پاکستان میں جمہوریت یا اسلامی نظام

زرقا مفتی

محفلین

پاکستان میں جمہوریت یا اسلامی نظام

پاکستانی عوام کے لئے جمہوریت ایک سہانا خواب رہی ہےجس کی تعبیر کا حصول عوام کے لئے ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ اس ملک کی ساٹھ سالہ تاریخ میں جتنے بھی حکمران آئے انہوں نے اداروں کو مظبوط کرنے کی بجائے شخصی اقتدار کو طول دینے کی راہیں کی اختیار کیں۔ اس کے لئے آئین کو حسبِ منشا تبدیل کیا جاتا رہا، ذرائع ابلاغ پر پابندیاں عائد کی جاتی رہیں، عدل و انصاف کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ ہر حکمران نے اپنے لئے نظریہ ء ضرورت ایجاد کیا اور اس کے لئے اندرونی و بیرونی مخدوش حالات کی بیساکھی استعمال کی۔ ساٹھ سال کے عرصے میں عوام کا کردار خاموش تماشائی سے زیادہ نہیں رہا۔پڑھے لکھے عوام جمہوری عمل سے متنفر ہوگئے ۔ اور الیکشن ، سیلیکشن میں بدل گیا جہاں سیلیکشن کا اختیار زمینی خدا ؤں یعنی سپر پاورز کے سپرد کر دیا گیا۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہم پر امپورٹڈ وزیراعظم مسلط کئے جاتے رہے۔

