پرپال یعنی ایڈی سینس سے پیسہ کمانے کا حکم

مقبول احمد سلفی نے 'اِسلامی تعلیمات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 14, 2021

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی محفلین

    مراسلے:
    56
    پرپال یعنی ایڈی سینس سے پیسہ کمانے کا حکم
    مقبول احمد سلفی/ اسلامک دعوۃ سنٹر ، طائف

    پرپال(Prpal) جس کا موجودہ نام ایڈی سینس (Adisence)ہے ، اس کے صارفین کا کہنا ہے کہ اس کا قیام ۲۰۰۴ میں عمل میں آیا جبکہ پاکستان میں اس کی آمد ۲۰۱۵ بتائی جاتی ہے ۔ ایڈی سینس ایک ڈیجیٹل اشتہاری(Advertising) کمپنی ہے جس کی ممبرشب حاصل کرکے لوگ گھر بیٹھے آن لائن کمائی کرتے ہیں ۔یہاں سوال یہ ہے کہ کیا اس آن لائن اشتہاری کمپنی سے جڑ کر پیسہ کمانا جائز ہے ؟ اس سوال کا جواب دینے اور سمجھنے کے لئے پرپال/ ایڈی سینس سےآن لائن پیسے کمانے کے طریقہ کار کو بیان کرنا ضروری ہے ۔

    ایڈی سینس سے پیسے کمانے کے دو طریقے ہیں ۔

    (ٍ1) نٹورک مارکیٹنگ : اس کا طریق کار یہ ہے کہ کمپنی کو پروموٹ کرکے ٹیم ورک کرنا ہوگا یعنی اپنے ساتھ دوسروں کو جوائن کرناہے جس سے ممبروں کا ایک جال بنتا چلا جائےگا اسی سبب اس کو نٹورک مارکیٹنگ کہا جاتا ہے۔

    (2) انوسٹمنٹ پیکیج: کمپنی میں انوسٹ کرنے کے مختلف پیکیجز ہیں جن کا منافع حسب پیکیج متعین شکل میں دیا جاتا ہے مثلا پانچ ہزار والے پیکیج کی روزانہ کی آمدنی پچیس روپئے ، دس ہزار کی باون روپئے ، بیس ہزار کی سو، چالیس ہزار کی دوسو،پچاس ہزار کی ڈھائی سواور ایک لاکھ کی پانچ سو وغیرہ(یہ پیکیجزپاکستان کے حساب سے ہیں)۔

    جو کوئی اس ڈیجیٹل اشتہاری کمپنی سے جڑ کر پیسہ کمانا چاہتا ہے وہ یاتو نٹورکنگ سسٹم اختیار کرے گا یا کمپنی میں انوسٹ کاطریق کار اپنائے گا ۔ اگر آپ نٹورک سسٹم چنتے ہیں تو آپ کو کمائی کرنے کے لئے پہلے پیسے لگاکر ایڈپاور خریدنا پڑے گا پھر کمپنی کی طرف سے صارف کے اکاؤنٹ میں روزانہ اشتہار مہیا کرایا جائے گا جس کو چوبیس گھنٹے میں دیکھنا ہے ، جس دن اشتہار نہیں دیکھاجائےگا اس دن کا منافع کٹ جائے گا۔ رینک حاصل کرنے کے لئے اپنے ساتھ لازما چار افراد جوڑکر ان سے انوسٹ کروانا یا ان کے ذریعہ نچلے طبقے سے انوسٹ کرواناہےپھر اس کے بعد آفیسر، سینئرآفیسر، مینیجراور سینئر مینیجر کے گریٹ ملتے ہیں اور تنخواہ کا معیار بڑھتاہے ساتھ ہی انعامات و تمغےبھی ملتے ہیں، یہ ملٹی لیول مارکیٹنگ کمپنیوں کی ہے جیساکہ ویسٹیج ہے۔

