پیمرا نے نواز شریف سمیت دیگر مفرور اشتہاری مجرموں کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی لگا دی

جاسم محمد

محفلین
بولنے دَو جو بَولنا چاہے، کب تک پہرے بٹھاؤ گے، مفرُور تو کپتان خُود بھی تھا کبھی اور صُبح شام انٹرویو دِیا کرتا تھا۔
پٹیشن اصل میں انسانی حقوق سے متعلق ہی تھا مگر جب عدالت میں فائل ہوا تو سزا یافتہ مجرموں، اشتہاریوں کے حقوق میں تبدیل ہو گیا۔ :)
شریف خاندان کے سینیر لفافی نجم سیٹھی نے دیگر سینیر لفافیوں کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ اب سب منہ چھپاتے، وضاحتیں دیتے پھر رہے ہیں :)

میں نے پٹیشن سے نام کیوں واپس لیا؟
پچھلے دنوں میں نے ایک پٹیشن سے نام واپس لے لیا جس پر طرح طرح باتیں بنیں۔ آج اسی کے بارے میں حقائق آپ کی خدمت میں رکھ رہی ہوں۔

نسیم زہرہ سینیئر صحافی، مصنفہ NasimZehra@
اتوار 22 نومبر 2020 6:15

119251-1710233338.jpg

(اے ایف پی)

‎اسلام آباد ہائی کورٹ میں چار روز قبل کے Absconder rights کے حوالے سے ایک پٹیشن دائر ہوئی تھی جس پربہت سے جائز سوالات اٹھے، کچھ مہمل باتیں کی گئی ہیں اور عادتاً میر جعفر جیسے لغو القابات استعمال کیے گئے۔

یہ پٹیشن پی ایف یو جے، ہیومن رائٹس آف پاکستان اور مجھ سمیت کئی صحافیوں کی جانب سے دائر کی گئی جس سے مجھ سمیت کئی صحافیوں نے اسے واپس لے لیا، جس کے بعد یہ باتیں پھیلائی گئیں کہ یہ لوگ اس لیے پیچھے ہٹے ہیں کچھ دباؤ آ گیا ہو گا۔ میں نے سوچا اسی بارے میں کچھ حقائق آپ کے سامنے پیش کر دوں۔

‎آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ پٹیشن کس طریقے سے فائل کی گئی۔ کچھ ہفتوں پہلے نجم سیٹھی صاحب نے فون کیا اور کہا کہ میڈیا کی آزادی اور آزادی اظہار رائے کے حوالے سے ہمیں کچھ فائل کرنا چاہیے کہ چینل کیا دکھا سکتے ہیں کیا نہیں دکھا سکتے اور اس کے بعد جو صحافیوں کے ساتھ ہو رہا ہے کہ صحافیوں کو اٹھایا جا رہا ہے، یا چینل بند کیے جا رہے ہیں اور مختلف طریقے کی قدغنیں لگائی جاتی ہیں کہ پی ٹی ایم پر بات نہیں ہو سکتی، ٹی ایل پی پر بات نہیں ہوسکتی اور میڈیا پرغداری یا ہندوستانی ایجنٹ کی تہمتیں لگانا وغیرہ۔

اس پر ہم ہمیشہ موقف لیتے ہیں۔ میں اپنے پروگراموں میں موقف لیتی ہوں، اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایسی ہر کوشش کا حصہ بنی اور یہ بڑی واضح بات ہے اس میں تو کوئی کمپرومائز ہو ہی نہیں سکتا اور جہاں جہاں جہدوجہد ہو اس حوالے سے اظہار کی آزادی کے معاملے اور ذمہ دارانہ صحافت کے لیے ضرور کھڑے ہوں گے۔ اگر صحافیوں کو بے بنیاد پراپیگنڈا کر کے انڈین ایجنٹ یا غدار کہا جائے اس کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے، چاہے پیمرا کرے چاہے پیمرا کے پیچھے چھپی حکومت کرے یا اسٹیبلشمنٹ کرے، ہم اس کے خلاف بولیں گے، بولتے ہیں اور بولتے رہیں گے۔

یہ بات واضح رہے کہ تاریخ، بین الاقوامی امور اور پاکستانی سیاست کے حوالے سے میرا جو مشاہدہ ہے اور قائداعظم کے پاکستان پر میرا ایمان ہے، اس کی بنا پر میں ایشوز پر ہمیشہ پوزیشن لوں گی البتہ بحیثیت صحافی ہر مسئلے کے ہر پہلو کو لوگوں کے سامنے لانا میری ذمہ داری ہے

