پاکستان کے مالک کون؟

جاسم محمد نے 'معیشت و تجارت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 17, 2019 12:17 شام

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    4,979
    پاکستان کے مالک کون؟
    17/03/2019 عاصم اعجاز

    [​IMG]

    ” ہر بڑی خوش قسمتی کے پیچھے جرم چھپا ہوتا ہے۔ “

    پاکستان کے امراء اور شرفاء کی دولت مندی کے پیچھے یہی بھید چھپا ہے۔ یہ لوگ پاکستان کے امیر ترین لوگ ہیں یہ بائیس خاندانوں کے نام سے مشہور ہیں۔ ہمارے یہاں بائیس خاندان تین طرح کے ہیں۔ ایک وہ جو اصلی اور پرانے خاندان ہیں۔ دوسرے جو کہ 90 کی دہائی میں سامنے آئے اورتیسرے جو آج کل کے بائیس خاندان ہیں۔ یہ گروپ سیمنٹ، ٹیکسٹائل، انشورنس اور بینکوں کے کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں نئے قائم ہونے والے پاور پلانٹ پر بھی ان کا قبضہ ہے۔

    بھیڑوں کی خاندان کی طرح یہ لوگ بھی جہاں ان کو منافع نظر آتا ہے یہ خاندان اس کاروبار میں داخل ہوجاتے ہیں بھیڑوں کے خاندان کی مثال کی وضاحت اس طریقے سے کی جاسکتی ہے جیسے میاں منشا وہ پہلا کاروباری آدمی تھا جس نے پاور پلانٹ لگایا اس کی دیکھا دیکھی دوسرے گروپ بھی اس میدان میں داخل ہو گئے اور انہوں نے پاور پلانٹ قائم کر لئے۔

    ”پاکستان میں آج کوئی کاروبار ایسا نہیں جو کہ وزیروں اور سیکرٹریوں کو رشوت دیے بغیر چلایا جا سکے“

    یہ الفاظ میرے نہیں اور نہ ہی اسے آج کل کسی نے ادا کیا ہے۔ یہ الفاظ جناب یوسف ہارون صاحب کے ہیں جو انہوں نے ساٹھ کی دہائی میں ادا کیے تھے۔

    قیام پاکستان کے بعد کے بایئس خاندانوں میں اکثر خاندانوں کی دولت حکومتی وسائل کے درختوں پر ا گی۔ جس کی جڑیں افسر شاہی کی کرپشن میں ہیں اور جسے ٹیکسوں کی چھوٹ، بینکوں کے قرضے اور دیگر دوسری مراعات کی کھاد نے پالا پوسا ہے۔

    کچھ مبصرین کے مطابق کے مطابق ان خاندانوں کی ترقی ان کی صلاحیت اور خوش قسمتی کا نتیجہ تھی اس میں کسی اور کا کوئی ہاتھ نہیں لیکن جی۔ ایم۔ آدم جی نے کھل کر سچ بولا بقول ان کے ”تشکیل پاکستان مسلمان کاروباری لوگوں کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوئی کیونکہ اس نے مسلمانوں کے لئے کاروبار کے نئے دروازے کھول دیے جن کی وجہ سے وہ پاکستان کی معیشت پر چھا گئے۔ “ ان بائیس خاندانوں میں شاید ہی چند ایسی قدآور شخصیت تھی جن کو جہاں بھی موقع ملتا وہ وقت پر اپنے نقوش چھوڑ تے۔

    ایم اے رنگون والا، سی ایم لطیف اور یوسف سہگل جیسے چند لوگ ہی ایسی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ اگر آج کے بائیس خاندانوں کا مقابلہ انیس سو بہتر کے بائیس خاندانوں سے کریں توکم لوگ ہیں جو اس ٹیلنٹ کے ملیں گے شاید سید بابر علی اسی صلاحیت کے ہو ں۔ لیکن آج کے ان بڑے دولت مندوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہو گا جو وقت کی بھٹی میں تپاہ ہو یا اس نے غربت کے سکول میں سبق پڑھا ہو۔ ان سب کو ورثے میں سامان ملا ہے جو چاہے جائز طریقے سے حاصل ہوا ہو یا ناجائز طریقے سے۔