    اور اگرآپ انوسٹ والے پیکیج حاصل کرکے کمانا چاہتے ہیں تو جس قدر بڑا پیکیج ہوگا اسی قدر منافع بڑا اور روزانہ کے حساب سے متعین صورت میں ملے گا ،اس پیکیج والوں کوبھی اپنے اکاؤنٹ میں روزانہ اشتہار مہیا کرایا جاتا ہے جس کو دیکھنے کا منافع ملتا ہےاور اگر کسی دن اشتہار نہ دیکھے تو اس دن کا منافع کٹ جائے گا۔ یہ معاہدہ پندرہ مہینے پر مشتمل ہوتا ہے کوئی اس معاہدہ کو فسخ کرنا چاہے تو لگائے ہوئےپیسے واپس نہیں لے سکتا ہے۔

    ایڈی سینس سے پیسے کمانے کے دونوں طریقوں کو مختصرا بیان کردیا گیا ہے اور ان طریقوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیسہ کمانے کے یہ دونوں طریقے حرام ہیں ۔

    ایڈی سینس میں نٹورک مارکیٹنگ کے ذریعہ پیسے کمانے میں مندرجہ ذیل وجوہات کی بناپر حرام ہے ۔

    ٭ ایڈپاور خرید کر اشتہار دیکھنے کے ذریعہ پیسہ کمانا جائز نہیں ہے کیونکہ ایک طرف متعین رقم لگائی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف منافع مجہول ہےاور اسلام میں اس طرح کی تجارت جائز نہیں ہے، یہ جوئے کی شکل ہے۔

    ٭ ایک ممبر اپنے ساتھ چار کو جوڑتا ہے پھر وہ اپنے ساتھ دوسروں کو جوڑتا ہے ، نیچے والے پھر اپنے نیچے ممبر بناتا ہے اس طرح پیرامیڈ شکل بن جاتی ہے اور کمیشن تمام لیول والوں کو ملتا ہے ۔ اپنے لیول میں چار لوگوں کو جوڑنے والا غیروں کے لیول کا بھی کمیشن لیتا ہے یہ جائز نہیں ہے ۔ اس کی تفصیلی جانکاری میرے مضمون" نٹورک مارکیٹنگ کی شرعی حیثیت" سے حاصل کرسکتے ہیں۔

    ٭بارباراشتہار دیکھنے والا اشتہار دینے والی کمپنیوں کی ریٹنگ بڑھاتاہے جوکہ بائع ومشتری دونوں کے حق میں صاف دھوکہ ہے۔بائع سمجھتا ہے کہ اتنے خریدار نے ایڈدیکھاہے حالانکہ اشتہار دیکھنے والا خریدار نہیں ہے اورمشتری جھوٹی ریٹنگ سےکمپنی اور اس کی مصنوعات پر بھروسہ کرکے بیع کرلیتا ہے حالانکہ اسلام نے سامان کا وہی وصف بیان کرنے کا حکم دیا ہے جو اس کی حقیقت ہےبلکہ اصل وصف کو چھپانا بھی منع ہے اور جھوٹ ومبالغہ آرائی سے بھی بچنا ہے۔

    ٭ اشتہار سے متعلق ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ ایڈی سینس کے ذریعہ جن کمپنیوں کےاشتہارات دکھائے جاتے ہیں کیا ان ساری کمپنیوں کا حقیقی وجود ہوتاہے یا ان میں کچھ آن لائن ٹریڈنگ کے نام پہ فراڈ کررہی ہوتی ہیں؟ اسی طرح کیا وہ کمپنیاں حلال تجارت کررہی ہیں یا ان میں حرام چیزوں کی بھی تجارت ہورہی ہےمثلا سودی کاروبار، حرام اور نقصان دہ اشیاء وغیرہ ۔پرچار میں مبالغہ آرائی اور جھوٹ کی آمیزش تو نہیں، پرچار میں جانداراور عورت کی تصویر تو نہیں بالخصوص برہنہ تصویر اور موسیقی وغیرہ ۔ اگر ان میں سے کوئی خامی ہے تو اشتہار دیکھنے کا منافع حلال نہیں ہے۔

    انوسٹ پلان کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ پیکیج خرید کر روزانہ اور ماہانہ طورپر فکس منافع حاصل کیا جاتا ہے یہ جائز نہیں ہےاور اسی طرح نٹورک سسٹم کی طرح اشتہار دیکھ کربائع و مشتری کو دھوکہ دینا اورنفس اشتہار کا تعلق حرام اشیاء، حرام تجارت یا جھوٹ وفراڈ سے ہونا بھی انوسٹ پلان میں شامل ہونے سے روکتا ہے۔