مگرعوام کو اپنا سکوت اب تک مجرمانہ نہیں لگا
حیرت ہے
کیا ہم ایک مردہ قوم ہیں؟؟؟؟
پاکستانی معاشرہ اس وقت دو بڑے طبقوں میں تقسیم ہو چکا ہے جو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں یا متصادم ہیں
١۔ روشن خیال طبقہ
٢۔ دینی طبقہ
روشن خیال طبقہ مقربی قوتوں کے زیرِ اثر ہے اور جمہوریت کا حامی ہے اس طبقے کے خیال میں پاکستان کے مسائل کا حل جمہوریت کے تسلسل میں ہے ۔ یہ طبقہ مغرب سے درآمد کردہ ہر نئے نظریے پر نہ صرف ایمان لے آتا ہے بلکہ اس کی اندھی تقلید بھی کرتا ہے
دینی طبقہ دوسری انتہا پرڈیڑھ ہزار سال پرانے سیاسی ،معاشی، معاشرتی نظام کو رائج کرنا چاہتا ہے۔ اس طبقے نے متشدد احتجاجی مزاحمت کو ایک جائز شارٹ کٹ سمجھ کر اپنا لیا ہے ۔
دونوں طبقات اس وقت پاکستان کو فتح کرنے کے لئے عوام کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں اور عوام ان کے ہاتھوں میں کھلونا بنی ہے۔ اپنے استحصال کا تماشا دیکھ رہی ہے
کیا ہم بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہیں؟؟
کیا ڈنڈے یا ترغیب کے زور پر ہمیں کسی بھی طرف ہانکا جا سکتا ہے؟؟؟
کیا ہماری قوم کسی اجتماعی شعور کی حامل نہیں؟؟؟؟
کیا ہم انتظار کرتے رہیں گے کہ ان میں سے جو فتح یاب ہو کر نکلے اس کے ہاتھ پر بیعت کر لیں؟؟؟
جمہوریت کیا ہے؟
عوام کے ذریعے عوام کی فلاح کے لئے عوام کی حکومت
جمہوریت کا سلوگن؟
طاقت کا سر چشمہ عوام
ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی ممالک عوام کو جو آزادی ،حقوق اور مراعات حاصل ہیں وہ کسی مسلمان ملک کے عوام کو حاصل نہیں۔
تاہم حد سے بڑھی ہوئی آزادی کے باعث اخلاقی بے راہ روی کا فروغ ہوا ہے ۔ خاندانی نظام تباہ ہو گیا ہے انفرادیت پرستی، مادہ پرستی عروج پر ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر بھی طاقت کا توازن مغرب کے حق میں ہے سو مغرب نے دُنیا پر طاقت کا قانون رائج کر رکھا ہے۔
اسلامی فلاحی مملکت کیسی ہو نی چاہیئے؟
جہاں حاکمیتِ اعلٰی اللہ کی ہو۔
جہاں رنگ نسل دولت یا رتبے کی بنیاد پر کسی سے امتیازی سلوک نہ کیا جاتا ہو۔ کیونکہ اللہ کے ہاں سب برابر ہیں اور سب جوابدہ بھی ہونگے
جہاں ایک عورت رات کی تاریکی میں زیور سے لدی پھندی ہزار میل کے سفر پر نکلے تو اس کے دل میں اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہو
جہاں ایک عام آدمی سرِ عام خلیفہء وقت سے اس کے لمبے کرتے کا حساب پوچھ سکے۔یعنی ہر کسی کا احتساب کیا جا سکے
جہاں حاکمِ وقت قومی دولت کا ایک پیسہ بھی اپنی ذات یا مفاد کے لئے خرچ نہ کرتا ہو
جہاں عوام کو تعلیم روزگار علاج رہائش غرض یہ کہ زندگی کی تمام بنیادی ضروریات تک بلا تخصیص رسائی ہو۔
جہاں ناجائز منافع خوری اور چور بازاری سے عوام کا استحصال نا ممکن ہو
جہاں عدلیہ آزاد ہو اور انصاف آدمی کے خون سے سستا ہو عدالت کی نظر میں حاکمِ وقت اور ایک عام آدمی برابر ہوں جج کو فیصلہ کرتے وقت اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو
افسوس ہمارے ملک میں ایک بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں جس کا سیاسی منشور ایسی مملکت کے قیام کی یقین دہانی کرواتا ہو
ہمارے ہاں تمام سیاسی جماعتیں غیر جمہوری ہیں ہر جماعت شخصی یا خاندانی قیادت کے زیرِاثر ہے پھر چاہے وہ دینی جماعت ہو یا لا دینی
ہمارے رہنما بادشاہی مزاج کے حامل ہیں جو ایک بار اقتدار میں آ جاتے ہیں تو پاکستان کو اپنی میراث سمجھ لیتے ہیں اورملکی خزانے کو اپنی وراثت۔ اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کا اس ملک کی حکومت پر استحقاق قائم کرنے کی تدبیریں کرتے ہیں
اور عوام کی یاداشت ایک سلیٹ کی طرح ہے جس پر ہمارے رہنما اپنے سیاہ کارنامے ثبت کرتے ہیں اور چشمِ زدن میں ان کو مٹا بھی دیتے ہیں اور شہیدِ جمہوریت کہلاتے ہیں۔ یا پھر یوں کہئے کہ رہنماؤں کے باس ایسا جادوئی نغمہ ہے جس کی دھن پر ناچتے گاتے ہم ہنسی خوشی ہلاکت کے سمندر میں اترتے جا رہے ہیں
ہمارے قوانین موم سے بنے ہیں انہیں نظریہء ضرورت کے تحت کسی بھی آہنی سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے۔
بس اگر کسی سانچے میں نہیں ڈھالا جا سکتا تو وہ عوامی خواہشات کا سانچا ہے۔
کیا ہماری اجتماعی بصیرت ان خونخوار بھیڑیوں کو نہیں پہچان سکتی؟؟؟؟
کیا ہماری یاداشت ایک کچی سلیٹ کی جگہ ایسی ہارڈ ڈرائیو نہیں بن سکتی جسے کوئی ہیکر نہ چرا سکے۔؟؟؟
کیا عوام کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں کہ وہ اپناسیاسی منشور بنا سکے؟؟؟
ہم خاموش کیوں ہیں ؟؟؟
کیا ہم سب مجرم ہیں؟؟؟؟

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔












 
آپ نے بہت عمدہ موضوع شروع کیا ہے زرقا اور امید ہے کہ جب آپ اپنے اس مقالہ کو مکمل کر لیں گی تو ہم ایک صحت مند بحث کا آغاز کر سکیں گے اور چند بنیادی سوالوں سے چند بنیادی جوابات پر اتفاق رائے کر لیں گے۔ مجھے انتہائی خوشی ہے کہ آپ نے اس اہم ترین اور حساس موضوع پر قلم اٹھایا ہے جسے اکثریت بھاری پتھر یا گندگی کی دلدل سمجھ کر چھوڑ دیتی ہے۔ ہم سب کو اٹھنا ہوگا تبھی تبدیلی آئے گی نہ کہ صرف باتیں بنانے اور بددیانت حکمرانوں پر لعن طعن کرنے کے۔ بددیانت حکمرانوں کو اس لعن طعن سے کوئی فرق نہیں پڑتا ان کا ضمیر کب کا مردہ ہو چکا اور وہ اپنی عزت ، غیرت اور حمیت کا سودا کرکے ہی مسند اقتدار تک پہنچتے ہیں سوائے چند لوگوں کے۔
 

