وہ کون تھی !!! - خوفناک ناول - از شاہد بھائی

شاہد بھائی نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 9, 2018 5:04 شام

  1. شاہد بھائی

    شاہد بھائی محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    وہ کون تھی؟
    مصنف :۔ شاہد بھائی
    قسط نمبر - 1
    پراسرار لڑکی
    ایل ایل بی شہباز احمد کو وکالت سے ایک ماہ کی چھٹی مل چکی تھی۔ ایک ماہ تک وہ کسی کا کیس نہیں لڑ سکتے تھے ۔یہی وجہ تھی کہ اس وقت شہباز احمد اور ان کی پوری فیملی ڈرائنگ روم میں بیٹھے اس خیال پر تبصرہ کررہے تھے کہ اب وہ یہ پورا ایک ماہ کس طرح گزاریں گے؟ ان دنوں عرفان بردارز کو بھی کالج سے چھٹیاں ملی ہوئی تھیں۔فرسٹ آئیر کے امتحان دینے کے بعدوہ سیکنڈ آئیر کی کلاسز شروع ہونے تک چھٹیاں منارہے تھے ۔ڈرائنگ روم میں اس وقت اسی موضوع پر گرما گرم بحث جاری تھی کہ ایک طرف ان کے اباجان کو بھی چھٹیاں مل چکی ہیں اور دوسری طرف ان کی بھی امتحان دینے کے بعد نئی کلاسز شروع ہونے تک چھٹیاں ہیں تو ان چھٹیوں کو گھر میں رہ کر نہیں بلکہ کسی پر فضا مقام پر گزارا جائے۔ شہباز احمد کا نیا اسسٹنٹ شہزاد بھی کبھی کبھی ان کی باتوں میں حصہ لے لیتا تھا۔ اس وقت ڈرائنگ روم میں سب سے زیادہ آواز سلطان کی گونج رہی تھی:۔
    میں کہتا ہوں ان چھٹیوں کو گھر میں رہ کر ضائع نہیں کیا جاسکتا ‘‘ سلطان پرزور لہجے میں بولا۔
    اس کا مطلب ہے کہیں باہر رہ کر ضائع کیا جاسکتا ہے ‘‘ عمران مسکرا کر بولا۔
    تم آج کل بڑ ے شوخ مزاج بن رہے ہو ۔۔۔ سلطان کا اثر ہو گیا ہے کیا ‘‘عرفان نے جل بھن کر کہا۔
    اوہ !۔۔۔ پھر تو ہم ایک گھرمیں دو شوخ مزاج افراد کو کس طرح برداشت کریں گے ‘‘ سادیہ گھبرا کر بولی۔
    بات کہاں سے کہاں جارہی ہے ۔۔۔ میں کہتا ہوں کسی تاریخی مقام کے سیر کی بات کرو‘‘ سلطان نے جھلا کر کہا۔
    تاریخی مقام کیوں ۔۔۔ ہم کسی تفریحی مقام کی سیر بھی کرسکتے ہیں‘‘ شہزاد نے ان کی باتوں میں حصہ لیا۔
    کیوں نہ اباجان کے ریسٹ ہاؤس میں رہ کر یہ پورا ایک ماہ شہر سے باہر وہاں گزارا جائے ‘‘ عدنان نے خیال پیش کیا جس پر سب چونک اُٹھے۔
    یہ خیال میرے ذہن میں کیوں نہ آیا۔۔۔ اباجان کا ریسٹ ہاؤس شہر سے دور بھی ہے اور پر فضا مقام بھی ہے ۔۔۔ ہم کتنے وقت سے وہاں گئے بھی نہیں ہیں ‘‘ سلطان نے پرجوش لہجے میں کہا۔
    تو پھر ٹھیک ہے ۔۔۔ طے رہا۔۔۔ ہم کل صبح ریسٹ ہاؤ س کے لیے نکل جائیں گے ‘‘ شہباز احمد نے آخر میں فیصلہ کن لہجے میں کہا جس پر سب نے ان کی تائید میں سر ہلا دیا۔ بیگم شہباز ان دنوں اپنے میکے گئی ہوئی تھیں۔ ان کے دور کے رشتہ کے ماموں کی بیٹی کی منگنی تھی۔ انہوں نے وہاں جانا پسند کیا تھا البتہ باقی سب گھر میں ہی رہ گئے تھے۔شہباز احمد بھی اپنی بیگم کے ساتھ نہیں گئے تھے کیونکہ ان کے وہاں جانا کی کوئی تک نہیں بنتی تھی۔ ویسے بھی ان کے بیگم کے بھی دور کے رشتے دار تھے پھر بھلا شہباز احمد کا ان دور کے رشتے داروں سے کیا رشتہ بنتا؟ لہٰذا وہ بھی بچوں کے ساتھ گھر میں ہی رہ گئے تھے۔شہزاد بھی مستقل دور پر ان کے ساتھ رہ رہا تھا۔ اُس کے لئے انہوں نے گھرکے پچھلی طرف ایک کمرہ خالی کر دیا تھا جہاں وہ مستقل طور پر رہائش پذیر ہوگیا تھا۔ شہزاد کے والدین بچپن میں ہی فوت ہو چکے تھے اورپچپن سے لے کر اب تک وہ اپنے چچا کے گھر رہا تھا ۔ ابھی کچھ دنوں پہلے اس کے چچا بھی طویل بیماری کے بعد اجل کو لبیک کہہ گئے تھے یہی وجہ تھی کہ اب اسے کسی مستقل ٹھکانے کی تلاش تھی ۔ پچھلے کیس میں اس نے یہ خبر پڑھی تھی کہ شہباز احمد کا اسسٹنٹ بطور مجرم پکڑا گیا ہے اس وجہ سے اس نے شہباز احمد سے یہ درخواست کی تھی کہ اسے اپنا اسسٹنٹ بنا لیں۔ اس کے بدلے میں اس نے صرف دو وقت کا کھانا اور رہائش مانگی تھی ۔شہباز احمد نے اسے کھانا اور رہائش دینے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی خاصی تنخواہ بھی دینے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے وہ ا ن کے ساتھ قیام پذیر ہوگیا تھا۔اگلے دن صبح وہ سب ریسٹ ہاؤس کے لیے نکلنے کو تیار تھے۔ایل ایل بی شہباز احمد نے اپنی گاڑی کی سروس کل ہی کروا لی تھی ۔ بچوں نے شہزاد کے ساتھ مل کر مارکیٹ کی راہ لی تھی اور پھر گاڑی کو کھانے پینے کی چیزوں سے بھر دیا تھا۔سلطان نے جیب میں کچھ ٹافیاں بھی بھر لی تھیں۔اسے ایسے کرتے دیکھ عرفا ن برے برے منہ بنا رہا تھا جس پر وہاں موجود ہر شخص کے چہر ے پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔تبھی شہباز احمد اپنے اسسٹنٹ شہزاد اور اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں سوار ہوگئے۔ شہزاد گاڑی چلانے میں بھی کافی مہارت رکھتا تھا۔ گاڑی کی ڈرائیونگ تو شہباز احمد کو بھی خوب آتی تھی لیکن انہوں نے شہزاد کو موقع دیا اور خود اس کے ساتھ والی سیٹ پر برجمان ہوگئے ۔ بچہ پارٹی پچھلی سیٹوں پر بیٹھ چکی تھی اورپھر شہزاد نے گاڑی کا رخ ریسٹ ہاؤس کی طرف کر دیا اور ریس کا پیڈل دبا دیا۔ دوسری ہی لمحے گاڑی فراٹے بھرتی اپنے منزل کی طرف روانہ ہوگئی ۔ پندرہ منٹ کے سفر کے بعد جنگل شروع ہوگیا۔ تبھی سلطان نے راستے میں زبان کھولی:۔
    ریسٹ ہاؤس کی صفائی کا بھی کچھ انتظام کیا گیا تھا اباجان ‘‘ سلطان نے سنجیدہ انداز میں شہباز احمد کی طر ف دیکھا۔
    ہاں ۔۔۔ وہاں پر موجود سیکورٹی گارڈ کو کل ہی فون کرکے صفائی کرانے کی ہدایت کر دی تھی ‘‘ شہباز احمد نے حیران ہو کر کہا۔
    اس میں حیران ہونے والی کون سی بات ہے اباجان ‘‘ سلطان بھی حیران رہ گیا۔
    تمہاری زبان سے اس قدر سنجیدہ سوال سننے والا حیران تو ہو ہی جائے گا ‘‘ شہباز احمد معصومانہ انداز میں بولے جس پر گاڑی میں ایک قہقہہ گونج اُٹھا البتہ سلطان کا منہ بن گیا۔
    میں ہر وقت تومذاق نہیں کرتا اباجان ۔۔۔ کبھی کبھی سنجیدہ بھی ہو جاتا ہوں‘‘ سلطان برا مان کر بولا جس پر سب ایک بار پھر مسکرا دئیے۔تبھی گاڑی زبردست ہچکولے کھانے لگی۔ وہ سب گھبرا گئے ۔ دوسرے ہی لمحے گاڑی کا رخ جنگل کی طرف ہوگیا اور وہ پوری رفتار سے گھنے جنگل کے اندر ہی اندر بڑھتی چلی گئی۔ شہزاد نے اپنی پوری مہارت صرف کردی ۔ اس کے چہرے پر پسینے کے قطرے صاف بتارہے تھے کہ گاڑی اس کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے اور پھر!!!۔۔۔ گاڑی ایک درخت کی سمت گئی اور پوری قوت سے درخت سے ٹکرانے ہی لگی تھی کہ تبھی شہزاد نے اپنی پوری طاقت سے بریک لگائی۔ گاڑی صرف چند انچ کے فاصلے سے درخت سے دور رہ کر رک گئی۔ یہ دیکھ کر ان سب نے سکون کا سانس لیا۔
    آپ نے پہلے ہی بریک کیوں نہ لگائی جب گاڑی جنگل کے اندر بڑھ رہی تھی ‘‘ سلطان نے لرزتی آواز کے ساتھ کہا۔