    آخری اور ایک اہم بات کی طرف اشادہ کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح ملٹی لیول نٹورکنگ والے لوگوں کو بڑے بڑے خواب دکھا کر اور دھوکے سے اپنی کمپنی کا ممبر بناتے ہیں ہوبہو اسی طرح پرپال اور ایڈی سینس والے لبھاکر، خواب دکھاکر اور لفاظی کرکے دھوکے سے لوگوں کو ممبر بناتے ہیں کیونکہ دونوں کے منشاایک ہیں ۔یقین نہ آئے تو یوٹیوب پر ان لوگوں کے ویڈیوز دیکھ لیں ۔ یہاں یہ بات بھی جان لیں کہ ممبر بنانے والے لوگوں کودھوکہ دیتے ہوئےیہاں تک کہتے ہیں کہ ایڈی سینس کی کمائی حلال ہے ، اس کے اشتہارات حلال ہیں ، اس کے منافع اور اسکیمیں حلال ہیں حتی ہمارے پاس اس کی کمائی حلال ہونے کا فتوی بھی ہے ۔ بعض ممبردلیل کے طورپربریلوی عالم مفتی اکمل کا ویڈیوفتوی دکھارہے ہیں کہ انہوں نے پرپال کی کمائی کو حلال کہا ہے ۔ ان سے جب سوال کیا کہ آن لائن کلکنگ کی جاب کا کیا حکم ہے یعنی ایڈ پہ کلک کرنے سے پیسے ملتا ہے اس کاکیا حکم ہے تو اس پر مفتی صاحب نے جواب دیا کہ نبی نے ہمیں تصور دیا ہے کہ کسی کو اپنی صلاحیت یا وقت سے نفع پہنچاتے ہیں ، اس کے لئے کوئی عمل کرتے ہیں اور وہ نفع کی قیمت دیتا ہے تو یہ صحیح ہے اس کو شرعی اصطلاع میں اجارہ کہتے ہیں ۔ دوسری طرف جامعہ بنوریہ کے دارالافتاء سے پرپال کی کمائی حرام ہونے پر متعدد فتاوے شائع ہوئے ہیں ان میں کہاگیا ہے کہ ایڈ پر کلک ایسی چیز نہیں ہےجو منفعت مقصودہ ہواس لئے یہ اجارہ صحیح نہیں ہے اور ایک دوسرے فتوی میں لکھا گیا ہے کہ ایڈ دیکھنا کوئی ایسا عمل نہیں ہے جسے اجارہ کا معقود علیہ قرار دیا جاسکے اور ایڈ دیکھنے والے ممبرکو اس پر اجرت کا مستحق ٹھہرا یا جاسکے ۔

    مفتی اکمل صاحب کے فتوی پر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان کو نہ اس کمپنی کی حقیقت معلوم ہے اورنہ ہی وہ تجارت کے اسلامی اصول وضوابط سے واقف ہیں ۔اجارہ میں ایک صحیح عمل کے ذریعہ اجرت حاصل کی جاتی ہے جبکہ یہاں ممبرایڈپر محض باربار کلک کرکے اشتہار دینے والی کمپنی کی جھوٹی ریٹنگ بڑھاتا ہے اوربائع و مشتری کو دھوکے میں مبتلا کرتا ہے پھر عمل صحیح کہاں ہوا ، جب عمل صحیح نہیں تو اجرت بھی صحیح نہیں ، اس میں اور جو دوسری خامیاں ہیں وہ اوپربیان کردی گئی ہیں ۔

    آپ کو اس تجارت سے متعلق زیادہ جانکاری چاہئے تو میرے بلاگ پر نٹورک مارکیٹنگ کے علاوہ ،یوٹیوب کی کمائی، ویسٹیج مارکیٹگ، آ ن لائن تجارت اور افلیٹ مارکیٹنگ کا مطالعہ مفید رہے گا۔
     

اس صفحے کی تشہیر