ذوق پابند جوں دخاں ہیں پریشانیوں میں ہم ۔ استاد ابراہیم ذوق

فرخ منظور

لائبریرین
پابند جوں دخاں ہیں پریشانیوں میں ہم​
یارب ہیں کس کی زلف کے زندانیوں میں ہم​
​
ہوتی نہ یادِ زلف تو خطِ شکستہ میں​
لکھتے الف خطوں کی نہ پیشانیوں میں ہم​
​
زنجیر میں بھی نالۂ زنجیر کی طرح​
جوشِ جنوں میں رہتے ہیں جولانیوں میں ہم​
​
پائی نہ تیغِ عشق سے ہم نے کبھی پناہ​
قربِ حرم میں بھی ہیں تو قربانیوں میں ہم​
​
دوزخ بھی جائے نعرۂ ہلِ من مزید بھول​
لائیں جو آہ کو شرر افشانیوں میں ہم​
​
پاکوبیوں کو مژدہ ہو زنداں کو ہو نوید​
پھر ہیں جنوں کی سلسلۂ جنبانیوں میں ہم​
​
مطلب سے اپنے کون ہے آگاہ جُز خدا​
جوں خطِؑ سر نوشت ہیں پیشانیوں میں ہم​
​
ہیں آئنہ میں صورتِ تصویر آئنہ​
آئنہ رُو کے سامنے حیرانیوں میں ہم​
​
ہو وہ عزیز سورۂ یوسف سے بھی جدا​
رکھ دیں تری شبیہ جو کنعانیوں میں ہم​
​
کیا جانیں ہم زمانہ کو حادث ہے یا قدیم​
کچھ ہو بلا سے اپنی کہ ہیں فانیوں میں ہم​
​
کیوں جی کے ہجر میں ہوئے شرمندہ یار سے​
اب مر رہے ہیں اس کی پشیمانیوں میں ہم​
​
سینہ کا چاک سینے کی فرصت کہاں کے ہیں​
مصروف زخمِ دل کی مگس رانیوں میں ہم​
​
جا سکتے ضعف سے نہیں کوچے میں اس کے ذوق​
بہ جائیں کاش گریہ کی طغیانیوں میں ہم​
​
(استاد شیخ ابراہیم ذوق)​
​
 

غزل قاضی

محفلین

کیوں جی کے ہجر میں ہوئے شرمندہ یار سے
​
اب مر رہے ہیں اس کی پشیمانیوں میں ہم​
سینہ کا چاک سینے کی فرصت کہاں کے ہیں​
مصروف زخمِ دل کی مگس رانیوں میں ہم​
جا سکتے ضعف سے نہیں کوچے میں اس کے ذوق​
بہ جائیں کاش گریہ کی طغیانیوں میں ہم​
واہ واہ ، لاجواب اور بہت ہی عمدہ کلام فرخ صاحب !
 

نایاب

لائبریرین
بہت خوب شراکت
ہوتی نہ یادِ زلف تو خطِ شکستہ میں​
لکھتے الف خطوں کی نہ پیشانیوں میں ہم​
واہہہہہہہہہہہ
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top