    حکومتی وسائل کے درختوں سے مال سمیٹنے کا عمل تشکیل پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ دسمبر انیس سنتالیس میں وفاقی حکومت نے ایک صنعتی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں طے پایا کہ وفاقی حکومت فوری ضرورت کی ستائیس صنعتیں قائم کرے۔ ان سفارشات کی رو سے انیس سو پچاس میں پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی آئی ڈی سی) قائم کی گئی جس کا مقصد ایسی صنعتیں لگانا تھا جس سے نجی شعبہ احتراز کرتا ہو۔ یہ بھی طے پایا کہ پی آئی ڈی سی کے لگائے ہوئے یونٹ جیسے ہی پیداوار کے لئے تیار ہوں انہیں نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے۔

    سعید شفقت اپنی کتاب پولٹیکل سسٹم آف پاکستان اینڈ پبلک پالیسی میں لکھتے ہیں کہ پی آئی ڈی سی اور پکک نے مشہور زمانہ بائیس خاندانوں کو بنانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ بقول لارنس وائٹ کراچی سٹاک ایکسچینج کے تنتالیس گروپوں کو مشرقی پاکستان کے تنتالیس میں سے گیارہ یونٹ ملے۔ جبکہ مغربی پاکستان میں انہیں سترہ یونٹوں میں سے آٹھ یونٹ پی آئی ڈی سی سے ملے۔ ان خاندانوں کو ملنے والے چند بڑے بڑے یونٹ یہ تھے، کرنافلی پیپرز ملز اور بورے والا ٹیکسٹائل ملز داؤد گروپ کو، جوہرآباد شوگر مل جو بعد میں کوہ نور شگر ملز بنی، سہگل کو ملی۔ کراچی گیس کمپنی فینسی گروپ کو، چارسدہ شوگر ملز ہوتی گروپ کو، آدم جی کیمیکل ورکس، آدم جی انڈسٹریز، آدم جی ہائی گریڈ پیپر اینڈ بورڈ ملز نوشہرہ اورچھے پٹ سن کے کارخانے، ان سب یونٹوں کو ڈبلیو پی ای ڈی سی نے بنایا اور ان لوگوں کے حوالے کر دیا

    بقول حبیب اللہ خٹک بیبو جی کے ”پی آئی ڈی سے ملنے والے چاروں یونٹوں کوبھٹو نے بعد میں نیشنلائیز کر لیا تھا۔ “

    ان یونٹوں کو جب نئے مالکان کے حوالے کیا گیا تو اس کے بارے میں نہ کوئی اشتہار شائع ہوا اور نہ ہی کہیں سے یہ معلوم ہوا کہ کن شرائط اور کس قیمت پر یہ یونٹ ان کے حوالے کیے گئے اس بارے میں عثمان عمر باٹلی والا نے احمد داؤد کی جو آپ بیتی لکھی ہے اس سے کچھ اندازہ ہوتا ہے۔

    عثمان عمر باٹلی والا لکھتے ہیں کہ ”انیس سو انسٹھ میں احمد داؤد نے صدر ایوب خان کواس اسکول کا افتتاح کرنے کے لیے بلایا جو ان کے گروپ نے جیسور مشرقی پاکستان میں قائم کیا تھا اس تقریب میں نواب کالاباغ جو چیئرمین ڈبلیو پی آئی ڈی سی تھے کو کرنافلی پیپر ملز میں کارکنوں اور انتظامیہ کی لڑائی کے بارے میں بتایا گیا اگرچہ حکومت اسے بیچنا چاہتی تھی لیکن کوئی بھی نجی شعبہ اسے خریدنے کو تیار نہ تھا کیونکہ اس کی مالی حالت بہت خراب تھی، تقریب کے بعد نواب آف کالا باغ نے احمد داؤد سے ملاقات کی اور یہ یونٹ دینے کی پیشکش کی۔ پہلے پہل تو احمد داؤد نے معذرت کر لی لیکن زیادہ زور دینے پر سوچ لیتا ہوں کا وعدہ کر لیا کچھ عرصے بعد انہوں نے یہ یونٹ لے لیا۔ کس قیمت پر؟ کوئی اندازہ نہیں۔