    پہلے بریک کا پیڈل دبایا تھا لیکن اس وقت بریک کام نہیں کر رہی تھی۔۔۔ درخت سے ٹکراتے وقت ایک بار پھر اپنا پورا زور بریک کے پیڈل پر لگایا توبریک کام کر گئی اور گاڑی رک گئی‘‘ شہزاد ہانپتے ہوئے بولا۔
    اس وقت ہم کہاں ہیں ‘‘سادیہ پریشان ہو کر بولی۔
    یہ تو کوئی بہت ہی گہرا اورگھنا جنگل معلوم ہوتا ہے‘‘ عرفان نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا۔
    میراخیال ہے میں اور شہزاد نیچے اتر کر دیکھتے ہیں ۔۔۔اگر کوئی خطرہ نہ ہوا تو تم لوگ بھی نیچے اتر آنا‘‘ شہباز احمد نے فیصلہ سنا دیا جس پر انہوں نے سر ہلا دیا۔ شہزاد اور ایل ایل بی شہباز احمد گاڑی سے نیچے اتر آئے۔انہوں نے دیکھا وہ اس وقت گہرے اور تاریک جنگل کے درمیان میں کھڑے تھے۔اس جنگل کو دیکھ کر وہ ایک پل کے لئے پریشان ہوگئے ۔ درخت کے جھنڈ ہی جھنڈ نظر آرہے تھے اور اوپر درخت کے پتوں نے سورج کی روشنی کو نیچے آنے سے مکمل طور پر روک دیا تھا۔ پھر کچھ وقت تک انہوں نے آس پاس کا جائزہ لیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ جنگل اس قدر بھی خطرناک نہیں ہے ۔ وہ یہاں سے کچھ فاصلہ طے کر کے کسی ایسی جگہ پہنچ سکتے ہیں جہاں سے دوبارہ یا تو اپنے ریسٹ ہاؤس کی طرف روانہ ہو جائیں یا پھر دوبارہ شہر کا رخ کر لیں۔ اس فیصلے پر پہنچ کر شہباز احمد ، شہزاد کی طرف مڑے۔ وہ اس وقت گاڑی کے انجن کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ گاڑی کے انجن سے دھواں نکل رہا تھا۔
    یہ گاڑی تو اب کسی کام کی نہیں رہی ۔۔۔ میں حیران ہوں کہ آپ نے کل ہی اس کی سروس کروائی تھی اور آج ہی اس کا انجن گرم ہو کر بند ہوگیا‘‘ شہزاد واقعی حیرت زدہ نظر آرہا تھا۔
    اب تو کچھ دور کسی مکان میں رہائش پذیر شخص سے ہی مدد مل سکتی ہے ۔۔۔ تمہاری کیا رائے ہے ‘‘ شہباز احمد نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
    میری بھی یہی رائے ہے ۔۔۔ کچھ فاصلہ پیدل طے کرلیتے ہیں ۔۔۔ پھر آس پاس کسی رہائشی مکان یا جھونپڑی میں رہنے والے افراد سے مدد مانگ کر شہر پہنچ جائیں گے ۔۔۔ وہاں سے کسی میکینک کو بلا کر گاڑی صحیح کرالیں گے ۔۔۔ پھر دوبارہ ریسٹ ہاؤس کی طرف سفرشروع کر دیں گے‘‘شہزاد نے ان کے خیال کی تائید کرتے ہوئے کہا۔شہباز احمد نے سر ہلا دیا ۔ پھر وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے عرفان اور دوسروں کو اس فیصلے سے آگاہ کرنے کے لئے گاڑی کے پچھلی سیٹ کی کھڑکی کی طرف آئے لیکن تبھی ان دونوں کو ایک زبردست جھٹکا لگا۔ایک بچکانی سی آواز نے انہیں مخاطب کیا تھا:۔
    انکل ۔۔۔ میری بات سنیں‘‘ آواز کسی بچی کی معلوم ہوتی تھی۔ شہزاد اور شہباز احمد حیران ہو کر آواز کی سمت پلٹے۔ ایک پندرہ سولہ سال کی لڑکی انہیں دیکھ رہی تھی۔ اس کی طرف دیکھ کر انہیں اَنجانا سا احساس ہوا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ دونوں اس کی سمت بڑھے۔ اس کے پاس پہنچ کر شہباز احمد کہنے لگے:۔
    کیا بات ہے بیٹی۔۔۔ تم یہاں اس جنگل میں تنہا کیا کررہی ہو‘‘شہباز احمد نرمی سے بولے۔
    میری ماں باپ یہاں کسی کام سے مجھے ساتھ لے کر آئے تھے ۔۔۔ میں ان کا ہاتھ چھڑا کر غلطی سے دوسری طرف نکل گئی اور بھٹک گئی ۔۔۔ اب مجھے اپنے ماں باپ مل نہیں رہے ہیں ۔۔۔ آپ میری مدد کریں گے‘‘ لڑکی نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا۔ شہباز احمد کو اس پر بڑا ترس آیا البتہ شہزاد کے چہر ے پر الجھن نظر آرہی تھی۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ بچی جتنی بھولی بن رہی ہے اتنی بھولی ہے نہیں!۔اس کے آنکھوں میں شہزاد کو حیرت انگیز عیاری نظر آرہی تھی۔
    اچھا بیٹی۔۔۔ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں ۔۔۔ تمہارے والدین کہاں پر تھے ‘‘ شہباز احمد نے ترس کھا کر کہا۔
    یہاں سے کچھ فاصلے پر ۔۔۔ میں ابھی اسی جگہ پر تھی لیکن اب وہاں میرے والدین نہیں ہیں ‘‘ لڑکی نے روتے ہوئے کہا۔
    کوئی بات نہیں ۔۔۔ وہ بھی تمہیں ڈھونڈتے ہوئے وہیں کہیں ہونگے ۔۔۔ آؤ ۔۔۔ ہم تمہارے کے ساتھ انہیں تلاش کرتے ہیں‘‘ شہباز احمد نے اسے دلاسا دیا اور شہزاد کو ساتھ لے کر اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔
    لیکن بچے گاڑی میں رہ گئے ہیں‘‘ شہزاد نے شہباز احمد کو احساس دلایا۔
    کوئی بات نہیں ۔۔۔ اس بچی کے والدین مل جائیں گے تو ہم واپس یہاں آ جائیں گے‘‘ شہباز احمد نے لاپروائی سے کہا۔ شہزاد مجبوراً شہباز احمد کے ساتھ چلنے لگا۔ اسے لڑکی کی آنکھوں میں کوئی بہت ہی گہری سازش چلتی ہوئی نظر آئی لیکن پھر بھی وہ بے بسی سے شہباز احمد کے پیچھے چل رہا تھا۔تھوڑا دور چل کر لڑکی رک گئی اور پھر عجیب سے لہجے میں کہنے لگی:۔
    اب آپ واپس جا سکتے ہیں ۔۔۔ مجھے آپ کی مدد نہیں چاہیے‘‘لڑکی نے سفاک لہجے میں کہا جس پر وہ دونوں حیران رہ گئے ۔ شہبازاحمد اور شہزاد نے حیرانگی کے عالم میں ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پھر دونوں نے واپس نظریں اس لڑکی کی طرف گھمائیں۔ دوسرے ہی لمحے شہباز احمد اور شہزاد دونوں دھک سے رہ گئے۔وہ لڑکی اب وہاں موجود نہیں تھی۔ و ہ کچھ پل میں وہاں سے غائب ہو چکی تھی ۔ تبھی شہباز احمد کو ایک زبردست جھٹکا لگا۔ انہیں فوراً اپنی غلطی کا احسا س ہوا اور وہ اپنی گاڑی کی سمت دوڑ پڑے ۔ شہزاد بھی سمجھ گیا کہ کیامعاملہ ہے ۔ دوسرے ہی لمحے وہ بھی ان کے پیچھے بھاگا ۔ دونوں آگے پیچھے دوڑتے ہوئے گاڑی کی طرف آئے۔ان دونوں کا سانس پھول چکا تھا اور دل کی دھڑکن کی رفتار کئی گنا بڑھ چکی تھی۔ حیرت اور خوف کے ملے جلے جذبات نے انہیں پوری طرح جکڑ رکھا تھا۔پھر دونوں نے ایک ساتھ گاڑی کی کھڑکی سے گاڑی کے اندر جھانکا۔ آگلے ہی لمحے ان کے جسموں میں سنسنی کی ایک لہر دوڑ گئی ۔چہر ے کا رنگ دودھ کی طرح سفید پڑ گیا اور ان دونوں کی آنکھوں میں بے پناہ خوف نظر آنے لگا۔گاڑی کے اندر کوئی بھی نہیں تھی۔ عرفان اور دوسرے وہاں سے غائب تھے۔شہباز احمد کھوئے کھوئے انداز میں پچھلی سیٹ کو دیکھنے لگے جہاں ابھی کچھ دیر پہلے وہ اپنے بچوں کو چھوڑ کر گئے تھے۔ان کی آنکھوں میں ندامت اور حسرت صاف دیکھی جاسکتی تھی۔ شہزاد بھی پریشانی کے عالم میں انہیں دیکھ رہا تھا۔تبھی شہباز احمد سیدھے ہو کر کھڑے ہوگئے اور شہزاد کو خوف زدہ انداز میں دیکھنے لگے۔آگلے ہی لمحے شہزاد اور شہباز احمد دونوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا:۔
    وہ لڑکی کون تھی؟‘‘۔خوف ہی خوف ان کی آنکھوں میں نظر آنے لگا اور انہیں اپنے جسموں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔


    ٭٭٭٭٭
    باقی آئندہ
    ٭٭٭٭٭
     
  2. شاہد بھائی

    شاہد بھائی محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    وہ کون تھی؟
    مصنف :۔ شاہد بھائی
    قسط نمبر - 2
    خوفناک لمحات
    شہباز احمد اور شہزاد کو گاڑی سے نیچے اترئے کافی دیر ہوگئی تھی ۔ وہ سب بے چینی سے ان کا انتظار کر رہے تھے ۔ کافی دیر بعد بھی وہ دونوں واپس نہ آئے تو عرفان اور دوسرے فکرمند ہوگئے۔ ایسے میں سلطان جھلا کر کہنے لگا:۔
    اباجان نے بھی عجیب فیصلہ سنا دیا ۔۔۔ ہمیں یہاں اکیلا چھوڑ کر وہ خود گاڑی سے نیچے اتر گئے ہیں ‘‘ سلطان نے جھلاہٹ کے انگارے چباتے ہوئے کہا۔
    مجھے تو اباجان اور شہزاد بھائی کہیں نظر نہیں آرہے ہیں ۔۔۔آخر وہ کہاں چلے گئے ‘‘ سادیہ نے گاڑی کے آگلے شیشے سے اِدھر اُدھر جھانکتے ہوئے پریشانی کے عالم میں کہا۔
    شہزاد بھائی بھی کمال کے ہیں ۔۔۔ اباجان کے ساتھ جا کر وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اب اباجان کو ہماری نہیں ان کی ضرورت ہے ۔۔۔ لہٰذا ب ہم اباجان کے کسی کام کے نہیں ہیں‘‘ سلطان نے جل بھن کر کہا۔
    آخری جملے میں’ہم‘کے بجائے ’میں‘کہہ دیتے تو جملہ کس قدر خوبصورت معلوم ہوتا ۔۔۔یعنی میں اباجان کے کسی کام نہیں ہوں‘‘ عمران نے سلطان کی طرف مسکرا کر دیکھا۔
    یہ جملہ تم پر فٹ ہوتا ہے ۔۔۔ مجھ پر نہیں ۔۔۔اور یہ بات کہہ کر تم نے اپنے بڑے بھائی کی بے عزتی ہے لہٰذا اب تم مجھ سے معافی مانگو‘‘ سلطان نے مطالبہ کیا۔
    ٹھیک ہے ۔۔۔ آج جلدی سو جانا۔۔۔ خواب میں معافی مانگ لوں گا‘‘ عمران نے مذاق اُڑانے والے انداز میں کہا۔
    میں کہتی ہوں یہ وقت مذاق کا نہیں ہے ۔۔۔ اباجان اور شہزاد بھائی کو گئے کافی وقت ہوگیا ہے ۔۔۔ اب ہمیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے ‘‘ سادیہ فکرمند لہجے میں بولی۔
    تم ٹھیک کہتی ہو۔۔۔ ان لوگوں کو یہاں باتیں بنانے دو۔۔۔ تم اور میں اباجان اور شہزاد بھائی کو دیکھتے ہیں کہ وہ اتنے دیرہونے کے بعد بھی واپس گاڑی میں کیوں نہیں آئے‘‘ عرفان نے جھنجھلا کرکہااور سادیہ کو ساتھ لے کر گاڑی سے نیچے اتر گیا۔ اس کے جانے کے بعد سلطان بھی غصیلے انداز میں کہنے لگا:۔
    میں اس قدر بھی سست اور کام چور نہیں ہوں جتنا کہ تم سب خیال کرتے ہو ۔۔۔ میں بھی اباجان اور شہزاد بھائی کی تلاش میں جارہا ہوں ‘‘ یہ کہتے ہوئے سلطان نے گاڑی کادروازہ کھولا اور نیچے اترگیا۔ اس کے پیچھے عدنان اور عمران نے بھی نیچے اترنے میں دیر نہ لگائی۔باہر نکل کر انہوں نے دیکھا سادیہ اور عرفان پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر دیکھ رہے ہیں ۔ ان کو اس حالت میں دیکھ وہ تینوں حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے:۔
    کیا ہوگیا ہے تم دونوں کو ۔۔۔ اباجان اور شہزاد بھائی کہاں ہیں ‘‘ سلطان نے حیرانگی کے عالم میں کہا۔
    پتا نہیں ۔۔۔ وہ دونوں کہیں بھی نظر نہیں آرہے ۔۔۔ اس قدر جلدی وہ ہم لوگوں کو اس گھنے اور خطرناک جنگل کے درمیان چھوڑ کر کہاں جا سکتے ہیں ‘‘ سادیہ تقریباً روتے ہوئے بولی۔ سلطان کے ماتھے پر شکنیں ابھر آئیں۔اب اسے سمجھ آیا کہ معاملہ اتنا سلجھا ہوا نہیں ہے جتنا وہ سمجھ رہا ہے۔ اس جنگل کے درخت کے پتے کافی اوپر تک پھیلے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے سورج کی روشنی نیچے نہیں پڑ رہی اور نیچے کافی تاریکی ہے ۔ اس کے بعد اب جیسے جیسے سورج غروب ہونے کی طرف جائے گا تاریکی میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا اور ان حالات میں وہ کسی وحشی درندے یا زہریلے جانور کا بھی شکار بن سکتے ہیں۔ان سب باتوں کو سوچ کر وہ ایک لمحے کے لیے کانپ گیا۔ پھر اس نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ اسے گھبرانے کے بجائے سادیہ کو تسلی دینی تھی جس کے آنسو اُن سب کو اور کمزور کر رہے تھے۔
    اباجان !!!۔۔۔ شہزاد بھائی !!!‘‘ سلطان پوری قوت سے چلایا لیکن اس کی آواز دور کہیں جا کر ختم ہوگئی۔ اس کی آواز کے جواب میں صرف پرندوں کی چہچہانے کی آواز سنائی دی۔ ایل ایل بی شہباز احمد اور شہزاد کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔ سلطان کا حلق خوف کی وجہ سے خشک ہونے لگا۔ اس نے بڑی مشکل سے تھوک نگلا اور ایک بار پھر آواز لگائی لیکن اس بار بھی کوئی جواب نہ ملا۔اب تو سلطان پاگلوں کی طرح چلانے لگا اور پھر اس کی آواز مدھم ہوتے گئی۔ اب اس کی حلق سے آواز کی بجائے گھٹی گھٹی چیخیں نکلنے لگیں۔اور پھر !!!۔۔۔ اس کا دم گھٹنے لگا۔ سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔ وہ منہ کھول کر سانس لینے لگا۔ دوسر ے اس کی یہ عجیب سی کیفیت دیکھ کر حیران رہ گئے۔یہاں سلطان کا سر چکرا رہا تھا۔ اچانک وہ لڑکھڑا گیا اور پھر سیدھا زمین کی طر ف آیا۔ عرفان نے فوراً آگے بڑھ کر اسے سنبھالنا چاہا لیکن وہ بھی منہ کے بل زمین پر گرا۔ باقیوں کے ساتھ بھی کچھ مختلف نہ ہوا۔ان سب کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔انہیں دنیا گھومتی ہوئی محسوس ہوئی اور پھر وہ تینوں بھی ایک ایک کر کے چکرکھاتے ہوئے زمین پر گرئے ۔تبھی ایک آواز ان کے کانوں میں گونجی :۔
    اب ان کے والدانہیں زندگی بھر بھی تلاش کریں تب بھی وہ اپنے ہونہار اور فرماں بردار بچوں کا چہرہ کبھی نہیں دیکھ پائیں گے ‘‘ایک کھکھلا کر ہنستی ہوئی لڑکی کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی اور پھران سب کے ذہن تاریکی میں ڈوب گئے۔