اظہرالحق

محفلین
میرے خیال میں ہم عمل سے زیادہ مکالمے پر زور دے رہے ہیں ، ہم ایک دوسرے کا حقیقی ساتھ دینے کی جگہ ۔ ۔ ۔ ایک دوسرے کی تخلیقی تحریریں پڑھنے اور اس پر سر دھنے کے سوا کچھ نہیں کر رہے ۔ ۔ ہمارے الفاظ اب کسی سٹکام کے ڈائلاگز بن کہ رہ گئے ہیں ۔ ۔ جسمیں ایک ڈائلاگ کے بعد کتنے ہی BANGS بجتے ہیں ۔ ۔ ہم میں سے (مجھ سمیت) کوئی بھی وہ پہلا پتھر بننے کے لئے تیار نہیں جو ریت کی ان دیواروں کو مسمار کرے ۔ ۔

میں بہت کچھ پڑھ چکا ہوں ۔ ۔ اور پڑھتا رہتا ہوں ، کچھ عرصے سے Mind Stroming کی محافل میں بھی جا چکا ہوں ۔ ۔ جہاں بہت بڑے بڑے الفاظ بولے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مگر کسی کی ہمت نہیں کہ کوئی عملی کام کرے ۔ ۔ ۔

جب تک ہماری زندگیوں سے یہ کھوکھلے الفاظ نہیں نکلیں گے ہم کبھی بھی من حیث القوم آگے نہیں آئیں گے ۔ ۔ ۔

ہمارے ہارڈ وئیر میں بہت جنک ڈیٹا ہے ، جسے الفاظ کے سکینر سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتے اسکے لئے ایک مربوط ڈی فریگمنٹیشن کی ضرورت ہے ۔ ۔۔ سافٹ وئیر کی نرمی نہیں گرمی چاہیے ۔ ۔ اور اس گرمی کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں آپس میں کلسٹرنگ کرنی ہو گئی ۔ ۔ ٹائم شیرنگ ہی نہیں بلکہ ٹاسک شئیرنگ بھی کرنی ہو گی ۔ ۔ مگر اسکے لئے وہ آپریٹنگ سسٹم چاہیے جو ہمارے اپنے پلیٹ فارم پر چل سکے ۔ ۔۔

شاید یہ ہی ایک حل ہے ؟؟؟؟ یعنی انٹرپرائیز سلوشن!!!!
 
بغور دیکھئے۔ دنیا کی ہر چیز دو بار بنی ہے۔ ایک بار تصور میں اور دوسری بار حقیقت میں۔ عمل صرف اور صرف ایک اچھی سوچ سے ہی نکلتا، وہ بھی جب سوچ کی مکمل تفصیلات سامنے ہوں اور و سوچ ایک ایمان بن چکی ہو۔ ایمان بننے کے لئے معاشرہ کے اکثریت کا متفق ہونا ضروری ہے اور اکثریت کے متفق ہونے کے لئے ان کا آپس میں بات کرنا ضروری ہے۔ صرف بات ہی بات ہے اور عمل نہیں‌ یہ مناسب شکایت نہیں۔ اپنے آپ پر تنقید کا عمل جاری رکھئے، سوچ مکمل ہونے پر خواب تعبیر ہوتے دیر نہیں لگے گی، کسی بھی کوشش کی ابتدا ایک خیال اور ایک سوچ ہوتی ہے۔ افراد کی سوچ ک اارتقاء بہت تیز رفتاری اور چست سے ہوتا ہے لیکن تمام معاشرہ کی سوچ کا ارتقاء‌ ایک سست عمل ہے۔
 