‎بہرحال تو اس پر یہ بات ہوئی کہ ایک پٹیشن دائر ہونی چاہیے اور جب نجم سیٹھی صاحب نے کہا تو ہم نے کہا کہ بالکل ہم بھی اس کا حصہ ہیں۔ اس کے بعد پانچ چھ روز پہلے نجم سیٹھی صاحب کی طرف سے ایک دو فون آئے کہ پٹیشن بالکل تیار ہے تو حلف نامہ اور وکالت نامہ آپ کو بھیجنا ہے اس پر دستخط کر دیں۔ میں نے کہا کہ میں لاہور میں اپنے بھانجے کی شادی میں ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ کہاں بھیجیں؟ میں نے بتا دیا تو وکالت نامہ بھی آ گیا اور حلف نامہ بھی آ گیا۔ حلفہ نامہ آپ جانتے ہیں کہ ایک ڈاکیومنٹ ہے، مختصر حلف نامہ بھی ہو سکتا ہے اور تفصیلی بھی، مختصر حلف نامہ وہ ہوتا ہے جو آپ حلف دے رہے ہیں کہ اس پٹیشن میں جو کچھ ہے وہ درست ہے اور میں سپورٹ کرتا ہوں یا کرتی ہوں اور دوسرا یہ کہ لمبا حلف نامہ ہوتا ہے جس میں پٹیشن کا مواد بھی لکھا جاتا ہے۔

ہمارے پاس ایک مختصر حلف نانہ اور ایک پاور آف اٹارنی آیا۔ وہ میں نے سلمان اکرم راجہ صاحب کے دفتر سے منگوایا اور میں نے ان دونوں دستاویزات پر دستخط کیے اور بھجوا دیے۔ پھر نجم سیٹھی صاحب کو فون کیا جو انہوں نے ریسیو نہیں کیا تو انہیں وائس میسج بھیجا جس میں ان کو بتایا کہ میں نے وکالت نامے اور حلف نامے پر دستخط کر کے بھیج دیے ہیں، لیکن میں پٹیشن فائل کرنے سے پہلے ایک مرتبہ دیکھنا چاہتی ہوں۔

ان کا بھی جواب آ گیا کہ سلمان اکرم راجہ اس پٹیشن کو فائنل کر کے آپ کو بھیج دیں گے۔ پھر ایک دن کے بعد شام میں میں نے دیکھا کہ سوشل میڈیا پر کچھ چل رہا ہے کہ کچھ صحافیوں نے نواز شریف کی آزادیِ اظہار کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن فائل کی ہے اور اس میں میرا نام بھی تھا۔

اس پر مجھے حیرانی ہوئی۔ میں نے اپنا فون چیک کیا تو اس میں نجم سیٹھی صاحب نے پٹیشن کی کاپی مجھے وٹس ایپ پر بھیجی ہوئی تھی۔ نجم سیٹھی صاحب نے میرے مانگنے کے کچھ گھنٹوں بعد جیسے ہی پٹیشن تیار ہوئی مجھے بھیجی تھی، لیکن فون نہیں آیا تھا۔ میں مصروف تھی اس لیے وٹس ایپ چیک نہیں کیا۔

اب جو وٹس ایپ دیکھا تو وہ پیٹیشنAbsconders rights کے حوالے سے تھی اور اس میں بہت سے قانونی نکات اٹھائے ہوئے تھے۔ جو ہماری بات چیت تھی وہ میڈیا کے حوالے سے تھی وہ تو اس میں نہیں تھا لیکن یہ پٹیشن Absconders rights کے حوالےسے تھی ان کے حقوق کیا ہیں اور Prayers یہ تھی کہ پیمرا کے جو ایک دو آرڈیننس تھے ان احکامات کو ختم کیا جائے اور ان احکامات کو اگر ختم کیا جاتا ہے تو اس سے فائدہ براہ راست نواز شریف کو ہوتا۔

مجھے یہ درست نہیں لگا کہ ایک فرد واحد کے لیے کیوں پیٹشن فائل ہو، ہماری بات چیت تو میڈیا کے لیے تھی جس کو ہٹا کر ایک فرد واحد کے لیے کردیا گیا جس کا براہ راست فائدہ فرد واحد کو پہنچ رہا تھا۔

