھا۔
باقی آپ بہتر بتا سکتے ہیں۔
 
نمود کا مطلب دکھاوا کب سے ہو گیا ؟
نہیں، نمود کا مطلب نمو ہونے کا عمل ہے۔
آپ میرے محترم ہیں۔ سو گستاخی معاف، اسے خطائے بزرگان گرفتن پر محمول نہ کیجئے گا۔

نمو کا معنی ہے پنپنا، پروان چڑھنا، روئیدگی، بالیدگی، افزائش (فرہنگِ تلفظ: شان الحق حقی) نمودار اس سے ہے معنی: ظاہر، آشکارا، پیدا (ایضاً)۔ ’’نمودار‘‘ میں ’’دار‘‘ لاحقہ ہے، لفظِ اصلی ’’نمو‘‘ ہے۔
نمودن (مصدر) کا معنی ہے دکھانا۔ مضارع: نماید۔ اسی سے حاصل مصدر نمایش ہے (اردو والے نماید اور نمایش کی ی کو ہمزہ بھی لکھتے ہیں)۔ ’’نما‘‘ اور ’’نمایاں‘‘ اسی سے ہیں۔
نمود: ظہور، نمایاں ہونا، نظر آنا، جلوہ، جھلک، نمائش، رونق، تابداری۔ مرکب ’’نمودِ بے بود‘‘ کا مطلب ہے: جھوٹی نمائش، وہم، سراب۔ (ایضاً)
بارِ دگر جسارت کے لئے معذرت خواہ ہوں۔
 
آخری تدوین:
وہ ہڈیاں دیر تک پہلے کبابوں میں چکھیں میں نے
بالآخر بالیاں کانوں سے باہر کھینچ لیں میں نے
یہ شاید پہلے ہی خذف ہو گیا ہے۔۔ ۔۔ اس شعر کالہجہ کچھ بے باک سا لگتا ہے
 

مزمل حسین

محفلین
سر الف عین صاحب، ایک کوشش کی ہےسدھارنے کی:

محبت کی بوقتِ مرگ جب چیخیں سنیں میں نے
تو فوراً انگلیاں کانوں میں اپنے ٹھونس لیں میں نے

کفِ افسوس مَلتا ہوں، بہت سی قیمتی راتیں
نمودِ پارسائی میں عبث برباد کیں میں نے

تھی ایسی تشنگی اس شب، غٹاغٹ ہو گیا خالی
طرب کا جام، اور کچھ یوں کہ جیسے پی نہیں میں نے

یہ خواہش تھی وہ شفقت سے مرے ماتھے پہ بوسہ دے
سرِ بالیں اسے دیکھا تو آنکھیں میچ لیں میں نے
 
آخری تدوین:
Top