زرقا مفتی

محفلین
الیکشن ٢٠٠٨
ماہِ رواں میں پاکستان میں الیکشن کا انعقاد ہو رہا ہے
آئیے الیکشن میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کا جائزہ لیتےہیں
١۔ پیپلز پارٹی
قیادت۔۔۔۔۔۔۔موروثی بھٹو خاندان
پارٹی میں جمہوریت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ ہونے کے برابر
فیصلے کا اختیار۔۔۔۔۔۔۔۔۔اعلٰٰی قیادت کے پاس
منشور کے اہم نکات۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام پر ایمان، سیاست میں جمہوریت، سوشلسٹ معیشت، طاقت کا سرچشمہ عوام
نعرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔روٹی کپڑا اور مکان۔
دعویٰ ۔۔۔۔۔۔۔سب سے بڑی جمہوری اور مقبول پارٹی ہونے کا دعویٰ
رہنما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پڑھے لکھے جاگیردار اور کچھ سوشلسٹ
ووٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔متوسط اور غریب طبقہ ،
موافقین۔۔۔۔۔۔۔دیہاتی، مزدور، متوسط اور غریب شہری، سوشلسٹ
مخالفین۔۔۔۔۔۔۔۔۔مذہبی عناصر، سرمایہ کار اور اسٹیبلشمنٹ
کارنامے۔۔۔۔۔۔ایٹمی صلاحیت کا حصول، سرکاری سکولوں میں مفت تعلیم، عورتوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کی، بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لئے تھرمل پاور پراجیکٹس
الزامات۔۔۔۔۔ملک کو دو لخت کیا، اعلٰی قیادت پرملکی دولت لوٹنے کے حوالے سے سنگین کرپشن کے الزامات
٢٠٠٨ کے الیکشن میں صوبہ سندھ میں ٩٠فیصد اور پنجاب میں ٣٠-٤٠فیصد سیٹیں حاصل کرنے کا امکان
٢۔مسلم لیگ نواز
قیادت۔۔۔۔۔۔۔شخصی (شریف برادران)
پارٹی میں جمہوریت۔۔۔۔۔۔۔۔نہ ہونے کے برابر
فیصلے کا اختیار۔۔۔۔۔۔۔شریف برادران کے پاس
منشورکے اہم نکات۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کی بحالی، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی، شفاف حکمرانی، بے لاگ احتساب
، فوج کا سیاست میں محدود کردار، اجتماعیت کا فروغ، دہشت گردی کا خاتمہ، ٢٠٢٠ تک ١٠٠فیصد خواندگی، صحت کی سہولیات میں اضافہ، سائینس اور ٹیکنالوجی کا فروغ، غربت میں کمی، روزگار میں اضافہ، مہنگائی میں کمی، زرعی اور صنعتی شعبوں کی ترقی ، عورتوں اور نوجوانوں کے امور کے لئے بہتر اصلاحات ، مزدوروں کی مراعات میں اضافہ، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ، دفاع اور خارجہ امور کے ذریعے پاکستانی مفادات کی حفاظت
نعرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قانون کی حکمرانی کے ساتھ خوشحالی اور جمہوریت سب کے لئے بلا تخصیص
دعویٰ۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان بنانے والی اصل جماعت ہونے کا
رہنما۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاجر ، سرمایہ کار
ووٹر۔۔۔۔۔۔متوسط شہری طبقہ،تاجر برادری
موافقین۔۔۔۔۔۔۔تاجر ، سرمایہ کار
مخالفین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فی الحال اسٹیبلشمنٹ
کارنامے۔۔۔۔۔۔۔ایٹمی دھماکہ، موٹروے، نج کاری
الزامات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شخصی اقتدار کو مظبوط بنانے کے لئے عدلیہ فوج اور بیوروکریسی کو تباہ کرنا ، سیاست میں پیسے اور ہارس ٹریڈنگ کو فروغ دینا، ذاتی مفاد کی سیاست کرنا۔ کارگل میں ہزیمت
٢٠٠٨ کے الیکشن میں پنجاب میں ٣٠-٤٠ فیصد نشستیں جیتنے کا امکان
٣۔ مسلم لیگ قاف
قیادت۔۔۔۔۔۔۔شخصی چوہدری برادران
پارٹی میں جمہوریت۔۔۔۔۔۔۔۔نہ ہونے کے برابر
فیصلے کا اختیار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چوہدری برادران کے پاس
منشورکے اہم نکات۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جمہوریت، ترقی، اختیارات کی تقسیم، بلا امتیاز مساوات، دفاع پاکستان
نعرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیو اور جینے دو
دعویٰ۔۔۔۔۔۔۔۔قائدِ اعظم کی مسلم لیگ ہونے کا دعویٰ
رہنما۔۔۔۔۔۔۔۔سرمایہ کار، جاگیر دار
ووٹر۔۔۔۔۔۔۔۔متوسط شہری دیہاتی(٢٠٠٢ کے حوالے سے)
موافقین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسٹیبلشمنٹ، جاگیر دار سرمایہ کار
مخالفین۔۔۔۔۔۔۔۔دینی عناصر، غریب عوام
کارنامے۔۔۔۔۔۔۔۔معیشت کی کسی حد تک بحالی(بشکریہ ٩-١١کے بعد دہشت گردی کیخلاف جنگ)
الزامات۔۔۔۔۔۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادیوں کا ساتھ دینا اور اپنے ہی شہریوں سے جنگ لڑنا۔۔ملک میں صارفی معیشت کو فروغ دینا۔۔مہنگائی کا حد سے بڑھنا۔۔۔اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کرکے منافع خوری کرنا۔۔۔توانائی کا بحران۔۔۔عدلیہ کو تباہ کرنا۔۔۔سیاست میں لوٹا کریسی کو فروغ دینا
٢٠٠٨ کے الیکشن میں (دھاندلی کے بغیر) ٢٠ فیصد نشستیں جیتنے کا امکان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٤۔ متحدہ قومی موومنٹ
قیادت۔۔۔۔۔۔۔شخصی (الطاف حسین)
جمہوریت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ ہونے کے برابر
فیصلے کا اختیار۔۔۔۔۔اعلٰی قیادت کے پاس
منشورکے اہم نکات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ،کلچرل پلورل ازم کا فروغ،اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم، صوبائی خود مختاری، تعلیم کا یکساں نظام، صحت سب کے لئے، زرعی اصلاحات، غربت میں کمی، مہنگائی میں کمی، روزگار میں اضافہ، بہتر مالیاتی اور حکومتی پالیسیاں، میڈیا کی آزادی، عورتوں کے حقوق کا تحفظ، آزاد عدلیہ، صنعتی ترقی میں اضافے کے لئے بھاری صنعتوں کا قیام
نعرہ۔۔۔۔۔۔پُر امن بقائے باہمی، جیو اور جینے دو
دعویٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔محروم و مظلوم طبقے کے لئے جدوجہد کرنے والی واحد جماعت
رہنما۔۔۔۔۔۔متوسط پڑھے لکھے (طالب علم رہنما)
ووٹر۔۔۔۔۔۔متوسط شہری
موافقین۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی حیدرآباد کے شہری
مخالفین۔۔۔۔۔۔۔۔۔قوم پرست سندھی
کارنامے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سندھ کے شہروں میں غیر سندھی آباد کاروں کے حقوق کا تحفظ
الزامات۔۔۔۔۔۔۔۔۔حکیم سعید اور کچھ افسران کا قتل ۔نجی عقوبت خانے، جبری بھتہ وصولی
٢٠٠٨ کے الیکشن میں قومی اسمبلی کی ٢٠-٢٥ نشستیں جیتنے کا امکان