میں یہ بتاتی چلوں کہ میاں نواز شریف کے حوالے سے جو ان پر پابندی لگائی ان کی تقاریر وغیرہ پر تو اپنے پروگراموں اور ٹوئٹر پر بھی مسلسل میں نے کہا ہے کہ یہ ڈبل سٹینڈرڈ ہیں۔ پرویز مشرف کو بولنے دیا ان کے انٹرویوز آتے رہے ہیں۔ ماضی میں احسان اللہ احسان اور سزائے موت کے قیدی صولت مرزا کے انٹرویو یا اقبالی بیان نشر کیے گئے ہیں۔ اس پٹیشن کو اس پیرائے میں دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس کی بات پبلک کی جانی چاہیے یا نہیں۔ یہ جائز سوال ہے اور اس پر قانونی بات اٹھانا بنتا ہے۔

یقینا آج کے حوالے سے جو سوال ہے وہ ایچ آر سی پی کا اٹھانا بنتا ہے۔ اس سے قبل بھی ایچ آر سی پی اس ملک کا ضمیر بن کر اس ملک کے ہر طبقے کا سوال اٹھاتی رہی ہے یا پھر وہ صحافی جو سمجھیں کہ یہ بات اٹھانا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ پٹیشن جس اس کا تعلق فرد واحد سے ہے تو یہ ایشو میڈیا فریڈم کی پٹیشن میں بہت سے ایشوز میں ایک ایشو ہو سکتا ہے، لیکن میرے خیال میں میڈیا فریڈم کی پٹیشن اس ایک ایشو پر مبنی نہیں ہونی چاہیے اور یہ بات حتمی نہیں ہو سکتی۔ یہ پوزیشن ہم لیتے رہے ہیں ان پلیٹ فارمز پر جہاں میں پوزیشن بحیثیت صحافی لے سکتی ہوں۔

بہرحال جب میں نے یہ پڑھا کہ اسے صرف فرد واحد کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور بحیثیت صحافی مجھے لگا کہ میں یہ نہیں کرنا چاہتی اور وسیع تر مفاد میں ہوتا تو میں کرتی، میں نے فوری نجم سیٹھی صاحب کو میسج کیا کہ ہماری تو بات وسیع تر معاملات پر ہوئی تھی لیکن اس کو فرد واحد تک مخصوص کر دیا گیا ہے تو میں اس سے نام واپس لے رہی ہوں۔

پھر میں نے اپنا نام واپس لے لیا اور جمعرات 19 نومبر کی شام کو دستخط کر کے سلمان اکرم راجہ صاحب کو بھیج بھی دیا ان کے دفتر سے جو withdrawal document تھا وہ منگوایا اور اگلے ہی دن یعنی جمعے کی صبح اس کو میں نے ٹویٹ کر دیا کہ میں اس پٹیشن کا حصہ نہیں ہوں۔

اس کے بعد بہت سے سوالات اٹھے جس کے بعد میں نے سوچا کہ یہ حقائق آپ کے سامنے پیش کر دوں تاکہ آپ سب کو جواب مل جائیں۔

آخر میں میں بتانا چاہتی ہوں نہ کسی کا فون آیا اور نہ کسی کا دباؤ تھا اور جس کا یہ کہنا ہے کہ کسی طرح کا دباؤ پڑا تو وہ ضرور اس پر حقائق سامنے لائے۔
 

جاسم محمد

محفلین
یہ محض محکمہٗ زراعت کا پھیلایا ہوا پروپیگنڈا ہے۔ ملک کی تاریخ کے تیس پینتیس سال ضائع کرکے اب انہوں نے ھائیبرڈ سسٹم ایجاد کیا ہے۔
سالہا سال سے ہر پول میں پاکستان آرمی ملک کا سب سے زیادہ اعتماد رکھنے والا محکمہ ہے۔ جبکہ انقلابی جمہوری سیاست دانوں پر عوام سب سے کم اعتماد رکھتے ہیں۔ :)
Army the most trustworthy institution in Pakistan, survey reveals - Pakistan - DAWN.COM
82% Pakistanis trust Pakistan Army more than
any other institute : Survey - PKKH.tv

