چائے یا کافی کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے

جاسم محمد

محفلین

چائے یا کافی کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے

ویب ڈیسک ہفتہ 25 ستمبر 2021

دن میں 4 کپ سےزائد چائے یا کافی پینے والے افراد بلڈ پریشر جیسےامراض کا شکار ہوجاتے ہیں، طبی ماہرین

دن میں 4 کپ سےزائد چائے یا کافی پینے والے افراد بلڈ پریشر جیسےامراض کا شکار ہوجاتے ہیں، طبی ماہرین
طبی ماہرین نے چائے یا کافی کے زیادہ استعمال کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
عام طور پر جب ہمیں نیند کو دور کرنا ہو یا تھکاوٹ کا شکار ہوں تو فوراً چائے یا کافی پی لیتے ہیں جس سے ہمارا دماغ فوراً فعال ہوجاتا ہے، جسم میں توانائی آجاتی اور ہم اپنے کاموں کو اچھی طرح سے انجام دیتے ہیں، بعض لوگوں کو چائے یا کافی کی اتنی عادت ہوتی ہے کہ انہیں پر ایک یا 2 گھنٹے بعد چائے یا کافی کی طلب ہوتی ہے تاہم طبی ماہرین کے مطابق دن میں 4 سے زیادہ کپ چایے یا کافی پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ دن میں 4 کپ چائے یا کافی پی رہے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر آپ اس سے زیادہ چایے یا کافی پینے کے عادی ہیں تو پھر خطرے کی بات ہے، کیوں کہ ایسا کرنا آپ کو نہ صرف بے چینی، اضطراب اور تھکاوٹ میں مبتلا کردے گا بلکہ آپ نیند نہ آنے اور بلڈ پریشر جیسے امراض کا شکار بھی ہوجائیں گے۔
طبی ماہرین کے مطابق چائے یا کافی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے آپ صرف گرین ٹی کا استعمال کرسکتے ہیں کیوں اس میں شامل اینٹی آکسیڈنت بیکٹیریا کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاہ ادرک والی چائے بھی کافی کا بہترین متبادل ہے۔
ہلدی ملا دودھ بھی کافی یا چائے کی طلب کو پورا کرنے کا بہترین طریقہ ہے، اس میں شامل اجزا سے نہ صرف قوت مدافعت بڑھتی ہے بلکہ دیگر لحاظ سے بھی صحت کے لیے کارآمد ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق لیموں پانی پینے سے بھی چائے کی طلب کو پورا کیا جاسکتا ہے، اس میں شامل وٹامن سی نہ صرف جلد بلکہ قوت مدافعت کے لیے بھی صحت بخش ہے۔
 

سیما علی

لائبریرین
بعض لوگوں کو چائے یا کافی کی اتنی عادت ہوتی ہے کہ انہیں پر ایک یا 2 گھنٹے بعد چائے یا کافی کی طلب ہوتی ہے تاہم طبی ماہرین کے مطابق دن میں 4 سے زیادہ کپ چایے یا کافی پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
جاسم میاں اب تو جو خراب عادتیں پڑ گئیں سو پڑ گئیں چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافی لگی ہوئی ۔۔۔
اور چائے کے بغیر۔ بھی۔ کوئی صبح ہے۔۔۔۔۔۔
 
اینھاں طبیی ماہریناں دا حدود اربعہ کی اے ؟ مینوں یقین اے کہ اینھاں وچوں کوئی وی چین، سیلون، بھارت، جاپان، ترکی، ارجنٹائین، تے کینیا وغیرہ دا نہیں ہونا۔
 

سید عمران

محفلین
گئے دنوں کی بات ہے جب مہمانوں کی خاطر تواضع دودھ لسی پھل فروٹ حلوہ مانڈے کھیر فیرنی سے کی جاتی تھی۔ تب تک چائے کی مصیبت دریافت نہیں ہوئی تھی۔ آج جہاں جاؤ میزبان چائے کا پوچھتے ہیں۔ دن میں شادی کارڈ بانٹنے دس جگہ جانا ہو تو کون دس پیالی چائے پی سکتا ہے۔ جو پی سکتا ہے وہ زیادہ نہیں جی سکتا ہے۔ اور جب تک جیے گا لاغر و کمزور رہے گا، بیماریوں کی پوٹ بنا رہے گا۔
ایک صاحب کو اسی طرح کا سفر در پیش ہوا۔ وہ جہاں جاتے میزبان چائے کا پوچھتے۔ آخر زچ ہوگئے۔ ایک گھر جو گئے اور چائے کا پوچھا گیا تو بھنا کر بولے خبردار جو آئندہ اس منحوس کا نام بھی لیا ہو تو۔ تمہارے گھر پھل سبزیاں دودھ دہی نہیں ہے۔ ارے کچھ نہیں تو ایک گاجر یا ایک ٹماٹر ہی دے دو۔ اس سے ہماری صحت اچھی ہی ہوگی۔ کیوں چائے پلا پلا کے ہماری صحت و زندگی کے دشمن بنے ہوئے ہو۔منحوس چائے نہ لذت نہ صحت، نری ذلت ہی ذلت!!!
 