۵۔متحدہ مجلسِ عمل
قیادت۔۔۔اتحاد میں شامل دینی جماعتوں کی قیادت
جمہوریت۔۔۔۔کسی حد تک
فیصلے کا اختیار۔۔۔۔۔۔اعلیٰ قیادت کے پاس (فیصلے مشاورت کی بنیاد پر)
منشور کے اہم نکات۔۔۔نفاذِ شریعت، اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ،قانون کی عملداری، بے روزگاری اور مہنگائی میں کمی،صحت اور تعلیم کی سہولیات میں اضافہ،سائینس اور ٹیکنالوجی کا فروغ،نیوکلیئر اثاثوں کا تحفظ، دوست اور ہمسایہ مملک سے برابری کی بنیاد پر خوشگوار تعلقات،امریکی دباﺅ کا خاتمہ
دعویٰ: صوبہ سرحد میں ریکارڈ ترقی کا دعویٰ
رہنما:دینی رہنما
ووٹر: دینی طبقہ
موافقین: دینی جماعتیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مخالفین
مخالفین: اسٹیبلشمنٹ،دہشت گردی کے خلاف اتحادی قوتیں،ماڈرن طبقہ
کارنامے: صوبہ سرحد میں نئے تعلیمی ادا روںاور ہسپتالوں کا قیام،انٹر تک مفت کتابیں، بے روزگاری فنڈ کا اجرائ، لائیو سٹاک کی ترقی، بھکاریوں کے لئے پناہ گھر اور روزگار کی تربیت
الزامات: دہشت گردوں کی سرپرستی، مذہبی شدت پسندی کا فروغ، حسبہ قانون کے اجراءکی کوشش، حدود قوانین پر خواتین مخالف موقف
۲۰۰۸ کے الیکشن میں ٦٠-٧٠ نشستیں جیتنے کا امکان


جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
 

arifkarim

معطل
اس موضوع پر پہلے بھی بہت بار بحث ہو چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بغیر کسی حل لے، اس لئے یہاں حصہ لینا کا کوئی فائدہ نہیں،،،،
 

زرقا مفتی

محفلین
الیکشن کے بعد کی ممکنہ صورتحال

الیکشن کے بعد کی ممکنہ صورتحال
تمام اہلِ وطن کی یہی دُعا ہے کہ الیکشن پُر امن ماحول میں ہوں اور ٢٧دسمبر جیسا کوئی اور سانحہ وقوع پذیر نہ ہو۔ پُر امن الیکشن کے انعقاد کے مفروضے کو لے کر الیکشن کے بعد کی ممکنہ صورتحال کچھ اس طرح کی ہو سکتی ہے۔ اکثر تجزیہ نگاروں کی رائے میں الیکشن کے بعد ایک معلّق اسمبلی وجود میں آئے گی۔ جس میں نشستوں کے اعتبار سے قومی اسمبلی میںپارٹی پوزیشن کچھ اس طرح ہو سکتی ہے
۱۔پیپلز پارٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔١٠٠-١٢٠نشستیں
۲۔مسلم لیگ (قاف)۔۔۔۔۔۔۔٦٠-٧٠ نشستیں
۳۔متحدہ مجلسِ عمل۔۔۔۔۔٦٠-٧٠نشستیں
۴۔مسلم لیگ (ن)۔۔۔۔٥٠-٥٥ نشستیں
۵۔متحدہ قومی موومنٹ۔۔۔۔۔٢٠-٢٥نشستیں
۶۔ دیگر جماعتیں اور ٓزاد امیدوار۔۔۔۔ ١٥-٢٠نشستیں
امید ہے کہ ایسے نتائج سیاسی جماعتوں کے لئے قابلِ قبول ہونگے اور وہ دھاندلی کے ہلکے پھلکے الزامات لگانے پر اکتفا کریں گی ۔
اقلیتی امیدوار حسبِ سابق حکومت کے ساتھ ہی شامل ہو جائیں گے۔ خواتین کی نشستیں اس کے علاوہ ہیں۔
صوبوں میں نتائج کچھ اس قسم کے ہو سکتے ہیں
صوبہ پنجاب
مسلم لیگ ن۔۔۔۔۔٣٠-٤٠ فیصدنشستیں
مسلم لیگ قاف۔۔۔۔۔٤٠-٥٠ فیصدنشستیں
پیپلز پارٹی۔۔۔۔۔۔٢٠-٣٠ فیصد نشستیں
دیگر جماعتیں اور آزاد امیدوار۔۔۔۔۔٨-١٠ نشستیں
صوبہ سندھ
پیپلز پارٹی۔۔۔۔٧٠-٧٥ فیصدنشستیں
ایم کیو ایم۔۔۔۔۔٢٠-٢٥ فیصد نشستیں
دیگر جماعتیں اور آزاد امیدوار۔۔۔۔٨-١٠ نشستیں
صوبہ سرحد
ایم ایم اے۔۔۔۔۔٨٠ فیصد نشستیں
دیگرجماعتیں اورآزاد امیدوار۔۔۔۔۔۔٢٠ فیصد نشستیں
صوبہ بلوچستان
ایم ایم اے۔۔۔٦٠-٧٠ فیصد نشستیں
دیگر جماعتیں اور آزاد امید وار۔۔۔۔٢٠-٣٠ فیصد نشستیں
محترمہ بینظیر کے انتقال کے بعد پیپلز پارٹی میں وزارتِ عظمیٰ کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں اور ان کا فائدہ دوسری جماعتیں بھی اُٹھا سکتی ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی مرکز اور صوبہ سندھ میں حکومت بنانے کے ساتھ ساتھ پنجاب اور بلوچستان میں حکومتی اتحاد میں شامل ہو سکتی ہے۔
مسلم لیگ قاف بھر پور کوشش کرے گی کہ وہ صدر مشرف کی سرپرستی میں حکومتی پارٹی کے ساتھ اتحاد بنا سکے اور زیادہ سے زیادہ وزارتِ عظمیٰ اور کم سے کم پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ حاصل کر سکے۔
مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کی حمایت سے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔
متحدہ مجلسِ عمل صوبہ سرحد کے ساتھ ساتھ صوبہ بلوچستان میںبھی حکومت بنا سکتی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ قومی اسمبلی کی ٢٥ نشستیں جیتنے کی صورت میں قاف لیگ کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کے لئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
الیکشن کے بعد فلور کراسنگ کے واقعات ظہور پذیر ہو سکتے ہیں۔
حکومت بنانے کے بعد سیاسی جماعتوں کی سب سے پہلی ترجیح آئین سے دفعہ نمبر اٹھاون ۔ٹوبی کا خاتمہ اور اس کے بعد نئے صدر کا انتخاب ہو گا۔
مسلم لیگ قاف اور ایم کیو ایم اگر صدر کے حامی و مددگار رہے تو ان کے سوا سبھی جماعتیں اس اقدام کی حامی ہونگی مسلم لیگ ن کی قیادت کی دلی خواہش ہو گی کہ سب سے پہلے شریف برادران کو ضمنی الیکشن کے ذریعے اسمبلیوں کا ممبر بنایا جائے۔ معلّق پارلیمنٹ کی صورت میں قومی حکومت کے مطالبے پر پُر زور اصرار کیا جائے مزید یہ کہ دو بار سے زائد وزیرِاعظم بننے کی پابندی کو ختم کیا جائے۔جبکہ محترمہ بینظیر کے انتقال کے باعث پیپلز پارٹی اس امر میں زیادہ دلچسپی نہیں لے گی۔
اس طرح حکومت بننے کے بعد بھی سیاسی جوڑ توڑ اور رسہ کشی جاری رہے گی۔
عوام کے مسائل اور عوام کی ترجیحات پہلے کی طرح کولڈ سٹوریج میں ہی رہیں گے۔دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں ملک کا منظر نامہ امن و امان کی خراب صورتحال اور معاشی ابتری کی طرف گامزن ہے۔ ایسے میں غیر مستحکم حکومت اور غیر متوازی پالیسیاں عوام کے لئے مزید مشکلات کا باعث بنیں گے۔ سیاسی جماعتیں اپنے دیدہزیب منشور فراموش کر کے حسب موقع نظریہ ہائے ضرورت ایجاد کریں گی اور ان نظریات کو ملک اور عوام کی ترقی و سلامتی کے لئے ناگزیر بھی ثابت کرتی رہیں گی۔
الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتیں حکومت سے باہر رہ جانے کے باعث اور عدلیہ کی بحالی کے لئے سرگر م وکلابرادری اپنے اپنے مطالبات کے لئے احتجاجی سیاست کو جاری رکھیں گے اور کچھ عرصے بعد اسمبلیاں توڑنے کا مطالبہ کریں گے۔
عوام ہوشربا مہنگائی ، گرمی کے موسم میں طویل لوڈ شیڈنگ کے اوقات ، اور خودکش دھماکوں کی دہشت کے زیرِ اثر اپنے دن پورے کرنے پر مجبور ہو ںگے۔ مگر شاید پھر بھی اپنے نام نہاد رہنماﺅں سے یہ سوال نہیں پوچھیں گے کہ ہم نے ووٹ کی شکل میںجو مقدس امانتیںآپ کے سپرد کیں تھیں انہیں خود غرضی اور لالچ کے کس سمندر میں غرق کیا ہے؟؟؟
 

زرقا مفتی

محفلین
اس دھاگہ کا موضوع ہے۔

جمہوریت یا اسلامی نظام؟
ان دو نظاموں‌میں کیا بڑے فرق ہیں؟ اس پر بھی روشنی ڈالئے۔

تھوڑی سی تصحیح
اس دھاگے کا موضوع ہے
پاکستان میں جمہوریت یا اسلامی نظام
مضمون کی اگلی قسط کا ابتدائیہ ان نظاموں کے فرق پر مبنی ہو گا
آپ کی دلچسپی کے لئے شکریہ
والسلام
زرقا
 
Top