A573-FB81-A96-F-40-ED-88-BE-D04635-EB6-BF2.jpg

56260ddb69cb4.jpg
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
اب اگر کوئی نااہل عوام کے ووٹ سے حکمران بن گیا ہے تو اسے ہٹانے کا حق بھی عوام ہی کا ہے، چوکیدار کبھی بھی عوام کی طرف سے خود کو ان کا نمائیندہ سمجھ کر یہ کام نہیں کرسکتا۔
کرپشن ہوتی ہے عوام احتساب کرتے ہیں، حمزہ شہباز
چیئرمین نیب کی کیا جرات ہے، اس کی کیا مجال ہے جو مجھے پکڑے، زرداری
جج بغض سے بھرے بیٹھے ہیں، ۵ ججوں نے کروڑوں ووٹ لینے والے کو گھر بھیج دیا، نواز شریف
نیب کو بند کر دیں، شاہد خاقان عباسی
یہ کونسے جمہوری انقلابی رویے ہیں؟ جو سیاست دان اپنے بنائے ہوئے احتساب کے ادارے کو نہیں مانتے، اپنی عدالتوں کے فیصلے نہیں مانتے وہ کس منہ سے چوکیدار کو آئین و قانون پر چلنے کی نصیحتیں کرتے ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
ہم نہ شریفوں کے حامی ہیں اور نہ کسی اور کے، لیکن سیلیکٹڈ کے مخالف ہیں، صرف اس لیے کہ وہ کسی کی انگلی کے اشارے پر سیلیکٹ ہوا، عوام نے اسے منتخب نہیں کیا۔
دھاندلی کا الزام ہر الیکشن کے بعد لگا ہے۔ ۱۹۷۷ کے الیکشن میں آپ کے جمہوری انقلابی بھٹو نے ۴۰ سیٹوں پر دھاندلی کی۔ ۱۹۹۰ کے الیکشن میں آئی ایس آئی نے دھاندلی کر کے جمہوری انقلابی نواز شریف کو وزیر اعظم بنایا۔ ۲۰۱۳ آر اوز کا الیکشن تھا۔ ۲۰۱۸ کا الیکشن محکمہ زراعت نے کروایا۔ یہ الزامات کا سلسلہ ختم ہونے والا نہیں
5-B278-B49-8-A87-4396-A21-C-DFEF3-F4-AC63-A.jpg
 

جاسم محمد

محفلین
کیا آپ اس نفسیاتی بیماری کا نام جانتے ہیں جس میں اغواء کنندہ اپنے اغواء کار کو پسند کرنے لگتا ہے؟
اغوا کار الیکشن والے روز سیکورٹی فراہم کرتے ہیں کیونکہ پولیس کا محکمہ ناکام ہے۔ اغوا کار سیلاب کے بعد پھنسی عوام کو پانی سے نکالتے ہیں کیونکہ محکمہ نکاسی آب ناکام ہے۔ اغوا کار زلزلوں کے بعد ملبہ تلے عوام کو نکالتے ہیں کیونکہ محکمہ فائر برگیڈ ناکام ہے۔ جو کام سرکاری ایمبولینسوں کو کرنا چاہیے وہ چھیپا جیسے نجی این جی اوز کر رہی ہیں۔ عوام جاہل ضرور ہیں پر بیوقوف نہیں ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
ہم نے پاکستان کے عوام کے حقِ حکمرانی پر ڈاکہ ڈالنے والے چوکیداروں کی مخالفت ہی کی ہے۔ جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ حقِ حکمرانی کسی بھی فرد کو تفویض کرنے کا حق صرف اور صرف عوام کا ہے۔ وہ جسے چاہیں تخت پر بٹھائیں، جسے چاہیں اتار دیں۔ یہ حق چوکیداروں کو نہیں دیا جاسکتا۔
لیکن پی ڈی ایم والے جمہوری انقلابی تو آرمی چیف سے کہہ رہے ہیں کہ آئیں ہمارے ساتھ بیٹھیں۔ پھر ہم سب بھائی بھائی ہیں :)
اگر یہ ۱۱ جماعتی اپوزیشن تحریک ووٹ کی عزت کیلئے ہے تو آرمی چیف کو بھائی بھائی بنانے کی پیشکش کیوں کی جا رہی ہے؟
 