گئے دنوں کی بات ہے جب مہمانوں کی خاطر تواضع دودھ لسی پھل فروٹ حلوہ مانڈے کھیر فیرنی سے کی جاتی تھی۔ تب تک چائے کی مصیبت دریافت نہیں ہوئی تھی۔ آج جہاں جاؤ میزبان چائے کا پوچھتے ہیں۔ دن میں شادی کارڈ بانٹنے دس جگہ جانا ہو تو کون دس پیالی چائے پی سکتا ہے۔ جو پی سکتا ہے وہ زیادہ نہیں جی سکتا ہے۔ اور جب تک جیے گا لاغر و کمزور رہے گا، بیماریوں کی پوٹ بنا رہے گا۔
ایک صاحب کو اسی طرح کا سفر در پیش ہوا۔ وہ جہاں جاتے میزبان چائے کا پوچھتے۔ آخر زچ ہوگئے۔ ایک گھر جو گئے اور چائے کا پوچھا گیا تو بھنا کر بولے خبردار جو آئندہ اس منحوس کا نام بھی لیا ہو تو۔ تمہارے گھر پھل سبزیاں دودھ دہی نہیں ہے۔ ارے کچھ نہیں تو ایک گاجر یا ایک ٹماٹر ہی دے دو۔ اس سے ہماری صحت اچھی ہی ہوگی۔ کیوں چائے پلا پلا کے ہماری صحت و زندگی کے دشمن بنے ہوئے ہو۔منحوس چائے نہ لذت نہ صحت، نری ذلت ہی ذلت!!!
اسی لیے عدنان بھائی آپ سے چائے کا نہیں پوچھتے۔
 

سیما علی

لائبریرین
منحوس چائے نہ لذت نہ صحت، نری ذلت ہی ذلت!!!
خبردار جو ہماری پیاری راج دلاری چائے کو کچھ کہا :timeout::timeout::timeout::timeout::timeout::timeout::timeout::timeout:
یہاں یہ حال کہ جان چائے پر چائے نہ جائے۔۔۔ادھر اللہ اللہ اتنی گستاخی ہماری جان سے پیاری چائے کی شان میں ۔۔:notlistening::notlistening::notlistening::notlistening::notlistening::notlistening::notlistening::notlistening:
؀
ایک فتویٰ ہم پر بھی۔۔۔
ہم چائے کو جان کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
شمشاد بھیا اب تو آجائیے دیکھے دشمنِ جان چائے کی شان میں کیسی گستاخیاں کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
 

سید عمران

محفلین
خبردار جو ہماری پیاری راج دلاری چائے کو کچھ کہا :timeout::timeout::timeout::timeout::timeout::timeout::timeout::timeout:
یہاں یہ حال کہ جان چائے پر چائے نہ جائے۔۔۔ادھر اللہ اللہ اتنی گستاخی ہماری جان سے پیاری چائے کی شان میں ۔۔:notlistening::notlistening::notlistening::notlistening::notlistening::notlistening::notlistening::notlistening:
؀
ایک فتویٰ ہم پر بھی۔۔۔
ہم چائے کو جان کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
شمشاد بھیا اب تو آجائیے دیکھے دشمنِ جان چائے کی شان میں کیسی گستاخیاں کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
چائے کون سی حیات بخش شے ہے۔۔۔
معدہ سے شروع ہوکر گردے خراب ہونے تک تمام بیماریوں کی جڑ۔۔۔
نہ ہی ذائقہ میں ایسی لذیذ ہے کہ لسی حلوہ شامی کباب کو مات کرسکے۔۔۔
بدمزہ، کسیلی سی مضر صحت چائے!!!
:sick::sick::sick:
 