    ٭٭٭٭٭
    شیر سے لڑائی
    سلطان کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو جنگل کے ایک سنسان حصے میں پایا۔اس نے آس پاس نظریں دوڑائیں تو اسے کوئی بھی نظر نہ آیا۔ وہ اس وقت بالکل تنہا تھا۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی اور آخر زمین کا سہارہ لے کر کافی مشکل سے اٹھ کھڑا ہوا۔اس نے گھڑی دیکھی تو اس کے جسم میں سنسنی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ شام کے پانچ بج چکے تھے۔ وہ صبح کے وقت ریسٹ ہاؤس کے لیے نکلے تھے اور اب شام ہوچکی ہے ۔ وہ پور ا دن بے ہوش رہا تھا۔ نہ جانے دوسروں کے ساتھ کیا حالات پیش آئے تھے۔ یہ سب سوچ کر سلطان کے چہرے پر خوف کے بادل اُمڈ آئے۔اسے ڈر تھا کہ جیسے جیسے رات کی سیاہی گہر ی ہوگئی سانپ اور دوسرے زہریلے جانور اسے ایک پل میں اپنا شکار بنا سکتے ہیں۔وہ اس وقت خود کو بالکل تنہا محسوس کر رہا تھا لیکن ان حالات میں بھی وہ شوخی سے باز نہ آیا۔
    ! سامان باندھ لیاہے میں نے اب بتاؤ غالب
    کہاں رہتے ہیں وہ لوگ جو کہیں کے نہیں رہتے ‘‘سلطان نے خود کلامی کرتے ہوئے شوخ انداز میں شعر پڑھا۔پھر اس نے مسکرا کر خود کو جھٹکا اور آخر اللہ کا نام لے کر چند قدم چلنے کی ٹھانی۔اندھیرا بڑھتا جارہا تھا اور سلطان خود کو بڑی مشکل سے سنبھالتے ہوئے چل رہا تھا۔کچھ وقت میں ان کے حالات کس قدر پلٹی کھا گئے تھے۔ وہ تو آج صبح تفریح کی غرض سے ریسٹ ہاؤس کے لیے نکلے تھے لیکن راستے میں ہی ان کی یہ تفریح ایک سنسنی خیز حادثے کا رخ اختیار کر گئی تھی۔ اسے کچھ پتا نہیں تھا کہ اس کے بھائی اور اس کے اباجان کہاں ہیں ؟شہزاد بھی ایل ایل بی شہباز احمد کے ساتھ گاڑی سے اتر ا تھا اور پھر نہ جانے ان کے ساتھ کہاں چلا گیا تھا۔ان سوچوں کے سمندر کو ساتھ لیے سلطان کے لئے ایک ایک قدم اٹھانا بھار ی پڑ رہا تھا۔ کمزوری نے اسے اندر تک کھوکھلا کر دیا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اچانک بے ہوش کیسے ہوگیا تھا؟ بے ہوش ہونے سے پہلے اسے کسی لڑکی کے زہریلی ہنسی کے ساتھ ادا کیے گئے وہ جملے بھی یاد آگئے اور ان جملوں کا خیال آتے ہی سنسنی کی ایک لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔ ابھی وہ تھوڑا سا ہی فاصلہ طے کر پایا تھا کہ کمزوری نے اس سے قدم اٹھانے کی طاقت بھی چھین لی۔وہ قدم اٹھانے کی پوری کوشش کرنے لگا لیکن آخر کار کمزوری کی وجہ سے زیادہ دیر چل نہ سکا اور ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔یہ درخت کافی گھنا اور سایہ دار تھا۔ یہاں اس نے راحت محسوس کی۔ سورج غروب ہونے کے قریب تھا اور رات کی تاریکی آسمان پر چھا رہی تھی۔ ان حالات میں وہ بے بسی کے عالم میں درخت کے نیچے بیٹھا ہاتھ مل رہا تھا لیکن ابھی وہ کچھ دیر ہی آرام کر پایاتھا کہ اس نے ایک زبردست دھاڑ کی آواز سنی۔دھاڑ سن کر اس کا چہرہ فق ہوگیا۔ یہ دھاڑ شیر کے علاوہ اور کسی کی نہیں تھی۔ اب اسے اپنی موت چند قدم کے فاصلے پر نظر آئی کیونکہ شیر کی دھاڑ زیادہ دور سے نہیں آئی تھی۔ اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا۔ حلق خشک ہونے لگا۔ تبھی شیر کی ایک بار پھر زبردست دھاڑ سنائی دی لیکن اس بار شیر کی آواز کافی قریب سے آتی معلوم ہوئی تھی۔ دوسرے ہی لمحے اس کا رنگ اُڑ گیا۔ وہ فوراً اچھل کر کھڑا ہوگیا اورچھپنے کی جگہ ڈھونڈنے لگا۔ابھی وہ اِدھر اُدھر دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک چھے فٹ اونچے اور دو فٹ چوڑے جانور کی سانس لینے کی آواز نے اس کے رونگٹے کھڑ ے کر دئیے۔ سلطان نے ہمت کرکے سامنے دیکھا تو اس کا چہرہ دودھ کی طرں سفید پڑ گیا۔ایک لمحے میں اس کی سٹی گم ہو گئی۔ سامنے ایک بھورے بالوں والا زرد رنگ کا شیر اسے بری طرح گھور رہا تھا۔اس کی آنکھوں میں بھوک اور پنجوں میں شکار کی حسرت اسے صاف بتا رہی تھی کہ اب وہ اسے اپنا شکار بنانے کے لیے ایک لمحہ بھی دیر نہیں کرئے گا۔سلطان ابھی بدحواسی کے عالم میں اپنی بچاؤ کی تدابیر سوچ ہی رہا تھا کہ شیر نے ایک چست لگائی اور اس کے اوپر آ پڑا لیکن سلطان بھی اس کے لیے ترنوالہ ثابت نہ ہوا ۔ اس کے چھلانگ لگاتے ہی سلطان نے مخالف سمت چھلانگ لگا دی اور شیر سے صرف چند انچ کے فاصلے سے دوسری طرف نکل گیا۔ شیر واپس پلٹا اور غراتے ہوئے سلطان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال لیں۔ شاید وہ سمجھ گیا تھا کہ مقابلہ کسی عام لڑکے سے نہیں ہے بلکہ کافی چست اور پھرتیلے لڑکے سے ہے جو ایک لمحے میں اس کا شکار نہیں بنے گا۔شیر نے اس بار چھلانگ لگانے کی بجائے قد م اٹھانا شروع کیے اور ایک ایک قدم چلتا ہوا سلطان کے قریب آنے لگا۔ سلطان پیچھے ہٹتا چلا گیالیکن سلطان کی رفتار شیر کی ر فتار سے کافی کم تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شیر جلد ہی سلطان کے قریب پہنچ گیا۔ اس بار اس نے سلطان کی طرف پوری طرح احتیاط کے ساتھ حملہ کیا۔ آخری لمحے میں سلطان زمین پر لیٹ کر لوٹ لگا گیا اور قلابازی کھاتے ہوئے دوسری طرف نکل گیا۔ شیر اپنے ہی جھونک میں ایک درخت سے جا ٹکرایا اور اس کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخ نکل گئی۔اب شیر دھاڑتے ہوئے دوبارہ سیدھا ہوا ۔ اس بار وہ زخمی دکھائی دے رہا تھا کیونکہ درخت سے چوٹ کھانے کے بعد اس کی دھاڑ میں لرزش آگئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بے پناہ غصہ نظر آرہا تھا جیسے وہ سلطان کو کچا چپا جانا چاہتے ہو۔ دوسرے ہی لمحے شیر نے سلطان کو موقع نہ دے کر اسے پوری طرح اپنی گرفت میں لینے کے لیے تاک کر چھلانگ لگائی۔ اس بار سلطان شیر کے حملے سے نہ بچ سکا اور نتیجے کے طور پر سلطان شیر کے پنجوں میں تھا۔ شیر نے ایک زبردست دھاڑ لگائی اور اسکے سینے پر پاؤں رکھ کر اسے ایک نوالے کی طرح اپنی منہ کے سامنے لے لایا۔ سلطان کو اب اپنی موت یقینی معلوم ہوئی۔اس نے کلمہ طیبہ کاورد شروع کردیا۔تبھی اس کے منہ سے ایک گھٹی گھٹی چیخ نکلی۔ اسے شیر کے پنجے اپنے سینے میں گھستے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔


    ٭٭٭٭٭
    باقی آئندہ
    ٭٭٭٭٭
     
    • زبردست زبردست × 1
  3. شاہد بھائی

    شاہد بھائی محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    وہ کون تھی؟
    مصنف :۔ شاہد بھائی
    قسط نمبر - 3
    لڑکی کا قیدی
    سلطان اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا۔ شیر کے پنجے اس کے سینے میں گھستے جا رہے تھے اور اس کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخیں نکل رہی تھیں۔تبھی شیر نے ایک زبردست دھاڑ لگائی اور اسے چیر پھاڑنے کے لیے بڑھا لیکن اُسی وقت شیر کے منہ سے ایک دلدوزاور درد بھری غراہٹ نکلی۔ سلطان حیران ہو کر شیر کو دیکھنے لگا۔ شیر کی غراہٹ میں گہری لرزش تھی جیسے یہ اس کی غرانے کی آخری آواز ہو۔ دوسرے ہی لمحے شیر سلطان کے سینے پر سے لڑھک کر زمین پر گرگیا اور تڑپنے لگا۔ سلطان زمین پر لیٹاہوا یہ منظر ہکا بکا ہو کر دیکھ رہا تھااور تبھی شیر نے دم توڑ دیا۔اس کا جسم کچھ ہی دیر میں ٹھنڈا پڑ گیا۔ اُسی وقت ایک خوبصورت ہاتھ سلطان کی طرف بڑھا۔ سلطان نے چونک کر ہاتھ کی سمت دیکھا تو ایک لڑکی اسے مسکرا کردیکھ رہی تھی۔ اس کی ہاتھ میں خون سے سنسناتا ہوا خنجر تھا جو اس نے تھوڑی دیر پہلے شیر کے دل پر اتاردیا تھا۔ سلطان نے لڑکی کے ہاتھ کا سہارا لیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ پھر اس کے چہرے پر شکرگزاری نظر آنے لگی:۔
    آپ نے میری جان بچائی اس لیے میں آپ کو بہت مشکور ہوں‘‘ سلطان نے ممنونیت سے کہا۔
    کوئی با ت نہیں۔۔۔ جنگل میں اس طرح کے حادثے تو ہوتے ہی رہتے ہیں اور کبھی کبھی یہ حادثے ہماری زندگی پلٹ کر رکھ دیتے ہیں‘‘ لڑکی نے عجیب سے لہجے میں کہا جس پر سلطان چونک کر اسے دیکھنے لگا۔
    میں آپ کی بات کا مطلب نہیں سمجھا‘‘ سلطان نے حیرت زدہ لہجے میں کہا۔
    چھوڑئیے۔۔۔ مطلب کی باتیں بعد میں کریں گے۔۔۔ پہلے تو آپ میرے ساتھ چلنے کی بات کریں گے‘‘ لڑکی کا لہجہ شوخ ہوگیا۔
    آپ کے ساتھ چلنے کی بات۔۔۔ لیکن بھلا وہ کیوں۔۔۔ میں تو آپ کو جانتا تک نہیں‘‘ سلطان نے تعجب سے اس کی طر ف دیکھا۔
    کوئی بات نہیں۔۔۔ اگر جانتے نہیں ہیں تو بہت جلد جان جائیں گے۔۔۔ میں آپ کو اپنے گھر لے کر جارہی ہوں۔۔۔آپ میرا گھر دیکھنا پسند نہیں کریں گے‘‘لڑکی کے لہجے میں ٹھہرا ؤ تھا۔نرمی تھی۔ سلطان نے اس لڑکی میں عجیب سے کشش محسوس کی۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ چلنے پر خود کو مجبور محسوس کررہا تھا۔دوسرے ہی لمحے وہ اس کے ساتھ چلنے لگا۔ اس وقت سلطان کے ذہن میں مختلف خیالات سر ابھار رہے تھے لیکن اُس کے قدم اس کے ساتھ کب کا چھوڑ چکے تھے۔ اُس کے قدم تو اس لڑکی کے ساتھ ساتھ چلنے میں اس قدر مصروف تھے کہ سلطان کی پوری کوشش بھی انہیں روکنے پر مجبور نہیں کر سکی تھی۔کافی دیر تک وہ اس لڑکی کے ساتھ ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ وہ دونوں جنگل کی حدود سے نکلتے چلے گئے اور پھر کچھ دیر بعد اسے ایک پرانے طرز کا بنا ہوا بنگلہ نظر آیا۔ سلطان نے اس لڑکی کو بنگلے کا دروازہ کھول کر اندر جاتے ہوئے دیکھا۔ وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے بنگلے کے صدر دروازے میں داخل ہوگیا۔ اندر ایک اجڑا ہوا باغ نظر آرہا تھا جہاں پر پھول و پودے نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ سلطان نے اس اجڑے ہوئے باغ کو حیرت سے دیکھا اور پھر اندرونی دروازے کے قریب پہنچ گیا۔ اس لڑکی نے اندرونی دروازے کو ایک جھٹکے سے کھولا اور اندر داخل ہوگئی۔ سلطان ایک لمحہ کے لیے الجھ گیا کہ اندر جائے یا یہاں سے ہی واپس لوٹ جائے لیکن پھر نہ جانے کیوں؟ اس کے قد م گھر کے اندرونی حصے میں داخل ہوگئے۔ دوسرے ہی لمحے سردی کی ایک لہر اس نے اپنی جسم کے جوڑ جوڑ میں سرایت کرتی محسوس کی۔اس کے پاؤں کی انگلیاں زمین پر لگتے ہی ٹھنڈک سے سکڑ گئی تھی۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو مَلتے ہوئے سردی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ وہ حیران تھا کہ باہر تو گرمی کا موسم ہے پھر یہاں اندر اس قدر سردی کس طرح ہو گئی ہے؟ وہ لڑکی بھی کہیں نظر نہیں آرہی تھی جو اسے یہاں لے کر آئی تھی۔ابھی وہ پریشانی سے اِدھر اُدھر دیکھ ہی رہا تھا کہ اسے دوبارہ اس لڑکی کا مسکراتا ہوا چہرہ نظر آیا۔ اس کے ہاتھ میں بھانپ اُگلتی ہوئی کافی کا کپ تھا جو اس نے سلطان کی طرف بڑھا دیا۔ سلطان نے کچھ لمحے شش و پنج میں کاٹے اور پھر ہاتھ بڑھا کر کافی کا کپ پکڑ لیا۔لڑکی نے اسے سامنے بچھے ہوئے صوفے کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود ایک بار پھر وہاں سے کھسک گئی۔ سلطان آگے بڑھ کر صوفے پر بیٹھ گیا اور کافی پینے لگے۔ خیالات کا ایک سمندروہ اپنے دماغ میں بہتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ آخر یہ لڑکی کون ہے؟ اُس لڑکی نے اس کی جان کیوں بچائی؟ پھر وہ اسے اپنے گھر کیوں لے کر آئی ہے؟ یہ تمام سوالات اس کے ذہن میں گونجنے لگے۔سوالات کو اپنے اندر دبائے وہ کافی پیتا گیا۔ یہاں تک کہ پورا کپ ختم ہوگیا۔تبھی اس کی نظریں ہال میں موجود کھڑکی کی طرف گئیں۔ وہ کھڑکی کے پاس چلا آیا اور باہر کی طرف جھانکا۔سورج غروب ہو چکا تھا۔رات کا اندھیرا آسمان کی سرخی کو جذب کرتا جارہا تھا۔ سلطان کچھ دیر کھڑکی کے پاس کھڑا رہا۔ پھر وہاں سے ہٹ آیا۔ اس نے ایک مرتبہ ہال کا مکمل جائزہ لیا۔ ہال میں کچھ کمرے ضرور تھے لیکن درمیان میں ایک زینہ بنا ہوا تھا جس کی سیڑھیاں اوپر کی طرف جارہی تھیں۔ سلطان نے کچھ دیر بغور ا ن سیڑھیوں کا جائزہ لیا اور پھر آگے بڑھ کر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ مکمل سیڑھیاں چڑھ جانے کے بعد اسے راہ داری میں سامنے کی طرف چار قطار سے بنے ہوئے کمرے نظر آئے اور ایک پانچوں کمرہ راہ داری کے بالکل آخر میں تھا۔ سلطان نے ایک ساتھ بنے ہوئے چار کمروں میں سے پہلا کمرہ دیکھنا چاہا۔ ا س کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ اگر وہ لڑکی اسے چوروں کی طرح گھر کا جائزہ لیتے دیکھ لیتی تو ضرور اس پر برہم ہوتی لیکن سلطان کی دل میں یہ خواہش اُمڈ رہی تھی کہ وہ ایک بار پورا گھر دیکھ ہی لے۔ پہلے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔ یہ پرانے طرز کا بنا ہوا ایک صاف ستھرا کمرہ تھا۔ کمرے کے درمیان میں ایک پلنگ بچھا ہوا تھا جس پر سفید رنگ کی چادر بچھی ہوئی تھی۔سلطان ایک نظر پورا کمرے پر ڈال کر کمرے سے باہر نکل آیا۔اس کے بعد اس کا رخ دوسرے کمرے کی طرف ہوگیا۔ یہ کمرہ مہمان خانہ نظر آرہا تھا جہاں پر دو چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ا یک الماری بھی تھی جس پر تالا لگا ہوا تھا۔ سلطان اس کمرے کو بھی دیکھ کر باہر نکل آیا۔ اب اس نے تیسرے کمرے پر نگاہ ڈالی۔ یہ کمرہ اسٹور روم تھا جہاں پر کچھ ٹوٹی ہوئی کرسیاں اور میزپڑی ہوئی تھیں۔ چوتھے کمرے میں بھی کباڑ خانے کا ہی نقشہ تھا۔ ان چاروں کمروں کو دیکھ کر سلطان باہر نکل آیا۔ تبھی اس کی نظر برآمدے کے آخر میں بنے پانچویں کمرے کی طرف گئی۔ اس کے قدم اس پانچویں کمرے کو دیکھنے کے لیے بڑھے لیکن تبھی کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ وہ بری طرح چونک کر پلٹا۔ سامنے وہ لڑکی کھڑی اسے دیکھ کر خوفناک انداز میں مسکرا رہی تھی۔اس کی دہشت ناک مسکراہٹ کو دیکھ کر سلطان کو اپنے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے۔ اس کے جسم کا رواں رواں کانپ گیا۔ سلطان کا دل چاہا کہ ایک پل میں اس گھر سے بھاگ کھڑا ہولیکن وہ نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو اس گھر کا بے بس قیدی محسوس کرنے لگا۔