جاسم محمد

محفلین
آپ سے بات چیت بالکل بے کار ہے ۔
اگر یہ ۱۱ جماعتی اپوزیشن تحریک ووٹ کی عزت کیلئے ہے تو آرمی چیف کو بھائی بھائی بنانے کی پیشکش کیوں کی جا رہی ہے؟
ذرا اس کی بھی وضاحت کریں۔ کیا آج سے پی ڈی ایم کی قیادت نے عمران خان کو لانے والوں سے دوستی کر لی ہے؟
 

جاسم محمد

محفلین
ایران توران کی باتیں کرنے کے باوجود ہمارا سوال تشنۂ جواب رہ گیا۔
Stockholm Syndrome: Causes, Symptoms, Examples
سارا بجٹ فوج کھا جاتی ہے۔ ملک کے ہر ادارہ اور محکمہ پر فوج قابض ہے۔ اگر فوج اتنی طاقتور ہے جتنا کہ بتایا جاتا ہے تو ذرا دکانداروں، زمینداروں، سرمایہ داروں سے ٹیکس اکٹھا کر کے دکھا دے۔ ساری اکڑ وہیں نکل جائے گی۔
پاکستان کا اوّل و آخر مسئلہ فوج نہیں بلکہ اخراجات و آمدن کا غیر متوازن ہونا ہے۔ سرکار کے پاس آمدن ایکسپورٹ اور ٹیکس سے آتی ہے۔ اور بفضل تعالی ان دونوں میں ہی ملک نے آج تک کوئی ترقی نہیں کی۔
فوجی حکومت ہو یا جمہوری، اس نے آکر ٹیکس و ایکسپورٹ بڑھانے کی خاطر خواہ کوشش نہیں کی۔ ہمیشہ شارٹ کٹ یا آسان راستہ اپنایا جیسے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر ڈالر لے لو، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک سے قرض لے لو، دوست ممالک جیسے سعودیہ و چین سے ڈالر ادھار لے لو۔ ان طور طریقوں سے ملک نہیں چلتے۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی یہ کڑوی گولی کھانی ہوگی۔ اپنی ایکسپورٹ اور ٹیکس بڑھانا ہوگا۔ تب ہی یہ ملک مسلسل معاشی زوال سے باہر نکلے گا۔ دوسرا اور کوئی آسان راستہ جیسے فوج کو بیرکوں میں بھیج دو، فوجی بجٹ کم کر دو، فوجی بزنس ختم کر لو ان سب کا کچھ فائدہ نہیں۔ آپ کے عین جمہوری انقلابی بھٹو نے ۲۲ امیر ترین اور طاقتور خاندانوں کے اثاثہ جات نیشنلائز کر کے دیکھ لیا۔ اس کا کیا نتیجہ نکلا؟

C9-E4-C090-06-A9-47-BA-AF58-02-E4-F3-FA5-AF0.jpg

How to fix Pakistan’s economy - Newspaper - DAWN.COM
 

جاسم محمد

محفلین
ایران توران کی باتیں کرنے کے باوجود ہمارا سوال تشنۂ جواب رہ گیا۔
اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ اس ملک پر اصل میں کون قابض ہے تو سابق چیئر مین ایف بی آر کی یہ دو ٹویٹس پڑھ لیں:
آرمی چئف نے اسی اشرافیہ کو بلوا کر پوچھا تھا کہ بتائیں ملک میں معیشت کو کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے تو یہ سارے اپنے نجی مالی مسائل لے کر بیٹھ گئے تھے۔ طاقتور ترین فوج بھی اس اشرافیہ کے آگے بے بس ہے۔
 
آرمی چئف نے اسی اشرافیہ کو بلوا کر پوچھا تھا کہ بتائیں ملک میں معیشت کو کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے
آئین کی کس شق کی رو سے کوئی دیگر اداروں کو بلوا کر یہ سوال پوچھ سکتا ہے؟ مزید یہ کہ جس کی ذمہ داری ہے وہ نا اہل اس وقت کیا کررہا تھا؟
 