سید عمران

محفلین
اسے بھی غنیمت جانیے، ورنہ بات پان سے پانی پر بھی پہنچ سکتی ہے۔
ہمارے کنجوس بھیا پانی پلا دیں وہ بھی بڑی بات ہے۔۔۔
ورنہ وہ والا محاورہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ فلاں تو کسی کو اپنا بخار بھی نہ دے۔۔۔
اور وہ والا لطیفہ بھی سنا ہوگا کہ ایسے ہی ایک صاحب کے پاس ان کا غصہ سے بھرا بیٹا آیا اور بولا ابا ابا سامنے والا پڑوسی آپ کو گالیاں دے رہا ہے۔۔۔
ابا نے کہا شانت ہوجا بیٹا، کچھ دے ہی تو رہا ہے لے تو نہیں رہا!!!
:rolleyes::rolleyes::rolleyes:
 

محمداحمد

لائبریرین
اگر آپ دن میں 4 کپ چائے یا کافی پی رہے ہیں تو ٹھیک ہے

یعنی ٹھیک ہی ہے۔ :)

عموماً چائے ہم چار کپ ہی پیتے ہیں۔ گرمیوں میں تو کبھی کبھی تین پر ہی بس ہو جاتی ہے۔

سردیوں میں البتہ کبھی کبھی پانچ بھی ہو جاتے ہیں۔ :)
 

جاسمن

مدیر
یعنی ٹھیک ہی ہے۔ :)

عموماً چائے ہم چار کپ ہی پیتے ہیں۔ گرمیوں میں تو کبھی کبھی تین پر ہی بس ہو جاتی ہے۔

سردیوں میں البتہ کبھی کبھی پانچ بھی ہو جاتے ہیں۔ :)
مجھے بھی یہ پڑھ کے تسلی سی ہو گئی ہے کہ چار کپ پیتی ہوں تو مطلب میری صحت بالکل ٹھیک ہے الحمدللہ۔:)
 

سیما علی

لائبریرین
مجھے بھی یہ پڑھ کے تسلی سی ہو گئی ہے کہ چار کپ پیتی ہوں تو مطلب میری صحت بالکل ٹھیک ہے الحمدللہ۔:)
بالکل ٹھیک ہے ماشاء اللہ بٹیا کوئی فکر کی بات نہیں جب ہم سات کپ پی کر ٹھیک ہیں الحمد للہ تو بالکل فکر نہیں
 

سیما علی

لائبریرین
چائے کون سی حیات بخش شے ہے۔۔۔
تحقیق کے نتائج طبی جریدے برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئے
1۔یونیورسٹی آف لندن کے شعبہِ وبائی امراض اور صحت عامہ کہ پروفیسر اینڈریو سٹیپٹو کہتے ہیں کہ ایک تحقیق کے مطابق سیاہ چائے (بلیک ٹی) پینے سے 'دن بھر کے کام کاج کی تھکن کے دباؤ کو کم کرنے میں تیزی سے مدد مل سکتی ہے۔' تاہم وہ مزید کہتے ہیں کہ 'ہمیں اس کا علم نہیں ہے کہ چائے کے وہ کون سے اجزا ہیں جو دباؤ سے بہتر حالت میں لانے اور پرسکون بنانے کا سبب بنے۔'۔۔۔۔۔
2-ساﺅتھ ہیمپٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں ایک کپ کافی یا چائے میں موجود کیفین ہیپٹوسیلولر کینسر کاخطرہ 20 فیصد کم کرتی ہے، جبکہ 2 کپ پینے سے یہ خطرہ 35 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3-جون ہوپکنز یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کیفین طویل المعیاد یاداشت کو بہتر کرسکتی ہے، تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ تو پہلے سے معلوم ہے کہ کیفین دماغی افعال کو بہتر بنانے کا اثر رکھتی ہے مگر پہلی بار جانا گیا ہے کہ یہ یادوں کو بھی مضبوط کرکے انہیں فراموش ہونے سے روکتی ہے۔
4-جون ہوپکنز یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کیفین طویل المعیاد یاداشت کو بہتر کرسکتی ہے، تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ تو پہلے سے معلوم ہے کہ کیفین دماغی افعال کو بہتر بنانے کا اثر رکھتی ہے مگر پہلی بار جانا گیا ہے کہ یہ یادوں کو بھی مضبوط کرکے انہیں فراموش ہونے سے روکتی ہے۔
5-مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دل کی بے ترتیب دھڑکن کے شکار افراد اگر کیفین کا استعمال معمول بنائے تو اس مرض کی شدت میں 6 سے 13 فیصد تک کمی آتی ہے۔
جناب آپکی دل کی دھڑکن کو بے ترتیب ہونے سے بچائے گی🤓🤓
 
آخری تدوین:
Top