    ٭٭٭٭٭
    دھند کی دیوار
    سادیہ کی آنکھ کھلی تو وہ درخت کے ایک کونے میں بے سد پڑی ہوئی تھی۔ اس نے حیران ہو کر اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں۔ اسے یاد آیا کہ بے ہوش ہونے سے پہلے وہ سب گاڑی سے نیچے اتر کر شہزاد اور ا ن کے اباجان شہباز احمد کو ڈھونڈ رہے تھے۔ اس نے آس پاس دیکھا تو وہ سمجھ گئی کہ اس وقت بھی وہ جنگل کے درمیان میں ہی ہے اور تنہا ایک کونے میں کافی دیر تک بے ہوش پڑی رہی ہے۔ گھڑی پر نظر ڈالنے پر اس کا چہرہ ست گیا۔ اس وقت شام ہو چکی تھی اور اندھیرا کافی بڑھ گیا تھا۔سادیہ نے ہمت سے کام لیتے ہوئے اپنی پوری طاقت جمع کی اور درخت کا سہارا لیتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔اس نے چند قدم چلنے کی ٹھانی اور ایک سمت میں بڑھتی چلی گئی۔اس کے لب پر یہی دعا تھی کہ یا تو اسے اس کے اباجان مل جائیں یا پھر اس کے بھائی اس کے پاس پہنچ جائیں۔ اس وقت وہ اس گھنے اورتاریک جنگل میں بالکل اکیلی تھی۔ کافی دیر تک چلنے کے بعد اس کا سانس پھولنے لگالیکن وہ اپنی پوری طاقت سمیٹے قدم بڑھارہی تھی۔تبھی اچانک!!!۔۔۔ وہ بری طرح چونک اُٹھی۔ خوف کی وجہ سے اس کے چہرے کی ہوائیاں اُڑنے لگیں۔ ایک سانپ کی پھن کی آواز اس کے بالکل نزدیک سے آرہی تھی۔ اس نے خوف کے عالم میں زمین پر نظریں دوڑائیں۔ دوسرے ہی لمحے اس کے اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ ایک بہت لمبا اور چوڑا سانپ پھن پھیلائے اس کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ سادیہ نے خوف کے عالم میں سانپ کی رفتار کا جائزہ لیا اور یہ اندازہ لگانے میں اسے دیر نہ لگی کہ سانپ کچھ ہی پل میں اس کے پاس پہنچ جائے گا۔اس نے ہمت سے کام لیتے ہوئے سانپ کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور فوراً کسی بڑے سے پتھر کی تلاش میں نظریں دوڑائیں لیکن یہ دیکھ کر اس کا رنگ بالکل زرد پڑگیا کہ آس پاس بڑا پتھر تو کیا چھوٹے چھوٹے کنکر بھی موجود نہ تھے اور سانپ بدستور اس کے طرف بڑھ رہا تھا۔ اب اس کے پاس بھاگنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔ دوسرے ہی لمحے وہ پوری قوت سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ سانپ کے پھن کی آواز اسے بدستور سنائی دے رہی تھی اور وہ اپنی رفتار بڑھا رہی تھی لیکن کافی دیر تک بھاگنے کے بعد بھی جب اسے سانپ کے پھن کی آواز بدستور سنائی دیتی رہی تو وہ سمجھ گئی کہ سانپ جس قدر موٹا اور لمبا ہے اس کی رفتار اس سے بھی کئی گنازیادہ ہے۔ یہ حقیقت جان کر اسے اپنی موت بالکل سامنے نظر آنے لگی۔اب رک کر سانپ کا مقابلہ کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔آخر کار وہ ر ک کر پیچھے کی طرف پلٹی۔ سانپ ابھی کافی دور تھا لیکن اس کی رفتار یہ بتا رہی تھی کہ وہ بہت جلد اس کے پاس پہنچ کر اسے ڈس لے گا۔ ابھی وہ پریشانی کے عالم میں اس کا مقابلہ کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ سانپ اس کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ دوسرے ہی لمحے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ سانپ کی جگہ اب وہ ایک اژدھابن چکا تھا۔سادیہ کو ایک زبردست جھٹکا لگا۔اسے ایک بہت خوفناک خیال آیا تھا۔ اس نے فوراً اپنے خیال کی تصدیق کے لیے آیتہ الکرسی پڑھی اور پھر تین قل پڑھ کر اس اژدھے پر پھونک ماری۔ اگلے ہی لمحے اژدھا ایک دھواں میں تبدیل ہوگیا اور پھر ہوا میں تحلیل ہو کر کچھ ہی دیر میں وہاں سے غائب ہوگیا۔سادیہ کی آنکھوں میں خوف اور حیرت کے ملے جلے جذبات تھے۔وہ سہمے ہوئے انداز میں اس جگہ کو دیکھ رہی تھی جہاں ابھی کچھ دیر پہلے وہ سانپ نما اژدھا موجود تھا۔ اسے یقین ہوگیا کہ یہ سانپ یا اژدھا نہیں کوئی آسیبی مخلوق تھی۔اس وقت وہ خوف کی لہریں اپنی جسم میں دوڑتی ہوئی محسوس کر رہی تھی۔ تبھی ایک آواز نے اس کے لیے گرم صحرا میں پانی کا کام دیا۔ یہ آواز اس کے بھائی عرفان کی تھی۔ وہ آواز کی سمت پاگلوں کے سے انداز میں دوڑ پڑی۔ دوسرے ہی لمحے اسے اپنے تینوں بھائی عرفان عدنان اور عمران نظر آگئے۔ وہ تینوں باتیں کرتے ہوئے چل رہے تھے:۔
    اباجان اور شہزاد بھائی کی تلاش میں نکلے تھے اور یہاں سادیہ اور سلطان بھی گم ہوگئے۔۔۔ اسے کہتے ہیں آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے‘‘ عمران کہہ رہا تھا۔
    بلکہ اسے کہتے ہیں کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنہ‘‘ عدنان نے جلے کٹے انداز میں کہا۔ تبھی سادیہ دوڑتی ہوئے ان کے پاس آئی اور عرفان کے گلے لگ گئی۔عرفان کے چہرے پر خوشی اور بے قراری کے جذبات اُمڈ آئے۔ پھر اس نے سادیہ کو تھپکی دے کر دلا سا دیا اور کہنے لگا:۔
    تم کہاں تھی۔۔۔ ہم تمہیں ہی ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔ اور کیا سلطان تمہارے ساتھ نہیں ہے‘‘ عرفان نے بے تابانہ انداز میں کہا۔
    میں تو تنہا ہی تھی۔۔۔اس خوفناک گھنے جنگل سے مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔۔۔ اچھا ہوا تم لوگ مل گئے‘‘ سادیہ ڈرے ڈرے انداز میں بولی۔
    بھئی ہمیں نہیں معلوم تھا کہ تم اتنی ڈرپوک واقعے ہوئی ہو‘‘ عمران نے مذاق اُڑانے والے انداز میں کہا۔
    سلطان بننے کی کوشش کر رہے ہو‘‘ سادیہ تلملا کر بولی۔
    نہیں!۔۔۔ میں تو آج کل سلطان کی شاگردگی میں ہوں اس وجہ سے شوخ مزاج بن گیا ہوں‘‘ عمران نے مسکرا کر کہا۔تبھی وہ سب بری طرح اچھل پڑے۔انہیں لگا جیسے ان کے پیروں تلے زمین کھسک گئی ہو۔ ایک شیر کی دھاڑ کی آواز انہوں نے اپنے بالکل قریب محسوس کی تھی۔
    شیر کی آواز سے پتا لگتا ہے کہ شیر ہمارے بالکل نزدیک ہی ہے۔۔۔ فوراً کسی جھاڑی میں چھپ جاؤ یا گھنے درخت پر چڑھ جاؤ۔۔۔ سادیہ تم میرے ساتھ آؤ‘‘ عرفان نے سخت لہجے میں انہیں حکم دیا۔ دوسرے ہی لمحے وہ سب بدحواسی کے عالم میں کسی جھاڑی یا درخت کی تلاش میں دوڑے لیکن ابھی ان کی نظریں گھنے درخت یا کسی جھاڑی کی تلاش میں ہی تھیں کہ انہیں نے شیر کی دل دوز دھاڑ کی آوازسنی۔ اس دھاڑ کی آواز میں گہری لرزش تھی جیسے وہ شیر کی آخری دھاڑ ہو۔ان سب نے حیرت کے عالم میں ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر تجسس سے وہ شیر کی آواز کی سمت بڑھے۔ ابھی انہوں نے کچھ ہی قدم طے کیے ہونگے کہ انہوں نے اپنے بالکل سامنے ایک شیر کو تڑپٹے ہوئے دیکھا اور پھران کی نظر شیر کے بالکل ساتھ لیٹے ایک لڑکے پر پڑی تو حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔یہ لڑکا ان کا بھائی سلطان تھا۔ دوسرے ہی لمحے وہ فوراً آگے بڑھے لیکن تبھی انہیں ایک زبردست جھٹکا لگا۔سلطان ہوا میں ہاتھ اٹھائے خلا میں باتیں کر رہا تھا اور پھر سلطان اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور باتیں کرتا ہوا ایک سمت کی طرف بڑھنے لگا۔ ان سب کی آنکھوں میں حیرت کا سمندر غوطے کھانے لگا۔ سلطان اکیلے ہی اکیلے کس سے باتیں کر رہا تھا؟ یہ سوال ان سب کے ذہنوں میں ہلچل مچانے لگا۔ پھر وہ سلطان کی طرف تیزی سے بڑھے لیکن تبھی سلطان اور ان کے درمیان گہری سفید دھند حائل ہوگئی۔ سلطان اس دھند میں چھپ کر رہ گیا لیکن ابھی بھی وہ انہیں نظر آرہا تھا۔ ان سب نے بیک وقت سلطان کو پکارا۔
    سلطان۔۔۔ تنہا کہاں جارہے ہو۔۔۔ ہم لوگ یہاں ہیں‘‘ وہ سب حلق پھاڑ کر چلائے لیکن سلطان کے کان پر تو جوں تک نہ رینگی۔ وہ تو مستی کے عالم میں ایسے چل رہا تھا جیسے کوئی اس کے ساتھ موجود ہو لیکن وہاں تو کوئی بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ان سب نے پھر سلطان کو پکارا لیکن سلطان نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ انہیں ایسا لگا جیسے سلطان کے اور ان کے درمیان یہ گہری دھند دیوار کا کام دے رہی ہو اور ان کی آواز اِس دھند سے ٹکرا کر واپس آجاتی ہوں اور سلطان تک پہنچتی ہی نہ ہوں۔ ان سب کی آنکھوں میں خوف کا سمندر موجھیں مارنے لگا۔ سلطان ان کے سامنے ان سے دور جا رہا تھا اور وہ پوری کوشش کے باوجود سلطان کو روک نہیں پارہے تھے۔ سادیہ اسے اس طرح دور جاتے دیکھ تڑپ اُٹھی لیکن بھلاسادیہ دور تک پھیلی ہوئی گہری دھند کی دیوار کے آگے کیاکر سکتی تھی۔تبھی انہوں نے سلطان کو اس سفید دھند میں پوری طرح غائب ہوتے دیکھا اور پھر آہستہ آہستہ دھند وہاں سے چھٹنے لگا۔ مکمل دھند چھٹ جانے کے بعد وہ پاگلوں کی طرح دوڑتے ہوئے اُس جگہ پر آئے۔انہیں نے حیرت سے اس جگہ کو دیکھا۔ وہاں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا۔ سلطان وہاں سے اس طرح غائب ہوگیا تھا جیسے وہ سفید دھند اسے نگل گئی ہو۔ان سب کے جسموں میں خوف اورسنسنی کی ایک لہر دوڑ گئی اورپھر وہ سب پتھر کے بتوں کی مانند کھڑے، اُس جگہ کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگے جہاں ابھی کچھ دیر پہلے سلطان خلا میں باتیں کرتے ہوئے ان سب کی نظروں سے اوجھل ہوا تھا۔