بابا-جی

محفلین
جب تک فَوج اپنے لچھن نہ بدلے گی، آئی مین، کاروبار وغیرہ کو کِسی دائرہء کار میں نہ لائے گی، تب تک وُہ کسی اور سے بھی کُچھ منوا نہیں سکتی۔ فوجی بینکنگ، ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے لے کر بچوں بڑوں کے کھانے مکھن ناشتے تیار کر رہے ہیں اور خُود کاروباری طبقہ بن بیٹھے ہیں تو شبر زیدی نے کیا کر لینا ہے۔ شبر نے یہی کہا ہے کہ خان سیدھا بندہ ہے مگر یِہ جو 'وہ' نامعلوم ہیں، یہی اصل میں مُلک کی جڑوں میں بیٹھے ہُوئے ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
جب تک فَوج اپنے لچھن نہ بدلے گی، آئی مین، کاروبار وغیرہ کو کِسی دائرہء کار میں نہ لائے گی، تب تک وُہ کسی اور سے بھی کُچھ منوا نہیں سکتی۔ فوجی بینکنگ، ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے لے کر بچوں بڑوں کے کھانے مکھن ناشتے تیار کر رہے ہیں اور خُود کاروباری طبقہ بن بیٹھے ہیں تو شبر زیدی نے کیا کر لینا ہے۔ شبر نے یہی کہا ہے کہ خان سیدھا بندہ ہے مگر یِہ جو 'وہ' نامعلوم ہیں، یہی اصل میں مُلک کی جڑوں میں بیٹھے ہُوئے ہیں۔
یہی المیہ ہے۔ اسی لئے ریاست احتساب کرنے میں بھی ناکام ہے کیونکہ احتساب سب کا ہوتا ہے کسی خاص طبقہ کا نہیں۔
اسرائیل، چین، امریکہ وغیرہ میں بھی عسکری و دفاعی کمپنیز کاروبار کرتی ہیں مگر وہ ڈبل روٹی، بچوں کا دودھ اور ہاؤسنگ سوسائیٹیز نہیں بناتی۔ بلکہ ان کی مصنوعات خالصتا دفاعی یا جنگی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ جسے بیرون ملک بیچ کر ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔
53-D05-D4-A-F940-4597-8-D8-A-2-F2-F8-AEFBB01.jpg

اگر پاک فوج بھی جنگی ساز و سامان بناتی جسے ملک سے باہر ایکسپورٹ کیا جا سکتا تو پھر فوجی کاروبار پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ مگر یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ تقریباً تمام عسکری کاروبار سویلین نوعیت کے ہیں جبکہ ہاؤسنگ سوسائیٹیاں ایکسپورٹ نہیں کی جا سکتی جو کہ ملک کی معاشی ترقی پر بوجھ ہیں۔
50 commercial entities being run by armed forces - Pakistan - DAWN.COM
 

جاسم محمد

محفلین
سینئر لفافی نجم سیٹھی کے وی لاگ کے مطابق یہ پٹیشن نواز شریف سے متعلق ہی تھا۔ ان کو اصل تکلیف یہ تھی کہ صحافیوں پر ایک سزا یافتہ مجرم، عدالتوں سے مفرور شخص کی تقاریرنشر کرنے کی پابندی کیوں لگا دی گئی ہے۔ بقول سینئر لفافی کے، نواز شریف تو ملک کا تین بار کا وزیر اعظم رہا ہے، لوگ اس کو سننا چاہتے ہیں۔ اس لئے اگر وہ عدالتوں سے بھاگا ہوا بھی ہے، اور اسی عدالت پر الزامات لگا رہا ہے تو اسےقوم کو سنانا چاہئے۔ یعنی ہمیں آزادی اظہار کے تحت عدالت سے سزا یافتہ مجرموں، اشتہاریوں کی وکالت کا لائسنس دو۔ یہ تھا اس "انسانی حقوق" کی پٹیشن کا اصل مقصد سینئر لفافی کے اپنے الفاظ میں :)
شریف خاندان نے ملک تو لوٹا ہی تھا، ان تیس سالوں میں ملک کی اخلاقیات بھی تباہ و برباد کر کے گئے ہیں۔
 
ہمارے ملک کی زیادہ تر عوام تو فوج کو لانا چاہتی ہے

یہ محض محکمہٗ زراعت کا پھیلایا ہوا پروپیگنڈا ہے۔ ملک کی تاریخ کے تیس پینتیس سال ضائع کرکے اب انہوں نے ھائیبرڈ سسٹم ایجاد کیا ہے۔

یہ لیجیے ھائیبرڈ سسٹم کی تعریف، تاریخ وغیرہ پڑھیے ہمارے اس مضمون میں؛

"محکمۂ زراعت کی جانب سے ھائیبرڈ بیج کا کامیاب تجربہ"
 
Top