    ایک طرف پی آئی ڈی سی ٹیکس دہندگان رقوم اور سرکاری قرضوں سے بنے ہوئے یہ یونٹ ان گروپوں کے حوالے کر رہی تھی دوسری طرف پکک انہیں گروپوں کے نئے کارخانے لگانے کے لیے قرضے جاری کر رہی تھی۔

    پکک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل تیرہ ڈائریکٹرز نجی شعبے سے تعلق رکھتے تھے ان میں سات کا تعلق بڑے گروپوں جیسے داود، آدم جی، بشیر، فینسی، جلیل، رنگوں والا اور ولیکا سے تھا یہ سب اے۔ ڈبلیو۔ آدم جی کی سربراہی میں کام کر رہے تھے جب کہ احمد داود ان کے نائب تھے۔

    چونکہ بورڈ آف ڈائریکٹرز پر ان کا قبضہ تھا اس لیے انہوں نے کوشش کی کہ پکک سے جاری ہونے والے قرضے انہی لوگوں کے درمیان رہیں۔ بقول لارنس وائٹ کے دوسرے پانچ سالہ منصوبے میں نئے صنعتی یونٹ لگانے کے لئے جو قرضے جاری ہوئے ان میں سے اکاون فیصد انتالیس خاندانوں نے حاصل کیے بینکنگ سیکٹر پر بائیس خاندانوں کے قبضے، پکک سے ملنے والے قرضوں اور پی آئی ڈی سے حاصل کردہ یونٹوں کے وجہ سے دولت انہیں بائیس خاندانوں میں مرتکز ہو گئی تھی۔

    دولت کے ارتکاز کے سب سے پہلے شواہد اسٹیٹ بینک کی اس کریڈٹ انکوائری رپورٹ سے ملتے ہیں جو کہ انیس سوانسٹھ کے اوائل میں شائع ہوئی اس رپورٹ کے مطابق دو سو بائیس لوگ ایسے تھے جنہوں نے پاکستان کے بینکوں کے قرضوں کا دو تہائی حصہ قرض لے رکھا تھا تقریبا انہی دنوں پاپا نیک کی پہلی رپورٹ شائع ہوئی جس کے مطابق کل اثاثوں کا پچاس فی صد حصہ چوبیس افراد اور تین ہزار فرموں کے پاس تھا۔

    اس قسم کی اجارہ داریوں کی سب سے پہلے خبر مشہور زمانہ اکانومسٹ اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق نے دی۔ ان کی رپورٹ کے مطابق یہ بائیس خاندان کل صنعتوں کا ساٹھ فی صد، اسی فی صد بینکنگ اور ستر فی صد انشورنس کو کنٹرول کر رہے تھے۔

    پروفیسر لارنس وائٹ جو ان دنوں یو ایس پروگرام کے سلسلے میں یہاں پر تھے انہوں نے اس ارتقاز دولت کا اندازہ اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے حوالے سے کیا ان کے مطابق اسٹاک ایکسچینج میں درج ایک سو ستانوے غیر مالیاتی کمپنیوں کا اٹھانوے فیصد ان کے قبضے میں تھا، جو کے کل اثاثوں کا ترپن فی صدبنا۔ لارنس وائٹ کے مطابق چار بڑے خاندانوں سہگل، داود، آدم جی، اور امین کے پاس کل اثاثوں کا بیس فیصد تھا۔ دس خاندانوں کے قبضہ میں ایک تہائی اثاثے تھے جبکہ چوٹی کے تیس خاندانوں کے پچاس فیصد سے زائد اثاثوں پر قبضہ تھا۔

    یہ دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز اور غیرمنصفانہ علاقائی ترقی تھی جو کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بھٹو کی نیشنلائزیشن کی بنیاد بنی۔
     

اس صفحے کی تشہیر