    ٭٭٭٭٭
    باقی آئندہ
    ٭٭٭٭٭
     
  4. شاہد بھائی

    شاہد بھائی محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    وہ کون تھی؟

    مصنف :۔ شاہد بھائی
    قسط نمبر - 4

    لڑکی کی سختی

    سلطان اس لڑکی کے گھر میں موجود کمروں کا جائزہ لے رہا تھا ۔ تبھی کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ وہ بری طرح چونک کر پلٹا۔ سامنے وہ لڑکی کھڑی اسے دیکھ کر خوفناک انداز میں مسکرا رہی تھی۔اس کی دہشت ناک مسکراہٹ کو دیکھ کر سلطان کو اپنے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے۔ اس کے جسم کا رواں رواں کانپ گیا۔ سلطان کا دل چاہا کہ ایک پل میں اس گھر سے بھاگ کھڑا ہولیکن وہ نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو اس گھر کا بے بس قیدی محسوس کرنے لگا۔
    اِدھر اُدھر گھو م پھر کر کیا تلاش کررہے ہیں....مجھے بھی بتائیے“لڑکی نے خوفنا ک انداز میں مسکرا کر کہا۔
    کچھ نہیں ....میں تو بس آپ کو ڈھونڈ رہا تھا“ سلطان کی آواز میں کپکپا رہی تھی۔
    میں تو آپ کے ساتھ ہی تھی .... بس ذرہ باورچی خانے میں گئی تھی “ لڑکی شریر انداز میں بولی جس پر سلطان اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔
    آئیے .... میں آپ کو اپنا کمرہ دکھاتی ہوں جو اب آپ کا ہو جائے گا “ لڑکی نے عجیب بات کہی ۔ سلطان بری طرح چونکا۔
    کیا مطلب !“ سلطان نے حیران ہو کر کہا۔
    مطلب اب آپ اسے اپنا ہی کمرہ سمجھیں .... تکلف نہ کیجئے گا “ لڑکی نے ہنس کر وضاحت کی۔ اس کی ہنسی سلطان کو بہت خوف ناک لگی۔اس کے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔دوسرے ہی لمحے لڑکی نے سلطان کا ہاتھ پکڑلیا اور اسے پہلے والے کمرے میں لے آئی۔
    یہ میرا کمرہ ہے “ لڑکی نے پلنگ پر بیٹھتے ہوئے کہااور سلطان کو بھی کھینچ کر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔
    میں نماز پڑھنا چاہتا تھا“ سلطان نے ہچکچا کر کہا۔
    نماز!“ اس لڑکی کے منہ سے حیرت کی زیادتی سے نکلا۔ پھر وہ سلطان کو ایسے بے یقینی کے انداز میں دیکھنے لگی جیسے اس نے کوئی بہت ہی قیمتی ہیرا مانگ لیا ہو ۔سلطان اس کے اس رد عمل پر ہکا بکا رہ گیا۔
    جی ہاں ....میں نے نمازہی کہا ہے ....میں الحمداللہ مسلمان ہوں .... سورج غروب ہوگیا ہے اور اس وقت مغرب کی نماز کا وقت ہے “ سلطان کا لہجہ پختہ ہوگیا۔
    نہیں .... وہ دراصل اکثر مسلمان باقاعدگی سے نماز نہیں پڑھنے لہٰذا مجھے لگا کہ آپ بھی نماز نہیں پڑھتے ہونگے “ لڑکی نے اپنے حواس پر قابو پا کر کہا۔
    بالکل غلط لگا ہے آپ کو .... میں پانچ وقت کا نمازی ہوں .... اور پھر جب سے میں نے وہ حدیث سنی ہے کہ مومن اور کافر میں فرق ہی نماز ہے .... اور وہ قرآنی آیت جس میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ قیامت کے روز جنتی جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں کس چیز نے جہنم میں ڈال رکھا ہے تو وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے .... ان آیات و حدیث کے بعد میں نے نمازکی پابندی شروع کر دی ہے “ سلطان کہتاچلا گیا۔
    ٹھیک ہے مولوی صاحب .... آپ یہ اپنا بیان پھر کسی روز سنا دیجئے گا “لڑکی نے شوخ لہجے میں کہا۔
    تو کیا اب میں نماز پڑھ لوں “ سلطان نے اجازت طلب کرتے ہوئے اٹھتے ہوئے کہا۔
    نہیں !.... آپ اس گھر میں نماز نہیں پڑھ سکتے “ اس بار لڑکی کا لہجہ سرد ہوگیا۔سلطان حیران ہو کر اسے دیکھنے لگا جبکہ لڑکی کے چہرے پر سختی ہی سختی نظر آرہی تھی جیسے وہ سلطان کو نماز کسی صورت نہیں پڑھنے دے گی۔سلطان اس کے اس رویے پر شدید حیران تھا اور اس کا منہ مارے حیرت کے کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔

    ٭٭٭٭٭
    شیطانوں کی رانی
    مولوی عبدالرحمن کے ہاتھوں میں تسبیح تھی اور وہ تسبیح کے دانوں پر بلند آوا ز سے اللہ کا ذکر کر رہے تھے ۔ اس وقت وہ اپنے جھوپڑی نما گھر میں موجود تھے اور ان کے چہرے پر پریشانی کے گہرے آثار موجود تھے۔تبھی ان کی جھوپڑی کے دروازے پر دستک ہوئی ۔ مولوی عبدالرحمن اٹھے اور انہیں نے دروازہ کھولا۔ سامنے ان کا شاگرد محمودالحسن کھڑا پریشانی کے عالم میں ہاتھ مل رہا تھا۔
    کیا بات ہے بیٹا .... تمہارے چہرے کے تاثرات بتارہے ہیں کہ تم کوئی اچھی خبر نہیں لائے “مولوی عبدالرحمن قدرے فکر مند لہجے میں بولے۔
    ”ہاں بابا .... پھر سے ایک دل دہلا دینے والے حادثہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آرہا ہوں .... ایک ٹرک ڈرائیور یہاں سے گزر رہا تھا کہ اسے جنگل میں کسی کے رونے کی آواز آئی .... اس نے ٹرک روکا اوررونے کی آواز کے بارے میں پتا کیا تو ایک آسیبی مخلوق اسے نظر آئی .... اور پھر!!! .... میری آنکھوں کے سامنے اس مخلوق نے اسے ختم کر دیا .... میں کچھ نہیں کر پایا بابا .... اس جنگل میں آسیبی واقعات اس قدر زیادہ ہوگئے ہیں کہ اب آپ کی تسبیحات کا بھی خاطر خواہ کوئی اثر نہیں ہو رہا “ محمودالحسن نے جذباتی لہجے میں کہا۔
    مجھے معلوم ہے بیٹا .... آسیبی مخلوقات کے یہاں جمع ہونے کی کیا وجہ ہے .... وجہ ہے وہ شیطانی لڑکی .... تمام آسیبی اور جناتی گروہ کے لوگ اس لڑکی کے چیلے ہیں اور وہ ہی انہیں اس جنگل میں آنے کی دعوت دے رہی ہے کیونکہ وہ لڑکی خود بھی انسان نہیں ہے .... بلکہ وہ تمام شیطانوں کی رانی ہے .... وہ بھولے بھالے لڑکوں کو اپنی جال میں پھنسا کر انہیں اپنے گھر لے جاتی ہے .... اورپھراس کے بعداس کے گھر سے آج تک کوئی بھی لڑکا صحیح سلامت واپس نہیں آیا .... اب میرے یہاں بیٹھ کر کیے گئے اذکار بھی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا پارہے ہیں کیونکہ اس نے شیطانی طاقت بڑے شیطان سے لے رکھی ہے .... وہ میرے ہر کلام کا الٹا اثر کردیتی ہے “ مولوی عبدالرحمن پریشانی کے عالم میں بولتے چلے گئے۔
    کیا آپ اُس لڑکی سے ہار مان چکے ہیں بابا“ محمودالحسن بوکھلائے ہوئے لہجے میں بولا۔
    نہیں بیٹا.... اللہ کا کلام کبھی ہار نہیں مان سکتا.... وہ ایک نہ ایک دن ضرور میرے قبضے میں آئے گی“ مولوی عبدالرحمن نے سرد آہ بھری۔
    وہ دن کب آئے گا بابا .... آخر اس جنگل میں کتنی اموات ہوگیں“ محمودالحسن بے چینی کے عالم میں بولا۔
    وہ دن اس وقت ہی آئے گا جب کوئی اللہ کا ایسا نیک بندہ اِس جگہ کا رخ کرے گا جس کے پاس ایمانی طاقت ہوگی.... وہ اپنی ایمانی طاقت سے اُس لڑکی کے شر کو کچل کر رکھ دے گا .... مجھے بس کسی ایسے نیک بندے کی تلاش ہے .... پھر میرا ہر کلام اس لڑکی کے سر پر ہتھوڑے کی مانند پڑے گا اور اس کی ساری شیطانی طاقت کو تباہ کرکے رکھ دے گا“ مولوی عبدالرحمن پریقین لہجے میں بولے۔ ان کا شاگرد محمودالحسن انہیں ایسے دیکھنے لگا جیسے وہ اسے صرف دلاسا دے رہے ہوں اور ان کی بات میں کوئی سچائی نہ ہو لیکن مولوی عبدالرحمن کے چہرے پر یقین کی بجلیاں نظر آرہی تھیں۔

    ٭٭٭٭٭
    سنسنی خیز لمحات
    شہزاد اور شہباز احمد حیرت کے عالم میں گاڑی کے پاس کھڑے تھے ۔ان کے چہرے کی ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔اس وقت شہباز احمد کھوئے کھوئے انداز میں پچھلی سیٹ کو دیکھ رہے تھے جہاں ابھی کچھ دیر پہلے وہ اپنے بچوں کو چھوڑ کر گئے تھے۔ان کی آنکھوں میں ندامت اور حسرت صاف دیکھی جاسکتی تھی۔ شہزاد بھی پریشانی کے عالم میں انہیں دیکھ رہا تھا۔ تبھی ایک گاڑی پوری رفتارسے دوڑتی ہوئی ان کی طرف آئی۔ شہزاد نے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے اس گاڑی کو ہاتھ دے کر روکنے کا اشارہ کیا اور مدد کے لیے پکارا۔
    سنئے .... اِدھر .... گاڑی روکیے “ شہزاد یہ کہتے ہوئے سڑک کے درمیان آکھڑا ہوا۔ گاڑی کے ڈرائیور نے حیران ہوتے ہوئے گاڑی روک دی۔ شہباز احمد بھی حواس بحال کرتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھے۔ دونوں گاڑی کی کھڑکی سے اندر بیٹھے نوجوان شخص کو دیکھنے لگے:۔
    ہماری مدد کیجئے .... ہم اس جنگل میں پھنس گئے ہیں .... ہم اپنے ریسٹ ہاؤس کے لیے نکلے تھے لیکن راستے میں ہماری گاڑی خراب ہوگئی.... ا ب ہم یہاں خوار ہو رہے ہیں “ شہباز احمد بولتے چلے گئے ۔ لڑکی سے ملنے والی بات وہ درمیان میں گول کر گئے تھے۔
    ٹھیک ہے .... آپ میری گاڑی میں سوار ہو جائیے .... میں آپ کو آپ کی منزل تک پہنچا دوں گا “ نوجوان نے مسکرا کر کہا۔شہزاد اور شہباز احمد خوش ہوگئے ۔ شہباز احمد اگلی سیٹ کی طرف بڑھے اور شہزاد پچھلی سیٹ کی طرف لیکن تبھی نوجوان کی سرد آواز نے انہیں چونکا دیا۔ آپ دونوں پچھلی سیٹ پر ہی بیٹھیں .... اگلی والی سیٹ کسی اور کے لیے مخصوص ہے “ نوجوان نے نہایت سرد لہجے میں کہا۔ وہ دونوں ہکا بکا رہ گئے ۔ پھر شہزاد کے چہر ے پرمسکراہٹ پھیل گئی۔
    اوہ ! .... کوئی بات نہیں .... آجائیے سر.... ہم پیچھے بیٹھ جاتے ہیں “ شہزاد نے پہلے اس نوجوان سے اور پھرشہباز احمد سے کہا اور پھر وہ دونوں اگلے ہی لمحے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے ۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا نوجوان، سڑک پر پوری رفتار سے گاڑی دوڑا رہا تھا۔ باہر سے ہوا کے گرم گرم تھپڑ ان کے چہرے پر پڑ رہے تھے۔ دوپہر ڈھل رہی تھی اور سورج کا رخ غروب ہونے کی سمت ہو چکا تھا البتہ اب بھی سورج کی تپش نے ان کا چہرہ پسینے سے بھر دیا تھا۔وہ صبح کے وقت اپنے گھر سے نکلے تھے اور اب دوپہر اور شام کے درمیان کا وقت ہوچلا تھا۔ انہیں اپنے بچوں کی کوئی خبر نہیں تھی۔ انہیں نے فیصلہ کیا تھا کہ ریسٹ ہاؤس پہنچ کر وہاں پاس میں ہی موجود پولیس اسٹیشن میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کرائیں گے اورپولیس کے کچھ اہلکاروں کو ساتھ لے کر خود بھی اس سمت بچوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہونگے۔شہزاد اور شہباز احمد سوچوں میں گم خیالوں میں ڈوبے ہوئے تھے کہ تبھی!!! .... شہزاد کی نظر ریس کے پیڈل کی طرف گئی۔ دوسرے ہی لمحے اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اس نوجوان شخص کا تو پاؤں ہی نہیں تھا اور ریس کا پیڈل خود بہ خود دبا ہوا تھا۔ شہزاد حیرت کے عالم میں یہ منظر دیکھنے لگا۔پھر اس نے شہباز احمد کو گاڑی کے پیڈل کی طرف دیکھنے کا اشارہ کیا ۔ انہیں نے حیران ہو کر نظریں اٹھائیں۔ اورپھر!!!.... ان کاچہرہ بھی دودھ کی طر ح سفید پڑ گیا۔
    کیا ہوا آپ لوگوں کو .... یہی سوچ رہے ہیں نہ کہ میرے پاؤں نہیں ہیں پھر یہ گاڑی خود بہ خود کیسے چل رہی ہے “ نوجوان نے شیطانی مسکرا ہٹ کے ساتھ کہا۔ اس کی بات سن کر انہیں اپنے جسموں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔
    گاڑی روکو ورنہ میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تمہاری روح بھی کانپ اٹھے گی “شہباز احمد گرج کر بولے۔
    میں گاڑی کیسے روکوں .... میرے تو پیر ہی نہیں .... اور ویسے بھی آپ لوگ میرا کیا بگاڑ لو گے .... میری طرف ہاتھ تو بڑھا کر دکھاؤ“ نوجوان نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔ دوسرے ہی لمحے شہزاد کو بھی تاؤ آگیا۔ اس نے نوجوان کی گردن کی طرف حملہ کیا۔ شہزاد کا ہاتھ پچھلی سیٹ سے ڈرائیونگ سیٹ کی سمت نوجوان کی گردن کی طرف آیا۔اور پھر !!! .... اس کا ہاتھ نوجوان کی گردن کو چھونے کے بجائے ڈرائیونگ سیٹ کی پشت سے ٹکرا گیا۔ شہزاد کو لگا کہ اس کا ہاتھ نوجوان کی گردن کی بجائے خلا میں سفر کرتا ہوا سیٹ کی پشت پر لگا ہے جبکہ درحقیقت شہزاد کا ہاتھ اس نوجوان کی گردن کے آر پار ہو کر سیٹ سے ٹکرایا تھا۔ شہزاد نے محسوس کرلیا کہ اس نوجوان شخص کا گاڑی میں کوئی وجود ہی نہیں ہے بلکہ یہاں صرف اس کی پرچھائی بیٹھی ہوئی گاڑی چلا رہی ہے ۔یہ حقیقت جان کر شہزاد کے چہرے کا رنگ زرد پڑنے لگا۔
    کیا ہوا .... اس آدمی نے تمہارے ساتھ کیا کیا “ شہباز احمد حیران ہو کر بولے۔
    کیا تم میں نے کچھ بھی نہیں .... بس آپ کے اس ملازم کو میرا اصلی روپ معلو م چل گیا ہے “ نوجوان نے ہنس کر کہا۔ اس کی ہنسی ان دونوں کے جسموں میں خوف کی لہر دوڑا گئی۔
    بتاؤ شہزاد.... تم کچھ بولتے کیوں نہیں “ شہباز احمد نے شہزاد کو جھنجھوڑ تے ہوئے چلا کر کہا۔
    سس ....سر .... یہ .... یہ شخص انسان نہیں ہے “ شہزاد کی آواز دور کسی کنویں سے آتی محسوس ہوئی۔دوسرے ہی لمحے شہباز احمدکے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔ ان کی آنکھوں میں بے پناہ خوف دوڑ گیا۔ شہباز احمد اور شہزاد دونوں کے حلق مارے خوف کے خشک ہونے لگے۔ اس وقت ان کی زندگی ایک غیر انسانی آسیبی مخلوق کے ہاتھ میں تھی اور ان کی گاڑی جنگل کی سنسان سڑک پر پوری رفتار سے دوڑ رہی تھی۔


    ٭٭٭٭٭
    باقی آئندہ
    ٭٭٭٭٭
     

اس صفحے کی تشہیر